محترمہ طاہرہ رشیدالدین صاحبہ کی یاد میں
میر تقی میر کہتے ہیں:
بارے دنیا میں رہو، غم زدہ یا شاد رہو
ایسا کچھ کرکے چلو یاں کہ بہت یاد رہو
خاکسار ایک ایسی ہستی کا ذکرخیر کرنے جارہا ہے جن کے وجود باجود کے ساتھ کچھ، ایسی باغ و بہار و دل آواز یادیں وابستہ ہیں، جن سے مہمان نوازی، خوش خلقی اور عزیز و اقارب کی بھری محفلوں میں ہنسی مزاح کے رنگ بکھیرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد کی اعلیٰ تعلیم وتربیت سمیت معمولات زندگی کی کئی دلکش کلیاں و خوش رنگ شگوفے پھوٹتے دکھائی دیتے ہیں۔ خاکسار کی مراد ماضی کو حال سے ملانے والی اور اپنے گھر کے باورچی خانہ میں، اکثر آنے والے مہمانوں کی خاطر مدارت میں ہمہ تن مصروف رہنے والی ایک ایسی ہمہ گیر شخصیت سے ہے، جن کا سفرحیات کم و بیش ۸۶؍سال پر محیط تھا۔ یعنی محترمہ نذیر بیگم صاحبہ المعروف ‘طاہرہ بیگم’ زوجہ محترم چودھری رشیدالدین صاحب سابق مبلغ مغربی افریقہ و سابق ناظم دارالقضاء صدر انجمن احمدیہ پاکستان جو ۱۸؍جنوری ۲۰۲۴ء کو بے شمار انمٹ یادیں چھوڑ کر اپنے مولائےحقیقی کے حضور حاضر ہو گئیں۔انا للہ و انا الیہ راجعون
محترمہ طاہرہ بیگم صاحبہ اپنے پیچھے تین بیٹے اور تین بیٹیوں کے علاوہ دو درجن کے قریب پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں اپنی یاد گار چھوڑ گئیں ہیں۔ بڑا بیٹا ڈاکٹرعلیم الدین، سابق صدر جماعت احمدیہ آئرلینڈ حال یوکے، دوسرا بیٹا چودھری سلیم الدین اور تیسرا بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا بیٹا ڈاکٹر کلیم الدین آف امریکہ ہے۔ اسی طرح اپنے چھ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی زبدہ صالحہ ناصر، خاکسار ( ناصر احمد وینس) کی اہلیہ، اس سے چھوٹی طیبہ صدیقہ، مکرم ڈاکٹر راجہ نذیر احمد ظفر صاحب مرحوم (کیوریٹو میڈیسن کمپنی ) کے بیٹے راجہ رشید احمد المعروف ‘رشدی’ کی اہلیہ اور تیسری بیٹی بشریٰ سلیم اہلیہ سلیم احمد حال کینیڈا ہیں۔
مرحومہ نے اپنے میاں کے ہمراہ تقریباً بائیس سال ٹورانٹو میں بھی گزارے اور یہاں بھی انمٹ یادوں کے نقوش چھوڑ گئیں۔ آپ کا تعلق چونڈہ ضلع سیالکوٹ کی باجوہ فیملی سے تھا۔ شادی کے فوراً بعد پہلے چک نمبر۳۷ جنوبی ضلع سرگودھا میں اپنے سسرال کے ہاں مقیم رہیں۔ پھر اپنے واقف زندگی خاوند کے نائیجیریا سے واپسی کے بعد، پاکستان میں جہاں جہاں ان کی مرکز کی طرف سے تعیناتی ہوتی رہی وہیں وہیں خاوند کے ہمراہ فروکش رہیں۔ اس طرح تقریباً ساڑھے سات سال (۲ مرتبہ) اپنے خاوند کے بیرون پاکستان جملہ تبلیغی فرائض کے دوران ان کی عدم موجودگی میں، اپنے بچوں کے ہمراہ مرکز سلسلہ ربوہ میں رہ کر انہیں زیورِ تعلیم سے کماحقہ آراستہ کیا۔ دوران تعلیم آپ کے بچے ربوہ کے تعلیمی ادارہ جات میں بھی نمایاں تعلیمی کامیابیاں حاصل کرتے رہے۔ ان کی منجھلی بیٹی عزیزہ طیبہ صدیقہ نے پنجاب یونیورسٹی کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
خاکسار نے مرحومہ کی وفات کے بعد سطور ہذا کے لیے جو معلومات اکٹھی کی ہیں۔ان سے بھی ان کے بہت سے اوصاف حمیدہ کا پتہ چلتا ہے۔ ذیل میں مختصر تذکرہ پیش ہے۔
