کیا حضرت مصلح موعودؓ ہٹلر اور موسولینی سے متاثر تھے؟ ایک اعتراض کا تحقیقی جواب
تمام حقائق ،حوالہ جات اور معلومات کے تناظر میں حضرت مصلح موعودؓ کا نقطۂ نظر بالکل واضح ہو جاتا ہے۔
آپؓ نے بانی جماعت احمدیہ حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کے موقف کے عین مطابق کبھی بھی پُرتشدد اسلام کی تائید نہیں کی اور نہ ہی یورپ کی فاشسٹ حکومتوں جیسے جابر نظاموں کو قبول کیا
حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد، خلیفۃ المسیح الثانیؓ کامندرجہ ذیل اقتباس پیش کرکے جماعت کے بعض مخالف یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپؓ گویافاشزم سے متأثر تھے اور ہٹلرا ور موسولینی کو مثالی راہنما تصور کرتے تھے۔ ’’حکومت ہمارے پاس نہیں کہ ہم جبر کے ساتھ لوگوں کی اصلاح کریں اور ہٹلر یا مسولینی کی طرح جو شخص ہمارے حکموں کی تعمیل نہ کرے اُسے ملک سے نکال دیں اور جو ہماری باتیں سننے اور اس پر عمل کرنے کے لئے تیار نہ ہو اُسے عبرتناک سزا دیں۔ اگر حکومت پاس ہوتی تو ہم ایک دن کے اندر اندر یہ کام کر لیتے اور دوسرا دن ایسا نہ چڑھنے دیتے جس میں ہمارے اندر یہ نقائص موجود ہوتے۔ ‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۹؍مئی ۱۹۳۶ء، مطبوعہ خطبات محمود، جلد ۱۷ صفحہ ۳۳۷)
اس سے پہلے کہ ہم کسی بھی تفصیل میں جائیں، یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ مذکورہ بالا اقتباس کا سیاق و سباق کیا ہے۔ یہ حضرت مصلح موعودؓ کے ایک خطبہ جمعہ سے لیا گیا ہے جس کا عنوان ہی ’’عملی اصلاح کے اہم سوال کو حل کرنے کی کوشش کی جائے‘‘ ہے۔
اس خطبہ میں حضورؓ نے ایک اہم نکتہ بیان فرمایا ہے کہ عقیدہ کی اصلاح نسبتاً آسان عمل ہے ، مگر اعمال کی اصلاح ایک مشکل تر عمل ہے۔ مثلاً وراثت کے معالات عقیدہ کے حد تک تو سب کو قابل قبول ہوسکتے ہیں، مگر عملاً ترکہ کی تقسیم میں دانستہ یا غیر دانستہ سقم رہ جانا ایک عمل ہے جو اصلاح طلب ہے۔
تمام خطبہ میں حضرت مصلح موعودؓ نے عملی اصلاح کی مختلف صورتوں کی طرف توجہ دلائی اور بتایا کہ کس طرح مختلف نظام اپنے اپنے طریق پر اصلاح اعمال کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی ضمن میں حضورؓ نے آمریت اور ملوکیت وغیرہ کی مثالیں پیش فرمائیں۔ مگر کہیں بھی ان کو جماعت احمدیہ کے لیے پسند نہیں فرمایا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خطبہ کا اختتام ان الفاظ پر فرمایا کہ: ’’ان باتوں کو مدّنظر رکھ کر ہمیں علاج سوچنا چاہیے تا کہ ہم اپنے اعمال میں اصلاح کرسکیں اور جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ دنیا کے عقائد میں عظیم الشان تغیر ہوا ہے اسی طرح عملی زندگی میں بھی ایک انقلاب پیدا ہوجائے۔ میں نے پچھلی دفعہ بھی نصیحت کی تھی اور اب پھر کرتا ہوں کہ احباب کو اپنے اپنے طور پر بھی اس مضمون پر غور کرنا چاہیے اور میں امید کرتا ہوں کہ جو لوگ اصلاحِ اعمال کے ذرائع پر غور کریں گے وہ پیشتر اس کے کہ میری باتیں سنیں، خود اپنے اندر ایسی قوت محسوس کریں گے جس سے وہ نقائص کا بہت جلد ازالہ کرسکیں گے۔ پس میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ خود بھی اس مسئلہ پر غور کریں اور اگر ان کے ذہن میں کوئی تجویز آئے تو اس سے مجھے اطلاع دیں تا میں بھی ان کی تجاویز سے فائدہ اٹھا سکوں۔‘‘
یہ الفاظ خود اس اعتراض کو تحلیل کردیتے ہیں۔ کیا کوئی آمرانہ سوچ رکھنے والا راہنما یوں اپنی جماعت کے خاص و عام کو دعوت ِ مشاورت دیتا ہے ؟ اور پھر یہ کون سا آمر کہتا ہے کہ مجھے تجاویز دو تا کہ ’’میں بھی ان تجاویز سے فائدہ اٹھا سکوں‘‘۔
