حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھمجلس انصار الله امریکہ کے ChicagoاورSeattleسے تعلق رکھنے والےاحباب کے ایک وفد کی ملاقات

بچوں کو سمجھائیں۔ اپنے بچے سمجھ کے treatکریں۔چھوٹے جو عمر میں خدام ہیں، ان کو اپنے بھائیوں کی طرح سمجھیں ۔ اپنے گھروں میں اچھی مثال قائم کریں ، بچوں کے سامنے اچھی مثال قائم ہو اور آپ لوگ انصار بن کے رہیں ۔
ایک دوسرے کو بتائیں کہ انصار کامطلب کیا ہے کس طرح ہم نے ایک دوسرے کی مدد کرنی ہے۔ اسی طرح بھائی چارہ بنتا ہے ۔جو غیر ہیں، دشمن ہیں، ان کو بھی اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ دوست بن جاتے ہیں ۔ تو جو آپ کے اپنے ہیں ان کو تودوست بنانا چاہیے

مورخہ ۱۴؍ اپریل ۲۰۲۶ء ، بروزمنگل، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس انصارالله امریکہ کے ChicagoاورSeattle سے تعلق رکھنے والےاحباب کے بائیس(۲۲) رکنی ایک وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے امریکہ سے اسلام آباد (ٹِلفورڈ) کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔

بعدازاں تمام شاملین ِمجلس کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے کا موقع بھی ملا۔

مزیدبرآں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضور انور کی خدمت میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

ایک ناصر نے سوال کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ سے محبّت کیسے کریں ،جبکہ ہم سے گناہ سرزد ہو چکے ہوں اور ارتکابِ گناہ کی وجہ سے مشکلات میں گرفتار ہوں، لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوں؟

اس پر حضورِ انور نے نہایت شفقت کے ساتھ انسانی زندگی کی حقیقت اور شیطانی وساوس کے مقابل روحانی جدوجہد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ آپ دیکھیں یہ ایک زندگی ہے ۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ نے اپنے آپ کو مکمل طور پر پاک کر لیا ہے اور یہ شیطان کا کام ہے کہ وہ کہتا ہے کہ وہ انسانوں پر مسلسل حملہ کرتا رہے گا اور انہیں نیکیوں سے دُور لے جانے کی کوشش کرے گا۔

اس کے بعد حضورِ انور نے دعا اور اللہ تعالیٰ سے مسلسل مدد طلب کرنے کی اہمیت واضح کرتے ہوئے عملی راہنمائی عطا فرمائی کہ پس ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم مسلسل اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیں اس کی مدد طلب کریں اور اس سے عرض کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں شیطان سے بچائے اور ہمیں یہ طاقت عطا فرمائے کہ ہم اپنے آپ کو ہر قسم کے گناہوں سے محفوظ رکھ سکیں۔

حضورِ انور نے اس روحانی جدوجہد کے مسلسل اور عمر بھر جاری رہنے والے عمل کی طرف متوجہ کرتے ہوئے استقامت اور اُمید کے ساتھ آگے بڑھنے کی تلقین فرمائی کہ لہٰذا یہ ایک جدوجہد ہے ، انسان کی زندگی کے آخری دن تک یہ ایک مسلسل جنگ ہے، پس اگر آپ بھرپور دیانتداری کے ساتھ کوشش کر رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس زندگی میں آپ کو اس کا اجر دے گا لیکن کبھی غفلت میں نہ پڑیں ، کبھی ہمت نہ ہاریں۔ یہ نہ کہیں کہ ہم یہ نہیں کر سکتے ۔