جیسا کہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ (مطبوعہ روزنامہ الفضل انٹرنیشنل ۲؍فروری ۲۰۲۴ء) میں مرحومہ کی وفات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ان میں بہت سی خوبیاں پائی جاتی تھیں۔ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپ کو خاص عقیدت و انس تھا۔ اس کے علاوہ نماز روزہ جیسی عبادات کی بہت پابندی کرتی تھیں۔ آپ کی ذات میں ایک نمایاں وصف آپ کی قبولیت دعا اور سچی خوابوں کا شرف حاصل کرنا تھا۔
آپ کی سچی خوابوں کی فہرست یوں تو بہت طویل ہے، صرف ایک خواب کا ذکر کرتے ہوئے آپ کے بڑے بیٹے ڈاکٹرعلیم الدین صاحب نے بتایا کہ ۲۰۰۰ء کی بات ہے خاکسار پاکستان میں اپنے میڈیکل کے FCPS امتحان کی تیاری کر رہا تھا جو کہ کافی مشکل گردانا جاتا ہے۔ چنانچہ امی جان سے میں نے خصوصی دعا کرنے کی درخواست کی۔ ایک روز بعد از دعا مجھے بتانے لگیں کہ مجھے دعا کرنے کے بعد بہت تسلی ہوئی ہے۔ نیز اپنی ایک خواب کا ذکر بھی کیا کہ خواب میں خاکسار اپنے ایک دوست انورعدیم صاحب مع ان کی اہلیہ، ایک کار میں لندن کی سیر کر رہے ہیں۔ اس وقت میرا یا میرے دوست انور ندیم صاحب کا لندن جانا بظاہر دنیاوی لحاظ سے قطعی ناممکن تھا۔ میرے FCPS امتحان کا رزلٹ آیا تو میں اس میں کامیاب نہ ہوسکا۔ لیکن اس خواب کے عملاً پورا ہونے کا میں نے اس طرح مشاہدہ کیا کہ اس خواب کے دیکھے جانے کے چند مہینوں کے اندر اندر معجزانہ طور پر خاکسار آئرلینڈ پہنچ گیا اور اللہ تعالیٰ نے میرا MRCP کا امتحان بھی، پہلی کوشش میں ہی پاس کروا دیا۔ اور یوں خاکسار نے بحیثیت میڈیکل ڈاکٹر آئرلینڈ میں ہی جاب شروع کر دی۔ چند مہینوں کے بعد لندن بھی سیر کے لیے چلا گیا۔ جبکہ خواب کا دوسرا حصہ جو انورندیم صاحب اور ان کی اہلیہ محترمہ سے متعلق تھا، وہ بھی جلد ہی پورا ہوگیا اور وہ دونوں بھی انگلینڈ میں سیٹل ہوگئے۔ آجکل خاکسار انگلینڈ میں ہی پریکٹس کر رہا ہے اور میری رہائش اسلام آباد(ٹلفورڈ) سے تھوڑے ہی فاصلے پر ہے اور بیشتر نمازیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اقتدا میں ادا کرنے کے مواقع مل رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں یہ سب والدین بالخصوص والدہ محترمہ کی شبانہ روز دعائیں ہی تھیں جن کی بدولت ناممکنات، ممکنات میں بدل گئے۔ یوں امی جان محترمہ کی اس خواب کے ذریعے، ہستیٔ باری تعالیٰ پر ہمارا ایمان اور بھی پختہ تر ہوگیا۔ الحمد للہ
ڈاکٹر علیم الدین کی اہلیہ محترمہ ساجدہ علیم صاحبہ نے پرانی یادوں کو کریدتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک حد درجہ عبادت گزار، دعاگو اور صاحب کشف و رؤیا بزرگ خاتون تھیں۔ گھنٹوں نماز میں گزر جاتے۔ ایسے ہی محسوس ہوتا کہ اس حاجت روا ہستی سے اپنی حاجت منوا کر ہی اٹھیں گی۔ جمعۃالمبارک کے روز تو صبح ہی صبح تیاری شروع کردیتیں اور بارہ بجے سے پہلے ہی گرمی ہو یا سردی گھر سے نکل جاتیں۔ کسی سواری یا لفٹ کی چنداں فکر نہ ہوتی، بس ایک ہی دھن ہوتی کہ مسجد اقصیٰ میں نماز کی اگلی قطار میں بیٹھنا ہے۔