پس جب کہ صاف ظاہر ہے کہ حضرت مصلح موعودؓ کا ایسا کوئی بھی مقصد نہ تھا جو معترضین زبردستی بنانے کی کوشش کرتے ہیں، ہم اس اعتراض کا تفصیلی جواب عرض کرتے ہیں۔
حضرت مصلح موعودؓ کے مجموعی فکر کے تناظر میں
کیاکسی شخص کا صرف ایک اقتباس پڑھ کر اوراس تحریر و تقریر کا سیاق و سباق دیکھے بغیر ہی اس کے تمام سماجی، سیاسی اور مذہبی نظریات کوکماحقہ سمجھا جا سکتا ہے؟ہم اسی سوال کا جواب اگلی سطور میں تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔
حضرت صاجزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمدصاحب رضی اللہ عنہ جو ۱۸۸۹ء میں قادیان ، پنجاب میں پیدا ہوئے تھے، جب خلیفہ منتخب ہوئے تب برصغیر پاک و ہند میں نوآبادیاتی حکومت تھی ۔ تقسیم کے بعد باقی زندگی پاکستان میں مقیم رہے۔
آپؓ نے مذکورہ بالا خطبہ جمعہ اُس دور میں دیا تھاجب دنیا میں نوآبادیاتی طاقتیں ایک دوسرے سے دست و گریباں تھیں اور عالمی جنگ کی آہٹ صاف سنائی دے رہی تھی۔ اُس وقت عالمی منظر نامے پر جمہوریت، آمریت اور فاشزم جیسے نظام حکومت موجود تھے اور مذہبی قیادت کی ٹمٹماتی لَو روزبروزکمزور بلکہ گُل ہوتی جا رہی تھی۔الغرض تب مذہبی جماعتیں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی تھیں۔
حضرت مصلح موعودؓ کی تحریروں اور خطابات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپؓ کی عالمی سیاست پر گہری نظر رہتی تھی اورآپؓ نوآبادیاتی دنیا میں ہر چھوٹی بڑی ہلچل کوبھی قریب سے دیکھ رہے تھے۔ آپؓ کسی طرزِ حکومت کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے اس کی خامیوں پر بھی کھل کر تنقیدکیا کرتے تھے۔مثلاً،ایک موقع پر آپؓ نے یورپ کی فاشسٹ طاقتوں اور برطانیہ کی جمہوری روایت کا تقابلی جائزہ لیا اور افراد جماعت کونصیحت فرمائی کہ وہ اپنے بعد اپنے سے بہتر اور اپنے سے زیادہ نیک نسلیں چھوڑ کر جائیں۔
فرمایا:’’میں ہمیشہ حیران ہوا کرتا ہوں کہ وہ کونسی چیز ہے جس کی وجہ سے انگریز جیت جاتے ہیں اور دوسری قومیں ہار جاتی ہیں۔ انگریزوں میں اور دوسری قوموں میں یہی فرق ہے کہ انگریز قوم موجودہ کی نسبت آئندہ نسل پر زور دیتی ہے۔ اس لئے انگریزی قوم یہ اعتبار رکھتی ہے کہ اگر ہمارے بڑے لوگ مر گئے تو اس کی جگہ دوسرے بڑے لوگ پیدا ہوجائیں گے جو ان کے قائم مقام ہوںگے… مگر دوسری قوموں کو یہ امید نہیں ہوتی مثلاً فرانس میں نپولین اٹھا اور اس نے یہ کوشش کی کہ آٹھ دس سال میں تمام یورپین ممالک کو فتح کرلے یہ خیال اس کے دل میں تبھی پیدا ہوا کہ وہ جانتا تھا کہ اگر نپولین مر گیا تو فرانس میں دوسرا نپولین پیدا نہیں ہوگا۔ اگر ہٹلر نے جلد بازی کی تو اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ ہٹلر کے دل میں یہ خیال تھا کہ میرے بعد جرمنی میں دوسرا ہٹلر پیدا ہونے کی امید نہیں ، اگر مسولینی کو ذلت اٹھانی پڑی تو اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ مسولینی کے دل میں یہ خیال تھا کہ اگر مسولینی مر گیا تو اٹلی کو ابھارنے والا دوسرا مسولینی پیدا نہیں ہوگا۔ لیکن انگلستان کا ہر فرد یہی سمجھتا ہے کہ اگر میرے زمانہ میں فتوحات حاصل نہ ہوئیں تو آئندہ آنے والے لوگ ان کو حاصل کریں گے۔ وہ خیال نہیں کرتے کہ اگر آج لائڈ جارج مرگیا یا چرچل مر گیا تو کل دوسرا لائڈ جارج یا دوسرا چرچل پیدا نہیں ہوگا بلکہ وہ جانتے ہیں کہ انگلستان میں ہر روز نئے لائیڈ جارج اور نئے چرچل پیدا ہوتے رہیں گے اس لئے ان کے لئے جلدبازی کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔‘‘(خطبات محمود، جلد سوم صفحہ ۶۱۴)
اس اقتباس سمیت متعدددیگر تحریرات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مصلح موعودؓ نہ صرف عالمی طاقتوں کے سیاسی طور طریق سےآگاہ تھے بلکہ اس کے پیچھے کارفرما نفسیات کو بھی خوب سمجھتے تھے۔
