افریقہ (رپورٹس)

ساوٴتومے و پرنسپ میں بیسویں احمدیہ مسجد،’بیت الصدیقہ‘ کا بابرکت افتتاح

محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ ساوٴتومے و پرنسپ کو مورخہ ۲؍اگست ۲۰۲۶ء کو اپنی بیسویں مسجد کے افتتاح کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس مسجد کا نام حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ’بیت الصدیقہ‘عطا فرمایاہے۔ اس مسجد کی تعمیر کا خرچ مکرمہ صفیہ صدیقہ صاحبہ آف یوکے نے ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں بہترین جزا دے۔ آمین

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ مبارک مسجد ساؤتومے شہر کے محلہ ساؤں مارسال (São Marçal) میں تعمیر کی گئی ہے۔ یہ ساؤتومے شہر جو عیسائیت کاگڑھ ہے، کی پہلی مسجد ہونے کا اعزاز رکھتی ہے۔ اپنی منفرد چھے کونوں والی طرزِ تعمیر کے باعث یہ مسجد حسنِ تعمیر کی ایک خوبصورت مثال ہے، جبکہ اس میں بیک وقت ۸۰؍ نمازیوں کی کی گنجائش موجود ہے۔ یہاں مکرم نبیل احمدرفیق صاحب سابق مبلغ سلسلہ ساؤتومے اور مکرم سلیمان یوسف صاحب لوکل مشنری کی کوششوں سے اللہ تعالیٰ نے جماعت کا پودا قائم فرمایا۔ یہ تمام لوگ عیسائیت سے اسلام احمدیت میں داخل ہوئے ہیں۔ ۲۶؍جنوری ۲۰۲۵ء کویہاں جماعت قائم ہوئی تھی۔ مبلغین کرام نے مسلسل محنت کے ساتھ تربیتی کلاسز کا انعقاد کیا جس کے نتیجے میں جماعت نے بہت ترقی کی۔ ساتھ کے محلوں میں بھی جماعتیں قائم ہوئیں۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سےیہاں ایک مضبوط جماعت قائم ہو چکی ہے۔

مسجد کی تعمیر کے دوران نومبائعین نے بہت محنت کی، احباب جماعت نے وقار عمل کيے، بعض نے کچھ بوریاں سیمنٹ کی دیں، بعض نے کچھ لکڑیاں اور کچھ نے نقد رقم بھی پیش کی۔ صدر صاحب جماعت چونکہ خود کارپینٹر ہیں، انہوں نے کارپینٹری کا تمام کام بلامعاوضہ کیا۔ اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین

مسجد کا افتتاح خاکسار (نیشنل صدر و مبلغ انچارج جماعت احمدیہ ساوٴتومے و پرنسپ) نے کیا۔ افتتاحی تقریب میں تقریباً ۷۰؍افراد نے شرکت کی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جس کے بعد مکرم شمس الدین صاحب لوکل مشنری نے حاضرین کو جماعت احمدیہ کا مختصر تعارف پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم وائی جیوازیو صاحب صدر جماعت ساؤں مارسال نے مسجد کی تعمیر اور اس کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس مقام پر جماعت احمدیہ کا قیام مبلغ سلسلہ مکرم نبیل احمد رفیق صاحب کی تبلیغی کاوشوں کے نتیجے میں عمل میں آیا۔ اسی طرح مکرم سلیمان یوسف صاحب نے تربیتی کلاسز جاری رکھیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے مختصر عرصے میں یہاں مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی۔ بعد ازاں سلیمان یوسف صاحب نے اسلام کی بنیادی تعلیمات اور اسلامی اقدار پر نہایت مؤثر انداز میں روشنی ڈالی۔

اختتامی تقریر میں خاکسار نے مسجد کی اہمیت، اس کی آبادکاری اور باجماعت نمازوں کی پابندی کے حوالے سے احبابِ جماعت کو نصائح کیں اور اس بات پر زور دیا کہ مسجد کو عبادت، تربیت اور دینی ترقی کا مرکز بنایا جائے۔

تقریب کے اختتام پر نمازِ ظہرو عصر باجماعت ادا کی گئیں اوریہ بابرکت افتتاحی تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔

اللہ تعالیٰ اس مسجد کو ہمیشہ آباد رکھے، اسے دینِ اسلام کی اشاعت اور مقامی لوگوں کی روحانی تربیت کا مؤثر ذریعہ بنائے اور اس سے وابستہ تمام احمدیوں کو اپنی بے شمار برکتوں سے نوازے۔ آمین

(رپورٹ:انصر عباس۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: ریجنل اجتماع لجنہ اماء اللہ فادا، برکینا فاسو

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button