گھنٹوں ان سے قبولیت دعا کے ایمان افراز واقعات سننے کا موقع ملا۔ بہواور بیٹیوں میں کبھی کوئی فرق نہیں رکھا۔ جب میں شادی ہو کر آئی تو گھر کے بہت سے کام خود ہی کر لیا کرتی تھیں۔ ان کی کوشش ہوتی کہ مجھ پر کام کا کسی قسم کا کوئی بوجھ نہ پڑے۔ انہوں نے ایک واقف زندگی خاوند کی اہلیہ ہونے کا صحیح حق ادا کیا۔ اسی طرح اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف بھی خصوصی توجہ دے کر ان کی تربیت کا حق بخوبی نبھایا۔
اگرچہ میرے والدین نے بھی بیشک دل میں خدا تعالیٰ اور احمدیت سے محبت کا بیج ڈالا تھا۔ لیکن اگر میں یوں کہوں کہ میرے دل میں اس کی نشوونما اور حقیقی ادراک، میرے سسر اور ساس کی نہایت محبانہ، بردبارانہ اور شفیقانہ تربیت کو دیکھ کر پختہ تر ہوا تو یہ حقیقت سولہ آنے صحیح ہو گی۔ ان کی صحبت میری روحانی درسگاہ بنی۔ جو اطمینان قلب اور سکینت میں نے اپنے سسرالی گھر کے عملی کردار میں دیکھی اور پائی، اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ بزبان احمد فراز:
بات کردار کی ہوتی ہے ورنہ فرازؔ
قد میں تو سایہ بھی انسان سے بڑا ہوتا ہے!
ان کے سب سے چھوٹے بیٹے عزیزم ڈاکٹر کلیم الدین آف امریکہ نے بتایا کہ ہماری والدہ بڑی باصبر اور حوصلہ مند خاتون تھیں۔ ایک واقف زندگی کی اہلیہ ہونے کی حیثیت سے والد صاحب کی افریقہ کے ممالک میں دو مرتبہ تعیناتی کا دَور، چھوٹے بچوں کیساتھ اکیلے انتہائی صبر اور مردانہ جرأت و حوصلے سے گزارا۔ ہماری والدہ کو خلیفہ وقت اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عشق کی حد تک لگائو تھا۔ اپنے بچوں کو خلافت کے ساتھ انتہائی اخلاص و وفا کےساتھ تعلق قائم رکھنے کی تاکید کیا کرتی تھیں۔ نظام جماعت کی ساکھ کے لیے انتہائی غیرت رکھنے والا وجود تھیں۔ چنانچہ نظام کے خلاف کوئی بات ہرگز برداشت نہیں کرتی تھیں، چاہے اس کےساتھ کتنا ہی قریبی خاندانی تعلق ختم ہونے کا اندیشہ ہی کیوں نہ ہو۔
آپ کی سب سے چھوٹی بیٹی بشریٰ سلیم صاحبہ بتاتی ہیں کہ امی جان کو خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سےبےحد اُنس تھا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سب سے چھوٹی دختر حضرت سیّدہ نواب امۃالحفیظ بیگم صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے تو امی جان کو اپنی ‘‘ بیٹی ’’ بنایا ہوا تھا۔ اور آپ نے بھی بیٹی ہونے کا پورا پورا حق ادا کیا۔ مجھے یاد ہے میری عمر کوئی دس گیارہ سال ہوگی، جب امی مجھے اپنے گھر سے موتیا اور چنبیلی کے پھول ( جو حضرت بیگم صاحبہؓ کو بےحد پسند تھے) ٹوکری میں سجا کر دیا کرتیں کہ بیگم صاحبہؓ کے گھر دے آؤ۔ جن کا گھر بھی ہمارے ہی محلہ میں ہمارے گھر کے قریب ہی تھا۔ میں جب کبھی جاتی تو بیگم صاحبہ مجھ پر خاص شفقت فرماتیں اور پاس بٹھا کر پیار کرتیں۔ جن خواتین کو حضرت بیگم صاحبہؓ کی وفات کے وقت آپ کو غسل دینے کی سعادت حاصل ہوئی، ان میں ہماری امی جان بھی شامل تھیں۔ حضرت بیگم صاحبہؓ کی سیرت اور ان کے ساتھ قریبی تعلقات پر مبنی امی جان کا ایک مضمون بھی، حضرت بیگم صاحبہ ؓکی وفات کے بعد ماہنامہ مصباح کی خصوصی اشاعت میں چھپا تھا۔