برطانوی راج سے وفاداری اور فاشزم سے بیزاری
یہاں اُس دور کی عالمی سیاست کی تفاصیل میں جانا اور اس کا تجزیہ کرنامقصود نہیں، البتہ اتنا ضرور ہے کہ جماعت احمدیہ کا انگریزوں کی طرف جھکاؤ ایک ایسی بات ہے جس پر جماعت کے مخالف مسلمان اکثرانگلی اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح برطانوی راج سے وفاداری کے بارے میں جماعت احمدیہ کا موقف بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی، کیونکہ جماعت احمدیہ کا ماننا ہے کہ جو حکومت مذہبی آزادی دے ، اس کی وفاداری لازم ہے اور شاید اسی واضح موقف نے یورپی فاشزم کی طرف معمولی سے جھکاؤ کی بھی گنجائش نہیں چھوڑی ۔
غیر تو غیر، ایک موقع پر خودایک احمدی نے ہی حضرت مصلح موعودؓ کو خط لکھ کر یہ اعتراض کیاتھا کہ آپؓ انگریزوں سے تو بہت زیادہ تعاون کرتے ہیں اور فاشسٹ طاقتوں کو امیدکا مرکز نہیں بناتے ۔
’’موجودہ جنگ میں حکومت برطانیہ سے تعاون کرنے کے متعلق بعض شبہات کا ازالہ ‘‘ کے عنوان سے شائع شدہ خطبہ میں آپؓ نے اس اعتراض کا تفصیلی جواب دیا:’’ ہر ہٹلر نے اپنی کتاب مائنے کامیف میں جس میں اس نے اپنی حکومت کے اصول واضح کئے ہیں لکھا ہے کہ جس قوم کا مرکز باہر ہو وہ جرمن حکومت کے ماتحت نہیں رہ سکتی۔وہ لکھتا ہے کہ یہ کیونکر برداشت کیا جاسکتا ہے کہ ایک قوم پر حکومت کرنے والے کسی اَور جگہ ہوں اور اس کو ماننے والے ہمارے پاس ہوں۔ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ ہماری حکومت میں بعض لوگ رہتے ہوں مگر وہ دراصل ہمارے تابع فرمان نہ ہوں اور یہ امر قطعاً برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ اب بتاؤ اس اصل کے ماتحت احمدیت کا جرمن حکومت کے ماتحت کہاں ٹھکاناہے۔ احمدیت کا مرکز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قادیان مقرر فرمایا ہے۔ اب فرض کرو قادیان انگریزوں یا اٹلی کے ماتحت ہو اور دوسرے علاقے جن میں احمدی کثرت سے ہوں جرمن کے ماتحت ہوں تو یقینا اس اصل کے ماتحت جرمن حکومت احمدیوں پر ظلم شروع کردے گی اور اگر اس کے برخلاف قادیان جرمنی حکومت کے ماتحت چلا جائے تو اٹلی وغیرہ حکومتین اپنے علاقوں میں احمدیت کو نہیں پھیلنے دیں گی۔ کیونکہ وہ بھی اِ سی قسم کے اصول کی ماننے والی ہیں۔
دوسرا اصل جو پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہے یہ ہے کہ وہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے ہم کسی ایسے مذہب کو اپنے ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے جس کے اقتصادی، تجارتی اور سوشل قوانین مذہب نے بنائے ہوں اور دراصل یہی وہ وجہ ہے جس کی بناء پر وہ یہودیوں کا سخت دشمن ہے۔ (خطبہ جمعہ فرمودہ، ۱۳؍اکتوبر ۱۹۳۹ء۔ خطبات محمود، جلد۲۰ صفحہ ۴۳۴)
اس کے علاوہ آپؓ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ روس تو کمیونسٹ انقلاب کے بعد مذہبی لوگوں کوہی برداشت نہیں کرتا تھا، چہ جائیکہ مذہبی آزادی دے۔اسی خطبہ میں آپؓ نے بتایا کہ احمدی مبلغ حضرت مولوی ظہور حسین صاحب کو روسی حکام نے قید میں رکھا اور سخت اذیتیں دی تھیں۔
حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی تحریرات میں عالمی طاقتوں کی معاشی پالیسیوں کا بھی گہرا تجزیہ کیا اور نتیجہ نکالتے ہوئے بتایا کہ اصل فاتح وہی ہوگا جو معاشی میدان میں جیتے گا۔ آپؓ نے تین بڑے دھڑوں کی نشاندہی کی، اول: سوشلزم پر مبنی پالیسیاں رکھنے والے ممالک جیسا کہ برطانیہ، فرانس اور امریکہ ۔دوسرے روس کی بالشویک کمیونزم اورتیسرے نمبر پر قومی سوشلزم کا پرچار کرنے والے ممالک جیسا کہ جرمنی، اٹلی اور اسپین (تفصیل کے لئے دیکھیں، کتاب : نظام نو)
