متفرق مضامین

یہود کو دوبارہ فلسطین میں آباد کرنے کا نظریہ پہلے کس نے پیش کیا تھا؟

(ابو نائل)

بیشتر اس کے کہ دنیا بھر کے یہودی صیہونی تنظیم پر جمع ہو کر فلسطین میں اپنے آزاد ملک کا مطالبہ کرتے بہت سی نمایاں مغربی عیسائی شخصیات نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ فلسطین اسرائیلی قوم کا علیحدہ ملک قائم ہونا چاہیے۔ان شخصیات میں سیاستدان بھی شامل تھے، چرچ کے عمائدین اور مختلف تنظیمیں بھی ان خیالات کا پرچار کر رہی تھیں

اللہ تعالیٰ سورت بنی اسرائیل میں فرماتا ہے: وَقُلۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ لِبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اسۡکُنُوا الۡاَرۡضَ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَۃِ جِئۡنَا بِکُمۡ لَفِیۡفًا۔(بنی اسرائیل: ۱۰۵)ترجمہ: اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ موعودہ سرزمین میں سکونت اختیار کرو۔پس جب آخرت کا وعدہ آئے گا تو ہم پھر تمہیں اکٹھا کر کے لے آئیں گے۔

یہ آیت کریمہ ظاہر کرتی ہے کہ بنی اسرائیل یا یہود جو کہ شامتِ اعمال کی وجہ سے پوری دنیا میں منتشر ہو چکے تھے آخری زمانے میں ایک بار پھر اپنی موعود زمین یعنی فلسطین میں آباد ہوں گے۔اور قرآن کریم یہ بھی بیان کرتا ہے کہ وَقَضَيْنَآ إِلَىٰ بَنِيٓ إِسْرَائِيلَ فِي الْكِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيرًا۔ (بنی اسرائیل:۵)ترجمہ: اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل کو اس قضا سے کھول کر آگاہ کر دیا تھا کہ تم ضرور زمین میں دو مرتبہ فساد کروگے اور یقیناًایک بڑی سرکشی کرتے ہوئے چھا جائو گے۔

اس کے ساتھ قرآن کریم میں یہ پیشگوئی بھی درج ہے کہ آخر کار ارض موعود کہ وارث صالح بندے ہوں گے۔(الانبیاء:۱۰۶)

پہلی دو آیات میں درج پیشگوئیوں کو ہم اس زمانے میں پورا ہوتا ہوا دیکھ چکے ہیں اور اس کے نتیجے میں جو اختلافات اور خون ریزی ہو رہی ہے اسے بھی پوری دنیا ملاحظہ کر رہی ہے۔ اس مضمون میں یہ جائزہ لیا جائے گا کہ اٹھارھویں اور انیسویں صدی میں یہودی قوم پوری دنیا میں بکھری ہوئی تھی۔ اور ان کی ایک بڑی تعداد روس اور دوسرے یورپی ممالک میں آباد تھی اور وہاں انہیں دوسرے درجہ کے شہری کی حیثیت حاصل تھی۔ان صدیوں میں یہ تجویز کب اور کس طرف سے سامنے آنی شروع ہوئی کہ پوری دنیا کے یہودیوں کو فلسطین میں جو کہ دو ہزار سال قبل ان کے آباءو اجداد کا وطن تھا آباد ہونا چاہیے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں اُس دور میں فلسطین کا ملک سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا اور اس ملک میں عرب قوم کے لوگ آباد تھے۔اس وقت یہود کی سیاسی حیثیت بھی ایسی نہیں تھی کہ وہ اپنے بل بوتے پر اتنا بڑا مطالبہ پیش کر سکتے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پیشتر اس کے کہ صیہونی تنظیم کا باقاعدہ قیام عمل میں آتا ، بہت سی نمایاں عیسائی شخصیات کی طرف سے یہ نظریہ پیش کیا گیا تھا کہ فلسطین میں دنیا بھر سے یہود کو لا کر آباد کرنا چاہیے۔

دوسر ےامریکی صدر کا ایک خط

جان ایڈمز (John Adams)امریکہ کے پہلے نائب صدر اور دوسرے صدر تھے اور ۱۸۲۶ء میں ان کا انتقال ہوا تھا۔ ان کے ایک یہودی دوست مینیول نوح(Manuel Noah) تیونس میں سفیر تھے۔ انہوں نے واپسی پر اس علاقے میں اپنا سفر نامہ شائع کیا۔ جان ایڈمز نے اپنے دوست کو ایک خط میں اس سفر نامہ کے بارے میں لکھا کہ انہیں شام، یہودااور یروشلم کا سفر بھی کرنا چاہیےتھا۔انہوں نے اس خط میں لکھا کہ ان کی خواہش ہے کہ مینیول نوح ایک لاکھ بنی اسرائیل کی قیادت کر کے یہودا کے علاقے پر قبضہ کر لیتے اور اس علاقے پر اپنی قوم کے اقتدار کو بحال کر دیتے۔ جان ایڈمز نے لکھا کہ میری خواہش ہے کہ یہود ایک بار پھر یہودا کے علاقے پر اپنی حکومت قائم کریں۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ جب یہودی اپنا ملک حاصل کر لیں گے اور ان پر مظالم نہیں ہو رہے ہوں گے تو ان کے کردار میں ایسی تبدیلی آئے گی کہ وہ موحّد عیسائیوں(Unitarian Christians) کا مذہب اختیار کر لیں گے۔واضح رہے کہ جان ایڈمز عقیدہ کے اعتبار سے خود موحد عیسائی تھے۔(Matt Lebovic. 200 years ago, John Adams promoted a Jewish state in the Holy Land. Times of Israel, 27 August 2019)

لیکن اس خط میں جان ایڈمز اس مسئلے پر کوئی روشنی نہیں ڈالتے کہ جو عرب اس علاقے میں پہلے سے بس رہے ہیں وہ کہاں جائیں گے۔ انہیں کس جرم کی پاداش میں ان کی رائے لیے بغیر ایک اور قوم کی غلامی میں دکھیلا جائے گا۔کیا ان کی رائے طلب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی؟