ایسے ہی تاثرات ان کے باقی بچوں کے بھی ہیں۔ تاہم ان سطور کے ساتھ ان کی وفات پر حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے اس خطبہ جمعہ کا وہ حصہ بھی پیش ہے جس میں حضورایدہ اللہ تعالیٰ نے مرحومہ کا ذکرخیر فرمایا تھا۔ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:‘‘طاہرہ نذیر بیگم صاحبہ جو طاہرہ رشید الدین کہلاتی ہیں۔چودھری رشید الدین صاحب مربی سلسلہ کی اہلیہ ہیں۔ گذشتہ دنوں ان کی بھی وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ ان کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ ان کے دادا حضرت چودھری غلام حسین صاحبؓ کے ذریعہ ہوا تھا۔ اسی طرح ان کے نانا حضرت چودھری غلام حیدر صاحب دھاریوالؓ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ جیساکہ میں نے کہا چودھری رشید الدین صاحب کی اہلیہ تھیں۔ ان کا نکاح دسمبر ۵۸ء میں مولانا جلال الدین صاحب شمسؓ نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موجودگی میں پڑھا تھا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے دعا کروائی تھی۔
یہ اپنی ایک خواب کا بھی ذکر کرتی ہیں ۔کہتی ہیں 1980ء میں مجلس مشاورت میں مجھے جانے کے لیے ٹکٹ مل گیا۔ نمائندہ بن گئی۔ حضرت خلیفةالمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ مشاورت میں شامل تھے۔ مجلس میں صحابہؓ پر یہ بحث ہورہی تھی کہ عمر کے لحاظ سےکون صحابی میں شامل ہو اور کون نہیں۔ کہتی ہیں گھر آ کر مَیں نے بڑی حسرت سے کہا کہ اللہ میاں!کبھی مَیں بھی اس وقت ہوتی تو مَیں بھی صحابیات میں شامل ہوتی۔ کہتی ہیں اس دوران میں مَیں نے خواب دیکھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت ہوئی۔ حضور پُرنورؑ میرے گھر میں دائیں کروٹ پر لیٹے ہوئے ہیں۔ مَیں سرہانے کی طرف جاکر کھڑی ہو جاتی ہوں۔ حضور علیہ السلام نے بڑی محبت سے میری طرف دیکھا اور پوچھا کہ کس طرح آئی ہو؟ مَیں نے عرض کیا کہ حضور مَیں آپؑ کو دبانا چاہتی ہوں۔ حضورؑ نے اپنا دایاں ہاتھ مجھے دیا اور مَیں کافی دیر تک دباتی رہی۔ اس کے بعد حضورؑمغرب کی نماز کے لیے صحن میں تشریف لے گئے۔ مَیں بھی باہر صحن میں جاتی ہوں تو دیکھتی ہوں کہ بہت ہجوم ہے اور لوگ کھڑکیوں اور روشندانوں پر حضورؑ کی زیارت کے لیے چڑھے ہوئے ہیں۔ ان سے پوچھتی ہوں کہ آپ کو کیسے پتہ لگا حضورؑ میرے گھر ہیں؟ انہوں نے کہا بس۔ تمہارے گھر آئیں اور ہمیں پتہ نہ لگے یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ کہتی ہیں چک سینتیس۳۷ والی بے جی ہیں وہ روٹی پکا رہی تھیں تو ان کو مَیں نے آواز دے کے کہا کہ روٹی پکانی چھوڑیں، حضورؑ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمارے گھر آئے ہیں۔ انہیں آکے دیکھیں اور اس کے بعد مَیں کہتی ہوں کہ شوریٰ میں تو کہتے تھے کہ حضورؑ کو دیکھنے سے صحابہؓ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ میرے گھر تو حضور دو دن اور ایک رات ٹھہرے ہیں۔ مَیں تو صحابہؓ میں شامل ہو گئی ہوں۔ تو کہتی ہیں اللہ تعالیٰ کا بےانتہا شکر کس طرح ادا کروں۔