حضر ت مصلح موعودؓ نے نازی جرمنی کے نسل پرستانہ پہلو، یعنی ہٹلر کے Herrenvolk کے نظریے (آریائی نسل کی برتری) پر بھی تنقید کی اوراس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایسی غیر انسانی اور امتیازی پالیسیوں کے ماحول میں کسی اور نسل اور کسی دوسری قوم کا وجودقائم رہنا بالکل ناممکن ہے۔ (نظام نو، صفحہ ۳۲ ایڈیشن ۲۰۱۶ء)
خیر سے سبق ، بدی سے کراہت
حضورؓ نے اُس دور کی عالمی طاقتوں اور سیاسی عمائدین پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ فرمایا کہ ان لوگوں کی کامیابیوں نیز ناکامیوں سے بھی کئی مفید سبق سیکھے جاسکتے ہیں ۔ مثلا اڈولف ہٹلر کی غیر معمولی شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :’’ہٹلر کی امنگوں اور اس کے جذبات اور اس کی بیداری کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اِس زمانہ کا ایک غیرمعمولی انسان تھا جس کے اندر ایک ایسی آگ تھی جو اپنے گِرد و پیش کی سینکڑوں میل تک کی چیزوں کو بھسم کرتی چلی جاتی تھی۔ وہ آگ نہ تھی بلکہ کہنا چاہیے کہ وہ ایک آتش فشاں پہاڑ تھا جس نے اپنے سارے ملک کو ہلا دیا۔ ‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۴؍اگست ۱۹۴۵ء، خطبات محمود، جلد ۲۶ صفحہ ۳۳۸)
حضورؓ نے ہٹلر کے زوال کی وجہ اس کی اپنے حریفوں کے بارے میں غلط فہمی قرار دی ہے، جس کی وجہ سے ’’اُس نے خدا تعالیٰ کے غضب کو اپنے اوپربھڑکا لیا۔‘‘
حضورؓ نے قومی کامیابی کے لیے عوام کی اپنے امیرو قائد کی مکمل اطاعت اور اس کی فرمانبرداری کو لازمی قرار دیاہے اوراس سلسلہ میں آپؓ نے مسولینی کی مثال دی ہے ۔ گو آپؓ نے اس کی جابرانہ فطرت پر تنقیدبھی کی ہے، لیکن اس کی شخصیت کے اس پہلو کاحوالہ بھی دیا ہے جس سے کچھ سیکھا اور فائدہ اٹھایا جا سکے۔ آپؓ نے بتایا کہ کس طرح مسولینی نے قوم میں فرمانبرداری کی روح قائم کی اور اٹلی کو بے بسی کی حالت سے اٹھایا اور اسے ایک عظیم طاقت میں تبدیل کیا جو اب بلندی پر کھڑی ہے اورمتواتر اور بار بار چیلنج دے رہی ہے کہ اگر کسی طاقت میں دم خم ہے تو اس کا مقابلہ کرلے۔ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۷؍اگست ۱۹۳۶ء)
آپؓ نے بتایا کہ اس غیر معمولی کامیابی کی اصل جڑ قرآنی تعلیم (أطیعوا اللّٰہ و اطیعوا الرسول واولی الامر منکم) میں ہے اور افراد جماعت کو سمجھایا کہ اگر اطالوی قوم اپنے راہنما کی مذہبی پابندی کے بغیر اس قدر اطاعت کر سکتی ہیں تو احمدی لوگ جو دینی طور پر اطاعت امام کے پابند ہیں، وہ اطاعت کے اس معیار کو کیوں نہیں پاسکتے۔ آپؓ نے اپنے اس خطبہ جمعہ میں اسلام میں بیعت کے مفہوم پر روشنی ڈالتے ہوئے صحابہ کرامؓ کی مثالیں پیش کیں جو نہایت قلیل وسائل کے باوجود دشمن کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔
آمریت اور خلافت میں بنیادی فرق
اطاعت امام کی اہمیت و ضرورت پر اس قدر زوردینے کے ساتھ ساتھ حضرت مصلح موعودؓ اس امر سے بھی خوب آگاہ تھے کہ لوگ اسلامی خلافت کو آمریت ہی نہ سمجھنے لگ جائیں۔ اس لئے آپؓ نے واضح فرمایا کہ اگرچہ اسلام خلیفہ کی مطلق اطاعت کا حکم دیتا ہے، لیکن اسلام کا پیش کردہ نظامِ حکومت دنیاوی آمریت سے ہزاروں درجے بہتر اور اس سے بہت بڑھ کر ہے جو یورپین ممالک میں قائم ہے۔
