متفرق مضامین

رسول کریمﷺ کا جنگی قیدیوں سے بے مثل حُسنِ سلوک

(جاوید اقبال ناصر۔ مربی سلسلہ و صدر جماعت شمالی مقدونیہ)

دُنیا نے جنگی قیدی کے حق میں پہلی آواز کب سنی ؟ ہاں یقیناً اُ س وقت سنی گئی جب خدا کے ایک رسولﷺ کا مکہ کے علاقے میں نزول ہوا۔ جس کا نام محمدﷺ تھا۔
اور اس کو جو لقب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا وہ ’’رحمۃ العالمین‘‘ تھا۔ آپﷺ کی رحمت کے سایہ کے نیچے ایک جنگی قیدی،اُ س کا مال، اُس کی جان اور اہل و عیال سب شامل تھے

اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزاد پیدا فرمایا لیکن دنیا داروں نے اپنی طاقت کے زور پر خدا تعالیٰ کی مخلوق کو اپنا غلام بنانے کی ہردَور میں کوشش کی۔ جو زیادہ غلام رکھتا وہ زیادہ با عزّت بھی تصوّر کیا جاتا تھا۔ جنگ جیتنے کی صورت میں مفتوح علاقے کے لوگوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا۔ مفتوحہ علاقے کےمردوں اور عورتوں کے ساتھ ان کے بچوں کو بھی غلام بنا کر قید کر دیا جاتااور ان کوقیدوبند کی سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑتا۔ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کی مثال، پورے طور پر فاتح اقوام اپنے اوپر ثابت کرنے کی کوشش کرتیں۔ جنگی قیدی کے حقوق کی نہ تو کوئی بات ہوتی اور نہ ہی ایک قیدی کو مرتے دم تک اپنی آزادی کی کو ئی اُمید ہوتی۔ گویا جنگی قیدی کے مالک کا گھرقبرستان جانے سے پہلے اُس کا آخری گھر ہوتا۔ دُنیا نے جنگی قیدی کے حق میں پہلی آواز کب سنی ؟ ہاں یقیناً اُ س وقت سنی گئی جب خدا کے ایک رسولﷺ کا مکہ کے علاقے میں نزول ہوا۔ جس کا نام محمدﷺ تھا۔ اور اس کو جو لقب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا وہ ’’رحمۃ اللعالمین‘‘ تھا۔ آپﷺ کی رحمت کے سائے کے نیچے ایک جنگی قیدی،اُ س کا مال، اُس کی جان اور اہل و عیال سب شامل تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جوآسمانی کتاب آپﷺ پر نازل فرمائی اُ س کے پڑھنے والوں نے جنگی قیدیوں کے بارے میں جب یہ اعلان سنا ہوگا فَاِمَّا مَنًّۢا بَعۡدُ وَاِمَّا فِدَآءً یعنی اس کے بعد یا تو احسان کرکے (ان کو چھوڑ دو) یا تاوان جنگ لے کر (چھوڑ دو)، تو یقیناً حیران ہوئے ہوں گے۔

عرب کے علاقے میں غلام کئی قسم کے تھےاور اُن میں جنگی قیدی کو بھی غلام ہی کی طرح رکھا جاتا تھا۔ جب کہ قرآن کریم نے جنگی قیدی بنانے کا ایک بڑا اُصول یہ مقرر کیا ہے کہ جنگ ہو اور شدید جنگ ہواور اُ س کے بعدجنگی قیدی بنانے کی اجازت دی ہے جیسا کہ فرمایا: مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہٗۤ اَسۡرٰی حَتّٰی یُثۡخِنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ ۔(الانفال : ۶۸) یعنی کسی نبی کے لئے جائز نہیں کہ زمین میں خونریز جنگ کئے بغیر قیدی بنائے۔ اس آیت کی تفیسر میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں:’’ اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہٗۤ اَسۡرٰی۔ لڑائی کے بعد قیدی کرنا جائز ہے۔ یوں اکاّدُکاّ پکڑ لینا جائز نہیں۔‘‘ (حقائق الفرقان، سورۃ الانفال صفحہ ۳۱) اسی طرح دوسری جگہ قرآن کریم فرماتاہے:فَاِذَا لَقِیۡتُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَضَرۡبَ الرِّقَابِ ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَثۡخَنۡتُمُوۡہُمۡ فَشُدُّوا الۡوَثَاقَ ٭ۙ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعۡدُ وَاِمَّا فِدَآءً حَتّٰی تَضَعَ الۡحَرۡبُ اَوۡزَارَہَا۔ (محمد :۵) یعنی جب تم ان لوگوں سے بِھڑ جاؤ جنہوں نے کفر کیا تو گردنوں پر وار کرنا یہاں تک کہ جب تم ان کا بکثرت خون بہالو تو مضبوطی سے بندھن کسو۔ پھر بعد ازاں احسان کے طور پر یا فدیہ لے کر آزاد کرنا یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے۔ قرآن کریم میں جنگی قیدی کے لیے چند ایک الفاظ استعال ہوئے ہیں۔ جیسا کہ سورت الانفال آیت نمبر۶۸ میں ’’اَسۡرٰی‘‘ جنگی قیدی کے لیے آیا ہے۔ اسی طرح ’’اَسِیْرًا‘‘ کالفظ سورت الدھر آیت نمبر ۹ میں بھی اسیروں یا قیدیوں کے لیے استعمال ہواہے۔ ’’ اُسٰرٰی‘‘ کا لفظ سورت البقرہ آیت نمبر ۸۶ میں قیدی کے لیے آتا ہے۔ مزید برآں’’الۡاَسۡرٰۤی‘‘ کا لفظ بھی سورۃ الانفال آیت نمبر ۷۱ میں انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ جنگی قیدی غلام بن جاتا تھا اور غلاموں کی طرح اُس کے ساتھ سلوک ہوتا تھا۔ جنگی قیدی یا غلام کے لیےقرآن کریم نے ایک اور لفظ بھی استعمال کیا ہے۔ جس کا اردو ترجمہ’’جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے‘‘ یا ’’جن کے اُن کے داہنے ہاتھ مالک ہوئے‘‘کیا جاتاہے۔ اور یہ الفاظ متعدد بار قرآن شریف میں مختلف انداز میں استعال ہوا ہے۔ جیسا کہ آتا ہے: وَمَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ (النساء:۳۴) مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ(المومنون:۷)