ان کے بیٹے ڈاکٹر علیم الدین ہیں آئر لینڈ میں نیشنل صدر بھی رہے ہیں۔ آج کل یہاں ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری والدہ کو بےشمار خوبیوں سے نواز اتھا۔ ان میں نمایاں طور پر تعلق باللہ۔اللہ تعالیٰ سے ذاتی محبت اور عشق کا تعلق تھا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ قبولیت دعا کی صفات کافی نمایاں تھیں۔ گویا صاحب رؤیا و کشوف تھیں۔ خلافت احمدیہ کے ساتھ ذاتی عشق و محبت تھا جو ساری زندگی نمایاں رہا اور اس کو اپنی اولاد میں بھی انہوں نے جاری رکھنے کی کوشش کی ۔ پھر کہتے ہیں کہ بچپن میں ہمارے گھر میں جن جن بزرگ ہستیوں کا ذکر ہوتا تھا، والدہ جو ذکر کرتی تھیں ان کی دنیاوی لحاظ سے نمایاں حیثیت نہیں ہوتی تھی بلکہ خلفاء ہوتے تھے یا بزرگ خواتین کے نام بچپن سے ہمارے کانوں میں گونجتے رہے۔اور ان سب بزرگوں کو والدہ صاحبہ دعا کے لیے مسلسل کہتی رہتی تھیں۔ یہ نہیں کہ خود دعا گو ہیں تو دوسروں کو نہیں کہنا۔ خود بھی لوگوں کو جا کےکہتی تھیں۔
اسی طرح کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ والدہ صاحبہ کی شخصیت میں جو بات سب سے نمایاں طور پر نظر آتی ہے وہ جماعت کے لیے غیرت تھی۔ ایک دفعہ ہمارے گھر میں عزیزوں میں سے دُور کے ایک عزیز نے جماعت کے بارے میں کوئی نامناسب الفاظ استعمال کیے۔عام طور پہ لوگ باتیں سن کے چپ ہو جاتے ہیں لیکن والدہ صاحبہ نے فورًا سخت جواب دیا۔ پہلے اُن کو روکا۔ پھر اس کی تصحیح کی۔ اور خاندان میں یہ بڑا مشہور تھا کہ کسی بھی عزیز سے لڑائی بھی مول لے لیں گی لیکن جماعت کی غیرت پر آنچ نہیں آنے دیں گی۔
ان کے خاوند چودھری رشیدالدین صاحب وقف تھے، مربی تھے۔ دو مرتبہ تبلیغ کی غرض سے افریقہ گئے۔ یہ پاکستان میں رہیں اور اپنے بچوں کی پوری تربیت کی طرف کوشش کرتی رہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمیں یاد ہے کہ ہم جو لڑکے تھے، ہم بھائیوں کے ذاتی دوستوں کا بھی ان کو پتہ ہوتا تھا کہ کون لوگ ہیں اور کیسے لڑکے ہیں۔ ہمیشہ یہ کہتی تھیں کہ محلے کے نیک اور اچھے پڑھنے لکھنے والے لڑکے سے دوستی ہونی چاہیے، ہر ایرے غیرے سے نہیں۔ پھر کہتے ہیں ایک بات جس کا میں نے مشاہدہ کیا اکثر آپ کی دوستی ان خواتین سے ہوتی تھی جن کا اللہ تعالیٰ سے محبت کا تعلق ہوتا تھا اور خود فرمایا کرتی تھیں کہ دنیاداروں کی مجلس میں مجھے مزہ نہیں آتا بلکہ ایسے لوگوں کی معیّت میں مزہ آتا ہے جو سادہ ہوں اور دین سے دلچسپی رکھتے ہوں۔
ان کی بیٹی زبدہ صاحبہ بلکہ تینوں بیٹیاں عابدہ، طیّبہ اور زبدہ کہتی ہیں کہ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا امی کو نہایت عبادت گزار، دعا گو، ملنسار اور خوش اخلاق پایا۔ عبادت بہت خشوع سے کرتیں۔نوافل اور تہجد شوق سے ادا کرتیں۔ جب کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو اپنے کمرے میں بند کر کے کتنی دیر تک سجدہ ریز رہتیں اور وقف زندگی میں بعض دفعہ تنگدستی وغیرہ کے بھی حالات آئے لیکن بڑے صبر اور حوصلے اور جانفشانی سے اللہ تعالیٰ پہ توکّل کرتے ہوئے ان کو برداشت کیا اور اللہ سے مانگتی رہیں۔