ایک بشپ کی تجویز کہ یہودیوں کو کتنا علاقہ درکار ہوگا؟

انگلستان میں بھی ان نظریات کا پرچار بڑی شدّو مدّ سے کیا جا رہا تھا کہ مسیح کی آمد ثانی کے لیے بہت ضروری ہے کہ پہلے یہودی دوبارہ فلسطین میں آباد ہوں اور وہاں پر ان کی حکومت قائم ہو۔ اس کے بعد وہاں پر صیہون میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو گا۔ اور اس کا پرچار کرنے والے کوئی معمولی لوگ نہیں تھے بلکہ ان میں چرچ آف انگلینڈ کی نمایاں شخصیات بھی شامل تھیں۔ ان میں سے ایک Edward Bickerstethبھی تھے جو کہ بشپ کے عہدے پر فائز تھے۔ انہوں نے The Restoration of the Jews to Their Own Land کے نام سے ایک کتاب تصنیف کی جو کہ ۱۸۴۱ء میں لندن میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کی تحریر کے دوران انہیں یہ فکر لاحق ہوئی کہ دنیا میں یہودیوں کی تعداد تو بہت زیادہ ہے اور فلسطین تو ایک چھوٹا سا ملک ہے اس میں اتنے یہودی کس طرح سمائیں گے۔لیکن انہوں نے اس مشکل کا حل بھی بائبل سے دریافت کر لیا۔ اور یہ حل تجویز کیا کہ بائبل کی رو سے تو دریائے نیل اور دریائے فرات کے درمیان کا تمام علاقہ بنی اسرائیل کو عطا کیا تھا۔ گویا صرف فلسطین ہی نہیں بلکہ مصر کا بڑا حصہ، شام، اردن عرب اور عراق کا بڑا حصہ بھی زبردستی ان کو عطا کر دیا جائے گا۔ اور جو اقوام ان میں آباد ہیں وہ کہاں جائیں گی؟ انہوں نے بائبل سے اس کا کوئی حل بیان نہیں فرمایا۔گویا جو وسیع تر اسرائیل کا نظریہ اب سننے کو ملتا ہے آج سے پونے دو سو سال پہلے یہ منصوبہ چرچ کے عمائدین نے بیان کیا تھا۔اسی کتاب کے discourse IXمیں اس کے مصنف بیان کرتے ہیں کہ انجیل اور پرانے عہد نامہ کی بیان کردہ پیشگوئیوں کے مطابق صیہون آباد ہوگا اور اس میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ ظہور فرمائیں گے۔(Edward Bickersteth (1841) The Restoration of the Jews to Their Own Land . Published by R.B. Seeley and W. Burnside. XVII-XVIII)

بیچلر کی کتاب

انیسویں صدی کی مغربی دنیا میں بہت سے مسیحی مناد بہت شدّومدّ سے اس بات کا پراپیگنڈا کر رہے تھے کہ یہ بہت ضروری ہے کہ یہود دوبارہ فلسطین میں آباد ہوں اور وہاں ان کی حکومت قائم ہو۔ان میں سے ایک سرگرم مسیحی مبلغ Origen Bachelorتھے جو کہ اس وقت لندن کے مذہبی حلقوں میں کافی مقبولیت حاصل کر چکے تھے۔انہوں نے جوانی میں ایک کتاب لکھی جس کا عنوان The Restoration of the Jews تھا۔یہ کتاب ۱۸۴۳ء میں شائع ہوئی۔اس کتاب میں بیچلر مسلسل یہ تمہید باندھتے ہیں کہ اصل میں فلسطین کی زمین تو خدا کی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کو دی گئی تھی۔ اگرچہ اب یہود اپنی بد اعمالیوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کروانے کی پاداش میں دنیا میں بکھیر دیے گئے لیکن بائبل میں بیان کیے گئے خدائی وعدوں کے مطابق آخر کار یہ ملک دوبارہ یہود کو عطا کیا جائے گا۔اس میں وہ لکھتے ہیں:

“Let the pressure of destiny be removed and they would return to the land of their ancestors as naturally as the needle turns to the pole. Any people dispersed as they are would do it: How readily would the jews return to Palestine, a land not only endeared to them as the land of their progenitors, but identified with their religion, and hallowed by a thousand sacred associations. How much more desirable, also must it to be to them, to be collected as a nation..” (Origen Bachelor (1843). Restoration and Conversion of the Jews. Pawtucket, R.I. R.W. Potter & Co. P113)

ترجمہ: تقدیر کا جبر ختم ہونے دیں اور وہ (یعنی یہود) اسی طرح اپنے آبائی وطن کی طرف لوٹیں گے جس طرح سوئی زمین کے قطب کی طرف مڑتی ہے۔کوئی بھی قوم جو کہ ان کی طرح پراگندہ ہو چکی ہو یہی کرے گی۔تو وہ ایسا کیوں نہیں کریں گے۔ یہود بہت جلدی فلسطین کا رخ کریں گے۔ ایک ایسی سرزمین جو کہ نہ صرف ان کے آباء و اجداد کی سرزمین ہے بلکہ اس کا تعلق ان کے مذہب سے بھی ہے ۔ اور اس سے ہزار مقدس وابستگیاں موجود ہیں۔ ان کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ وہ ایک قوم کے طور پر وہاں جمع ہوں۔

برطانوی ماہرین یروشلم کا سروے کرتے ہیں

یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ کس طرح مغربی دنیا میں یہودیوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی تھی کہ وہ فلسطین کا رخ کرکے وہاں پر آباد ہوں اور اپنا ملک قائم کریں۔ صیہونی تنظیم کا باقاعدہ قیام تو ۱۸۹۷ء میں ہوا۔ اس کے بعد باقاعدہ منظّم طریق پر یہودیوں کی طرف سے یہ مہم چلائی گئی کہ یہودیوں کو دوبارہ فلسطین میں آباد کر کے وہاں ان کا وطن قائم کیا جائے۔ اس مرحلے سے بہت قبل نمایاں مغربی شخصیات کی طرف سے پُر جوش طریق پر یہ تجویز علی الاعلان پیش کی جا رہی تھی کہ دنیا بھر میں بکھرے ہوئے یہودیوں کو دوبارہ فلسطین میں لا کر آباد کیا جائے اور وہاں ان کی آزاد حکومت قائم کی جائے۔اس سلسلے میں ایک نمایاں مثال پیش کی جاتی ہے۔ پہلے تو ۱۸۶۴ء میں برطانوی فوج سے منسلک کچھ ماہرین نے یروشلم کا سروے کیا۔ گو اس کے اخراجات ایک امیر خاتون نے ادا کیے تھے لیکن اس مہم کو برطانوی حکومت کے سیکرٹری جنگ لارڈ دی گرے (De Grey) اور برطانوی حکومت کا تعاون حاصل تھا۔ اور برطانوی حکومت کے انجینئر اس سروے میں شامل تھے۔ اور اس کی تحقیقات حکومت نے اپنے خرچ پر شائع کی تھیں۔ یہ سروے کیپٹن ولسن کی قیادت میں کیا گیا تھا۔ (THE RECOVERY OF JERUSALEM. A NARRATIVE OF EXPLORATION AND DISCOVERY IX THE CITY AND THE HOLY LAND. By CAPT. WILSON, R. E., published by D. Appleton & Company 1871. P 4&5)