آپؓ نے دونوں نظاموں کی مشابہتیں اور باہمی فرق بیان کرتے ہوئے فرمایا:’’بے شک ان دونوں میں ایک مشابہت بھی ہے اور وہ یہ کہ جس طرح لوگ ڈکٹیٹروں کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتے ہیں اسی طرح خداتعالیٰ خلفاء کی اطاعت اور فرمانبرداری کی تلقین کرتا ہے مگر اس کے مقابلہ میں ایک بہت بڑا فرق بھی ہے اور وہ یہ کہ ڈکٹیٹر خود قانون ساز ہوتا ہے مگر خلیفہ قانون ساز نہیں بلکہ ایک اور قانون کے تابع ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔ ہٹلر قانون ساز ہے۔ مسولینی قانون ساز ہے، لینن قانون ساز ہے لیکن اسلامی خلیفہ نظام اور قانون کا اسی طرح پابند ہے جس طرح جماعت کا ایک عام فرد۔ وہ قانون ساز نہیں بلکہ خدائی قانون کا تابع ہوتا ہے اور اسی قانون کو وہ لوگوں سے منواتا ہے‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۷؍جولائی ۱۹۳۹ء، خطبات محمود، جلد ۲۰صفحہ ۳۰۲)
حضورؓ نے اپنے اسی خطبہ میں بھی اور متعدد دیگر مواقع پر بھی ان مسلمان فرقوں کی اس سوچ کا سختی سے ردّ فرمایا ہے جو فاشزم کو اسلام کی ترقی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔
آپؓ نے نہ صرف فاشزم کی مذمت کی ہے بلکہ یہ بھی واضح کیا ہے کہ فاشزم کوتو اسلام سے کوئی ہمدردی نہیں تھی۔ ۱۹۳۹ء میں ہونے والی اطالیہ ترک جنگ کے واقعات، اٹلی کے البانیہ اور ترکی پر حملوں کا تجزیہ کرتے ہوئے حضورؓ نے صاف الفاظ میں فرمایا کہ جرمنی اور اٹلی’’ وہ لوگ ہیں کہ جہاں جہاں ان کا بس چلے گا وہاں اسلام کو مٹانے کی کوشش کریں گے۔ انگریز ہزار بُرے سہی لیکن ان میں یہ مادہ ہے کہ وہ مذہب کے معاملہ میں کم سے کم دخل اندازی کرتے ہیں اور اس لحاظ سے انگریز اٹلی اور جرمنی سے بہتر ہیں۔‘‘(خطابات شوریٰ، جلد دوم صفحہ ۴۲۴)
حضرت مصلح موعودؓ کی ہم عصر مسلم قیادت اور یورپی فاشزم
حضرت مصلح موعودؓ کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کے بعد یہ دیکھنابھی ضروری ہے کہ آپؓ کے ہم عصر مسلم راہنماؤں کا فاشزم کے بارے میں کیا موقف تھا۔
حضورؓ نے ۱۹۲۴ء کے سفر ِیورپ کے دوران روم میں مسولینی سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات تب برطانیہ کے طرف سے اٹلی میں متعین سفیر [غالباً سر رانلڈ ولیم گراہم] کے ذریعے طے ہوئی تھی اور ایک گھنٹے کا وقت مقرر ہوا، لیکن تقریباً پون گھنٹہ ٹیکسی ڈرائیور کو ایڈریس سمجھانے میں ضائع ہو گیا۔ باقی وقت میں مسولینی نے ہندوستانی سیاست اور مہاتما گاندھی میں خاص دلچسپی سے بات کی۔ مگر حضورؓ کو اس بات کا افسوس رہا کہ ملاقات کا وقت اتنا محدود تھا کہ مسولینی سے اٹلی میں احمدیہ مشن قائم کرنے کے امکانات پر بات نہ ہو سکی۔ (ماخوذ از خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۷؍جون ۱۹۵۸ء نیز ’’سفر یورپ‘‘ حضرت بھائی عبدالرحمان قادیانی کی ڈائری، صفحہ ۱۵۴)
یہ ملاقات اُس وقت ہوئی تھی جب مسولینی ابھی اٹلی کا وزیرِ اعظم تھا اور مکمل فاشسٹ آمر نہیں بنا تھا۔ جب وہ آمر بنا تو دیگر مسلم راہنما اس سے ملے۔ ان میں سرِ فہرست مسلمانانِ برصغیر کے قومی شاعر سر محمد اقبال تھے۔
علامہ اقبال نے دوسری گول میز کانفرنس کے بعد روم کا دورہ کیا اور مسولینی سے ملاقات کی۔ اس مضمون کی تحقیق کے دوران خاکسار کو اٹلی کے نیشنل آرکائیوز میں موجود مسولینی کے ریکارڈز دیکھنے کا موقع ملا اورمسولینی کے دفتری روزنامچے میں۲۷؍نومبر ۱۹۳۱ء کی تاریخ میں اندراج ملا :
Sir Muhammad Iqbal – grande poeta mussulmano
یعنی سر محمد اقبال — عظیم مسلمان شاعر
Mussolini records, Archivio Centrale Dello Stato (Italian state archives), Segreteria Particolare, Di S. E. Il Capo Del Gerverno
علامہ اقبال کے فرزند جاوید اقبال کی مرتب کردہ سوانح عمر ی ’’زندہ رود‘‘ میں درج ہے کہ یہ ملاقات تقریباً چالیس منٹ جاری رہی۔ (زندہ رود، سنگ میل پبلشرز، ۲۰۱۹ء، لاہور، صفحہ ۵۱۹ )
علامہ اقبال اپنی اس ملاقات سے کافی متأثر تھے جو اُن کے اِس جواب سے بھی عیاں ہے جو انہوں نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں دیا، مسولینی کے بارے میں کہا :’’آپ کا ڈوچے ایک لوتھر ہے،مگر بغیر انجیل کے۔‘‘