رسول اللہﷺ کا اسوہ جنگی قیدی کو چھوڑنے کے لیے ہر لمحہ تیار نظر آتا تھا

قرآن کریم اور نبی کریمﷺ کے ارشادات پر غور کرنے سے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اُس کا رسولﷺ تو بہانےاور ترکیب ڈھونڈتے تھے کہ کوئی ایسی بات ہاتھ لگ جائے جس سے قیدوں کی رہائی ممکن ہو سکے۔ اگر کوئی غلطی سے روزہ توڑ لیتا تو آپﷺاس کو غلام کو آزاد کرنے کا حکم صادر فرماتے۔ اگر کوئی غصّہ میں اپنی بیوی کواپنے اُوپر حرام کر لیتا یعنی’’ ظہار کر بیٹھتا‘‘تو اُسے دوبارہ اپنی بیوی کی طرف رجوع کرنے کے لیے خدا ئی حکم یہ ملتا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ یعنی ایک غلام آزاد کرے۔ اسی طرح سورج یا چاند کے گرہن کے بد اثرات سے بچنے کے لیے، آپﷺ اپنے اصحابؓ کو جنگی قیدی یا غلام کی آزادی کا ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ فوت شدہ والدین کی روح کو ثواب پہنچاننے کی خاطر جہاں پر آپﷺ نےاَورکئی طریق بتائے وہاں پر آپﷺ نے ایک طریق غلام کو آزاد کرنے کا بھی بیان فرمایا۔ کسی بھی شخص کو مارنا یا قتل کرنا تو اسلام میں سخت منع ہے۔ ہاں! لیکن اگر کوئی غلطی سے ایسا جرم کر بیٹھے تو، قرآن کریم اُسےیہ حکم دیتا ہے کہ وہ بھی ایک جنگی غلام کو غلامی کی زنجیر سے آزاد کروائے۔ جیسا کہ فرمایا: وَمَا کَانَ لِمُؤۡمِنٍ اَنۡ یَّقۡتُلَ مُؤۡمِنًا اِلَّا خَطَـًٔا وَمَن قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَأً فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ۔(النساء:۹۳) یعنی جو (مومن) کسی مومن کو نادانستہ قتل کردے تو (اس پر) ایک مومن (غلام کی) گردن کا آزاد کرنا ہوگا۔

بعض انسانوں کا وتیرہ ہوتا ہے کہ وہ ہر بات پر قسم کھاتے ہیں جس کو لغو قسمیں کہا جاتا ہے، ایسی قسموں پر تو کوئی گرفت نہیں لیکن اگر کوئی ایسی قسم کھاتا ہے جو پکّی ہو تو ایسی قسم کوتوڑنے کا کفارہ جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے ، اُ س میں بھی ایک غلام کا آزاد کرنا ہے۔ جیسا کہ فرمایا:لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغۡوِ فِیۡۤ اَیۡمَانِکُمۡ وَلٰکِنۡ یُّؤَاخِذُکُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَیۡمَانَ ۚ فَکَفَّارَتُہٗۤ اِطۡعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیۡنَ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَہۡلِیۡکُمۡ اَوۡ کِسۡوَتُہُمۡ اَوۡ تَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ۔ (المائدہ :۹۰)یعنی اللہ تمہیں تمہاری لغو قَسموں پر نہیں پکڑے گا لیکن وہ تمہیں ان پر پکڑے گا جو تم نے قَسمیں کھاکر وعدے کئے ہیں۔ پس اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے جو اوسطاً تم اپنے گھروالوں کو کھلاتے ہو، یا انہیں کپڑےپہنانا ہے یا ایک گردن آزاد کرنا ہے۔