فلسطین پر تحقیقات کے لیے شاہی سرپرستی میں تنظیم

۱۸۶۵ء میں Palestine Exploration Fundکا قیام عمل میں آیا۔ بظاہر اس کا مقصد شام اور فلسطین کے جغرافیہ آثار قدیمہ اور تاریخ پر علمی تحقیق کا کام شروع کرنا تھا۔ اور یہ کام منظّم انداز میں شروع بھی کیا گیا۔ اس ادارے کو حکومت اور ملکہ برطانیہ کی سرپرستی حاصل تھی۔اور اس کے عمائدین میں ویسٹ منسٹر کے ڈین آرتھر سٹینلے (Arthur Stanley)بھی شامل تھے۔ اس تنظیم کا پہلا تحقیقی پراجیکٹ ۱۸۶۷ء سے ۱۸۷۰ء تک جاری رہا۔ اس تحقیق کا مرکز یروشلم کے آثار قدیمہ پر تحقیق کرنا تھا۔ اس دَور میں باقی فلسطین کی طرح یروشلم بھی ترکی کی سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا۔اس تحقیق کا ایک بڑا حصہ یروشلم کی اس مقدس پہاڑی پر تحقیق کرنا تھا جسے temple mountکہا جاتا ہے۔ یہ کام برطانیہ کی فوج میں ایک انجینئر چارلس وارن کے سپرد کیا گیا۔ انہوں نے کچھ برس وہاں پر رہ کر یہ تحقیقی کام کیا۔ اور اس موضوع پر کچھ کتب تحریر کیں۔ جب کیپٹن ولسن اور چارلس وارن کی تحقیقات شائع کی گئیں تو ان کا پیش لفظ ویسٹ منسٹر کے ڈین نے تحریر کیا تھا۔

اگر یہ سرگرمی صرف علمی تحقیق تک محدود رہتی تو یہ گمان کیا جا سکتا تھا کہ اس فنڈ کا مقصد اور وارن کی تحقیق کا محور یروشلم اور فلسطین کی تاریخ اور آثار پر تحقیق کرنا تھا۔ لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ انہوں نے ایک مختصر کتاب The Land of Promise ; Or, Turkey’s Guaranteeکے نام سے لکھی۔یہ کتاب پہلی مرتبہ ۱۸۷۵ء میں لندن سے شائع ہوئی۔

اس کتاب کے آغاز میں مصنف نے یہ ذکر کیا ہے کہ گذشتہ ہفتہ منعقد ہونے والی چرچ کانگریس میں بھی مَیں نے ان خیالات کا ذکر کیا تھا۔ اس آغاز سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ نظریات پہلے کسی چرچ کانگریس میں پیش کیے گئے تھے اور پھر انہیں اس کتابچہ میں تحریر کیا گیا۔ پھر چارلس وارن لکھتے ہیں کہ ارض موعود (یعنی وہ زمین جس کا بائبل کی رو سے بنی اسرائیل سے وعدہ کیا گیا تھا ) ابھی تک ارض موعود ہی ہے۔ اس پر سلطنت ِعثمانیہ کی حکومت ہے جو کہ نسل اور زبان کے اعتبار سے فلسطین کے باشندوں سے بالکل مختلف ہے۔(ملاحظہ فرمائیں یہ اعتراض ان صاحب کی طرف سے کیا جا رہا تھا جو کہ برطانوی فوج میں ملازم تھے اور اس وقت دنیا کے کئی ایسے ممالک پر برطانیہ کا قبضہ تھا جو کہ نسل اور زبان بلکہ مذہب کے اعتبار سے بھی برطانوی حکمرانوں سے بالکل مختلف تھے۔ )

اس کے بعد وہ یہ تجزیہ کرتے ہیں کہ ترکی کی سلطنت عثمانیہ بالکل صحیح طریق پر فلسطین پر حکومت نہیں چلا رہی اور اس علاقے کے عرب ان حکمرانوں سے بالکل تنگ آئے ہوئے ہیں۔ لیکن بہرحال سلطنت عثمانیہ ایک بڑی سلطنت تھی۔ دنیا کے تین برّاعظموں میں ان کی سلطنت کے تحت ممالک موجود تھے۔ اتنی بڑی سلطنت سے کسی ملک کو چھین لینا آسان نہیں تھا ۔ چنانچہ چارلس وارن لکھتے ہیں کہ سلطنت عثمانیہ قرضوں میں ڈوبی ہوئی ہے جو کہ یورپ کے بینکوں اور حکومتوں سے وصول کیے گئے ہیں اور ان کو مقررہ مدّت پوری ہونے پر ادا نہیں کر پا رہی۔اور ان میں سے کچھ قرضہ فلسطین سے وصول ہونے والے ٹیکس کی ضمانت پر دیے گئے تھے۔ اس لیے ہمارے پاس فلسطین میں مداخلت کرنے کا جواز موجود ہے۔ یہ حل بھی ہوسکتا ہے کہ فلسطین عمومی طور پر سلطنت عثمانیہ کے تحت ہی رہے لیکن ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرز پر ایک کمپنی کے تحت بیس سال کے لیے فلسطین کا انتظام چلایا جائے اور اس کی زراعت کو ترقی دی جائے۔اس طرز پر جو آمد ہو اس کا ایک حصہ سلطنت ِعثمانیہ کو دے دیا جائے، ایک حصہ ان قرض دینے والوں کو ادا کیا جائے جن کے قرضوں میں سلطنتِ عثمانیہ کا بال بال جکڑا ہوا تھا۔ اور ایک حصہ اس کمپنی کو جائے۔ لیکن اس ساری تگ و دَو سے حاصل کیا ہوگا۔ اس کے بارے میں چارلس وارن لکھتے ہیں :

“Let this be done with the avowed intention gradually introducing the Jew, pure and simple, who is eventually to occupy and govern this land. Let the Jew find its way into its army, its law, its diplomatic army. Let him superintend the farming operations, and work himself on the farms….

Let this continue, until at the end of twenty years, the Jewish principality may stand by itself, either under the suzerainty of Stambul, if Turkey still exist as a whole, or as separate kingdom guaranteed by the great Powers.

This wouldn’t be bad bargain for Turkey for the present; and it is only the present of Turkey which can be considered-it seems doubtful whether she may have a future.”(Warren Charles (1875). The Land of Promise; or, Turkey’s Guarantee. George Bell & Sons. P 5)

ترجمہ: یہ سب کچھ اس عہد کے ساتھ کیا جائے کہ یہاں پر یہود کو آباد کیا جائے گا، اس سیدھے سادھے عہد کے ساتھ کہ یہود اس زمین پر آباد ہوں گے اور اس پر حکومت کریں گے۔ یہود کو یہاں کی فوج میں، قانونی شعبوں میں اور سفارت کاروں میں شامل ہونے دیں۔ یہود کو یہاں کی زراعت کی نگرانی کرنے دیں اور یہاں کی زمین پر کام کرنے دیں۔

یہ سب کچھ اسی طرح چلتا جائے یہاں تک کہ بیس سال گذر جائیں۔ پھر یہاں پر یہودی ریاست قائم ہوجائے جو آزاد ہو یا پھر استنبول کے تسلط میں ہو۔اگر اس وقت تک ترکی کی وحدانیت قائم رہ جائے۔

فی الحال یہ ترکی کے لیے کوئی برا سودا نہیں ہوگا اور اس وقت موجودہ ترکی ہی پیش نظر ہے اور اس بات پر شک ہی ہے کہ ترکی کا کوئی مستقبل ہے۔

یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ یہ تحریر اس وقت کی ہے جب ابھی یہودیوں نے صیہونی تنظیم قائم کر کے با قاعدہ فلسطین میں اپنی ریاست بنانے کی کوششیں شروع نہیں کی تھیں اور اس کتاب میں یہ منصوبہ پیش کیا جا رہا تھا کہ پہلے بیس سال یہودیوں کو فلسطین میں آباد کیا جائے اور انہیں اس ملک میں اہمیت دلائی جائے اور پھر فلسطین میں یہودیوں کی ریاست قائم کر دی جائے۔ اور ابھی دنیا کے تین براعظموں میں سلطنت عثمانیہ قائم تھی کہ یہ اعلان کیا جا رہا تھا کہ اس سلطنت کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ اگلی صدی میں یہ سب کچھ اسی طرح ہو بھی گیا۔

اس کے بعد چارلس وارن نے ایک اَور عجیب دعویٰ کیا۔ اور یہ ایسا دعویٰ تھا جسے اب تک کی تاریخ نے بالکل غلط ثابت کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ فلسطین کے زیادہ تر لوگ اس لیے مسلمان ہیں کہ انہیں اس وقت اسی میں سہولت نظر آ رہی ہے۔ ورنہ انہیں اسلام سے زیادہ قبل از اسلام عربوں کی مذہبی رسومات میں زیادہ دلچسپی ہے۔ اور انہیں بڑی آسانی سے اس منصوبے کے لیے رام کیا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک بے سروپا دعویٰ تھا۔ ان کا خیال تھا کہ مسلمانوں سے زیادہ مسئلہ وہاں کی عیسائی آبادی پیدا کر سکتی ہے۔ انہیں قابو کرنا پڑے گا۔پھر وارن نے لکھا کہ یورپ کے ممالک میں رقابت بہت زیادہ ہے۔ اس لیے مناسب ہو گا کہ اگر امریکہ کے زیر نگرانی یہ کمپنی بنائی جائے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ شوشہ بھی چھوڑ دیا کہ اس وقت یہ ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ امریکہ یورپ کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتا۔ (Warren Charles (1875). The Land of Promise; or, Turkey’s Guarantee. George Bell & Sons. P 9)

اس حوالے کے پس منظر میں یہ حقیقت دلچسپ ہے کہ جب اگلی صدی میں یہودیوں نے بڑی تعداد میں فلسطین میں آباد ہونا شروع کیا تو پہلے سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے کر کے فلسطین کو برطانیہ کے زیر انتظام لایاگیا اور جب ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے قیام کا وقت آیا تھا تو اقوام متحدہ میں قرارداد منظور کراتے ہوئے سب سے زیادہ امریکہ نے صیہونی تنظیم کی مدد کی اور اسرائیل کو سب سے پہلے ایک ملک کے طور پر تسلیم کرنے والا ملک بھی امریکہ ہی تھا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ چارلس وارن فری میسن تنظیم کے سرگرم رکن تھے۔

قوم بغیر ملک کے اورملک بغیر قوم کے ؟

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ۱۸۷۵ء میں جب Palestine Exploration Fundکے اجلاس میں اس تنظیم کے تحت ہونے والی تحقیق پیش کی گئی تو اس میں تقریر کرتے ہوئے Anthony Ashley-Cooper, 8th Earl of Shaftesburyنے کہا :

‘‘Let us not delay to instruct our friend the Hon. Secretary, Mr. Grove, to send out the best agents he has in his power to search the length and breadth of Palestine, to survey the land; and if possible to go over every corner of it, drain it, measure it, and, if you will, prepare it for the return of its ancient possessors, for I must believe that the time cannot be far off before that great event will come to pass. We have there a land teeming with fertility and rich in history, but almost without an inhabitant — a country without a people, and look ! scattered over the world, a people without a country. I recollect speaking to Lord Aberdeen, when he was Prime Minister, on the subject of the Holy Land ; and he said to me, «If the Holy Land should pass out of the hands of the Turks, into whose hands should it fall?» Why, the reply was ready, «Not into the hands of other powers, but let it return into the hands of the Israelites,» and surely there are signs to show that the time is near at hand when the Lord will have mercy upon Zion.’’(Palestine Exploration Fund, Quarterly Report 1875. Published At The Society’s Office, 9, Pall Mall East, And By Richard Bentley & Son, 8, New Burlington Street.)

ترجمہ: ہمیں اس بات میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے کہ ہم اپنے دوست سیکرٹری مسٹر گروو کو یہ ہدایت دیں کہ وہ اپنی استعداد کے مطابق بہترین ایجنٹ بھجوائیں جو کہ فلسطین کے طول و عرض کا سروے کریں اور اگر ممکن ہو تو اس کے ہر ایک کونے کو کھوجیں اور اس کی پیمائش کریں اور اگر آپ پسند کریں تو اس کو تیار کریں تاکہ اس کے قدیم مالک اس میں لوٹ آئیں۔ میں اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ وقت دور نہیں جب یہ عظیم واقعہ ہوجائے گا۔ہمارے پاس ایک خطہ ہے جو کہ زرخیزی سے بھرپور اور تاریخ سے مرصّع ہے مگر اس میں تقریباََ کوئی باشندے آباد نہیں ہیں۔ ایک ملک بغیر باشندوں کے اور ذرا دیکھو ایک قوم جو دنیا میں بکھری ہوئی ہے جس کے پاس کوئی ملک نہیں ہے۔مجھے یاد ہے کہ جب لارڈ ایبرڈین وزیر اعظم تھے تو میں نے مقدس سرزمین کے بارے میں ان سے بات کی۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ اگر یہ مقدس سرزمین ترکی کے ہاتھ سے نکل جائے تو اسے کس بڑی طاقت کے تحت جانا چاہیے۔ جواب بالکل تیار تھا اسے کسی بڑی طاقت کے تحت نہیں جانا چاہیے بلکہ بنی اسرائیل کے ہاتھوں میں واپس جانا چاہیے۔ اور یقینی طور پر اس بات کی علامات ظاہر ہو چکی ہیں کہ وہ وقت قریب ہے جب خدا صیہون پر رحم کرے گا۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ ان صاحب نے یہ بالکل غلط بیانی کی تھی کہ اس دَور میں فلسطین میں کوئی قوم آباد نہیں تھی۔ اس دَور میں بھی جب آج کی نسبت دنیا کی آبادی بہت ہی کم تھی، فلسطین میں لاکھوں کی تعداد میں عرب آباد تھے۔ لیکن یہ طبقہ ان عربوں کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں تھا۔ اور اس وقت صاحبان اقتدار کے حلقوں میں یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ جب فلسطین اور شام وغیرہ کے علاقے سلطنت ِعثمانیہ کے تحت نہیں رہیں گے تو پھر ان میں دوبارہ یہود کو آباد کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ ارل آف شیفٹسبری (Earl of Shaftesbury)نے یہ نظریہ بھی پیش کیا کہ وہ مقدس تابوت جس میں یہود کے مقدس صحیفے محفوظ تھے (Ark of Covenant)اور جو یہودیوں کے تباہ ہونے والے معبد سے غائب ہو گیا تھا اب بھی یروشلم کی اس پہاڑی کی ایک چٹان کے اندر محفوظ ہے کیونکہ اس وقت یہودیوں کے مذہبی راہنمائوں نے اسے وہاں چھپایا تھا اور پھر وہ راہنما اس جنگ میں خود مارے گئے تھے۔ اور یہ امکان پیش کیا کہ یہ مقدس تابوت اب بھی دریافت کیا جا سکتا ہے۔اور اس تنظیم کے اس اجلاس میں بار بار اس مقدس تابوت کا ذکر آتا رہا۔

