یورپ (رپورٹس)

مسجد فضل لندن میں سبز یادگاری تختی کی باضابطہ نقاب کشائی

مکرم فرید احمد صاحب سیکرٹری اُمور خارجہ یوکے تحریر کرتے ہیں کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح برطانیہ میں بھی مختلف کونسلز اور ادارے جیسے ’English Heritage‘تاریخی عمارتوں اور اہم شخصیات کی یاد میں یادگاری تختیاں نصب کرتے ہیں جو عموماً ہرے یا نیلے رنگ کی ہوتی ہیں۔ یہ تصور دنیا کے کئی ممالک میں موجود ہے تاہم ہر ملک میں اس کا نام، رنگ اور طریقۂ کار مختلف ہوسکتا ہے۔ برطانیہ میں یہ روایت نہایت منظم، نمایاں اور عوامی سطح پر معروف ہے۔ درحقیقت یہ ایک یادگاری تختی ہوتی ہے جو کسی مقامی کونسل کی جانب سے کسی تاریخی عمارت، مقام یا اہم شخصیت کی یاد میں نصب کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد کسی مقام کی تاریخی اہمیت کو تسلیم کرنا، عوام کو اس کی تاریخ سے آگاہ کرنا اور اہم شخصیات یا عمارتوں کی یاد کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔

وانڈز ورتھ کونسل کی حدود میں واقع ا یک صدی سے زائد قدیم مسجد فضل لندن بھی برطانیہ کی ایک اہم تاریخی عمارت ہے۔ اس حیثیت کے اعتراف میں وانڈز ورتھ کونسل کے زیر اہتمام ۲۴؍مارچ ۲۰۲۶ء بروز منگل مسجد فضل لندن میں ’گرین پلیک‘ کی باضابطہ نقاب کشائی کی تقریب نہایت وقار اور شان کے ساتھ منعقد ہوئی۔ یہ گذشتہ ایک سال کے دوران نصب کی جانے والی ۱۲؍پلیکوں میں سے آخری تھی جس نے اس تقریب کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا۔ تقریب میں تقریباً ایک سو افراد نے شرکت کی جن میں مقامی کونسلرز، معززین علاقہ، پڑوسی اور جماعت احمدیہ کے اراکین شامل تھے۔

پلیک کی باضابطہ نقاب کشائی میئر وانڈز ورتھ، کونسلر جیریمی ایمبیچ (Jeremy Ambache) اور نائب امیر یوکے و امام مسجد فضل لندن مکرم عطاءالمجیب راشد صاحب نے مشترکہ طور پر کی۔ اس موقع پر لیڈر وانڈز ورتھ کونسل، کونسلر سائمن ہاگ (Simon Hogg) اور مکرم ناصر خان صاحب بطور نمائندہ امیر صاحب جماعت احمدیہ یوکے بھی موجود تھے۔

تقریب کی نظامت خاکسار (سیکرٹری امور خارجہ جماعت احمدیہ برطانیہ) نے کی۔ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم عثمان بٹ صاحب مبلغ سلسلہ نے پیش کی۔ اس کے بعد مختلف معزز مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین میں میئر اور لیڈر وانڈز ورتھ کونسل، مکرم ناصر خان صاحب، مکرم راحیل احمد صاحب مربی سلسلہ شعبہ تاریخ یوکے، مکرم منیر دین صاحب اور مکرم امام صاحب مسجد فضل شامل تھے۔ مقررین نے اپنی تقاریر میں مسجد فضل کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اسے گذشتہ ایک صدی سے امن، رواداری اور خدمت انسانیت کا ایک روشن مینار قرار دیا۔ انہوں نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ یہ مسجد نہ صرف عبادت کا مرکز رہی ہے بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی، سماجی یکجہتی اور فلاحی خدمات کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کرتی رہی ہے۔ مقررین نے مسجد اور مقامی کمیونٹی کے درمیان قائم مضبوط اور دیرینہ تعلقات کو سراہا اور اس پر فخر کا اظہار کیا۔ آخر میں مکرم امام صاحب نے دعا کروائی جس کے ساتھ اس بابرکت اور تاریخی تقریب کا اختتام ہوا۔

تقریب کے بعد مسجد کے احاطہ میں قائم ایک خوبصورت مارکی میں مہمانوں کی تواضع ہلکی پھلکی ریفریشمنٹ سے کی گئی جہاں ایک مختصر مگر معلوماتی نمائش بھی پیش کی گئی۔ اس موقع پر مسجد فضل لندن کی صد سالہ تقریبات کے حوالے سے ایک خصوصی کتابچہ بھی حاضرین میں تقسیم کیا گیا جسے بے حد سراہا گیا۔ یہ تقریب نہ صرف مسجد فضل لندن کی تاریخی حیثیت کے اعتراف کا مظہر تھی بلکہ اس امر کی بھی عکاس تھی کہ جماعت احمدیہ امن، محبت اور خدمت انسانیت کے پیغام کو عملی طور پر دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہے۔

(رپورٹ: لطیف احمد شیخ۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

مزید پڑھیں: مدرسۃ الحفظ گھانا کے ۱۰۳ویں طالب علم کا اعزاز تکمیلِ حفظ قرآن

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button