افریقہ (رپورٹس)

کینیا کے ویسٹرن ریجن (اے ) کی جماعت ایمولونڈو میں مشن ہاؤس کا افتتاح

ایمولونڈو کینیا کے ویسٹرن (اے )ریجن کی جماعت ہے جو شیبولی Shibuliسے بُکوراBukura جاتے ہوئے ۹ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ ۱۹۸۰ء کی دہائی میں یہاں احمدیت کا پیغام پہنچا۔ ۲۰۲۱ءمیں یہاں کے ایک مخلص ا حمدی مکرم ہارون لوبانگا صاحب نے مسجد کی تعمیر کے لیے ایک پلاٹ عطیہ کیا جس پر ۲۰۲۲ء میں ایک خوبصورت مسجد تعمیر کی گئی۔ حال ہی میں یہاں معلم صاحب کی تقرری کی گئی جو مسجد سے کچھ فاصلے پر کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر تھے۔

اپریل ۲۰۲۶ء میں مسجد کے احاطے میں مشن ہاؤس کی تعمیر کا کام شروع کیا گیاجو مئی میں مکمل ہوا۔ یہ مشن ہاؤس ایک بیڈ روم،کچن اور سٹنگ روم پر مشتمل ہے۔ مسجد اور مشن ہاؤس کی ضرورت کے مطابق باتھ رومز وغیرہ بھی بنائے گئے ہیں۔ سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پورے پلاٹ کی خاردار تار سے فینسنگ کرکے آہنی گیٹ لگایا گیا ہے اور سڑک والی سائیڈ پر پختہ دیوار تعمیر کی گئی ہے۔ پانی کی فراہمی کے لیے IAAAEکے تعاون سے ہینڈ پمپ لگایا گیا ہے جس سے نمازیوں کے علاوہ علاقہ کے لوگ بھی استفادہ کر رہے ہیں۔ روشنی اور ایم ٹی اے کے لیے سولر سسٹم لگایا گیا ہے۔ الغرض مسجد اور مشن ہاؤس کی جملہ ضروریات کا نہایت مناسب انتظام کر دیا گیا ہے۔ فالحمد للہ علیٰ ذلک

مکرم ناصر محمودطاہر صاحب امیر و مشنری انچارج کینیا نے ۴؍جولائی ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ علاقہ چیف کے ہمراہ اس مشن ہاؤس کا افتتاح کیا۔ چیف موصوف نے فیتہ کاٹا اور امیر صاحب نے تختی کی نقاب کشائی کی۔ اس کے بعد ایک مختصر پروگرام منعقد ہوا جس کا آغاز تلاوتِ قرآن مجید مع سواحیلی ترجمہ سے ہوا۔ نظم کے بعد مکرم ہارون لوبانگا صاحب صدر جماعت نے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور جماعت کا تعارف پیش کیا۔ پھر خاکسار (ریجنل انچارج ) نے مسجد و مشن ہاؤس کی اہمیت و ضرورت بیان کی اور احباب کو ان سے استفادہ کی تلقین کی۔ بعد ازاں تین معزز مہمانوں علاقہ چیف، چرچ کے پادری اور ممبر کاؤنٹی اسمبلی نے محترم امیر صاحب کو خوش آمدید کہا اور جماعت کو مشن ہاؤس کی تعمیر پر مبارکباد دی اور خدمت ِخلق و قیام ِامن کے سلسلہ میں جماعت کی کوششوں کو سراہا۔

آخر میں مکرم امیر صاحب نے اپنی تقریر میں جماعت احمدیہ کا تعارف پیش کرنے کے بعد کہا کہ موجودہ خطرناک حالات کا واحد حل خدائے واحد سے حقیقی معنوں میں تعلق قائم کرنا اور اس کے احکام پر عمل پیرا ہونا ہے اور اس کے حکم کے مطابق عدل و انصاف قائم کرنا ہے۔ اس کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اس کے بعد آپ نے اختتامی دعا کرائی۔

بعد ازاں اس تقریب میں شامل مہمانوں کی خدمت میں جماعتی کتب کا تحفہ پیش کیا گیا۔ نمازِ ظہر و عصر کے بعد مہمانوں کی ظہرانے سے تواضع کی گئی۔ اس پروگرام میں احباب جماعت کے علاوہ غیر از جماعت مہمانوں اور سرکاری افسران نے بھی شرکت کی اور کُل حاضری ۲۰۰ سے زائد رہی۔ الحمد للہ

(رپورٹ: بشارت احمد ملک۔ انچارج ویسٹرن اے ریجن (شیانڈا) کینیا)

مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ فن لینڈ کی پہلی تاریخی مجلس شوریٰ کا انعقاد

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button