بائبل کی تفاسیر میں اس منصوبہ کا ذکر

اس تنظیم کے علاوہ بائبل کے بعض مفسرین بھی شدّومدّ سے یہ نظریہ پیش کر رہے تھے کہ بائبل کی پیشگوئیوں کے مطابق یہود ایک مرتبہ پھر ارض مقدس میں آباد ہوں گے اور اس کے بعد ہزار سال کی آسمانی بادشاہت کا آغاز ہو گا۔ ان میں سے ایک نمایاں نام جان نیلسن ڈاربی (John Nelson Darby)کا تھا۔ ان کا انتقال ۱۸۸۰ء میں ہوا۔ ان کی تفسیر کا نام Synopsis of the Books of the Bibleہے۔ ان کے خیالات ان ہی کے الفاظ میں پڑھنے چاہئیں۔ وہ بائبل کی کتاب یسعیاہ کے باب ۶۴ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

‘‘We learn elsewhere that Satan will have been cast out, and his power there gone for ever. [See Note #1] Indeed, this would have been the occasion of the last terrible trials in Jerusalem. But now Jerusalem should be blessed in the earth, and her people should enjoy the gifts of Jehovah in as long a life as that of men before the flood. A man of a hundred years old should be a child; and if any one should die at that age, he must be looked upon as cut off by the curse of God. God would always grant the prayers of His people. Peace should be established, and there should be no evil in all His holy mountain. This is the millennial state of the Jews.’’

ترجمہ: ’’ہم دوسرے مقامات پر یہ لکھا پاتے ہیں کہ ابلیس کو ہمیشہ کے لیے نکال دیا جائے گا اور اس کی قوت ختم ہوجائے گی۔اصل میں یہ یروشلم میں آخری ابتلا کا دور ہوگا۔مگر پھر زمین میں یروشلم پر برکات نازل کی جائیں گی۔اور اس کے لوگوں کو خدا کی طرف سے یہ تحفہ دیا جائے گا کہ وہ اتنا ہی لمبا زندہ رہیں گے جتنا سیلاب سے قبل کے لوگ زندہ رہا کرتے تھے۔اور اگر کوئی سو سال کی عمر میں مر جائے گا تو یہ کہا جائے گا کہ اسے خدا کی طرف سے سزا ملی ہے۔ خدا ہمیشہ اپنی قوم کی دعائیں سنے گا۔ امن قائم ہوگا اور خدا کے مقدس پہاڑ پر کوئی برائی نہیں ہوگی۔ یہ یہودیوں کی ہزار سال کی ریاست ہو گی۔‘‘

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد سے تعلق

لیکن آخر مغربی عیسائی دنیا میں یہ نظریہ اس شدّ و مّد سے کیوں ابھر رہا تھا کہ یہودیوں کو دوبارہ فلسطین میں آباد ہونا چاہیے؟ حالانکہ بہت سے عیسائی یوروپی ممالک میں اس وقت یہودیوں سے دوسرے درجہ یا تیسرے درجہ کے شہریوں کا سلوک ہو رہا تھا۔ جیسا کہ پہلے بھی یہ ذکر کیا گیا ہے کہ اس کی ایک مذہبی وجہ یہ تھی کہ بہت سے عیسائیوں کا یہ خیال تھا کہ جب ایک بار پھر یہودی فلسطین میں آباد ہو کر اسے اپنا وطن بنائیں گے، پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے اور ایک ہزار سال کے روحانی دَور کا آغاز ہوگا۔ جیسا کہ آئرلینڈ کے ایک مسیحی مناد Henry Grattan Guiness اپنی کتاب The Approaching End of the Ageمیں لکھتے ہیں :

‘‘interpreters, far more definitely than by the word of God. ‘That the remnant or remainder of the Jewish nation, will be restored to Palestine before the millennium, brought there into great trouble, and prepared by it to say, ‘‘Blessed is He that cometh in the name of the Lord,” that Christ will appear for their deliverance, and that they will be converted at the sight of Him, this much seems clear from Scriptures.’’ (Page 137)

ترجمہ: خدا کے الفاظ سے زیادہ معین طور پر مفسرین یہ بیان کرتے ہیں کہ یہودی قوم کا باقی ماندہ اس ہزار سال سے قبل فلسطین میں دوبارہ آباد ہوگا۔ وہ مصائب کے ایک عظیم دور میں وہاں واپس آئیں گے اور ابتلا کی وجہ سے تیار ہو کر یہ کہیں گے کہ بابرکت ہے وہ جو خدا کے نام پر آتا ہے اور مسیح ان کی نجات کے لیے ظاہر ہوگا اور وہ اسے دیکھتے ہیں ایمان لے آئیں گے۔ یہ تو صحائف کے مطالعہ سے ظاہر ہو جاتا ہے۔

پھر وہ اسی کتاب میں لکھتے ہیں :

‘‘However improbable it may appear that Palestine should ever again be the home of a mighty Jewish nation, Scripture leaves no room to doubt that such will be the case.’’ (Guiness, H Grattan (1880). The Approaching End of the Age. Published by A.C. Armstrong & Son. P 343)

ترجمہ: خواہ یہ کتنا ہی ناممکن نظر آئے کہ فلسطین ایک بار پھر عظیم یہودی قوم کا وطن بنے گا۔ مقدس صحائف اس بارے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں چھوڑتے کہ ایسا ہی ہوگا۔

