جنگوں میں بھی سرکارؐ کی تعلیم ملی ہے
سلطانِ دو عالم کا ہر اک وصف جلی ہے
جنگوں میں بھی سرکارؐ کی تعلیم ملی ہے
آقاؐ نے سکھائی ہے ہمیں رسمِ شجاعت
میدان میں قائم رہی اخلاق کی عظمت
دشمن پہ بھی آقاؐ نے کبھی ظلم نہ ڈھایا
تلوار اٹھانے کا سلیقہ بھی سکھایا
پامال نہ کرنا کبھی لاشوں کی قبا کو
مایوس نہ کرنا کبھی خالق کی رضا کو
وحشت کا مٹایا ہے جہاں سے جو فسانہ
تصویرِ محبت ہے محمدؐ کا زمانہ
تاریخِ جہاں ڈھونڈے گی کیا ایسا سپاہی؟
جس نے نہ مچائی کبھی میداں میں تباہی
فرمانِ نبیؐ ہے یہ، سنو لشکرِ اسلام!
کردار سے اپنے نہ کرو دین کو بدنام
بیمار پہ، معذور پہ تلوار نہ آئے
جو گوشہ نشیں ہو وہ کبھی دُکھ نہ اٹھائے
گر خوف سے دشمن بھی پکارے شہِ دیں کو
رحمت کی قبا ڈھانپ لے اُس دشتِ زمیں کو
کافر بھی اگر وعدہ کرے، تم نہ مکرنا
ایمان کا شیوہ ہے عداوت سے نہ ڈرنا
مسمار نہ کرنا کبھی دشمن کے مکانات
پامال نہ ہوں کھیتیاں اور باغ و نباتات
جو پیڑ بھی سایہ دے اسے تم نہ گرانا
سیراب زمینوں کو کبھی تم نہ جلانا
یاربّ! ہمیں اِس دین کی راہوں پہ رواں کر
سرکارؐ کی تعلیم سے ہر قلب جواں کر
بشریٰؔ کو شہِ دیں کی شریعت نے ہی پالا
طوفانِ عداوت کو محبت میں ہے ڈھالا
(بشریٰ سعید عاطف۔ مالٹا)