علامہ اقبال نے بعد ازاں مسولینی کے بارے میں اپنے تأثرات کو شعر ی شکل بھی دی، اور کہا :
فیض یہ کس کی نظر کا ہے ؟ کرامت کس کی ہے؟
وہ کہ ہے جس کی نگہ مثلِ شعاع آفتاب
ڈاکٹر جاوید اقبال،جو سر محمد اقبال کے فرزند اور سوانح نگار ہیں ، مسولینی کے بارے میں علامہ اقبال کے نقطۂ نظر کی تعیین کرنے میں اپنی دشواری کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن اس کام کو آسان بنانے کے لیے وہ خود اقبال کا ایک خط پیش کرتے ہیں جو انہوں نے آل احمد سرور کو۱۲؍مارچ ۱۹۳۷ءکو لکھا:’’مسولینی کے متعلق جوکچھ میں نے لکھا ہے ، اس میں آپ کو تناقض نظر آتا ہے ، آپ درست فرماتے ہیں لیکن اگر اس بندہ خدامیں ڈیول (شیطان ) اور سینٹ (ولی ) دونوں کی خصوصیات جمع ہوں تو اس کا میں کیا علاج کروں۔ مسولینی سے اگر کبھی آپ کی ملاقات ہو آپ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ اس کی نگاہ میں ایک ناممکن البیان تیزی ہے ، جس کو شعاع آفتاب سے ہی تعبیر کرسکتے ہیں۔ کم از کم مجھے اس قسم کا احساس ہوا۔‘‘(اقبال نامہ۔مجموعہ مکاتیب اقبال۔ جلد دوم۔ صفحہ ۳۱۴۔ ایڈیٹر: شیخ عطاء اللہ ایم اے۔ شائع کردہ شیخ محمد اشرف لاہور)
لیبیا کےمسلمانوں کا مسولینی کو رحمتِ الٰہی قرار دینا
اس خونریزحملہ کے بعد مسولینی کو ملنے والی فتح کے باوجود لیبیا کے مسلمان مارچ۱۹۳۷ء میں ہونے والے مسولینی کے دورہ لیبیا پر بے حد خوش نظر آئے۔ مسولینی کے گورنر جنرل نے اس دورے کا مقصد یہ بتایا تھا کہ مسولینی خود کو لیبیا کے عوام کے سامنے’’سلطنت کے بانی‘‘ اور ’’سلطنت ِروم کے وقار کے محافظ‘‘ کے طور پر پیش کرنا چاہتے تھے۔
Proclamation by Governor General Italo Balbo to the Libyan people, 10 March 1937
لیکن لیبیا کے مسلمانوں نے تو شاہ سے بڑھ کر شاہ سے وفاداری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے نہ صرف پُرتپاک استقبال کیا بلکہ مسولینی کو سیفِ اسلام بھی پیش کرڈالی ۔ ان دو مسلمان فوجیوں میں سے جنہوں نے مصر میں اٹلی کی عسکری مہم میں اہم کردار ادا کیا تھا، ایک آگے آیا اور سیفِ اسلام پیش کرتے ہوئے کہا:’’فاشسٹ اٹلی کے فخرمند بیٹو! لیبیا کے فوجیوں اور مسلمانوں کی طرف سے مجھے یہ شرف حاصل ہے کہ فاتح دوچے کو یہ آبدار اسلامی تلوار پیش کروں۔ اس لمحے بحیرۂ روم کے سواحل پر بسنے والے تمام مسلمانوں کے دل ہمارے ساتھ دھڑک رہے ہیں جو تعریف و امید سے لبریز ہو کر آپ میں وہ عظیم سیاستدان دیکھتے ہیں جو یقینِ محکم کے ساتھ ہماری تقدیر کی باگ تھامے ہوئے ہے۔‘‘
Popolo d’Italia, 19 March 1937, quoted by John L Wright in Mussolini, Libya, and the Sword of Islam, in Italian Colonialism, Ed R Ben-Ghiat, M Fuller, Palgrave, New York, 2005
لیبیا کی وفاشعار مسلم عوام کو مخاطب کرتے ہوئے جواباً مسولینی نے کہا:’’آپ نے اٹلی سے اپنی وفاداری ثابت کی، اس وقت جب اٹلی ایک دور دراز جنگ میں مصروف تھا اور آپ نے ہزاروں رضاکار فراہم کیے جنہوں نے ہماری فتح میں قیمتی حصہ ڈالا۔‘‘
اس کے بعد مسولینی نے لیبیا اور حبشہ کے مسلمانوں کوامن، انصاف، خوشحالی، شریعتِ نبویؐ کا احترام اور اسلام اور تمام مسلمانانِ عالم سے ہمدردی کا وعدہ کیا۔
Gaspare Ambrosini, I problem del Mediterraneo, Istituto Nazionale di Cultura Fascista, Rome, 1937
مشرقِ وسطیٰ میں مسلمانوں کا مسولینی کو سراہنا
لیبیا سے باہر بھی بعض مسلمان مسولینی کی اس سیاسی چال پر پُرامید نظر آئے اور محض ڈھونگ کے طور پر دکھائی گئی عالمِ اسلام سے اس دوستی سے از حد متاثر نظر آئے۔مثلا فلسطین سے شائع ہونے والے اخبار’’فلسطین‘‘ نے اپنے ۱۷ مارچ ۱۹۳۷ء کے شمارہ میں مسولینی کو ہمدردیاں دکھانے پر خراج تحسین پیش کیا۔ (Filastin, 17 March 1937)