ایک شریکِ مجلس نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ ہم میں سے بہت سے لوگ مغربی ممالک کی طرف ہجرت کر چکے ہیں اور یہاں کی ترقی و استحکام اور آسائشوں پر انتہائی احساسِ شکر گزاری محسوس کرتے ہیں مگر بعض اوقات یہی ممالک بین الاقوامی تنازعات اور جنگوں میں بھی ملوث ہو جاتے ہیں۔ اس سے ہمارے لیے ایک اخلاقی اور جذباتی الجھن پیدا ہو جاتی ہے۔ نیز اس تناظر میں راہنمائی کی درخواست کی کہ ایسے حالات میں ہم بحیثیت قانون کی پابندی کرنے والے اور وفادار شہری اپنے اختیار کردہ ممالک کے لیے شکر گزاری اور شہری ذمہ داری کو انصاف اور عالمی امن کے بارے میں اپنے خدشات کے ساتھ کس طرح متوازن رکھ سکتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے دنیا کےمختلف خطّوں میں موجودہ جنگی و غیر مستحکم صورتحال کی حقیقت واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر افریقہmigrateکر لو تو وہ لوگ سوڈان، صومالیہ، ایریٹیریا بھی جنگوں میں پڑے ہوئے ہیں۔مڈل ایسٹ کے ملکوں میں فساد ہیں، سیریا ہے، عراق ہے ، لیبیا ہے، الجزائر ہے، ہر ملک میں فساد ہیں۔

حضورِ انور نے مغربی ممالک بالخصوص امریکہ کی معاشی صورتحال اور پالیسیوں کے اثرات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا۔ ہاں ! یہ کہہ سکتے ہو کہ ان ملکوں میں ان لوگوں کے double standards ہیں اور آپ لوگ یہاں اپنی حالت کو بہتر کرنے کےلیے آئے تھے ۔ یہاں آکے economicallyآپ sound اوربہتر ہو گئے ہیں، لیکن اب جو آپ کے پریذیڈنٹ صاحب امریکہ کی پالیسی بنا رہے ہیں اور جس طریقے پر چل رہے ہیں ، تو یہاں بھی economy اَور نیچے ہی جا رہی ہے ۔ مہنگائی بھی آپ کے کافی ہو گئی ہے، وہی چیز جو پہلے آپ سو ڈالر میں لیتے تھے، تو اب دو سو ڈالر میں لیتے ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ آپ فوج میں تو بھرتی نہیں ہو رہے ؟

بعد ازاں حضورِ انور نے عملی کردار ادا کرنے اور تبلیغ کے ذریعے معاشرتی شعور پیدا کرنے کی اہمیت کواُجاگر فرمایا کہ باقی اپنے اپنے ماحول میں لوگوں کو ہوشیار کرنے کی کوشش کریں اورawarenessدیں کہ تم لوگ جس طرف جا رہے ہو وہ غلط ہے۔ تو اور کچھ نہیں تو ہم ان ملکوں میں، موقع ملا ہے تو تبلیغ تو کر سکتے ہیں۔

مزید برآں حضورِ انور نے امریکہ کی موجودہ سیاسی صورتحال کے سلسلے میں صدر ٹرمپ کی بعض پالیسیوں اور حالیہ اقدامات پر ہونے والی تنقید کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ بہت ساری تعداد امریکنوں کی بھی ہے کہ جو اس کی پالیسیز کو پسند نہیں کرتی۔ اب یہ جو اس نے AI سے اپنے آپ کو second coming of Jesus بنا کے پیش کردیا، تواس پر کرسچنز نے بڑا شور مچایا، blasphemy اور اس قسم کی باتیں لوگ کرنے لگ گئے ہیں کہ یہ غلط ہے۔ اس پر سنا ہے کہ اس نے اسے deleteکر دیا ، لیکن معافی کوئی نہیں مانگی۔ اس حوالے سےحضورِ انور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ بس deleteکر دیا ہے، اتنا ہی کافی ہے، اس کے لیے یہی بڑی شرافت ہے۔ اس برجستہ تبصرے پر تمام شاملینِ مجلس بھی کھل کر مسکرا دیے۔ پھرگذشتہ سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ پوپ بھی اس کے خلاف بول رہا ہے ۔ تو اس قسم کے لوگ مستقل تو نہیں رہتے۔ نیزحضورِ انور نے مختلف صورتوں میں شیطانی اور دجّالی فتنوں کے ظاہر ہوتے رہنے کی حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ہاں! جب آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا توشیطان نے تو یہ کہا تھا کہ مَیں انسان کو ورغلاتا رہوں گا اور اپنا کام کرتا رہوں گا، تو وہ کر رہا ہے، مختلف صورتوں میں شیطان دجّال آتے رہتے ہیں ۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے عصرِ حاضر کے فتنوں، فکری اُلجھنوں اور تبلیغِ دین کے تقاضوں کے تناظر میں مؤثر حکمتِ عملی اور دعوتِ الی اللہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ ہمارا کام یہ ہے کہ اس ماحول میں رہ کے بھی اپنے آپ کو محفوظ رکھیں اور دنیا کو بھی بتائیں، یہی کام تبلیغ کرنے کا ہے کہ کس طرح صحیح پیغام پہنچاؤ گے، اسی طرح پہنچاؤ گے ۔ مخالفت ہوتی ہے ، تو سوال اُٹھتے ہیں اور جب سوال اُٹھتے ہیں، تو پھر جواب دو۔