امریکی صدر کو میموریل

یہ خیالات کہ فلسطین کو اب یہودیوں کے حوالے کردینا چاہیے صرف انفرادی نظریات تک محدود نہیں تھا۔ بلکہ اب ایسے عیسائی گروہ بھی ابھر رہے تھے جو کہ شدت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا انتظار کر رہے تھے۔ اور ان کے ذہنوں میں یہ خیال سمایا ہوا تھا کہ جب یہودی دوبارہ فلسطین میں اپنی ریاست قائم کر لیں گے اور ایک بار پھر اپنا مقدس معبد یروشلم میں تعمیر کر لیں گے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی ہو گی۔ بہت سی مذہبی اور غیرمذہبی شخصیات نے مارچ ۱۸۹۱ء میں امریکی صدر بنجیمن ہیریسن (Benjamin Harrison) کو ایک میمورنڈم پیش کیا۔ اس میمورنڈم کو پیش کر نے کے پیچھے سب سے سرگرم ولیم یوجین بلیکسٹون(William Eugene Blackstone)کی شخصیت تھی۔اس میمورنڈم کا لب لباب یہ تھا کہ روس میں یہودیوں کی حالت بہت خراب ہو چکی ہے۔ لیکن اس معاملہ میں روس کو کچھ کہنا مناسب نہیں ہو گا کیونکہ یہ تو اس ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہوگی۔ لیکن یہ یہودی اب جائیں تو کہا ں جائیں؟ یورپ میں اب آبادی بہت زیادہ ہوچکی ہے۔ اور اگر انہیں امریکہ لا کر آباد کیا جائے تو ایک تو اس پر خرچ بہت زیادہ ہوگا اور دوسرے اس میں کئی سال لگ جائیں گے۔ چنانچہ اس مسئلہ کا آسان حل یہی ہے کہ ان بارہ لاکھ یہودیوں کو زبردستی فلسطین آباد کر دیا جائے اور یہ ملک انہیں عطا کر دیا جائے۔ اور اس مقصد کے لیے ایک انٹرنیشنل کانفرنس منعقد کی جائے۔ پڑھنے والے نقشہ نکال کر دیکھ سکتے ہیں کہ امریکہ اور روس کا فاصلہ کتنا ہے؟ اور روس اور فلسطین کا فاصلہ کتنا ہے؟ امریکہ کی ریاست الاسکا اور روس کا باہمی فاصلہ صرف کچھ میل ہی ہے۔ اور صرف الاسکا کا رقبہ پورے فلسطین سے کئی گنا زیادہ ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ فلسطین میں اس وقت اکثر آبادی عرب تھی اور یہ ملک سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا۔کیا ان دونوں کی رضامندی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں تھی؟ بیشتر اس کے کہ ان کا ملک فراخدلی سے کسی اور قوم کے حوالے کر دیا جائے۔ بہرحال بعد میں بلیکسٹون صاحب نے ایک کتاب Jesus is Coming کے نام سے تصنیف فرمائی۔ اصل میں اس موضوع پر کتاب کا عنوان Jesus has Come ہونا چاہیے تھا۔ (https://www2.wheaton.edu/bgc/archives/docs/BlackstoneMemorial/1891A.htm accessed on 2nd June 2026)

ارجنٹائن میں یہودیوں کو آباد کرنے کی کوشش

یورپ میں تو یہودیوں سے برا سلوک ہو رہا تھا۔ اور ان کی ترقی اور تعلیم پر طرح طرح کی قانونی قدغنیں لگائی جاتی تھیں۔ اس پس منظر میں کئی یہودی قائدین کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ خاص طور پر مشرقی یورپ میں آباد پسے ہوئے یہودیوں کو ایسے علاقوں میں آباد کیا جائے جہاں وہ باعزّت زندگی گذار سکیں۔ چنانچہ جرمنی کے ایک امیر اور بااثر یہودی Baron Maurice de Hirsch نے مشرقی یورپ کے یہودیوں کو جنوبی امریکہ میں ارجنٹائن کے علاقہ میں آباد کرنے کا کام شروع کیا۔ اور وہاں پر خالی زمین لے کر ان کی زرعی کالونیاں بنانے کا کام شروع کیا گیا۔لیکن ۱۸۹۷ء میں اس پروگرام کی موت کے ساتھ یہ پروگرام آہستہ آہستہ ختم ہو گیا۔

کتاب یہودی ریاست کی اشاعت

یوں تو ہمیشہ سے یہودیوں میں یہ خواہش رہی تھی کہ وہ اپنی مقدس سرزمین میں اپنی علیحدہ ریاست بنائیں لیکن اب اس مرحلے کی طرف آتے ہیں جب کسی نمایاں یہودی لیڈر نے باقاعدہ طور پر فلسطین میں یہودیوں کو بڑے پیمانے پر آباد کر کے وہاں پر ان کی علیحدہ ریاست بنانے کا نظریہ پیش کیا ہو۔یہ مرحلہ ۱۸۹۶ء میں آتا ہے جب ہنگری میں پیدا ہونے والے یہودی صحافی تھیوڈر ہرزل نےجو اس وقت پیرس میں ایک اخبار کے لیے کام کر رہے تھے ، نے اپنی کتاب ’یہودی ریاست ‘ (Jewish State)شائع کی۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے اس کتاب کی اشاعت سے بہت قبل مغربی ممالک کے بہت سے نمایاں عیسائی راہنما یہ نظریہ پیش کر رہے تھے کہ یہودیوں کو پوری دنیا سے جمع کر کے فلسطین میں آباد کرنا چاہیے۔ صیہونی تنظیم کے پہلے سربراہ کی اس کتاب کی اشاعت بہت بعد میں ہوئی تھی۔

صیہونی تنظیم کے لیے یہ کتاب ایک نقطۂ  آغاز کی حیثیت رکھتی ہے۔اب اس مختصر کتاب کے چند اہم نکات بیان کیے جائیں گے۔ اس کتاب میں مصنف کا پیش لفظ ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے:

‘‘The idea which I have developed in this pamphlet is a very old one: the restoration of the Jewish State. The earth resounds with outcries against the Jews, and these outcries have awakened the slumbering idea.’’ (Theodore Herzl (1917). The Jewish State. English translation by Jacob de Haas. Published by Federation of American Zionists, p ix)

ترجمہ : جو نظریہ اس کتابچہ میں پیش کیا جا رہا ہے وہ بہت پرانا نظریہ ہے یعنی ایک یہودی ریاست کو دوبارہ قائم کیا جائے۔ اس وقت زمین یہودیوں کے خلاف چیخ و پکار سے گونج رہی ہے اور اسی چیخ و پکار نے اس سوئے ہوئے نظریہ کو بیدار کر دیا ہے۔

پھر اسی کتاب کے صفحہ ۶ پر وہ لکھتے ہیں :

‘‘If I wish to substitute a new building for an old one, I must demolish before I construct.’’

ترجمہ: اگر میں ایک پرانی عمارت کی جگہ ایک نئی عمارت تعمیر کرنا چاہتا ہوں تو اس تعمیر سے قبل مجھے پرانی عمارت کو منہدم کرنا پڑے گا۔

اب جب کہ اس کتاب کی اشاعت کو سوا سو سال سے بھی زیادہ عرصہ گذر چکا ہے ، اس جملے کے مطلب کے بارے میں پڑھنے والے اپنی رائے خود قائم کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد وہ یوروپی ممالک میں یہودیوں پر ہونے والے مظالم کی کچھ تفصیلات بیان کرتے ہیں اور پھر یہ نتیجہ نکالتے ہیں :

‘‘Let the sovereignty be granted us over a portion of the globe large enough to satisfy the reasonable requirements of a nation ; the rest we shall manage for ourselves.’’