حج پر جانے کی بھی ان کو سعادت حاصل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ خواہش بھی ان کی پوری کی۔ گیارہ اعتکاف انہوں نے کیے۔ ان کی یہ لڑکیاں کہتی ہیں کہ جو لوگ آنے والے تھے، خاص طور پر عورتوں نے ان کی شفقت، خوش اخلاقی اور ملنساری کا ذکر کیا۔ دینی کتب خاص طور پر پڑھتی تھیں اور خاص طور پر سیرت کی کتابیں بہت شوق سے پڑھا کرتی تھیں۔ جمعہ کے دن عبادت کا خاص اہتمام کرتیں ۔کئی گھنٹے پہلے مسجد میں چلی جاتیں، نوافل ادا کرتیں۔
ان کے ایک بیٹے سلیم الدین صاحب جو ہیں مربی ہیں اور آج کل ربوہ میں ناظر امور عامہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ والدہ واقف زندگی کی اہلیہ تھیں اور نکاح جیساکہ میں نے بتایا جلال الدین صاحب شمسؓ نے پڑھایا اور حضرت مصلح موعودؓ نے دعا کرائی۔ اس کا بھی واقعہ والد صاحب نے ان کو بتایا کہ ان کے والد کا یعنی طاہرہ صاحبہ کے خاوند کا نکاح کہیں اَور ہو رہا تھا اور سب تیاریاں مکمل تھیں۔ مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے مسجد نصرت ربوہ میں یہ نکاح پڑھانا تھا۔ سب لوگ آئے ہوئے تھے۔ حضرت مولانا ابوالعطاء جالندھری صاحب نے سب کا نکاح تو پڑھا دیا لیکن ان کا نہیں پڑھایا اور کہا کہ تم واقف زندگی ہو تمہارا [نکاح] حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ پڑھائیں گے یا ان کی موجودگی میں ہو گا۔تو بہرحال کچھ یوں ہوا کہ کچھ عرصہ بعد جہاں رشتہ ہوا تھا اور نکاح ہونا تھا وہاں سے، لڑکی والوں کی طرف سے انکار ہو گیا اور پھر ان کا نکاح طاہرہ صاحبہ سے ہوا اور یہ شادی بڑی بابرکت ہوئی۔
چندوں میں بڑی باقاعدہ تھیں ۔کینیڈا کی سیکرٹری مال کہتی ہیں کہ مَیں نے خواب میں دیکھا کہ رجسٹر کھول کے چندے کا حساب کر رہی ہوں۔اسی دوران یہ طاہرہ رشید الدین صاحبہ پاس آ کر بیٹھ جاتی ہیں۔ مَیں کہتی ہوں اگر آپ اس وقت چندہ تحریک جدید میں پانچ ہزار ڈالر ادا کر دیں تو آپ کا نام پانچ ہزاری رجسٹر میں شامل ہو جائے گا اور یہ خواب میں مجھے آمادگی کا اظہار کرتی ہیں۔ اس وقت یہ پاکستان گئی ہوئی تھیں۔ پاکستان سے واپس آئیں تو انہوں نے ان کو خواب سنائی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید تھی اور اب اللہ تعالیٰ نے ان کو کشائش بھی دے دی تھی کہ یہ اس طرح ہی کریں گی۔ جب خواب سنائی تو انہوں نے فوری طور پر پانچ ہزار ڈالر ادا کر دیے۔
اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ ان کے بچوں کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ( مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل۔ ۱۶؍فروری۲۰۲۴ء)
حضرت سیّدہ نواب امۃالحفیظ بیگم صاحبہؓ سے آپ کا جو قریبی تعلق تھا اُس حوالے سے آپ کا ایک مضمون ماہنامہ مصباح، ربوہ جنوری؍فروری۱۹۸۸ء میں شامل اشاعت ہے جو ذیل میں نقل کیا جارہا ہے۔
مضمون : ایک ہمدرد و غمگسار ہستی