ایک شریک مجلس نے سوال کیا کہ پیارے حضور! قرآن کریم کی محبّت بچوں کے دلوں میں کس طرح پیدا کی جاسکتی ہے؟

اس پر حضورِ انور نے سادہ مگر پُرحکمت نصیحت فرمائی کہ اپنے دل میں پیدا کرلیں توبچوں کے دل میں بھی پیدا ہوجائے گی۔

حضورِ انور نے والدین کےذاتی عملی نمونے اور قرآنِ کریم سے تعلق کو بچوں کے لیے دلچسپی کا بنیادی ذریعہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر آپ خود قرآنِ شریف پڑھ رہے ہیں ، روزانہ فجر کی نماز کے بعد تلاوت کر رہے ہیں اور بچے سنتے ہیں کہ ہاں! ہمارے ماں باپ تلاوت کر رہے ہیں، توان کو بھی دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔

مزید برآں حضورِ انور نے بچوں کی دینی تربیت اور ان میں قرآنِ کریم سے عملی دلچسپی پیدا کرنے کے لیے والدین کو وقت دینے اور راہنمائی کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ پھر بیٹھ کے تھوڑا سا وقت ان کے ساتھ لگائیں کہ اسلام کی تعلیم کیا ہے اور اسلام کی تعلیم کی بنیاد کیا ہے ، قرآن کریم ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پرجو شریعت اُتری وہ کیا ہے۔وہ قرآنِ کریم ہے ۔ قرآنِ کریم ہمیں کیا کہتا ہے، ہماری moral ڈیوٹیز کیا ہیں، ہماری domestic obligations کیا ہیں، ہماری بچوں کے بارے میں ذمہ واریاں کیا ہیں اور سوسائٹی سے ہم نے کس طرح ڈیل کرنا ہے اور اللہ کی عبادت کس طرح کرنی ہے؟ تو یہ ساری باتیں جب آپdiscuss کر رہے ہوں گے، تو وہ اپنا سیل فون اور آئی پیڈ اور اینڈرائیڈ وغیرہ بیٹھے جب دیکھ رہے ہوتے ہیں ، توصرف اس پر نہیں رہیں گے۔ کوئی تھوڑا سا آدھا گھنٹہ آپ کے ساتھ لگائیں گے تو ان کو دلچسپی پیدا ہوگی کہ ہاں! پھر وہ کوشش کریں گے کہ ہم بھی قرآنِ کریم پڑھ کے دیکھیں ۔

اسی طرح حضورِ انور نے قرآنِ کریم کے ترجمہ اور فہم کے حوالے سے پائی جانے والی بعض عملی مشکلات اور ان کے حل کی بابت تجویز فرمایا کہ بعض دفعہ کیونکہ قرآنِ کریم کاترجمہ پُرانے انگلش scripture میں ہوتا ہے، تو بعض لڑکے کہتے ہیں کہ ہمیں سمجھ نہیں آتی ، تو پھر ان کو سمجھائیں کہ کیا کیا مطلب ہیں۔ ایک دو ہی لفظ Thou اور Thee کے فرق ہی ہیں۔ اس کے علاوہ تو کچھ اور بات نہیں ہے ، باقی تو نارمل انگلش لکھی ہوتی ہے، تو وہ ان کوبتا دیں ۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت میں والدین کی قربت اور مسلسل رفاقت کی ناگزیر ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہیں وقت دینے کی نصیحت کا اعادہ فرمایا کہ بہرحال جب تک بچوں کے ساتھ بیٹھیں گے نہیں اس وقت تک نہ ان کو دین کا پتا لگ سکتا ہے ، نہ قرآن کاپتا لگ سکتا ہے، نہ اسلام کاپتا لگ سکتا ہے اور نہ ان کی اپنیroots ہیں، ان کا پتا لگ سکتا ہے۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ کچھ افراد نظام کو قریب سے نہ دیکھنے کے باعث کچھ عہدید اران کے غلط روّیے کو ہی نظام سمجھتے ہیں ، نیز اس کی بابت راہنمائی کی درخواست کی کہ ہم کس طرح ان بھائیوں کی راہنمائی کریں تاکہ نظام کو مستحکم کرنے اور انسانی کمزوریوں سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے میں مددگار ثابت ہوں؟