جمال الدین افغانی کی جمعیتِ اسلامی(pan-Islamism) طرزِفکر کے پیروکار اور عکہ شہر کے میئر اسعد الشقیری نے مسولینی کے اظہارِ دوستی کو اس کی زیادتیوں کا کفارہ قرار دیا اور لیبیا و حبشہ کے مسلمانوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔ (فلسطین، شمارہ 17 مارچ 1937ء)
جبکہ قاہرہ کے اخبار ’’البلاغ ‘‘نے تو مسولینی کے اعلان میں امید کی کرن دیکھی اور اسے جرمن قیصر ولہیم دوم(Wilhelm II) کے اس وعدے سے تشبیہ دی جو اس نے ۱۸۹۸ء میں قسطنطنیہ، یروشلم اور دمشق کے دورے سے پہلے عثمانی سلطان عبدالحمید ثانی سے کیا تھا۔
ایک فاشسٹ لیڈر کو سیف اسلام پیش کرنے والے مسلمانوں کا بھرم مزید کیا رکھنے کی کوشش کرسکتے ہیں جبکہ ایک نامور مقامی مسلم راہنما،جو شہر درنہ کے قاضی بھی تھے، نے مسولینی کو درنہ کی مسجد کی سیڑھیوں پر ثناء خوانی کرتے ہوئے اسے خدائی مشیّت کا امین قرار دیا اور کہا کہ کیونکہ وہ خدا اس کے ذریعہ سے دنیا کو دوبارہ امن اور خوشحالی دینا چاہتا ہے۔
اسی موقع پرقاضیِ شہر نے مسولینی کو دادوتحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے چالیس کروڑ مسلمان آپ کی اسلام کے لئے خصوصی توجہ سے فیض یاب ہونگے۔
(New York Times, 13 March 1937)
سید ابوالاعلیٰ مودودی کے فاشزم پرست رجحانات
جماعت اسلامی کے بانی سید ابو الاعلیٰ مودودی جو نامور مسلم عالم دین اور سرگرم سیاسی راہنما بھی تھے اور حضرت مصلح موعودؓ کے ہم عصر بھی ، یورپی فاشزم سے خاصے متأثر رہے۔کیونکہ مودودی کے نزدیک اسلام محض ایک ضابطۂ حیات نہیں بلکہ ایک ایسا نظام ہے جسے بہر طور پوری دنیا پر سیاسی غلبہ حاصل کرنا ہے۔ اوران کے نام نہاداسلامی انقلاب کے نظریے کا خلاصہ ان کے اپنے الفاظ میں یوں ہے کہ ہر مسلمان کو باہر نکل کر جدوجہد میں شریک ہوناہوگا۔(ماخوذ از خطبات ابوالاعلیٰ مودودی، شائع کردہ : مرکزی مکتبہ اسلامی، نئی دہلی، ایڈیشن 1998)
اس مسلح جنگ کا مقصد مودودی صاحب کے نزدیک یوں ہے کہ ان تمام انسانوں کو ختم کردیا جائے جو خدا کو مسترد کرتے ہیں… اوراگر تم اسلام کی سچائی مان لو تو تمہارا کام صرف یہ ہے کہ اپنی پوری طاقت زمین پر اسلامی حکومت قائم کرنے میں لگا دو۔
ان کایہ متشدد نظریہ مسلم دنیا کے بعض حصوں میں پھیلا اور مصر میں اخوان المسلمین اور بعد کے ادوار میں القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کے لیے اساس اور تحریک بنا۔ یہ پُرتشدد رجحان ان کے فاشزم سے گہرے فکری لگاؤ کا ہی نتیجہ تھا۔
مودودی نے اپنے اسلامی انقلاب کے تصور کو پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جرمن قومی سوشلزم کو ہرگز یہ زبردست کامیابی نہ ملتی اگر فشٹے، گوئٹے اور نٹشے نے اس کی وہ فکری بنیادیں نہ رکھی ہوتیں جنہیں ہٹلر اور اس کے ساتھیوں کی زبردست اور مضبوط قیادت نے آگے بڑھایا۔(منہاج الانقلاب الاسلامی ، ابوالاعلیٰ مودودی، دارالانصار، قاہرہ ، ایڈیشن 1977 صفحہ 19)
اخوان المسلمین کو فاشزم کی پشت پناہی
اسی طرح تحریک ’’اخوان المسلمین‘‘ کے بانی حسن البنابھی مولوی مودودی کے فاشسٹ نظریات سے گہرے طور پر متأثر تھے۔ جب یروشلم کے گرینڈ مفتی اور البنا کے سرپرست امین الحسینی نے ۱۹۴۶ء میں وفات پائی تو حسن البنا نے تعزیتی تقریر کرتے ہوئے کہا:
’’اے امین، تم واقعی ایک عظیم، اٹل اور ناقابلِ یقین انسان تھے…تم کیا ہی بہادر تھے…کیا ہی کرشمہ وجود تھے…جس نے ایک سلطنت کو للکارا اور ہٹلر کی مدد سے صہیونیت سے لڑتے رہے۔‘‘