حضرت سیدہ چھوٹی بیگم صاحبہ ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سے خاکسارہ کی پہلی ملاقات آپ کی صاحبزادی بوزکیہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم کرنل داؤد احمد صاحب کی کوٹھی میں ہوئی۔ پھر میں آپ ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سے اکثر ملنے جایا کرتی – رفتہ رفتہ اس تعلق میں خدا تعالیٰ نے ایسی برکت بخشی کہ آپ کی محبت و شفقت ماں کی محبت کا روپ دھار گئی۔ آپ کے قرب میں رہائش رکھنے کی وجہ سے اکثر آپ کے پاس آنے جانے کے قیمتی مواقع ملے، آپ کی ایمان افروز باتیں سننے اور آپ کی پاک صحبت سے مستفیض ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔
اپنی والدہ صاحبہ کی وفات کے بعد میں جب آپؓ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے فرمایا طاہرہ ! آج سے تم مجھے اپنی ماں سمجھنا۔ آپ کے یہ محبت بھرے اور زندگی بخش کلمات میرے دل کی گہرائیوں میں اتر گئے اور پھر آپ کی محبت و شفقت، قدم قدم پر میری ہمت اور ڈھارس بندھاتی رہی۔
جب بھی کسی قسم کی کوئی پریشانی یا روحانی تشنگی محسوس ہوتی تو آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر دعا کی درخواست کرنے پر سب تکلیف و پریشانی دور ہو جاتی۔ کئی بار آپ کو دبانے کی بھی توفیق ملی۔ یہ سب آپ کی ذرّہ نوازی تھی۔ وگرنہ ہم جیسے عاجز اورکمزور انسان کہاں اتنے مقدس وجودوں کی خدمت کا حق ادا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ملاقاتوں کے دوران کئی دفعہ بےتکلفی سے اپنے سسرال اور مالیرکوٹلہ کے دلچسپ اور نصیحت آموز واقعات بیان فرماتیں۔
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کے بارہ میں ایک دفعہ یہ خاص بات بیان فرمائی کہ آپ اپنے آپ کو ‘نواب’ کہلانا پسند نہیں فرماتی تھیں، بلکہ اپنے آپ کو خاکساری کی حالت میں رکھنا پسند فرماتیں۔
آپ دینی امور کی بھی خاص نگرانی فرماتی تھیں۔ آپ کے ہاں پردہ کی بہت پابندی کرائی جاتی تھی۔ خاکسارہ نے ایک دفعہ آپ سے پوچھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کچھ بتلائیں تو فرمایا کہ میں اس وقت بہت چھوٹی تھی۔ اور حضرت اماں جان کی طرف سے خصوصی ہدایت تھی کہ میرے سامنے حضرت مسیح موعود کے وصال کا ذکر نہ کیاجائے تاکہ آپ کی یاد سےبچی کو تکلیف نہ پہنچے۔ اس لیےجوکچھ دیکھاتھا وہ بھی یاد نہ رہا۔ تاہم اتنا یاد ہے کہ ان دنوں جب حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) قرآن کریم کادرس دیا کرتےتوبعض اوقات مجھے اپنی گود میں بٹھا لیتے۔
حضرت سیدہ بیگم صاحبہ کو میرے بچوں سے بھی بےحد پیار تھا۔ عزیزی زبدہ کے نکاح کے بعد رخصتانہ میں جب کچھ تاخیر ہوئی تو آپ کی خدمت میں دعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ جلد اس کے میاں کے باہر سے آنے کے اسباب پیدا فرمائے۔ چنانچہ ایک دفعہ فرمانے لگیں کہ طاہرہ ! میں نے خواب دیکھا ہے کہ تم ایک دوپٹہ کو گوٹہ لگا رہی ہو۔ اب تم تسلی رکھو کہ یہ کام جلد سرانجام پا جائے گا۔ بعد میں آپ کی یہ مبارک خواب پوری ہوگئی۔ اور زبدہ کی شادی کا فرض بخیروخوبی سرانجام پایا۔ رخصتی کےوقت عزیزہ کو آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر پیار اور دعائیں لینے کی توفیق ملی۔ اس موقع پرآپ نےمیرے داماد (ناصراحمد وینس) کو( بہ شکل سلامی) تحفہ بھی دیا۔
میرے سب سے چھوٹے بیٹےعزیز کلیم الدین سے بھی بہت شفقت فرماتیں۔ کئی دفعہ اسے اپنے پاس بلا کر شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پیار کیا۔ نیز تبرکات سے بھی نوازا۔ میری بیٹی ( زبدہ صالحہ ناصر) کے ہاں شادی کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے لڑکی پیدا ہوئی۔ تو اپنی شدید کمزوری اور بیماری کے باوجود عزیزہ کو بلوا کر اپنے کانپتے ہوئے دست مبارک سے نوزائیدہ بچی کو پیار دیا۔ اور اس کے ننھےمنے ہاتھوں میں لفافہ تھما دیا اور بہت دعائیں دیں۔
ایک دفعہ ‘الائچی’ کے بارہ اپنی پسندیدگی کا اظہار فرمایا اور مجھے بھی کچھ الائچیاں عطا کیں۔ میرے داماد (ناصراحمد وینس) کوآپ کی پسندیدگی کاعلم ہوا توانہوں نے (بیرون ملک سے ) آپ کی خدمت میں عمدہ الائچیوں کا تحفہ بھجوایا، جنہیں آپ نے بےحد پسند فرمایا۔
ہر خوشی کے موقع پر خاکسار کو یاد فرماتیں اور تبرکات سے نوازتیں۔ اسی طرح ہرموسم کی چیزخصوصیت سےگھر بھجواتیں اور جب کبھی خاکسارہ کو آپ کی خدمت میں کوئی تحفہ یا نذرانہ پیش کرنے کا موقع ملتا تو فرماتیں تم نے کیوں یہ تکلیف کی ہے !؟
کبھی کبھار جب کسی کام کے سلسلہ میں بلواتیں تو اس کام کی انجام دہی پر بےحد روحانی خوشی ہوتی۔ آپ کی خادمہ ہاجرہ کی آنکھوں کا جب آپریشن ہوا تو( اس کی عدم موجودگی میں ) مجھے آپ کی تیمارداری کی ڈیوٹی سونپی گئی۔
آپ کو اپنی اولاد سے بہت محبت تھی اور اپنی چھوٹی بیٹی محترمہ فوزیہ صاحبہ کے متعلق اکثر فرماتیں کہ جس قدر یہ میری لاڈلی ہے، اسی قدر اس پر امتحانات آئے ہیں۔ اس گفتگو پر اکثر آپ کی آنکھیں ڈبڈبا جاتیں اور آوازگلوگیر ہو جاتی۔
حضرت سیدہ بیگم صاحبہؓ نے اپنی شدید بیماری میں مجھے کئی بار یاد فرمایا۔ اللہ، اللہ کیسی شفیق ہستی تھیں ایک مادر مہربان کی طرح، جو اپنے سینے میں ساری جماعت کا درد سمیٹے ہوئے تھیں۔ شب و روز تڑپ تڑپ کر خدا کے حضور دعائیں کرنےوالی یہ عظیم، محسن و غمگسار روحانی ماں آج ہم میں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئیں۔
آپ کی وفات سے ایک دن قبل میں نے خواب دیکھا کہ آپ اپنے کمرہ میں ایک کرسی پر تشریف فرما ہیں۔ جو چاندی کی طرح چمک رہی ہے۔ میں اورآپ کی چھوٹی بیٹی فوزیہ بیگم صاحبہ آپ کے پاس کھڑی ہیں۔ آپ نہانے کی خواہش کا اظہارکرتی ہیں تو میں کہتی ہوں کوئی حرج نہیں نہا لیں۔ لیکن محترمہ فوزیہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں کہ آج ہم خود امی جان کو مل مل کرنہلائیں گے۔
اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ خواب کے اگلے ہی دن سہ پہر تین بجے آپ کا وصال ہوگیا اور خاکسارہ کو بفضل خدا آپ کے آخری غسل میں شمولیت کی سعادت حاصل ہوئی۔
اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس لخت جگرکو جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام سے نوازے اور ہزاروں ہزار رحمتیں اور انوار و برکات آپ کی مقدس روح پر نازل فرمائے اور ہم سب کو بھی آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔ آمین
