آنحضرتﷺ بطور سپہ سالار
آپؐ نے عدل و انصاف، جنگ کے دوران ضبط و تحمل، غیر محارب افراد کے تحفظ، اور املاک و بنیادی ڈھانچے کی بلا ضرورت تباہی سے اجتناب پر زور دیا۔ آپؐ کی یہی تعلیمات بعد ازاں خلفائے راشدین کی پالیسیوں اور ہدایات میں بھی نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔ اسی بنا پر یہ امر قابل توجہ ہے کہ جہاں آثار قدیمہ کا ریکارڈ وسیع پیمانے کی تباہی یا سماجی انہدام کے شواہد فراہم نہیں کرتا، وہاں یہ صورتحال اسلامی تعلیمات کے اس تصوّر سے مطابقت رکھتی تھی جس میں نظم و ضبط، عدل، رواداری اور مقامی آبادیوں کے حقوق کے احترام کو بنیادی اہمیت حاصل ہے
یا قلبی اذکر احمدا
عین الھدی مفنی العدی
برّا کریما محسنا
بحر العطایا و الجدا
ترجمہ:اے میرے دل! احمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کر جو ہدایت کا سر چشمہ اور دشمنوں کو فنا کرنے والا۔ نیک، کریم، محسن، بخششوں اور سخاوت کا سمندر ہے۔ (القصائد الاحمدیہ)
آنحضرت ﷺ کی جنگی قیادت کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپؐ نے جنگ کو اخلاقی اصولوں اور انسانی اقدار کا پابند کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپؐ کی تعلیمات کے اثرات صرف اسلامی روایات میں ہی نہیں بلکہ بعض تاریخی اور آثار قدیمہ کے شواہد میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اس سلسلہ میں خاکسار کو ایک دلچسپ تجربہ پیش آیا۔
خاکسار کو یونیورسٹی آف ریڈنگ سے آرکیالوجی میں پی -ایچ -ڈی کے دوران ایک سیمینار میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔ یہ سیمینار شمالی افریقہ سے ملنے والے آثاروں پر تھا۔ یہ آثار حضرت عمر بن خطابؓ کے زمانے کے تھے۔ اس پروجیکٹ کے ماہرین نے یہاں سے اپنی کھدائی کے نتائج پیش کرتے ہوئے ایک نہایت دلچسپ مشاہدے کا ذکر کیا کہ کھدائی کے دوران مسلمان فوجیوں کی ایک چھاؤنی دریافت ہوئی جواسی زمانے کی ایک غیر مسلم آبادی سے کچھ فاصلے پر واقع تھی۔ جب کہ مسلمان اس سارے علاقہ اور آبادی کو فتح کرچکے تھے۔ انہوں نے بطور امکان یہ رائے پیش کی کہ شاید مسلمان مقامی غیر مسلم شہر کو مذہبی اعتبار سے ناپاک تصوّر کرتے ہوئےان سے فاصلے پر رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔ تاہم خاکسار کے نزدیک یہ مفروضہ زیادہ تر قیاس آرائی معلوم ہوتا ہےکیونکہ ابتدائی اسلامی دور کے تاریخی اور آثارقدیمہ کے شواہد اس نظریے کی تائید نہیں کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ یہ سب علاقہ مسلمانوں نے فتح کر لیا ہواتھا مگر اسلام کی پُرامن تعلیم پر عمل کرتے ہوئےوہ شہر میں داخل نہیں ہوئے بلکہ شہر سے باہر رہ کر معاملات کی نگرانی کرتےرہے تا کہ معمولات زندگی متاثر نہ ہوں۔