Hassan Al-Banna, Majmua’at Rasael al-Imam al-Shahid Hassan al-Banna, Cairo, 1999, p406; Hamed Abdel-Samad, Islamic Fascism, Prometheus Books, New York, 2016
اس تحریر میں بڑی معنی خیز بات یہ ہے کہ البنا نے مسولینی اور ہٹلر دونوں کے ساتھ تمام اعزازی القاب استعمال کیے۔
مسولینی نے ۱۹۳۵ء میں ایک پُرجوش تقریرکرتے ہوئے اٹلی کی عوام کو لازوال جنگ کے لیے تیار کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ آٹھ سے پچپن سال کے ہر اطالوی کو فوجی جذبے سے سرشار ہونا چاہیے۔
اس تقریر کا خاص طور پر ایک جملہ حسن البنا کی توجہ میں اٹک گیا :’’متشدد عسکریت ایک نیا خیال ہے، جسے پوری انسانی تاریخ میں کوئی عملی جامہ نہ پہنا سکا‘‘
حسن البنا نے اس تقریر کا کئی مواقع پر حوالہ دیا، لیکن سب سے دلچسپ مقام وہ ہے جہاں وہ مسولینی کی تصحیح کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ تمام معاشرہ میں متشدد عسکریت پیدا کرنے کا خیال تو تیرہ صدیاں پہلے اسلام اور اس کے بانی نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کے ذریعے دنیا میں آیا تھا۔
حسن البنا بے باک ہوکر بڑے فخر سے اعلان کرتے ہیں کہ قرآن کریم کی شاید ہی کوئی سورت ہو جس میں ایک مسلمان کو ہمت، صبر اور جنگجوئی کا، اور اللہ کی راہ میں جہاد کا حکم نہ دیا گیا ہو۔
علی اشماوی جو پہلے تو حسن البنا کے ایک قریبی ساتھی تھے مگر بعد میں علیحدہ ہوگئے تھے، نے اپنی کتاب بعنوان’’ اخوان المسلمین کی خفیہ تاریخ ‘‘میں تفصیل سے بتایاہے کہ حسن البنا نے نہ صرف نازی سیکورٹی سروسز اور گسٹاپو کے تنظیمی ڈھانچوں کا مطالعہ کیا بلکہ صہیونیوں کے خفیہ گروہوں کا بھی علم اکٹھا کیا۔
Ali Asmawai, at-Tarikh as-Sirri li Gamaa’at al-Ikhwan al-Muslimin, Cairo 2006, 2 edition, pp8-9
مصر کے ممتاز ادبی محقق طٰہٰ حسین نے بھی اخوان المسلمین کے نازی پرست رویے پر تنقید کی ہے جبکہ ایک اور معروف تجزیہ کار عباس العقاد نے ثبوت پیش کیے کہ اخوان المسلمین کو مصر میں فاشزم کے بیج بونے کے لیے نازی انٹیلی جنس سے خفیہ طور پر بڑی بڑی رقوم باقاعدگی سے ملتی تھیں۔
Jeffrey Herf جیفری ہرف نے عرب دنیا کے لیے نازی پروپیگنڈا کے موضوع پر اپنی کتاب میں تفصیل سے بحث کی ہے کہ نازی اخوان المسلمین کو نہ صرف اپنا ایک فوجی حلیف بلکہ مسلم دنیا میں اپنے یہود مخالف نظریات پھیلانے کا ذریعہ سمجھتے تھے۔
Jeffrey Herf, Nazi Propaganda for the Arab Wordl, Yale Uni press, New Haven, 2009, p242-244
اخوان المسلمین کی ایک اور اہم شخصیت سید قطب نے سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا اور سیاسی اسلام کے نام پر دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ایک بڑا نام بن گئے۔ ان کی دو کتابیں ’’معالم فی الطریق‘‘ اور ’’مستقبل ہذا الدین‘‘ سیاسی تشدد کے متعلق بنیادی مواد کےماخذ کا درجہ اختیار کر گئیں۔
خلاصہ
ان تمام حقائق ،حوالہ جات اور معلومات کے تناظر میں حضرت مصلح موعودؓ کا نقطۂ نظر بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ آپؓ نے بانی جماعت احمدیہ حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کے موقف کے عین مطابق کبھی بھی پُرتشدد اسلام کی تائید نہیں کی اور نہ ہی یورپ کی فاشسٹ حکومتوں جیسے جابر نظاموں کو قبول کیا۔
دوسری جانب صاف عیاں ہے کہ امت مسلمہ کے بڑے بڑے نامور اور کبار علماء دین نہ صرف فاشزم سے متأثر تھے اور اس کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرتے تھے بلکہ مغربی دنیا کو باور کراتے تھے کہ فاشزم کی بنیاد اسلام میں ہے۔ انا للہ وانا لیہ راجعون
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: غزوات کے دوران آنحضورﷺ کا حُسنِ اخلاق