اس پر حضورِ انور نے عہدیداران کی ذمہ داریوں اور ان کی تربیت و اصلاح کے تسلسل کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ جو عہدیدار اپنے عہدے کو نہیں سمجھتے، اپنے نظام کو نہیں سمجھتے ، ان کے لیے پھر ہر تیسرے مہینے سال میں دو دفعہ ریفریشر کورس ہونا چاہیے۔ان کو بتائیں کہ نظام کیا ہے اور تمہاری ذمہ داریاں کیا ہیں۔مَیں تو خطبوں میں بیان کر چکا ہوں ، اس کا مطلب ہے کہ خطبے بھی نہیں سنتے، بیان تو کر چکا ہوں کہ عہدیداروں کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور ان کو کس طرح اپنے آپ کی اصلاح کرنی چاہیے اور کس طرح لوگوں کے ساتھ dealکرنا چاہیے۔

حضورِ انور نے عہدیداروں کے رویّوں میں پیدا ہونے والی عمومی ناراضگی اور اس کے حل کی طرف راہنمائی کرتے ہوئے یا د دلایا کہ کئی بار کہا ہے کہ بہت سارے لوگ عہدیداروں کو دیکھ کے ناراض ہو جاتے ہیں، تو عہدیدار پہلے اپنی اصلاح کریں ۔اس کے بارے میں بہت دفعہ کہہ چکا ہوں۔ ابھی چند مہینے پہلے ہی مَیں نے ایک خطبہ دیا تھا۔ ہر سال ایک آدھ خطبہ اس پر آ ہی جاتا ہے ۔اگر آپ لوگوں نے اس سے نہیں سیکھنا ، تو مَیں کیا کر سکتا ہوں، میرا کام سمجھانا ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا تو قرآن شریف میں یہی حکم ہے کہ نصیحت کرو ، نصیحت کرنا تمہارا کام ہے، آگے سمجھنا ، دماغ کھولنا اللہ کا کام ہے اور آپ کی کوشش ہے کہ کتنا دماغ کھولنا چاہتے ہیں۔

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ حضورِ انور نے چند ماہ قبل جس خطبے کا ذکر فرمایا ہے، وہ آپ نے تبلیغ کے حوالے سے مورخہ ۱۲؍ دسمبر ۲۰۲۵ء کو ارشاد فرمایا اور یہ مورخہ ۲۸؍دسمبر ۲۰۲۵ء روزنامہ الفضل انٹرنیشنل کی زینت بن چکا ہے، اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں حالیہ خطبات میں ایک خطبہ حضور نے مورخہ ۱۸؍ اگست ۲۰۲۳ء کو بھی ارشاد فرمایا تھا، جس میں امانتیں ان کے حقداروں کے سپرد کرنے اور عہدیداران کے فرائض و ذمہ داریوں کے حوالے سے زرّیں نصائح عطا فرمائی تھیںجس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔]

پھر حضورِ انور نے نظامِ جماعت اور عہدیداروں کے حقیقی مقام و حیثیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس لیے پہلی بات تو یہ ہے کہ عہدیدار اپنی اصلاح کریں اور جو لوگ سمجھتے ہیں کہ عہدیدار ہی نظامِ جماعت ہیں، ان کے لیے جب آپ کا مہینے کا اجلاس ہوتا ہے یا دو مہینے بعد اجلاس ہوتا ہے تو وہاں بتائیں کہ عہدیدار نظامِ جماعت نہیں۔نظامِ جماعت کے یہ مددگار ہیں۔ عہدیدار اس لیے بنائے گئے ہیں کہ ہمیں مدد مل جائے اور خلیفۂ وقت کے مددگار بن جائیں اور یہ بات عہدیداروں کو بھی بتائیں، لوگوں کو بھی بتائیں کہ ان کو سمجھایا کریں کہ مددگار کی حیثیت سے تمہارا کام ہے کہ تمہارے عبادت کے معیار بھی اچھے ہونے چاہئیں، تمہارے اخلاق کے معیار بھی اچھے ہونے چاہئیں اور جب یہ ہوگا تو پھر تمہیں سمجھ آئے گی کہ نظامِ جماعت کیا ہے۔