سیمینار کے بعد خاکسار کے پی -ایچ -ڈی کےسپروائزر نے ایک نہایت اہم نکتہ بیان کیا۔ ان کے مطابق آرکیالوجی کی رو سے شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے وسیع علاقے میں ابتدائی مسلمانوں کے آنے کے آثار دکھائی نہیں دیتے جبکہ تحریروں میں ان کے آنے کا ذکر ملتا ہے۔ خاکسار کے سپروائزر کا مشاہدہ درست معلوم ہوتا ہے کیونکہ ابتدائی اسلامی فتوحات میں بہت سے مقامات پر نہ تو وسیع پیمانے کی تباہی کے شواہد ملتے ہیں، نہ ہی قتل و غارت یا آبادیوں کے تسلسل میں کسی نمایاں انقطاع کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے برعکس آثار قدیمہ کا ریکارڈ اکثر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مقامی آبادیاں بدستور قائم رہیں، معاشی سرگرمیاں جاری رہیں اور روزمرہ کی زندگی میں خاطر خواہ تسلسل برقرار رہا۔ چنانچہ متعدد علاقوں میں مسلمانوں کی اقتدار کی طرف منتقلی ایک تدریجی عمل کے طور پر دکھائی دیتی ہے، نہ کہ کسی انقلابی یا تباہ کن تبدیلی کے طور پر۔ اسلامی نقطۂ نظر سے اس صورت حال کو قرآن کریم میں بیان کردہ اخلاقی اصولوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی روشنی میں آسانی سےسمجھا جا سکتا ہے۔ آپؐ نے عدل و انصاف، جنگ کے دوران ضبط و تحمل، غیر محارب افراد کے تحفظ، اور املاک و بنیادی ڈھانچے کی بلا ضرورت تباہی سے اجتناب پر زور دیا۔ آپؐ کی یہی تعلیمات بعد ازاں خلفائے راشدین کی پالیسیوں اور ہدایات میں بھی نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔ اسی بنا پر یہ امر قابل توجہ ہے کہ جہاں آثار قدیمہ کا ریکارڈ وسیع پیمانے کی تباہی یا سماجی انہدام کے شواہد فراہم نہیں کرتا، وہاں یہ صورتحال اسلامی تعلیمات کے اس تصوّر سے مطابقت رکھتی تھی جس میں نظم و ضبط، عدل، رواداری اور مقامی آبادیوں کے حقوق کے احترام کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
اسلامی آداب جنگ
اسلامی آداب جنگ پر بات کرنے سےپہلے ہم اسلام سے قبل عرب میں رائج جنگ کے طریقہ کار پر بھی ایک سرسری نظرڈالتےہیں۔ اس زمانے میں عرب دستور کے مطابق بعض اوقات لڑائی میں دشمن کے بچوں، بوڑھوں اور عورتوں تک کو قتل کر دیا جا تا اور اکثرنہایت بے رحمی کے ساتھ دشمن کی لاشوں کی بے حرمتی کرتے ہوئے ان کے ہاتھ پاؤں اور ناک کان وغیرہ کاٹ دیے جاتےجسےمُثلہ کرنا کہتے تھے اور دشمن کے اموال اور ان کی آبادیوں کو تباہ و برباد کردیا جاتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب باتوں سےمنع فرمایا۔ لہٰذا جب آپؐ کوئی فوجی دستہ روانہ فرماتے تو اسے نصیحت فرماتے تھے اے مسلمانو ! نکلو اللہ کا نام لے کر اور جہاد کر و حفاظت دین کی نیت سے۔ مگر خبر دار مال غنیمت میں بد دیانتی نہ کرنا اور نہ کسی قوم سے دھو کہ کرنا۔ اور نہ دشمنوں کے مقتولوں کا مثلہ کرنا اور نہ بچوں اور عورتوں اور مذہبی عبادت گاہوں کے لوگوں کو قتل کرنا اور نہ بہت بوڑھوں کو قتل کرنا اور ملک میں اصلاح کرنا۔ اور لوگوں کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند کرتاہے۔ (سیرت خاتم النبیین ؐاز حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓصفحہ۳۵۸)
اسلام کو مذہبی لوگوں اور مذہبی چیزوں کی حفاظت اور ان کا خیال رکھنے میں بھی ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔چنانچہ ایک روایت کے مطابق فتح خیبر کے دوران تورات کے بعض نسخے مسلمانوں کے ہاتھ لگے۔ جب یہودیوں کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر درخواست کی کہ ان کی مقدس کتاب انہیں واپس کر دی جائے۔ آپؐ نے ان کی درخواست قبول فرمائی اور صحابہؓ کو یہودیوں کی کتابیں واپس کرنے کا حکم دیا۔ (سیرت حلبیہ )
بعض احادیث میں یہ بھی آتا ہے کہ آپؐ جب کسی جماعت کو روانہ فرماتے تو اسے نصیحت فرماتے : لوگوں کو خوشخبریاں دو یعنی ان کو خوش رکھنے کی کوشش کرو اور ایسا طریق اختیار نہ کرو جس سے ان کے دلوں میں نفرت پیدا ہو اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرو اور انہیں مشکلوں میں مت ڈالو۔ (سیرت خاتم النبیین ؐاز حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓصفحہ۳۵۹) نیز یہ فرماتے: دیکھو کسی زخمی کو قتل نہ کرنا۔ کسی بھاگنے والے کے پیچھے زیادہ تعاقب نہ کرو، بھاگتا ہے تو بھاگنے دو (انسان کامل، از حضرت میر محمد اسحاقؓ صفحہ۲۲)
شجاعت و بہادری
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت و بہادری کو بیان کرنا دریا کو کوزے میں بند کرنے کے برابر ہے۔ حضرت مسیح موعو د علیہ السلام اپنے عربی کے قصیدہ میں آپؐ کی شجا عت کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
یا بدرنا یا آیۃ الرّحمٰن
أھدی الھداۃ و أشجع الشجعان
ترجمہ : اے ہمارے کامل چاند ! اے رحمٰن خدا کے نشان! سب راہنماں سے بڑھ کر راہنمائی کرنے والے اور سب بہادروں سے بڑھ کر بہادری کے جوہر دکھانے والے۔
آپؐ کی بہادری کی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔جنگ حنین کے دن دشمن قبیلہ ہوازن کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ میدان کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ان کے جاتے ہی مسلمانوں نے ان کے اموال جمع کرنے شروع کر دیے۔ اس پر دشمن قوم نے مسلمانوں کو مشغول دیکھ کر ان پر تیر برسانے شروع کر دیے۔ اس پر صحابہؓ افراتفری کے عالم میں تتر بترہوگئے مگر آپؐ اپنی جگہ پر استقامت سے کھڑے رہے۔ آپؐ اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور فرمارہے تھے :
أنا النبي لا كذب
أنا ابن عبد المطلب
ترجمہ: میں خدا کا نبی ہوں، یہ جھوٹ نہیں ہے۔ میں عبد المطلب کی اولاد میں سے ہوں۔ ( بخاری، كتاب الجهاد والسير حدیث نمبر۳۰۴۲)
ایک روایت میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپؐ اس شدت جنگ میں خچر سے اتر کر پیدل ہو گئے تھے (الشفاء القاضی عیاض)۔ اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: جنگ حنین میں حضرت رسول کریمﷺ اکیلے رہ گئے۔ اس میں یہی بھید تھا کہ آنحضرت ؐ کی شجاعت ظاہر ہو جبکہ حضرت رسول کریم ﷺ دس ہزار کے مقابلہ میں اکیلے کھڑے ہو گئے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ ایسا نمونہ دکھانے کا کسی نبی کو موقعہ نہیں ملا ۔ (ملفوظات جلد ۱ صفحہ ۵۱۲، ایڈیشن ۱۹۸۸ء)
آپؐ کی بہادری کا ایک اور واقعہ ملتا ہے کہ مسلمانوں کے جنگ اُحد میں ستر افراد شہید ہوئے اور دشمن فتح کی خوشی مناتے واپس مکہ لوٹ رہے تھےتو راستے میں سردار لشکر ابوسفیان نےمشرکین مکہ کو طعنہ دیتے ہوئے کہاکہ نہ تو تم نے محمد (ﷺ)کو قتل کیا، نہ عورتوں کو قید کیا۔ پھر اُحد کے معرکہ کو فتح کیسے قرار دے سکتے ہو ؟ چنانچہ دشمن نے دوبارہ مدینہ پر حملہ کا ارادہ کیا۔ آپؐ کو جب اس بات کی خبر ہوئی تو آپؐ نے فرمایا کہ ہم اہل مکہ کو مدینہ پر حملہ آور ہونے کا موقع نہ دیں گے بلکہ آگے جا کر دشمن کا تعاقب کریں گے۔ اُحد کی شہادتوں اور وقتی ہزیمت کے بعد یہ فیصلہ اتنا مشکل تھا کہ اسے سن کر صحابہؓ ایک دفعہ تو گھبرا گئے۔ ان حالات میں صحابہؓ نے آپؐ کی شجاعت، پختہ عزم، تو کل علی اللہ اور قائدانہ صلاحیت کا عجیب نظارہ دیکھا۔ آپؐ نے فرمایا کہ میں دشمن کو مدینہ پر حملہ کا موقع دینا نہیں چاہتا۔اس لیے اُن کے تعاقب کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اگر ایک آدمی بھی میرا ساتھ نہ دے تو میں بہر حال دشمن کے پیچھے جاؤں گا اور اس راہ میں اپنی جان بھی فدا کرنی پڑے تو کر گزروں گا۔ اپنے عظیم سپہ سالار کا یہ حوصلہ وجذبہ دیکھا تو صحابہؓ دیوانہ وار لبیک کہتے ہوئے آپؐ کے ساتھ چل پڑے۔ کفار کو جب علم ہوا کہ مسلما ن دوبارہ حملہ کی تیاری کر رہے ہیں تو وہ مکہ واپس لوٹ گئے۔(مجمع الزوائد)
حضرت میر محمد اسحاقؓ صاحب فرماتے ہیں : وقتی عسکری مشکلات کے دوران بھی آپؐ کا کردار مثالی رہا۔ غزوۂ اُحد اور غزوۂ حنین میں ایک مرحلہ ایسا آیا جب مسلمانوں کو پسپائی اختیار کرنا پڑی اور بعض صحابہؓ کے قدم اکھڑ گئے، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میدان میں ثابت قدم رہے۔ عام طور پر شکست کے وقت جرنیل اور بادشاہ اپنی حفاظت کا انتظام پہلے کرتے ہیں۔ تاریخ میں مشہور بادشاہ نپولین نے واٹرلو کی جنگ میں یہی طرزعمل اختیار کیا تھا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ ڈٹے رہے، حالانکہ اکثر فوج منتشر ہو چکی تھی۔ (ماخوذ از انسان کامل صفحہ۲۲)
صبر و استقامت
غزوۂ اُحد میں آپؐ کو شدید تکلیف اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک طرف درّے پر مقرر تیر اندازوں کی اکثریت نے آپؐ کی ہدایت پر عمل نہ کیا، جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ دوسری طرف ستر قیمتی مسلمان جانوں کی شہادت کا غم تھا۔ اس کے علاوہ آپؐ خود بھی اس جنگ میں شدید زخمی ہوئے تھے۔ اس کے باوجود آپؐ نے نہایت صبر، حوصلہ اور وقار کا مظاہرہ فرمایا۔ صحابہؓ کے لیے آپؐ کی یہ حالت بہت تکلیف دہ تھی۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! آپ مشرکین مکہ کے خلاف بددعا کر دیں۔ آپؐ نے فرمایا: مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا۔ مجھے تو اسلام کی طرف دعوت دینے والا اور رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔ پھر آپؐ نے یہ دعا فرمائی: اے اللہ ! میری قوم کو معاف کر دے یہ لوگ جانتے نہیں۔ (صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ والاداب حدیث نمبر ۴۶۹۰)
جنگی حکمت عملی
غزوات میں جہاں آپؐ کے اعلیٰ اخلاق نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں، وہاں آپؐ کی قائدانہ صلاحیتیں، حکمت عملی اور دور اندیشی بھی پوری شان کے ساتھ دکھائی دیتی ہیں۔ غزوۂ اُحد کے موقع پر جب آپؐ نے مدینہ سے باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ فرمایا تو شہر کو اپنے پیچھے رکھا تا کہ وہ ایک محفوظ پشت گاہ بن سکے، جبکہ ایک جانب اُحد پہاڑ کو دفاعی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ اسی دوران آپؐ کی نظر ایک ایسے درّے پر پڑی جہاں سے دشمن حملہ کر سکتا تھا۔ چنانچہ آپؐ نے پچاس تیرانداز وہاں مقرر فرمائے۔ آپؐ نے انہیں جو ہدایات دیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک عظیم سپہ سالار کی حیثیت سے آپؐ کو اس مقام کی اہمیت کا کس قدر احساس تھا۔ آپؐ نے فرمایا: اگر تم دیکھو کہ پرندے ہمارے لاشوں کو اچک رہے ہیں پھر بھی تم نے درہ نہیں چھوڑنا سوائے اس کے کہ میرا پیغام تمہیں پہنچے ۔ (صحیح بخاری کتاب الجھاد والسیر)
عفو و در گذر
مسلمانوں کے خلاف پہلی جنگی کارروائی یہود کے حلیف قبیلے غطفان کی شاخ بنو فزارہ نے کی۔ انہوں نے ذی قرد کی چراگاہ پر حملہ کیا جہاں آپؐ کے اونٹ اور دیگر مویشی چرا کرتے تھے۔ حملہ آور چند اونٹنیاں بھی ساتھ لے گئے۔ حضرت سلمہؓ بن الاکوع نے بڑی بہادری سے ان کا تعاقب کیا اور جب وہ ایک چشمے پر آرام کر رہے تھے تو تیروں کی بوچھاڑ کر کے انہیں وہاں سے بھگا دیا اور اونٹنیاں واپس لے آئے۔ جب آپؐ کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو آپؐ صحابہؓ کے ساتھ وہاں تشریف لائے۔ حضرت سلمہؓ بن الاکوع نے عرض کیا کہ دشمن سخت پیاسا ہے کیونکہ میں نے انہیں چشمے سے پانی نہیں پینے دیا، اگر اجازت ہو تو مزید تعاقب کر کے انہیں پکڑا جا سکتا ہے۔ اس پر آپؐ نے نہایت حکمت اور رحم کے ساتھ فرمایا: جب دشمن پر قدرت حاصل ہو جائے تو پھر عفو سے کام لیا کرتے ہیں۔ (صحیح بخاری کتاب الجھاد والسیر حدیث نمبر۳۰۴۱)
اسی رحم و درگزر کا عظیم مظاہرہ فتح مکہ کے موقع پر بھی نظر آتا ہے جب آپؐ نے اپنے دیرینہ مخالفین کو بلا شرط عام معافی عطا فرما دی جن میں ابوسفیان، ہندہ، عکرمہ، حضرت حمزہؓ کاقاتل وحشی اور آپؐ کی صاحبزادی حضرت زینبؓ کا قاتل ہبار بن اسود بھی شامل تھے۔
اسی طرح غزوۂ خیبر میں حضرت محمود بن سلمہؓ کی شہادت کے بعد ان کے بھائی حضرت محمد بن مسلمہؓ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے بھائی کو یہودیوں نے ناحق قتل کیا ہے اور میں اس کا بدلہ لے کر رہوں گا۔ کسی عام جرنیل کے لیے اپنے سپاہی کے اس جذبۂ انتقام کو سراہنا غیر معمولی بات نہ ہوتی لیکن آپؐ نے اس موقع پر بھی صبر، اعتدال اور خدا پر توکل کا درس دیا۔ آپؐ نے فرمایا: دشمن سے مقابلہ کی خواہش نہیں کرنی چاہیے اور خدا سے عافیت مانگو۔ ہاں! جب دشمن سے مٹھ بھیڑ ہو جائے تو پھر دعا اور تدبیر کے ساتھ اس کا مقابلہ کرو۔(مسلم کتاب الجہاد والسیر حدیث نمبر:۳۲۶۱)
مال غنیمت اور لوٹ مار کا الزام
خیبر کی مہم کی تیاری کے وقت آپؐ نے اعلان فرمایا: کوئی شخص جہاد کے علاوہ کسی مال غنیمت وغیرہ کے ارادہ سے ہمارے ساتھ نہ نکلے۔ اس ہدایت پر عمل درآمد کے لیے آپؐ نے صرف انہی افراد کو خیبر میں شرکت کی اجازت دی جو حدیبیہ میں آپؐ کے ساتھ تھے۔ یہ وہ مخلص صحابہؓ تھے جو حج اورعمرہ کی نیت سے نکلے تھے اور جنہوں نے ہر حال میں آپؐ کی اطاعت کا عہد کیا تھا ( سیرت حلبیہ)۔ جنگی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو خیبر کے دس ہزار مسلح اور قلعہ بند یہودیوں کے مقابلہ میں لشکر کو صرف چودہ سو صحابہؓ تک محدود رکھنا غیر معمولی فیصلہ تھا۔ لیکن آپؐ کے پیش نظر ایک بلند اخلاقی اصول تھا کہ محض مال غنیمت کی لالچ میں کوئی شخص اسلامی لشکر کا حصہ نہ بنے۔ (سیرت حلبیہ جلد ۳صفحہ ۳۸)
یہ واقعہ اُن لوگوں سے متعلق ہے جن پر بعض ناقدین لوٹ مار کی تعلیم کا الزام لگاتے ہیں حالانکہ شدید بھوک اور تنگی کے باوجود آپؐ نے دوسروں کے مال پر ناجائز قبضے سے سختی سے منع فرمایا۔ غیروں کے جان و مال کے تحفظ کے بارے میں آپؐ کی حساسیت کا ایک اور نمونہ فتح خیبر کے موقع پر نظر آتا ہے۔ بعض یہودیوں نے شکایت کی کہ چند مسلمانوں نے ان کے جانور لے لیے ہیں اور ان کے باغات سے پھل توڑے ہیں۔ یہ سن کر آپؐ ناراض ہوئے اور تنبیہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ تم بغیر اجازت کسی کے گھر گھس جاؤ اور پھل وغیرہ تو ڑو۔ (ابوداؤد)
میدانِ جنگ میں عورت کا وقار
اس زمانے میں یہ رواج تھا کہ عورتیں بھی جنگوں میں شریک ہوتی تھیں تاکہ مردوں کا حوصلہ بڑھائیں، تفریح و طرب کی محفلیں سجائیں اور سپاہیوں کا دل بہلائیں۔ لیکن آپؐ نے عورت کو جو عزت، وقار اور احترام عطا فرمایا اس کے پیش نظر آپؐ اس طرزعمل کو پسند نہیں فرماتے تھے۔غزوۂ خیبر کے موقع پر آپؐ نے بعض خواتین کو خاص طور پر اس غرض سے ساتھ جانے کی اجازت دی کہ وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کریں، مریضوں کی تیمار داری کریں اور ضرورت مندوں کی دیکھ بھال کریں۔ یوں عورت کی خدمات کو ایک باوقار اور مفید مقصد کے لیے بروئے کار لایا گیا ۔(آنحضرتؐ بحیثیت سپہ سالار اعظم، صفحہ ۵۴۶)آپؐ کی اس پاکیزہ تصوّر کو ایک فرانسیسی عیسائی سوانح نگار ان الفاظ میں بیان کرتا ہے: شاید تاریخ میں یہ پہلا موقعہ تھا کہ کسی لشکر کے ساتھ عورتیں نرسنگ کی خدمات اور زخمیوں کی دیکھ بھال کیلیے شامل ہوئیں، ورنہ اس سے پہلے جنگ میں عورت سے تحریض جنگ اور حظ نفس کے سوا کوئی کام نہیں لیا جاتا تھا۔ عورت سے درست اور جائز خدمات لینے کے بارہ میں اب تک کسی نے نہ سوچا تھا کہ میدان جنگ میں تیمارداری اور بیماروں کی دیکھ بھال کی بہترین خدمت عورت انجام دےسکتی ہے۔(حیات محمد تالیف امیل در منغم ، صفحہ ۲۵۱،۲۵۰)
جنگ میں انسانیت کا تحفظ
مذہبی جذبات کے احترام کا ایک نہایت اعلیٰ نمونہ آپؐ کی سیرت میں نظر آتا ہے۔ آپؐ کسی شخص کے اپنے عقیدے کے اظہار کو معتبر سمجھتے تھے اور اس بات کو سخت ناپسند فرماتے تھے کہ کسی کے ظاہری اظہار پر شک کیا جائے۔ ایک جنگ کے دوران حضرت اسامہ بن زیدؓ نے ایک شخص کو اس کے اسلام قبول کرنے کا اعلان کرنے کے باوجود قتل کر دیا۔ جب یہ واقعہ آپؐ کے علم میں آیا تو آپؐ حضرت اسامہؓ پر سخت ناراض ہوئے۔ جب انہوں نے یہ عذر پیش کیا کہ وہ شخص دل سے مسلمان نہیں ہوا تھا تو آپؐ نے بار بار فرمایا:کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا۔آپؐ کی ناراضگی اس قدر شدید تھی کہ حضرت اسامہؓ کہا کرتے تھے کہ کاش میں اس واقعہ سے پہلے مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا۔ (مسلم کتاب الایمان)
اسی طرح ایک موقع پر میدان جنگ میں دشمن قبیلے کی ایک عورت مقتول پائی گئی۔ اگرچہ یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ کس طرح اور کس کے ہاتھ سے قتل ہوئی لیکن آپؐ اسے دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور صحابہؓ کو تاکید فرمائی کہ آئندہ ایسا نہ ہو۔ آپؐ نے واضح فرمایا کہ کسی عورت کو قتل نہیں کرنا چاہیے (سیرت خاتم النبیین ؐاز حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓ)۔ ایک اَور غزوے میں مشرکین کے چند بچے جنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے۔ جب آپؐ کو اس کی اطلاع ملی تو آپؐ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:یہ کون لوگ ہیں؟ جنہوں نے معصوم بچوں کو بھی قتل کر ڈالا؟ ایک صحابی ے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! وہ تو مشرکین کے بچے ہی توتھے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: مشرکین کے بچے بھی تمہاری طرح کے انسان ہیں اور بہترین انسان بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ (مسند احمد بن حنبل جلد ۴صفحہ ۲۴)
انسانی جان اور انسانی وقار کے احترام کا ایک اَور خوبصورت نمونہ غزوۂ بدر کے بعد نظر آتا ہے۔ بدر مسلمانوں کی پہلی بڑی فتح تھی جس میں کفار کے ستر آدمی مارے گئے جن میں قریش کے چوبیس سردار بھی شامل تھے۔ اس کے باوجود آپؐ نے یہ پسند نہیں فرمایا کہ دشمنوں کی لاشیں میدان میں پڑی رہیں بلکہ انہیں ایک پرانے گڑھے میں دفن کروا دیا۔ (آنحضرتؐ بحیثیت سپہ سالار اعظم،صفحہ ۵۲۰)غزوۂ بدر کے بعد ستر قیدی مدینہ لائے گئے تو آپؐ نے ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا۔ خود قیدی بیان کرتے ہیں: خدا کی قسم، مسلمان خود پیدل چلتے اور ہمیں سوار کرتے تھے۔ خود بھوکے رہتے ہمیں کھانا کھلاتے، خود پیاسے رہتے اور ہمیں پانی پلاتے (انسان کامل، از حضرت میر محمد اسحاقؓ، صفحہ ۲۲)۔ اسی طرح اس عظیم فتح کے موقع پر بھی آپؐ نے کوئی جشن نہیں منایا۔ اس کے برعکس آپؐ نے اپنے ربّ کی عظمت اور حقانیت کا اظہار فرمایا اور صحابہؓ کو یاد دلایا کہ فتح سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ بدر کا دن خدا کے وعدے پورےہونے کا دن ہے۔جنگ احزاب کی مثال بھی قابل ذکر ہے۔ ایک کافر سردار خندق میں گر گیا اور وہ ہلاک ہوگیا۔ مسلمانوں نے اس کی نعش پر قبضہ کرلیا۔کفار نے پیشکش کی کہ دس ہزار درہم لے لیں اور نعش ان کے حوالے کر دیں مگر آپؐ نے فرمایا: ہم مردہ فروش نہیں ہیں، ہم اس کی قیمت نہیں لیں گے اور پھر بلا معاوضہ وہ نعش واپس کر دی۔ (زرقانی جلد ۲ صفحہ ۱۹۴)
مؤرخین کے تاثرات
آپؐ کومؤرخین نے بحیثیت سپہ سالار کیسا پایا اس کی چند ایک مثالیں خاکسار پیش کرتا ہے۔ جوآن کول اپنی کتاب، محمد پروفیٹ آف پیس امیڈ دی کلاش آف ایمپائرز، میں لکھتے ہیں: آپ (ﷺ )نے مکہ کے جنگ پسندوں کے ساتھ بارہا صلح کی کوشش کی، لیکن جب یہ کوشش ناکام ہوئی تو ایک پُرعزم مشرک دشمن کے مقابلے میں اپنے دفاع کے لیے مدینہ کو منظم کیا۔ قرآن اس بات پر زور دیتا ہے کہ جارحانہ جنگ غلط ہے، اور اگر دشمن جنگ بندی یا صلح کی درخواست کرے تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس درخواست کو قبول کریں۔ جارحانہ جنگ کی یہ ممانعت اور پُرتشدد تنازع کے عین دوران بھی کسی حل کی تلاش، ’امن کے نبی‘ کے لقب کو جائز ٹھہراتی ہے، اگرچہ محمد(ﷺ )کو کبھی کبھار دفاعی مہمات چلانے پر مجبور ہونا پڑا۔
اسی موضوع پر اظہارخیال کرتے ہوئے پروفیسر جوئل ہیورڈ اپنی کتاب، دی لیڈرشپ آف محمد: اے ہسٹاریکل ریکنسٹرکشن، میں لکھتے ہیں: محمد (ﷺ) کی عسکری قیادت کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ان کی صلاحیتوں کا موازنہ تاریخ کے عظیم جرنیلوں، جیسے سکندر اعظم، ہنی بال، چنگیز خان، تیمور، نپولین، نیلسن، لی، رومیل اور پیٹن سے کرنا آسان نہیں۔ جس طرح جنگ ان شخصیات کی زندگی کا ایک اہم حصہ تھی، اسی طرح محمد ﷺ کی زندگی میں بھی اس کا ایک حصہ تھا۔ تاہم، آپ ﷺ کی جنگی حکمت عملی اور جنگوں کا دائرہ، نوعیت اور مقصد ان مشہور سپہ سالاروں کی خونریز مہمات سے مشابہ نہیں تھا۔ درحقیقت، اگر ہم ایک دہائی پر محیط ان نو بڑی جھڑپوں میں دونوں فریقوں کے جانی نقصانات کو جمع کریں، تو ہمیں صرف ۱۳۸ مسلمان اور ان کے اتحادی، اور ۲۱۶ مخالفین ہلاک نظر آتے ہیں۔
لاکھوں درود و سلام ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم پر جو بنی نوع کے لیے رحمت اللعالمین بن کر آئے۔ آپؐ کی حیات مبارک کا ہر پہلو ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔
حضرت مسیح موعو د علیہ السلام آپؐ کے بارے میں فرماتے ہیں: میں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے ( ہزار ہزار درود وسلام اُس پر ) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں(حقیقۃالوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۱۱۸) اسی طرح: مجھے سمجھا گیا ہے کہ تمام رسولوں میں سے کامل تعلیم دینے والا اعلیٰ درجہ کی پاک اور پُر حکمت تعلیم دینے والا اور انسانی کمالات کا اپنی زندگی کے ذریعہ سے اعلیٰ نمونہ دکھلانے والا صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ (اربعین نمبر۱، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۳۴۵)
یہ وہ خوبصورت وجود ہے جس کی پیروی کر کے دنیا تباہی سے بچ سکتی ہے۔آخر میں دعا ہے کہ اس دور میں خدا تعالیٰ بنی نوع انسان کورسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبصورت تعلیم پر عمل کرنے توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: اسلام۔ حقوقِ انسانی کا علمبردار