اگرکوئی جنگی قیدی پڑالکھا ہوتا اور اس کو چھڑوانے والا کوئی نہ ہوتا، تو رسولﷺ کے دربار سے اس کے لیے یہ ارشاد جاری ہوتا کہ وہ بچوں کو لکھنا اورپڑھنا سیکھادے تو اُس کی گردن سے قیدی کا طوق اُتار لیا جائے گا۔ جنگی قیدی کو اسیری سے رہائی اس بات سے بھی مل جاتی تھی کہ اگر کوئی غلام نبی کریمﷺ کے پاس حاضر ہو کر اس بات کا عہد کرتا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں حصہ نہیں لے گا، تو اس کو اس عہد کی وجہ سے بھی اسیری سے رہائی مل جایا کرتی تھی۔ ایک حدیث میں آنحضرتﷺ نے حکم دیا کہ’’ کسی شخص کے قبضہ میں کوئی ایسا غلام آ جاوے جو اس کا قریبی رشتہ دارہے تو وہ غلام خود بخود آزاد سمجھا جائے گا۔ ‘‘ ( ابن ماجہ کتاب العتق، سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت مرزا بشیر احمدصاحبؓ صفحہ ۴۴۳)

مکاتبت کر کے جنگی قیدیوں کو چھوڑنے کا الٰہی حکم

مکاتبت کرکے بھی جنگی قیدیوں کو آزادی مل جایا کرتی تھی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:وَالَّذِیۡنَ یَبۡتَغُوۡنَ الۡکِتٰبَ مِمَّا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ فَکَاتِبُوۡہُمۡ اِنۡ عَلِمۡتُمۡ فِیۡہِمۡ خَیۡرًا ٭ۖ وَّاٰتُوۡہُمۡ مِّنۡ مَّالِ اللّٰہِ الَّذِیۡۤ اٰتٰٮکُمۡ۔(النور:۳۴) یعنی تمہارے غلاموں میں سے جو لوگ مکاتبت کا مطالبہ کریں اگر تم ان میں بھلائی دیکھو تو ان سے مکاتبت کر لو اور (اگر ان کے پاس پورا مال نہ ہو تو) جو اللہ نے تم کو مال دیا ہے اس میں سے کچھ مال دے (کر ان کی آزادی ممکن بنا) دو۔ اللہ تعالیٰ نے جنگی قیدی کو جہاں تاوان لے کے چھو ڑنے کا حکم دیا،تو دوسری طرف اُ س قیدی کو تسلی بھی دی کہ تمہاری تاوان کی رقم رائیگاں اور ضائع نہیں جائے گی، بلکہ اللہ تعالیٰ اس سے بہتردینے پر طاقت رکھتا ہے اور دے گا۔ ہاں!لیکن صرف اس دُنیا کی نعمت ہی نہیں دے گا، بلکہ اگر تمہارے اندر بھلائی اور نیکی کرےکے آثار دیکھے گا تو تمہارے گناہ بھی معاف کردے گا۔ جیسا کہ فرمایا: یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّمَنۡ فِیۡۤ اَیۡدِیۡکُمۡ مِّنَ الۡاَسۡرٰۤی ۙ اِنۡ یَّعۡلَمِ اللّٰہُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ خَیۡرًا یُّؤۡتِکُمۡ خَیۡرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنۡکُمۡ وَیَغۡفِرۡ لَکُمۡ ؕ وَاللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ۔ (الانفال : ۷۱) اے نبی! جو لوگ تمہارے ہاتھوں میں (جنگی) قیدیوں کی حیثیت میں ہیں ان سے کہہ دے کہ اگر اللہ تمہارے دلوں میں نیکی دیکھے گا تو جو کچھ تم سے (تاوان جنگ کے طور پر) لیا گیا ہے اس سے بہتر تم کو دے دے گا اور (علاوہ ازیں) تمہارے گناہ بھی معاف کر دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) باربار رحم کرنے والا ہے۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکاتبت کرکے جنگی قیدی کو چھوڑنے کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’غلاموں کے متعلق بھی حکم دیا کہ اوّل تو احسان کرکےانہیں چھوڑدواوراگر ایسا نہیں کر سکتے تو فدیہ لے کر رہا کردو۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ خود فدیہ دےاُس کے رشتہ داربھی دے سکتےہیں۔ حکومت بھی دے سکتی ہےاور اگرگورنمنٹ لاپرواہ ہو، رشتہ دار ظالم ہوں اور خود غریب ہو تو وہ کہہ سکتاہے کہ میرے ساتھ طے کرلو کہ مجھ پر کیا تاوان جنگ عاید ہوتا ہےاور پھر کہہ دے کہ مجھے اس تاوان کی ادائیگی کے لیے اتنی مہلت دے دو، میں اس عرصہ میں اس قدر ماہوارروپیہ ادا کرکے تاوانِ جنگ دے دوں گا۔ اس معاہدہ کے معاً بعد وہ آزاد ہو جائے گا اور مالک کا کوئی حق نہیں ہو گا کہ وہ کتابت میں کسی قسم کی روک پیدا کرے۔ کتابت کا روکنا صرف اسی صورت میں جائز ہے جبکہ خیر نہ ہو،یعنی جنگ کا خطرہ ہو، یا یہ کہ وہ پاگل اور کم عاقل ہو، خود کما نہ سکتا ہو اور خطرہ ہو کہ وہ بجائے فائدہ کے نقصان اٹھائے گا۔‘‘(تفسیر کبیر جلد ۸، صفحہ ۵۰۶)

جنگی قیدیوں پر خرچ کرنے کی ہدایت

قرآن کریم نے جن لوگوں پرمال خرچ کرنے کا ارشاد فرمایا ہے اُ ن میں سے ایک جنگی قیدی یا غلام بھی ہے۔ بلکہ اس کی اس نیکی کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ کی کتاب میں یوں آتا ہے: وَلٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَالۡمَلٰٓئِکَۃِ وَالۡکِتٰبِ وَالنَّبِیّٖنَ ۚ وَاٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَالۡیَتٰمٰی وَالۡمَسٰکِیۡنَ وَابۡنَ السَّبِیۡلِ ۙ وَالسَّآئِلِیۡنَ وَفِی الرِّقَابِِ۔ (البقرہ:۱۷۸) یعنی کامل نیک وہ شخص ہے جو اللہ ’روز آخرت‘ ملائکہ (الٰہی) کتاب اور سب نبیوں پر ایمان لایا اور اس (اللہ) کی محبت کی وجہ سے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کو اور سوالیوں کو نیز غلاموں (کی آزادی) کے لیے (اپنا) مال دیا۔ ایک اور جگہ مومنوں کی یہ نشانی بیان فرمائی گئی ہے کہ وَیُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسۡکِیۡنًا وَّیَتِیۡمًا وَّاَسِیۡرً۔ ( الدھر :۹) اور وہ کھانے کو، اس کی چاہت کے ہوتے ہوئے، مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھلاتے ہیں۔

حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی غلام کی ملکیت میں دوسروں کے ساتھ حصہ دار ہو، اور وہ اپنے حصے میں غلام کو آزاد کر دے، تو اس پر فرض ہو جاتاہے کہ وہ اپنے مال میں سے دوسرے حصہ داروں کو بھی روپیہ دے کر غلام کو کلیۃً آزاد کرا دے، اور اگر اس کے پاس اتنا روپیہ نہ ہو تو پھر بھی غلام کو عملاًآزاد کر دیا جائے گا، تا وہ خود اپنی کوشش سے بقیہ قیمت پیدا کرے اور دوسرے مالکوں کو ادا کر کے کلی طور پر آزاد ہو جائے، اور اس معاملہ میں غلام کو ہر قسم کی سہولت دی جائے گی۔‘‘ (بخاری کتاب العتق، سیرت خاتم النبیینؐ صفحہ ۴۴۳)

جنگی قیدی کو آزاد کرواناجنت میں لے جانے کاایک ذریعہ

رسول خداﷺ نے جنگی قیدی کی رہائی کو ایک ثواب کا کام قرار دیا ہے۔ جیسا کہ آپﷺ نے فرمایا: أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا اسْتَنْقَذَ اللّٰهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ (صحيح البخاري، كتاب العتق،حدیث نمبر۲۵۱۷)حضرت رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب کسی مرد نے کسی مسلمان(قیدی یا غلام) کو آزادی دلوائی، تو اللہ تبارک تعالیٰ اس آزاد کردہ غلام کے جسم کے اعضاء کے بدلے میں(آزاد کروانے والے) کے جسم کے ہر عضو کو آگ سے محفوظ رکھے گا۔

ایک اَور حدیث میں یوں آیاہے کہ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: عَلِّمْنِي عَمَلًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ:لَئِنْ كُنْتَ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ أَعْتِقِ النَّسَمَةَ وَفك الرَّقَبَة۔قَالَ: أَو ليْسَا وَاحِدًا۔ قَالَ: لَا عِتْقُ النَّسَمَةِ۔ أَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِهَا وَفَكُّ الرَّقَبَةِ۔ أَنْ تُعِيْنَ فِي ثَمَنِهَا وَالْمِنْحَةَ۔ یعنی ایک اعرابی شخص آنحضرتﷺکی خدمت میں حاضر ہوااور اُس نے عرض کیا، اے اللہ کے رسولﷺ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں لے جانے کا ذریعہ بن جائے۔ آپﷺ نے فرمایا:تم نے نہایت مختصر الفاظ میں ایک بہت بڑا سوال کیا ہے۔ پھر آپﷺ نےاُس کو اس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: غلام کو آزاد کراؤ۔ اور کسی غلام (یا قیدی) کی آزادی میں مدد کرو۔اس سوالی نے عرض کی( اے اللہ کے رسولﷺ!) کیا دونوں ایک ہی عمل نہیں ہیں؟ آپﷺ نے جواباً فرمایا:نہیں!(دونوں ایک نہیں)پھرآپﷺنے بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا: أَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِهَا یعنی اکیلے ہی کسی غلام کوآزادی سے نجات دلانا اور وَفَكُّ الرَّقَبَةِ۔أَنْ تُعِينَ فِي ثَمَنِهَا وَالْمِنْحَةَ یعنی کسی غلام کی آزادی میں کسی کی مال وغیرہ کے ذریعہ مدد کرنا۔ ( مشکوٰۃ کتاب العتق، حدیث نمبر ۳۳۸۴)

صحابہ کرامؓ کےجنگی قیدیوں کےساتھ حُسنِ سلوک کے اعلیٰ نمونے

حضرت ابی عزیز بن عمیر رضی اللہ عنہ (جو حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں) کہتے ہیں: مَیں بدر کے دن جنگی قیدیوں میں سے تھا تو رسول اللہﷺ نے لوگوں کو جنگی قیدیوں سے اچھے سلوک کی تلقین کی۔اور میں انصار کی ایک جماعت میں تھا تو جب وہ ان کو صبح کا یا شام کا کھانا پیش کرتے تو خود کھجوریں کھا لیتے اور مجھے روٹی کھلاتے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے متعلق اچھے سلوک کا حکم دیا تھا۔ (معجم صغير للطبراني كِتَابُ الْجِهَادِ۔ الفضل انٹر نیشنل ۴؍دسمبر ۲۰۲۳ء)

ابونوارجو روئی کے کپڑوں کی تجارت کرتے تھے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کی دکان پر آئے۔ اس وقت ان کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دو ٹھنڈی قمیصیں خریدیں اور پھر اپنے غلام سے کہنے لگے کہ ان میں سے جو قمیص تم چاہو لے لو۔ چنانچہ غلام نے ایک قمیص چن لی اور جو دوسری قمیص رہ گئی وہ حضرت علیؓ نے خود پہن لی۔ (اسد الغابہ حالات حضرت علی جلد ۴ صفحہ۲۴۔ سیرت خاتم النبیینؐ، صفحہ ۴۳۶)

جنگی قیدیوں سےحُسنِ سلوک کے بارے میں نبی کریمﷺ کےبے مثل ارشادات

حضرت ابوذرؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں۔پس جب کسی شخص کے ماتحت کوئی غلام ہو تو اسے چاہیے کہ اسے وہی کھلائے جو خود کھاتا ہے اور وہی لباس دے جو خود پہنتا ہے، اور تم اپنے غلاموں کو ایسا کام نہ دو جو ان کی طاقت سے زیادہ ہو، اور اگر کبھی ایسا کام دو تو پھر اس کام میں خود ان کی مدد کیاکرو۔ (بخاری کتاب العتق، سیرت خاتم النبیینؐ، صفحہ ۴۳۴)

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ فرمایا کرتے تھےکہ اے مسلمانوں!تم یوں نہ کہا کرو کہ میرا غلام میری لونڈی بلکہ یوں کہا کرو کہ میرا آدمی میری عورت اور غلام بھی اپنے آقا کو رب یعنی مالک نہ کہا کرے بلکہ سیّد اور بزرگ کہہ کر پکارا کرے۔ (بخاری کتاب العتق، سیرت خاتم النبیینؐ ،صفحہ ۴۳۶)

حضرت معرور بن سویدؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول کریمﷺ کے صحابی حضرت ابوذرغفاریؓ کو دیکھا کہ جیسے اُن کے کپڑے تھے، ویسے ہی اُن کے غلام کے تھے، اس کی وجہ پوچھی کہ آپ کےکپڑے اور آپ کے غلام کے کپڑے ایک جیسے کیوں ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک دفعہ رسول کریمﷺ کے زمانے میں ایک شخص کو اس کی ماں کا طعنہ دیا، جو لونڈی تھی۔ اس پر رسول کریمﷺ نے فرمایا: تُو تو ایسا شخص ہے جس میں ابھی تک کفر کی باتیں پائی جاتی ہیں۔ غلام کیا ہیں؟تمہارے بھائی ہیں اور تمہاری طاقت کا ذریعہ ہیں۔ خداتعالیٰ کی کسی حکمت کے ماتحت وہ کچھ عرصے کے لیے تمہارے قبضے میں آجاتے ہیں۔ پس چاہیے کہ جس کا بھائی اس کی خدمت تلے آجائے وہ جو کچھ خود کھاتا ہے اُسے کھلائے۔ اور جوکچھ خود پہنتا ہے اُسے پہنائے۔ اور تم میں سے کوئی شخص کسی غلام سے ایسا کام نہ لے جس کی اُسے طاقت نہ ہو، اور جب تم انہیں کوئی کام بتاؤ تو خود بھی ان کے ساتھ مل کر کام کیا کرو۔ (مسلم کتاب الایمان، الفضل انٹر نیشنل ۲۲؍اکتوبر۲۰۲۱،صفحہ۳۸)

ایک اَور موقع پر نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ خادم یا غلام جب کھانا لائے تواُسے بھی ساتھ بٹھا کر اس میں سے کھلاؤ۔ اگر وہ نہ مانے تو کچھ کھانا ہی دےدو کہ اس نے کھانا تیار کرتے ہوئے گرمی اور دھواں کھایا ہے۔ (ابن ماجہ کتاب الاطعمة باب ۱۹، الفضل انٹرنیشنل ۲۲؍اکتوبر۲۰۲۱،صفحہ۳۸)

جنگی لونڈیو ں کے ساتھ شادی کرنے یاشادی کروانے کے بارے میں احکامات

چونکہ عور تیں بھی جنگوں میں شامل ہوتی تھیں اورمفتوحہ ہونے کی صورت میں ان کو بھی غلامی کی زنجیر پہنا دی جاتی تھی۔ نبی پاکﷺ کے نزول سے پہلے ایسی عورتوں کی کوئی قدر نہ کی جاتی تھی اور وہ مکمل طور پر اپنے مالک کی لونڈی تصور کی جاتی تھی۔ اُ س کا مالک جو چاہتا،اُس کے ساتھ سلوک کرتا۔ اُس سے بُرے کام کرواتا اور اِس ذریعہ سے رقم کماتا۔ اس قبیح فعل کوقرآن کریم نے یوں بیان کیاہے:وَلَا تُکۡرِہُوۡا فَتَیٰتِکُمۡ عَلَی الۡبِغَآءِ اِنۡ اَرَدۡنَ تَحَصُّنًا لِّتَبۡتَغُوۡا عَرَضَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَمَنۡ یُّکۡرِہۡہُّنَّ فَاِنَّ اللّٰہَ مِنۡۢ بَعۡدِ اِکۡرَاہِہِنَّ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ۔( النور:۳۴)اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ شادی کرنا چاہیں تو (روک کر مخفی) بدکاری پر مجبور نہ کرو تاکہ تم دنیوی زندگی کا فائدہ چاہو۔ اور اگر کوئی ان کو بےبس کردے گا تو ان کے بے بس کیے جانے کے بعد یقیناً اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

لیکن اسلام نے مالک کو پابند کیا کہ وہ یا تو اُ س کے ساتھ خود شادی کرے یا اُس کی شادی کا انتظام کروائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:وَاَنۡکِحُوا الۡاَیَامٰی مِنۡکُمۡ وَالصّٰلِحِیۡنَ مِنۡ عِبَادِکُمۡ وَاِمَآئِکُمۡ۔ (النور :۳۳) اور اپنے میں سے جو بیوائیں ہیں اور جو اپنے غلاموں یا لونڈیوں میں سے نیک ہوں ان کی شادیاں کر دیا کرو۔

حضرت ابو بردہؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ فرمایا کرتے تھےکہ اگر کسی کے پاس ایک لونڈی ہو اور وہ بہت اچھی طرح اسے تعلیم دے اور بہت اچھی طرح اس کی تربیت کرے اور پھر اسے آزاد کرکے اس کے ساتھ شادی کرے تو ایسا شخص خدا کے حضور دوہرے ثواب کا مستحق ہوگا۔ ( بخاری کتاب النکاح، سیرت خاتم النبیینؐ صفحہ ۴۴۰)

ا سلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ غلام یا لونڈی کی شادی کے بعد ان کا آقا یا مالک ان کے معا ملات میں مداخلت کرے۔ حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک غلام حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: یارسول اللہﷺ ! میرے آقا نے اپنی لونڈی کے ساتھ میری شادی کر دی تھی، پھر اب وہ چاہتا ہے کہ ہمارے نکاح کو توڑ کر ہمیں ایک دوسرے سے جدا کر دے۔ آپ ﷺ یہ بات سن کر غصے کی حالت میں منبر پر چڑھ گئے اور لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:اے مسلمانو! یہ کیا بات ہے کہ تم لوگ اپنے غلاموں اور لونڈیوں کی شادی کرتے ہو اور پھر خود بخود اپنی مرضی سے ان میں علیحدگی کرانا چاہتے ہو؟سن لوکہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ طلاق دینے کا حق صرف خاوند کو ہے اور تم اپنے غلاموں کو طلاق نہیں دے سکتے۔ (ابن ماجہ کتاب الطلاق، سیرت خاتم النبیینؐ، صفحہ ۴۳۸)

پردے کے معا ملے میں جنگی قیدی کے ساتھ قریبی رشتہ داروں جیسا سلوک

پردے کے احکام نازل ہونے کے بعد مسلمان عورتیں آج تک کسی نہ کسی طرح موقع کی مناسبت سے اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پرقرآن کریم میں بیان کردیا ہےکہ کس سے پردہ کرنا ہے اور کس سے نہیں کرنا۔ پردے کے احکامات میں نرمی جن رشتہ داریوں یا عزیزوںسی کی ہے اُن میں اَوْ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُنَّکہہ کر جنگی قیدی یا غلام کو بھی شامل کر دیا ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں آیا ہے: وَقُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنٰتِ یَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِہِنَّ وَیَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَہُنَّ وَلَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنۡہَا…وَلَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا لِبُعُوۡلَتِہِنَّ…اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُنَّ۔(النور:۳۲) اور مومن عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کیا کریں سوائے اس کے کہ جو اس میں سے ازخود ظاہر ہو… اور اپنی زینتیں ظاہر نہ کیا کریں مگر اپنے خاوندوں کے لیے… یااپنے زیرنگیں مردوں کے لیے۔

جنگی قیدی کو مارنے پیٹنے کی سختی سے ممانعت

جنگی قیدی کو مارنا ایک عام سی بات سمجھی جاتی تھی۔ چھوٹی چھوٹی بات پر اُن پر ہاتھ اُٹھ جایا کرتے تھے۔ اور پھر اُن ہاتھوں کو روکنے والا کوئی نہ ہوتا تھا۔ جب تک آقا دل بھر کر اپنا غصہ نہ نکال لیتا اُس وقت تک اُس کو چَین نہ آتا تھا۔ لیکن نبی کریمﷺ نے ایسی حرکات سے لوگوں کو منع کیا۔ حضرت ابو مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے کسی بات پر اپنے غلام کو مارا۔ اس وقت میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی کہ کوئی شخص کہہ رہا تھا: ابو مسعودیہ کیا کرتے ہو؟ مگر غصہ کی وجہ سے میں نے اس آواز کو نہ پہچانا اور غلام کو مارتا ہی گیا۔ اتنے میں وہ آواز میرے قریب آ گئی اور میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ یہی آواز دیتے ہوئے میری طرف بڑھتے چلے آ رہے ہیں کہ دیکھو ابو مسعود! یہ کیا کرتے ہو؟ آپﷺ کو دیکھ کر میری چھڑی میرے ہاتھ سے گر گئی اورآپﷺ نے غصہ کی نظر سے میری طرف دیکھتے ہوئے فرمایا: ’’ابو مسعود! تمہارےسر پر ایک خدا ہے، جو تمہارے متعلق اس سے بہت زیادہ طاقت رکھتا ہے، جو تم اس غلام پر رکھتے ہو۔ ‘‘ مَیں نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! میں خدا کی خاطر اس غلام کو آزاد کرتا ہوں۔ آپ ﷺنے فرمایا: “اگر تم ایسا نہ کرتے تو جہنم کی آگ تمہارے منہ کو جھلستی۔‘‘ (مسلم کتاب الایمان باب ۳۵، سیرت خاتم النبیینؐ، صفحہ ۴۳۷) ایک اَورجگہ رسول کریمﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے غلام کو مارے تواللہ کو یاد کرلے۔ یعنی مارنے والا اللہ سے خوف کرے۔ (جامع الترمذی، ابواب البر والصلة، باب ماجاء فی اداب الخادم)آپﷺ نے غلاموں اور لونڈیوں کا یہ حق قرار دے دیا کہ اگر کوئی انہیں سزا دے تو اس کے کفارے کے طور پر انہیں آزاد کر دے۔ چنانچہ حضرت سوید بن مقرنؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم سات بھائی تھے اور ہمارے پاس صرف ایک غلام تھا۔ ہم میں سے کسی کو کسی بات پر غصہ آیا تو اس نے غلام کو طمانچہ رسید کر دیا۔ رسول کریمﷺ کو علم ہو اتو آپﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس غلام کو آزادکر دیں۔ (مسلم کتاب الایمان حدیث ۱۶۵۷، سنن الترمذی حدیث ۱۵۴۲) معاویہ بن سوید روایت کرتے ہیں کہ میرے گھر ایک غلام تھا۔ مَیں نے اس کو مارا۔پھر والد کے خوف سے گھر سے بھاگ گیا۔ظہر کے وقت آیا اور والد کے پیچھے نماز پڑھی۔ بعد نماز والد نے مجھ کو اور غلام کو بلایا، غلام کو حکم دیا کہ تم اپنا بدلہ لے لو۔ اس نے مجھ کو معاف کردیا۔ اس کے بعد والد نے یہ واقعہ بیان کیا کہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں ہمارے خاندان بنی مقرن میں صرف ایک غلام تھا، ہم میں سے کسی نے اس کو ماردیا۔ رسولﷺ کو معلوم ہوا تو آپﷺ نے فرمایا: اس کو آزادکردو۔ لوگوں نے عرض کیا اس کے سوا ہمارے پا س اور کوئی خادم نہیں ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اچھا، جب تک دوسرے خادم کا انتظام نہ ہوجائے، اس سے کام لو۔ لیکن جیسے ہی انتظام ہوجائے اس کو آزاد کردو۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب صحبة الممالیک وکفارة من یطعم عبدہ۔ سنن ابوداوٴد، کتاب الادب، باب فی حق المملوک) حضرت عمر بن الحکمؓ اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اللہ کے رسولؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی لونڈی کے بارے میں عرض کیا کہ وہ میری بکریاں چراتی ہے۔ ایک دن ایک بکری گم ہوگئی۔ مَیں نے سبب پوچھا تو اس نے کہا کہ بھیڑیے نے کھالیا۔ مجھے بہت افسوس ہوا، انسان ہی تھا غصہ آگیا اور لونڈی کے چہرے پر تھپڑ ماردیا۔ کیا اسی آن اس کوآزاد کردوں؟ رسول اللہﷺ نے اس کو بلاکر پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہاآسمان پر۔ پھر پوچھا: مَیں کون ہوں؟ اس نے کہا آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اس کو آزاد کردو۔ ( موطا امام مالک، کتاب العتق والولاء، باب مایجوز من العتق فی الرقاب الواجبة) حضرت عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضورﷺ کی خدمت میں آیا اور دریافت کیا کہ ہم غلاموں کو کتنی بار معاف کردیا کریں۔ آپﷺ اس کی بات سن کر خاموش رہے۔ اس نے پھر کہا کتنی مرتبہ اسے معاف کریں۔ آپﷺ اب بھی خاموش رہے۔ جب اس نے تیسری بار یہی سوال کیا تو آپؐ نے فرمایا: ’’ہر روز ستّر مرتبہ اسے اس کی غلطی پر معاف کردیا کرو۔ ‘‘( سنن ابوداوٴد، کتاب الادب، باب فی حق المملوک، الفضل انٹرنیشنل۲۲؍اکتوبر۲۰۲۱ء،صفحہ۳۷)

جنگی قیدی یاغلام ایک دوسرے کی وراثت کے مالک

رسولِ خداﷺ نے غلام اور آقاکو ایک دوسرے کی وراثت کا حق بھی عطا فرما رکھا تھا۔ یعنی اگر غلام بے وارث مرتا تو اس کا ترکہ اس کے آزاد کرانے والے کو جاتا تھا اور اگر مالک بے وارث رہ جاتا تو اس کا ورثہ اس کے آزادکردہ غلام کو ملتا تھا۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا آزادشدہ غلام لاوارث مرجائے تواس کا ترکہ آزادکروانے والے کو ملے گا۔ (بخاری کتاب العتق باب بیع الولاء وھبۃ) حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں ایک شخص فوت ہوگیا اور اس کا کوئی وارث نہیں تھا سوائے ایک غلام کے جسے اس نے آزادکردیا تھا۔ تو نبی کریمﷺ نے اس شخص کا ترکہ اس غلام کو دے دیا۔ (ترمذی ابواب الفرائض)چونکہ اس حق وراثت کی بنیاد مالی اور اقتصادی خیالات پر مبنی نہیں تھی بلکہ اصل منشامالک اور آزادکردہ غلام کے تعلق کو قائم رکھنا تھا۔ اس لیے آنحضرتﷺ نے یہ حکم جاری فرمایا کہ یہ حق موروثیت کسی صورت میں بھی بیع یا ھبہ وغیرہ نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے آزادکردہ غلام اور آقا کے حق موروث کی خریدو فروخت اور اس کے ھبہ وغیرہ سے منع فرمایا۔ (بخاری کتاب العتق باب بیع الولاء وھبۃ، الفضل انٹرنیشنل ۲۲؍اکتوبر۲۰۲۱،صفحہ۳۸)

زکوٰۃ کے اموال میں جنگی قیدی کا حق

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جومالی نظام مقرر فرمایا اُس کو زکوٰۃ کانام دیا گیا ہے۔ اس نظام کےجومصارف ہیں، یعنی کن لوگوں پرزکوٰۃ کی رقم کو خرچ کرنا ہے۔ اُن میں ’’وَفِی الرِّقَابِ‘‘ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے غلاموں کا ذکر کیا۔ جیسا کہ فرمایا :اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَالۡمَسٰکِیۡنِ وَالۡعٰمِلِیۡنَ عَلَیۡہَا وَالۡمُؤَلَّفَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ وَفِی الرِّقَابِ وَالۡغٰرِمِیۡنَ۔(التوبہ:۶۰)یعنی صدقات تو صرف فقراء اور مساکین کے لئے ہیں اور ان کے لیے جو ان صدقات کے جمع کرنے کے لئے مقرر کیے گئے ہیں۔ نیز ان کے لئے جن کے دلوں کو (اپنے ساتھ) جوڑنا مطلوب ہو اور اسی طرح قیدیوں اور قرض داروں کے لیے۔

جنگی قیدیوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کےحُسنِ سلوک کے غیر بھی معترف

رسول اللہﷺکا جنگی قیدیوں کے ساتھ جوبے مثال حسن سلوک تھا، اُس کا اعتراف اپنے اور بیگانے آج تک کرتے ہیں۔ چنانچہ سرولیم میور اپنی کتاب ’لائف آف محمد‘ میں مسلمانوں کے اسیرانِ بدر کے ساتھ سلوک کا ذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی حکومت میں اہالیانِ مدینہ اور وہ مہاجرین جنہوں نے یہاں اپنے گھر بنالیے تھے، ان کے پاس جب (بدر کے) قیدی آئے، تو انہوں نے ان سے نہایت عمدہ سلوک کیا۔ بعد میں خود ایک قیدی کہاکرتا تھا کہ ’’اللہ رحم کرے مدینہ والوں پر۔ وہ ہمیں سوار کرتے تھے اور خودپیدل چلتے تھے۔ ہمیں کھانے کے لیے گندم کی روٹی دیتے تھے، جس کی اس زمانے میں بہت قلت تھی اور خود کھجوروں پرگزاراکرتے تھے۔ ‘‘اس لحاظ سے یہ بات تعجب خیز نہیں ہونی چاہیے کہ بعد میں جب ان قیدیوں کے لواحقین فدیہ لے کر انہیں آزاد کروانے آئے۔ ان میں سے کئی قیدیوں نے مسلمان ہونے کا اعلان کردیا اور ایسے تمام قیدیوں کو رسول اللہﷺ نے فدیہ لیے بغیر آزاد کردیا۔‘‘ (The life of Mahomet By Sir William Muir Vol.1 Page246)، الفضل انٹرنیشنل ۲۲؍اکتوبر۲۰۲۱ء صفحہ۳۹)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: کیا حضرت مصلح موعودؓ ہٹلر اور موسولینی سے متاثر تھے؟ ایک اعتراض کا تحقیقی جواب

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button