محمدؐ ہی نام اور محمدؐ ہی کام عَلَیْکَ الصَّلوٰۃُ عَلَیْکَ السَّلَامُ
(نجیب خدا کا نجیب بندہ: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم)
(گذشتہ سے پیوستہ) قدیم فلسفے میں بھی انسان کے اسی اندرونی اختیار پر بہت غور کیا گیا ہے۔ ارسطو نے Megalopsychia یعنی عالی ظرفی یا greatness of soul کی بات کی جبکہ فلسفہ رواقیت نے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اپنے گردوپیش ہونے والے حالات و واقعات پر انسان کا اختیار نہیں لیکن اُن پر پیدا ہونے والے ردِّعمل پر اُس کا اختیار ضرور ہے۔ مارکَس اوریلئس نے بھی کہا کہ ہمیں دوسرے انسان کی برائی کو اپنے اندر کی اچھائی خراب کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ جدید دور کے فلاسفر اور ماہرین نفسیات انسان کی آزادی کی ایک قسم اس امر کو بھی قرار دیتے ہیں کہ بیرونی حالات جیسے بھی ہوں انسان اُن حالات و واقعات کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے اپنے ردِّ عمل کو ظاہر کرنے میں آزاد ہے۔ بھلے اچھا ردِ عمل دے، بُرا یا پھر ردِعمل دینے سے اجتناب ہی کر لے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو
رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے
(آئینہ کمالاتِ اسلام، روحانی خزائن جلد ۵، صفحہ ۲۲۵)
حضرت مسیح موعودؑ کا ایک فارسی شعر بھی نجابت کے ایک پہلو کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے جس میں آپؑ نے حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف شہیدؓ کی استقامت اور وفا کے ذکر میں آپؓ کو نام و نمود، جھوٹی عزت اور شہرت سے بے پروا قرار دیا:
فارغ اُفتادہ زِنام و عزّ و جاہ
دِل زکف و زِفرق اُفتادہ کلاہ
(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد ۲۰)
یہاں ایک نجیب شخص کی شخصیت کا لطیف پہلو سامنے آتا ہے۔ جو شخص جھوٹی عزت کا قائل نہ ہو اسےہر کس و ناکس کے سامنے اپنی عزت منوانے کی ضرورت نہیں رہتی، اور جو شخص نام و شہرت کی ہوس سے آزاد ہو وہ اپنی ذات اور انا کے بارے میں حسّاس نہیں ہوتا۔
حضرت مسیح موعودؑ کی مذکورہ نظم میں مردانِ حق کی جو خوبیاں بیان کی گئی ہیں وہ اپنی ذات میں بہت جامع ہیں۔ انسان جتنا اپنی ذات کے گرد گھومتا ہے یعنی میری عزت، میری بات، میرا مقام، میری تعریف، میری مخالفت کے گورکھ دھندوں میں پڑا رہتا ہے اتنا ہی چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر پریشان رہتا ہے لیکن جب اس کا ظرف عالی ہو تو ایسی باتیں اس کے اور اُس کی زندگی کے حقیقی مقصد کے درمیان حائل نہیں ہوتیں۔ شاید اسی لیے قرآن کریم وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ کو متقیوں کی صفات میں شمار کرتا ہے۔