ترجمہ: ہمیں زمین کے ایک حصہ کے اوپر آزادی دی جائے جو کہ اتنی بڑی ہو کہ ایک قوم کی ضروریات پوری کر سکتی ہو۔ باقی انتظامات ہم خود کر لیں گے۔

اس کے معاََ بعد ہرزل یہ اظہار کرتے ہیں :

‘‘The Governments of all countries scourged by Anti-Semitism will serve their own interests in assisting us to obtain the sovereignty we want.’’ (Theodore Herzl (1917). The Jewish State. English translation by Jacob de Haas. Published by Federation of American Zionists, p 11)

ترجمہ : ان ممالک کی حکومتوں کا مفاد جو کہ یہودیوں کی مخالفت کر رہی ہیں اسی میں ہےکہ یہ آزاد ملک حاصل کرنے میں ہماری مدد کریں۔

اس منصوبے کے بعد یہودیوں کو ان کی آزاد ریاست تو بعد میں حاصل ہونا تھی ، پہلا مرحلہ تو یہ درپیش تھا کہ جس ملک میں یہودیوں کی ریاست قائم کرنی ہے وہاں پر یہودیوں کو آباد کس طرح کیا جائے۔ کیونکہ اُس وقت یہودی دنیا کے بہت سے ممالک میں بکھرے ہوئے تھے۔ اس کے بارے میں ہرزل نے لکھا :

‘‘We must not imagine the departure of the Jews to be a sudden one. It will be gradual, continuous, and will cover many decades.The poorest will go first to cultivate the soil. In accordance with a preconcerted plan, they will construct roads, bridges, railways, and telegraphs; regulate rivers, and build their own habitations; their labor will create trade, trade will create markets, and markets will attract new settlers; for every man will go voluntarily, at his own expense and his own risk. The labor expended on the land will enhance its value, and the Jews will soon perceive that a new and permanent sphere of operation is opening here for that spirit of enterprise which has heretofore met only with hatred and obloquy.’’ (Theodore Herzl (1917). The Jewish State. English translation by Jacob de Haas. Published by Federation of American Zionists, p 11)

ترجمہ: ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہودی اچانک رخصت ہو جائیں گے۔یہ ایک مرحلہ وار مسلسل عمل ہوگا جو کہ کئی دہائیوں پر چلے گا۔غریب ترین لوگ پہلے جائیں گے جو کہ زمین پر کاشتکاری کریں گے۔ ایک پہلے سے بنائے گئے منصوبہ کے تحت وہ سڑکیں، پل، ریلوے ، تار کا نظام بنائیں گے اور دریائوں کا انتظام کریں گے اور اپنی رہائش گاہیں بنائیں گے۔ ان کی محنت سے تجارت پیدا ہو گی اور اس سے منڈیاں بنیں گی اور یہ منڈیاں مزید آبادکاروں کو کھینچ کر لانے کا سبب بنیں گی۔ہر شخص اپنی مرضی سے وہاں جا کر محنت کرے گا اور یہ سب کچھ خود خطرات مول لے کر کرے گا۔ اس زمین پر ہونے والی محنت سے زمین کی قیمت میں اضافہ ہو گا اور یہودکو یہ احساس ہو جائے گا کہ ان کی مہم جوئی کی روح کے لیے ایک نیا راستہ کھلا ہے جس کو اب تک صرف نفرت اور بدنامی کا ہی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اب یہ سوال رہ جاتا تھا کہ کسی بھی ملک میں جہاں یہودیوں کی آزاد ریاست قائم کی جائے گی وہاں کوئی نہ کوئی قوم آباد ہو گی۔ ان کا کیا بنے گا؟ ان کے سیاسی حقوق کا کیا حشر ہو گا؟ یہ قوم کہاں جائے گی؟ اس کے بارے میں تھیوڈر ہرزل لکھتے ہیں :

‘‘If we wish to found a State today, we shall not do it in the way which would have been the only possible one a thousand years ago. It is foolish to revert to old stages of civilization, as many Zionists would like to do. Supposing, for example, we were obliged to clear a country of wild beasts, we should not set about the «business in the fashion of Europeans of the fifth century. We should not take spear and lance and go out singly in pursuit of bears; we should organize a large and active hunting party, drive the animals together, and throw a melinite bomb into their midst.’’ (Theodore Herzl (1917). The Jewish State. English translation by Jacob de Haas. Published by Federation of American Zionists, p 11)

ترجمہ: اگر ہم اس دَور میں ایک ریاست بنانا چاہتے ہیں تو یہ کام اس طریق پر نہیں کیا جائے گا جس طرح آج سے ایک ہزار سال قبل کیا جاتا تھا۔ اورجس طرح بعض صیہونی یہ کام کرنا چاہتے ہیں۔ تہذیب کے ان پرانے طریقوں کی طرف لوٹ جانا بیوقوفی ہو گی۔ فرض کروکہ ہم ایک ملک کو وحشی درندوں سے پاک کرنا چاہتے ہیں تو ہم پانچویں صدی کے یوروپین کی طرح یہ کام نیزوں اور بھالوں کے ساتھ ایک ایک ریچھ کا پیچھا کرکے نہیں کریں گے۔ ہم ایک بہت بڑی شکاری پارٹی کا اہتمام کریں گے اور تمام جانوروں کو ایک جگہ جمع کریں گے اور ان کے درمیان ایک بم پھینک دیں گے۔

اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ ہرزل کے نزدیک وہ کون سا ملک ہو سکتا تھا جہاں اس پروگرام کا اہتمام کیا جانا تھا۔ اس سوال کے جواب میں ہرزل ممکنہ طور پر دو ممالک کا ذکر کرتے ہیں :

‘‘Should the Powers declare themselves willing to admit our sovereignty over a neutral piece of land, then the Society will enter into negotiations for the possession of this land. Here two territories come under consideration, Palestine and Argentina.’’ (Theodore Herzl (1917). The Jewish State. English translation by Jacob de Haas. Published by Federation of American Zionists, p 12)

ترجمہ : اگر بڑی طاقتیں اس بات کا اعلان کر دیں کہ وہ ہمیں ایک غیر جانبدار خطۂ زمین پر آزادی دینے کے لیے تیار ہیں تو ہماری سوسائٹی اس کے حصول کے لیے مذاکرات کا آغاز کرے گی۔ اس کے لیے دو علاقوں پر غور ہو رہا ہے ایک فلسطین اور دوسرا ارجنٹائن۔

پھر وہ اسی صفحہ پر فلسطین کے امکان کے بارے میں لکھتے ہیں :

‘‘Palestine is our ever-memorable historic home. The very name of Palestine would attract our people with a force of marvellous potency. Supposing His Majesty the Sultan were to give us Palestine, we could in return pledge ourselves to regulate the whole finances of Turkey. We should there form a portion of the rampart of Europe against Asia, an outpost of civilization as opposed to barbarism.’’ (Theodore Herzl (1917). The Jewish State. English translation by Jacob de Haas. Published by Federation of American Zionists, p 12)

ترجمہ: فلسطین ہمارا ہمیشہ یاد رکھے جانے والا تاریخی وطن ہے۔فلسطین کا نام ہی ہماری قوم کو ایک شاندار کشش کے ساتھ کھینچے گا۔بالفرض اگر ہِز میجسٹی سلطان ہمیں فلسطین دے دیں تو ہم بدلہ میں ترکی کے تمام مالی معاملات کا انتظام کرنے کا وعدہ کریں گے۔ ہم ایشیا کے مقابل پر یورپ کے لیے ایک بند اور بربریت میں تہذیب کی ایک چوکی کا کام سرانجام دیں گے۔

جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ اس وقت بہت سے عرب علاقوں کی طرح فلسطین بھی ترکی کی سلطنت عثمانیہ کے تحت تھا اور باوجود ایک بڑی سلطنت ہونے کے اس وقت ترکی کی سلطنت عثمانیہ مغربی ممالک کے قرضوں کے بوجھ میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ہرزل یہ نظریہ پیش کر رہے تھے کہ ترکی کے سلطان فلسطین کو یہودیوں کے حوالے کردیں اور یہودی اپنے مالی وسائل کے بَل بوتے پر اس سلطنت کے مالی معاملات کو سدھار دیں گے۔ظاہر ہے کہ اس کے لیے ترکی کے سلطان اور ان کی حکومت کی رضامندی ضروری تھی۔اور یہ ضروری تھا کہ ان سے مذاکرات کر کے انہیں اس پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے۔اور اس بات کی بھی ضرورت تھی کہ یہودیوں کی ایک تنظیم بنائی جائے جو کہ فلسطین میں یہودیوں کی ایک ریاست بنانے کا منظّم کام کرے۔

پہلی صیہونی کانگریس

سلطان ترکی سے ہونے والے مذاکرات کا ذکر تو ایک علیحدہ مضمون کا تقاضا کرتا ہے۔ پہلے ہم پہلی صیہونی کانگریس (First Zionist Congress)کا ذکر کرتے ہیں جس میں ایک باقاعدہ تنظیم کی بنیاد رکھ کر فلسطین میں یہودیوں کو آباد کرنے کی منصوبہ بندی کا آغاز کیا گیا۔

پہلی صیہونی کانگریس سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل (Basel) میں منعقد ہوئی۔اس کانگریس میں مختلف ممالک سے آنے والے یہودیوں کے نمائندے تو شامل ہوئے تھے لیکن ان کے علاوہ ترکی کی سلطنت عثمانیہ کے نمائندے بھی اس اجتماع میں شامل ہوئے اور انہوں نے ہرزل کو دکھانے کے بعد ایک رپورٹ اپنی حکومت کو بھی پیش کی۔

اس کانگریس کی کارروائی جرمن زبان میں ہو رہی تھی۔ اور جو یہ زبان نہیں جانتے ان کے لیے ترجمہ کیا جا رہا تھا۔ اس کارروائی میں مختلف مقررین نے بار بار اس بات کا اظہار کیا کہ اب کسی مسیح آنے کی امید نہیں رہی جو کہ ہماری پرانی عظمت بحال کرے۔اور اب اکثر یہودیوں کی حالت ایک ملعون بھکاری جیسی ہو چکی ہے۔ اگر وہ اپنا آبائی مذہب ترک کر دیں تو بھی یہ حقارت آمیز سلوک ان کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔اس موقع پر بھی یہودیوں کو آباد کر کے ان کا ملک بنانے کے لیے دو ممالک کا ذکر کیا گیا۔ ان میں سے ایک ارجنٹائن اور دوسرا فلسطین تھا۔اور اگر ترکی کی سلطنت انہیں فلسطین میں آباد ہونے دے تو اس غریب سلطنت کے اندر یہودی جو دولت لے کر آئیں گے وہ معمولی نہیں ہو گی۔اور یہودی اس ملک میں ترکی کے سلطان کی اجازت سے آباد ہونا چاہتے ہیں اور اگر سلطان اس چیز کی اجازت دے دے تو وہ انہیں اپنا مسیحا سمجھیں گے۔ نمائندگان نے ترکی کا اس بات پر شکریہ ادا کیا کہ اس سلطنت میں یہودیوں سے بھلا سلوک کیا گیا ہے اور جب سپین سے یہودیوں کو نکالا گیا تھا اس وقت سلطنت عثمانیہ نے ہی انہیں پناہ دی تھی۔اس موقع پر ترکی کے سلطان کے لیے شکریہ کی ایک قرارداد بھی منظور کی گئی۔لمبی بحث کے بعد صیہونی تنظیم کےلیے یہ اغراض و مقاصد متعین کیے گئے کہ یہودی قوم کے لیے فلسطین میں ایک قانونی قومی وطن (Legally Assured Home)حاصل کیا جائے گا اور مقامی قوانین کے تحت رہتے ہوئے یہاں پر یہودیوں کو جمع کیا جائے گا۔ یہودیوں میں قومی جذبات اور اعتماد پیدا کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے مختلف حکومتوں کی رضامندی حاصل کی جائے گی۔

یہ بھی طے کیا گیا کہ ایک بینک قائم کیا جائے گا جو کہ فلسطین میں یہودی کاشتکاروں کو آباد کرنے اور ان کی صنعتیں لگانے کا کام کرے گا۔اور مقررین نے بار بار یہ اظہار کیا کہ یہودیوں کو ایک جگہ پر آباد کرنے کے لیے فلسطین سے زیادہ مناسب علاقہ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ یہ نہر سویز اور یورپ سے قریب ہے اور ریلوے کے ذریعہ اس کا اور ہندوستان کا رابطہ بھی ہو سکتا ہے۔ (The Jewish Chronicle. 3rd September 1897)

یہ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ بیشتر اس کے کہ دنیا بھر کے یہودی صیہونی تنظیم پر جمع ہو کر فلسطین میں اپنے آزاد ملک کا مطالبہ کرتے بہت سی نمایاں مغربی عیسائی شخصیات نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ فلسطین اسرائیلی قوم کا علیحدہ ملک قائم ہونا چاہیے۔ان شخصیات میں سیاستدان بھی شامل تھے، چرچ کے عمائدین اور مختلف تنظیمیں بھی ان خیالات کا پرچار کر رہی تھیں۔ جو عرب وہاں پر آباد تھے ان کا کیا ہو گا ؟ ان تحریروں میں اور اعلانات میں ان کے بارے کسی تشویش کا اظہار نہیں پایا جاتا۔اور اس وقت یہودیوں کی سیاسی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ اپنے طور پر اتنا بڑا مطالبہ پیش کر کے اس کے لیے جدو جہد شروع کرتے۔ اس وقت یورپ میں یہودیوں سے امتیازی سلوک ہو رہا تھا ۔ اس منصوبہ کو پیش کرنے والے احباب اس صورت حال کو درست کرنے کی بجائے یہ نظریہ پیش کر رہے تھے کہ بہتر ہوگا اگر یہودی ان کے ممالک کو چھوڑ کر کسی اور قوم کے ملک میں آباد ہوجائیں کیونکہ دو تین ہزار سال قبل ان کے آباء و اجداد اس ملک میں آباد تھے۔لیکن ایسا کیوں تھا کہ کئی عیسائی گروہ اس نظریہ کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ کیا اس کی کوئی مذہبی وجہ بھی تھی؟ بظاہر اس کی یہی مذہبی وجہ نظر آتی ہے کہ کچھ گروہوں کا یہ نظریہ تھا کہ جب یہودی اپنے آبائی وطن میں آباد ہو جائیں گے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں آکر آسمانی بادشاہت قائم کریں گے۔ اس نظریہ کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی شعر پیش کیا جا سکتا ہے۔

سر کو پیٹو! آسماں سے اب کوئی آتا نہیں

عمرِ دنیا سے بھی اب ہے آگیا ہفتم ہزار

مزید پڑھیں:خاندانِ شہید مرحوم کے پُردرد حالات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button