اسی طرح حضورِ انور نےخلافت، نظامِ جماعت اور جماعتی ڈھانچے کی اصل روح کوواضح کرتے ہوئے فرمایا کہ نظامِ جماعت کے بارے میں لوگوں کو آگاہی دیتے رہنا چاہیے، بتاتے رہنا چاہیےکہ یہ نظامِ جماعت ہے۔ خلافت کے گرد سارا کچھ گھوم رہا ہے اور خلافت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کے گرد گھوم رہی ہے اور مسیح موعود علیہ السلام کا مشن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو دین ہے، اس کو دنیا میں رائج کرنے کےلیے آیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکومت کو رائج کرنے کےلیے آیا ہے۔

مزید برآں حضورِ انور نے نظامِ جماعت کی آگاہی کے ضمن میں خطبات کے ذریعے تربیت کے تسلسل کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ تو یہ باتیں مَیں آجکل خطبے میں بھی بتا رہا ہوں ، اس پر اگر غور کر لیں، لوگوں کو سمجھا دیں کہ خطبے ہی سن لیا کریں تو ان کو نظام ِجماعت کا پتا لگ جائے گا ۔ بہت کم ایسے ہیں کہ جن کو پتا نہیں ہوتا۔ مَیں نے عہدید اروں پر خطبہ جو دیا تھا ، تو اس پر لوگوں نے، بہت ساروں نے مجھے لکھا ، خط آئے کہ ہمیں نظا م جماعت کا بھی پتا لگ گیا اور ہمیں یہ بھی پتا لگ گیا کہ ہمارے عہدیدار غلط تھے اور کہاں ہماری غلطیاں تھیں۔ جو خطبہ سنتے ہیں تو پھر ان کو خطبہ ہی سنا دیا کریں ۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے نصیحت و تربیت کے مسلسل اور منظّم نظام کی اہمیت کو دنیاوی مثال کے ذریعے واضح کرتے ہوئے فرمایاکہ سویہ سمجھانے کا مستقل کام ہے ۔ دنیا میں کہیں بھی یہ نہیں ہوتا کہ ایک دفعہ آپ نے پڑھ لکھ لیا، نیز اپنے سامنے دائیں جانب بیٹھے ہوئے حاضرین میں سے ایک ناصر کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے پی ایچ ڈی بھی کر لی ہے، تو کیا خیال ہے کہ ان کے ورکشاپ نہیں ہوتے ، ان کے سیمینارز نہیں ہوتے، ہوتے ہیں۔ اور اس لیے ہوتے ہیں تاکہ اپنے علم کو renewکرتے رہیں اور جو نئے لوگ ریسرچ کرنے والے ہیں، اپنے پیپر پڑھتے ہیں، یہ اپنے پیپر پڑھتے ہیں اور نئی نئی باتیں شیئر ہوتی ہیں، میٹنگز ہوتی ہیں، سائیڈ میٹنگز ہوتی ہیں ۔ اس میں ان کے جو سیمینار ہو رہے ہوتے ہیں، اس میں یہ discussکر رہے ہوتے ہیں، تو اس طرح مستقل نصیحت کرنے کا نظام جماعت کے اندر بھی ہونا چاہیے۔

ایک ناصر نے سوال کیا کہ جماعت کے اندر اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ دینے کے لیے انصار اللہ کو کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟

اس پر حضورِ انور نے انصار اللہ کے حقیقی مفہوم اور اس کے تقاضوں کی جانب توجہ دلاتے ہوئے بھائی چارہ قائم کرنے اور عملی نمونہ دکھانے کی بابت راہنمائی فرمائی کہ انصارالله کا کیا مطلب ہے؟ الله کے مددگار ہیں۔تو الله میاں آپ سے کیا چاہتا ہے؟اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ بھائی چارہ قائم ہو، تو بھائی چارہ قائم کریں اورکرنا چاہیے، اپنا نمونہ دکھائیں اور لوگوں کی مدد کریں ۔

اس طرح حضورِ انور نے معاشرے میں حقیقی بھائی چارے کے فروغ کے لیے دوسروں کے بچوں کو اپنے بچے سمجھ کر ان کی تربیت کرنے، نوجوانوں کے ساتھ شفقت و اپنائیت کا سلوک رَوا رکھنے اور اپنے گھروں میں اعلیٰ مثالیں قائم کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ بچوں کو سمجھائیں۔ اپنے بچے سمجھ کے treatکریں۔چھوٹے جو عمر میں خدام ہیں، ان کو اپنے بھائیوں کی طرح سمجھیں ۔ اپنے گھروں میں اچھی مثال قائم کریں ، بچوں کے سامنے اچھی مثال قائم ہو اور آپ لوگ انصار بن کے رہیں ۔ ایک دوسرے کو بتائیں کہ انصار کامطلب کیا ہے کس طرح ہم نے ایک دوسرے کی مدد کرنی ہے۔ اسی طرح بھائی چارہ بنتا ہے ۔جو غیر ہیں، دشمن ہیں، ان کو بھی اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ دوست بن جاتے ہیں ۔ تو جو آپ کے اپنے ہیں ان کو تودوست بنانا چاہیے۔

مزید برآں حضورِ انور نے مشکل حالات میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے انصار کو باہمی تعاون اور ایثار کا نمونہ بننے کی تلقین فرمائی کہ اب پچھلے دنوں کسی نے سوال کیا کہ اگر کرائسز آتا ہے، جن کے پاس وسائل نہیں ہیں، جنگی حالات ہوتے ہیں تو وہ کس طرح اپنا تین مہینے کا فوڈ سٹور کر سکتے ہیں؟ تو مَیں نے ان کو بتایا تھا کہ پھر جتنا وہ کر سکتا ہے وہ کرے اور جو نہیں ہے، باقی جو انصار ہیں یا دوسرے لوگ ہیں ، وہ ان کی مدد کریں۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے مؤاخاتِ مدینہ کے عظیم نمونے کی روشنی میں اعلیٰ اخلاق، باہمی تعلق اور عملی قربانی کے ذریعے حقیقی اسلامی بھائی چارے کے قیام پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ اپنے بھائیوں کی مدد کریں۔اس سے بھائی چارہ پیدا ہوگا۔وہی مؤاخات جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں پیدا کی تھی۔ بھائی کو بھائی بنایا تھا ، اسی طرح آپ لوگ بھائی بھائی بنیں اورایک دوسرے کے کام آئیں۔ تحفے دیں ، سلام کریں ، عید پرجائیں، ملیں جلیںتو بھائی چارہ قائم ہوتا ہے۔ جو مؤاخات کا نمونہ مدینہ میں تھا وہ آپ کے سامنے ہے۔ وہ تو اپنی جائیدادیں اور بلکہ اپنی ایک سے زائد بیویاں چھوڑ کے دوسرے کو دینے کو تیار ہو گئے تھے۔ تو یہ اعلیٰ اخلاق اگر ہوں تو بھائی چارہ قائم ہو جاتا ہے ۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ موجودہ دَور میں دنیا کے بگڑتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر لوگ ذہنی سکون کی تلاش میں ہیں ۔ اس حوالے سے راہنمائی کی درخواست ہےکہ اس وقت اسلام کا پیغام پہنچانے کا بہترین طریق کیا ہے؟

اس پر حضورِ انور نے ذہنی سکون کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے اور اس ضمن میں حالیہ خطباتِ جمعہ کے ذریعے دی جانے والی روحانی عملی راہنمائی سے استفادہ کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ان کو بتائیں کہ اللہ کی طرف آؤ۔ آپ میرے خطبے سنتے ہیں ۔ آجکل سن رہے ہیں ۔ پہلے مَیں نے محبّت الٰہی،پھر مَیں نے عبادت اور اب آجکل مَیں توحید پر خطبے دے رہا ہوں۔ اس میں ساری ذہنی سکون کی باتیں ہو رہی ہیں ، وہ آپ سن لیں، جذب کر لیں، اس میں سے پوائنٹ نوٹ کریں اور لوگوں کو بتائیں اور خود ان کے اُوپر عمل کریں۔

اسی تناظر میں حضورِ انور نے قرآنی تعلیم کی روشنی میں ذہنی و قلبی سکون کے حقیقی منبع کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بھی کہتا ہے: اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ کہ یقیناً اللہ کا جو ذکر ہے، اللہ کو جویاد کرنا ہے ، وہ تمہارے دل کو سکون دے گا۔ تو اللہ تعالیٰ کا یہ دعویٰ ہے ، تو اللہ تعالیٰ کا دعویٰ تو جھوٹا نہیں ہو سکتا، اس کا مطلب ہمارے اندر کمی ہے اور ہم اس پر پوری طرح عمل نہیں کر رہے ۔ اگر ہم عمل کریں تو اللہ کی بات غلط نہیں ہو سکتی۔

مزید برآں حضورِ انور نے سیرتِ نبویؐ کے ایک نہایت پُرحکمت اور سبق آموز واقعے کے ذریعے مؤخّر الذکر قرآنی تعلیم کے عملی پہلو کو مؤثر انداز میں واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح ایک مریض آیا ، اس کا پیٹ خراب تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا توآنحضور ؐنے فرمایا کہ اس کو جا کے شہد دو۔ انہوں نے جا کے شہد دیا ، واپس آ کے کہا گیا کہ پیٹ تو اور زیادہ خراب ہو گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ دوبارہ جاکے شہد دے دو۔ پھر کہا گیا کہ دوبارہ دینے سے اور زیادہ خراب ہو گیا۔انہوں نے تیسری دفعہ پھر کہا کہ جا کے دوبارہ دے دو۔ تو اس کو بہرحال تیسری یا چوتھی دفعہ پھر دیا گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو معدہ ہے، اس کی جو بیماری ہے ، وہ تو غلط ہو سکتی ہے۔ لیکن اللہ کا کلام جھوٹا نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نےشِفَآءٌ لِّلنَّاسِ فرمایا، کہ لوگوں کے لیے شہد میں شفا ہے، اس لیے اس میں شفا ہے۔ ہو سکتا ہے مختلف قسم کے شہد ہوں ، بہرحال جب آخری دفعہ اسے دیا تو کہا کہ وہ ٹھیک ہو گیا ۔ جتنی معدے کی صفائی ہونی تھی، ہو سکتا ہے کہ اس شہد نے کر دی ہو اس کے بعد وہ ٹھیک اور تندرست ہوگیا۔ تومطلب تھا کہ ایک یا دو دفعہ یا تین دفعہ یاچار دفعہ آپؐ repeatکرتے رہے۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے ذاتی سکون اور اِتمامِ حجّت کے حصول کے لیے نصیحت و پند کے تسلسل اور اس ضمن میں مستقل مزاجی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ لوگوں کا بھی یہی کام ہے کہ ایک دفعہ، دو دفعہ ،تین دفعہ، چار دفعہ پیغام پہنچاتے چلے جائیں کہ یہی سکون کا طریقہ ہے ، اسی میں تمہاری بقا ہے اوراسی میں تمہاری بچت ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کو یاد رکھو گے، اس کی عبادت کرو گے ، سو تم بچو گے۔ اگر کوئی آپ کاانکار کر کے اورمنہ موڑ کے چلا جائےتواگلی دفعہ پھر جا کے اس کی دوسری طرف سے سامنے ہو کے پھر یہی بات کہہ دیں تو یہ مستقل پیغام پہنچاتے چلے جائیں۔ یہی آپ کا کام ہے تاکہ آپ کو خود بھی ذہنی سکون ملے اور لوگوں کو بھی اِتمامِ حجّت ہو جائے اور جو پھر اصلاح نہیں کرنا چاہتا اس کی اپنی مرضی ہے۔

ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے اور آپ کے دستِ مبارک سے قلم بطورتبرک حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس انصار الله امریکہ کے سینٹرل ایسٹ ریجن سے تعلق رکھنے والےاحباب کے ایک وفد کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button