حضرت عائشہؓ کی رسول کریمﷺ کے متعلق گواہی اس پوری بحث کو ایک جملے میں سمیٹ دیتی ہے کہ حضورﷺ نے اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہیں لیا۔ یہاں الفاظ’’اپنی ذات کے لیے‘‘ غور طلب ہیں۔ رسول نجیبﷺ اگرچہ حق اور عدل کے قیام کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار رہتے لیکن اپنی ذات کو پہنچنے والی تکلیف کو ذاتی انتقام کا جواز نہیں بناتے تھے۔
طائف کے واقعے کو ہی دیکھیے۔ مکہ میں مخالفت شدت اختیار کر چکی تھی، حضرت خدیجہؓ اور حضرت ابوطالب کی وفات کے بعد حالات مزید مشکل ہو چکے تھے۔ رسول نجیبﷺ طائف اس امید پر گئے کہ شاید وہاں کے لوگ خدا کا پیغام سنیں، مگر اللہ کے دین کو وہاں نہ صرف مسترد کردیا گیابلکہ آپؐ کے ساتھ تمسخر کیا گیا اور اوباش لوگوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا گیا۔ آپؐ پر اس قدر پتھر برسائے گئے کہ جسم مبارک لہولہان ہوگیا۔ تکلیف اس قدر تھی کہ ایک بار حضرت عائشہؓ نے نبی کریمﷺ سے پوچھا کہ کیا اُحد سے بھی زیادہ سخت کوئی دن آپﷺ پر آیا تو حضورﷺ نے اسی طائف کے دن کا ذکر فرمایا۔
اس شدید تکلیف کے عالم میں رسولِ نجیبﷺ ایک باغیچے میں پناہ لیتے ہیں تو فرشتۂ پہاڑ حاضر ہوکر عرض کرتا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو ان لوگوں کو دو پہاڑوں کے درمیان کچل دیا جائے۔ یہاں آپؐ کی شخصیت کا امتحان تھا۔ زخم تازہ ہیں، عزتِ نفس مجروح ہوئی ہے، جسم لہولہان ہے اور اب بدلہ لینے کی طاقت بھی موجود ہے، مگر رسول نجیبﷺ ان کی تباہی نہیں چاہتے بلکہ ان کے لیے دعا کرتے ہیں۔بقولِ علیم؎
حرفِ دعا و دستِ سخاوت کے باب میں
خودمیرا تجربہ ہے وہ بے حد نجیب تھا
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۱؍ مارچ ۲۰۰۸ء میں حلم کے مفہوم کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کے معانی میں رحم کرنا، معاف کرنا، برداشت کرنا، دوسروں سے مہربانی سے پیش آنا اور غصے کو دبانا شامل ہیں اور یہ صفات معاشرے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بھی ضروری ہیں اور ایک انسان کی روحانی ترقی کے لیے بھی۔ اسی خطبے میں حضور انور نے رسول کریمﷺ کے حلم کے متعدد واقعات بیان فرمائے۔ اسی خطبے میں ایک حدیث بیان ہوئی ہے جس میں رسول کریمﷺ نے اشج عبدالقیس سے فرمایا کہ تمہارے اندر دو ایسی خصلتیں ہیں جنہیں اللہ پسند کرتا ہے: حلم اور وقار۔ غور کریں کہ حلم کے ساتھ وقار رکھا گیا ہے۔ دونوں صفات جمع ہوں تو نجابت پیدا ہوتی ہے۔ انسان نرم بھی رہتا ہے اور اپنے اصول پر قائم بھی، معاف بھی کرتا ہے اور حق کو حق بھی کہتا ہے، اپنی آواز نیچی رکھتا ہے مگر اپنی اخلاقی قامت نیچی نہیں کرتا۔
پھر اُحد کا میدان سامنے آتا ہے جہاں معاملہ کسی سخت جملے یا ذاتی بےادبی کا نہیں بلکہ ساتھیوں کی جانوں کے نقصان کا ہے۔ مسلمان شہید ہوئے، محبوب ساتھی جدا ہوئے، خود رسول کریمﷺ زخمی ہوئے، چہرۂ مبارک کو زخم آئے اور دندان مبارک شہید ہوئے لیکن کبھی یہ نہیں سنا گیا کہ نبی نجیبﷺ احد کا بدلہ لینے کے لیے بے تاب ہوں۔ قرآن کریم کا اصول اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ یعنی بدی کو اس طریق سے دور کرو جو سب سے بہتر ہو، یہاں پوری معنویت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ بدی کے جواب میں بدی فوری انسانی ردعمل ہے، مگر بدی کے مقابلے میں احسن سے جواب دینا بلند کردار کی نشانی۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ نجابت، وقار، متانت وغیرہ سے مراد یہ نہیں کہ انسان بزدل ہو جائے اور جہاں دینی غیرت کا سوال ہو یا بہادری دکھانی ہو وہاں بھی خاموشی سے کام لے۔ احد ہی کے موقع پر جب تک ابوسفیان نے نبی نجیبﷺ اور آپؐ کے ساتھیوں کی حد تک گستاخی کی، آپؐ نے اس سے درگزر سے کام لیا لیکن جیسے ہی اس نے اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کی آپؐ بے تاب ہو گئے اور صحابہ سے فرمانے لگے کہ جواب کیوں نہیں دیتے، کیوں دشمن کو نہیں بتاتے کہ دراصل اس کے سب دعاوی مٹی کا ڈھیر ہیں اور وہ تمام لوگ زندہ ہیں جن کو تم قتل شدہ سمجھ رہے ہو اسی لیے اللہ تعالیٰ کی ذات تمہارے دو کوڑی کے بتوں سے اعلیٰ و اجلّ ہے۔
بالآخر فتح مکہ کا دن آتا ہے۔ وہی شہر جس میں رسول کریمﷺ کی مخالفت ہوئی، صحابہؓ کو اذیتیں پہنچائی گئیں، مسلمانوں کا مقاطعہ کیا گیا، نبی نجیبﷺ کے قتل تک کی سازش ہوئی اور بالآخر آپﷺ کو اپنا محبوب وطن چھوڑنا پڑا آج اسی شہر میں آپﷺ فاتح کی حیثیت سے داخل ہورہے ہیں۔ انسان کے لیے شاید طاقت سے بڑا امتحان کوئی نہیں۔ جان ایکٹن نے کہا تھا کہ Power tends to corrupt, and absolute power corrupts absolutely، یعنی طاقت انسان کی اخلاقی اقدار کو بگاڑ دیتی ہے اور مطلق طاقت انسانی اخلاق کی بدترین صورت سامنے لے آتی ہے۔ کمزور انسان کا تحمل کبھی مجبوری بھی ہوسکتا ہے، مگر جب وہی انسان صاحبِ اختیار ہوجائے اور پھر بھی اپنے نفس کو قابو میں رکھے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تحمل حالات کا نتیجہ نہیں بلکہ اُس کے اعلیٰ کردار کا عکاس تھا۔ فتح مکہ میں حالات بدل چکے تھے، طاقت کا محور بھی کفارِ مکہ کی بجائے نبی نجیبﷺ کی ذات بن چکی تھی لیکن اگر نہیں بدلا تو نبی نجیبﷺ کی ذاتِ بابرکات کا اعلیٰ ظرف۔
یہی وہ موقع ہے جہاں ارسطو کی عالی ظرفی، فلسفۂ رواقیت کی اپنی ذات کی اعلیٰ تربیت اور کنٹرول اور جدید نفسیات کی emotional regulation جن کی روح قرآن کریم میں وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ کے الفاظ میں بیان ہوئی گویا ایک مقام پر اکٹھے ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
آج شاید ہمیں نجابت کے اس خلق کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، کیونکہ ہم ایک ایسے زمانے میں رہتے ہیں جہاں غصہ آنے اور اس کے اظہار کے درمیان فاصلہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ پہلے زمانوں میں کسی سے ناراضگی ہوتی تو خط لکھنے، ملاقات کرنے یا دوسرے تک اپنے جذبات پہنچانے میں کچھ وقت لگتا تھا اور اکثر اسی وقت میں غصہ ٹھنڈا ہوجاتا تھا اور بہت سارے مسائل پیدا ہونے سے پہلے ہی حل ہو جاتے تھے۔ آج اِدھر کسی کا پیغام پہنچتا ہے، اُدھر اس کے نتیجے میں بھلے کسی غلط فہمی کی بنا پر ہی سہی دوسرے کو غصہ آجاتا ہے اور چند سیکنڈ میں اس کا ردِ عمل پیغام ہی کی صورت میں لکھا جاتا اور send ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں کبھی کبھی دس سیکنڈ میں چڑھنے والا غصہ دس سال کے تعلق کو نقصان پہنچا دیتا ہے۔ شاید ترقی یافتہ انسان کو سیرت النبیﷺ سے یہ چھوٹی سی عادت دوبارہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ غصہ آنے پر فوری ردِعمل دکھانے کی بجائے حکمت سے کام لیتے ہوئے وقفہ ڈال دینا چاہیے۔ اسی وقفے میں غضب کے دھیمے پڑنے سے انسان پھر سے عقل سے سوچتا ہے، اس کا شعور اس کے غصے پر غالب آنے لگتا ہے اور کسی ایسی حرکت سے بچ جاتا ہے جو عمر بھر کا پچھتاوا بن کر رہ سکتی ہے۔
نجیب انسان وہ نہیں جسے غصہ نہیں آتا بلکہ نجیب وہ ہے جسے غصے میں بھی اپنا مقام یاد رہتا ہے۔ نجیب وہ نہیں جسے کوئی تکلیف نہیں دیتا بلکہ وہ ہے جو تکلیف پہنچنے کے باوجود انصاف کرسکتا ہے۔ نجیب وہ نہیں جس کے پاس اس پر کسے جانے والے جملوں کا جواب نہیں بلکہ وہ ہے جس کے پاس جواب موجود تو ہو مگر ہر جواب دینا ضروری نہ سمجھے۔ نجیب وہ نہیں جس کے پاس طاقت نہیں بلکہ وہ ہے جس کے ہاتھ میں طاقت آجائے مگر اس پر وہ تھوڑدل نہ ہو۔ اسی لیے قرآن نے حلم اور عفو کو کمزوری کی علامت نہیں بلکہ متقی انسان کی صفات قرار دیا ہے اور رسول نجیبﷺ نے اپنے نفس پر قابو رکھنے والے کو اصل طاقتور کہا ہے۔
حضرت انسؓ کے ساتھ دس سال کے حسن سلوک سے شروع ہونے والی یہ تصویر مسجد میں غلطی کرنے والے اعرابی، چادر کھینچنے والے بدوی، طائف کے پتھروں، اُحد کے زخموں اور فتح مکہ کے اقتدار سے گزرتی ہوئی حضرت مسیح موعودؑ کے اس دروازے تک پہنچتی ہے جہاں گالیاں دینے والا مہمان بھی آتا ہے تو اسے تحمل سے سنا جاتا ہے، مخالف گالیوں سے بھرے بےرنگ خطوط بھیجتے ہے تو آپؑ برا نہیں مناتے۔
یہی حلم ہے، یہی ضبطِ نفس ہے، یہی وقار ہے اور یہی اعلیٰ ظرفی ہے۔ جب انسان اپنی ذات، اپنی انا، اپنے نام اور جھوٹی عزت کے حصار سے باہر نکلتا ہے تو وہ دوسروں کو انسان سمجھنے لگتا ہے۔ وہ نرم ہوتا ہے مگر کمزور نہیں، باوقار ہوتا ہے مگر متکبر نہیں، معاف کرتا ہے مگر اپنے اصول پر سودا نہیں کرتا، غصہ محسوس کرتا ہے مگر غصے کا غلام نہیں بنتا۔ اور جب کسی انسان میں یہ سب چیزیں جمع ہوجائیں تو وہ اللہ تعالیٰ، اُس کے رسولﷺ ، اس کے پیارے مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے عظام کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے والا بن جاتا ہے۔ اور یہی تسلی اور کامیابی کا راستہ ہے
آؤ لوگو کہ یہیں نورِ خدا پاؤ گے
لو تمہیں طَور تسلی کا بتایا ہم نے
مصطفیٰ پر ترا بےحد ہو سلام اور رحمت
اُس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے



