تقریر جلسہ سالانہ

عالمی امن کا قیام انصاف کےقیام کے بغیر ممکن نہیں

(مروان گل۔ مربی سلسلہ ارجنٹائن)

تقریر برموقع جلسہ سالانہ یوکے ۲۰۲۶ء

آپؐ نے چودہ سو سال قبل دنیا کو یہ سبق سکھا دیا کہ ہماری قومیتیں اور نسلی پسِ منظر ہماری شناخت کا ذریعہ تو ہیں لیکن وہ ہمیں کسی قسم کی برتری اور فوقیت کا مستحق نہیں بناتیں، بلکہ سب لوگوں کو بلاامتیاز اور بلا تعصب یکساں حقوق ملنے چاہیں۔یہ سنہری اصول کہ سب انسان برابر ہیں بین الاقوامی امن اور ہم آہنگی کی بنیا دی اور اول شرط ہے

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُہَدَآءَ لِلّٰہِ وَ لَوۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ اَوِ الۡوَالِدَیۡنِ وَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ (النساء:۱۳۶)

خاکسار کی تقریر کا عنوان ہے عالمی امن کا قیام انصاف کےقیام کے بغیر ممکن نہیں۔ اس ضمن میں جوبھی خاکسار نکات بیان کرے گا حضرت خلیفةالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے مختلف خطابات سے اخذ کیے گئے ہیں جو کہ ’’عالمی بحران اور امن کی راہ‘‘ کے تحت طبع کیے گئے ہیں۔ امن کا قیام انصاف کے قیام کے بغیر ممکن نہیں یہ محض لسانی الفاظ سے مزین کیا ہوا جملہ نہیں نہ ہی فقط فلسفانہ نظریہ ہے بلکہ لب لباب ہے اس علاج اور دوائی کا جس کی دنیا کو موجودہ حالات کے پیشِ نظر ضرورت ہے۔

ایک طرف تو اسلامی دنیا ہے اور وہ مسلمان ریاستیں ہیں جو بظاہر اسلام کے علمبردار ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن ان ممالک میں دور تک بھی وہ اسلامی تعلیمات اور قدریں نظر نہیں آتیں جو قرآن کریم اور آپؐ نے دنیا کے سامنے پیش کی تھیں۔ پھر دوسری طرف مغربی دنیا ہے جو امن، انصاف، مساوات، انسانی حقوق کے صَدائیں تو بلند کرتی ہے لیکن ان کے اعمال اور اقوال میں اکثر تضاد پایا جاتا ہے۔ نتیجۃً خواہ اسلامی دنیا ہو یا مغربی دنیا ہر طرف ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ کی آواز گونج رہی ہے اور فساد، اضطراب، کرب اور مایوسی کی کیفیت دن بدن بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔احباب خود ہی جائزہ لے لیں ایک لمحہ کے لیے جوسیاسی و اقتصادی بےچینیاں اور دبی ہوئی بین الاقوامی عداوتیں ہیں ان سے روگردانی بھی کر لیں تو پھر بھی بچاس سے زائد ممالک یا خطوں میں اس وقت باقاعدہ جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔ خواہ وہ اندر ونی civil warsہوں یا ملکوں کے مابین جنگیں یہ دراصل اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ دنیا مختلف بلاکس میں تقسیم ہو چکی ہے۔ اور ان متفرق جنگوں اور تصادم کا مجموعی نتیجہ ہے کہ عالمی امن پر تیسری جنگِ عظیم کے ہولناک بادل نے سایہ ڈالا ہوا ہے۔ گو کہ حضرت خلیفة المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی خداداد فراست کے طفیل دنیاکو ایک دہائی سے زائد عرصہ سے تیسری جنگِ عظیم کے خطرات سے متنبہ کرواتے چلے آرہے ہیں لیکن اب یہ خوفناک صورتِ حال علی وجہ البصیرت سب کو دکھائی دے رہی ہے بلکہ کچھ نے تو اس رائے کا بھی اظہار کیا جیسے موجودہ پوپ کہ دراصل تیسری جنگِ عظیم کا کچھ سالوں سے اِجرا ہو چکا ہے۔

اس عالمی تباہی کے المناک اور فکر کن نظارہ کے روبرو طبعاً یہ سوال ذہنوں میں اٹھتا ہے اور اٹھنا چاہیے کہ یہ کیسے ممکن تھا کہ UN یعنی اقوامِ متحدہ جیسی تنظیم کے ہوتے ہوئے جس کا بنیادی نصب العین ہی عالمی امن کا حصول تھا اس کے با وجود انسانیت ایک بار پھر عالمی جنگ کے گڑھے پرآ پہنچی ہے۔ نیز اس کے تسلسل میں یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ اگر اقوامِ متحدہ جیسی طاقت ور، منظم اور وسیع بین الاقوامی تنظیم بھی اس کوشش میں ناکام ثابت ہوئی ہے تو آیا عالمی امن محض خیالی تصوّر ہے یا ممکن بھی ہے اور اگر ممکن ہے تو پھر کون ہے جو اس کی ضمانت پیش کرسکتا ہے۔

ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لیے مفید ہوگا کہ ماضی کی تاریخ پر سرسری نظر دوڑا ئی جائے۔ چنانچہ پہلی جنگِ عظیم کے بعد امریکہ کے پریذیڈنٹ ولسون نے چودہ نکات پر مبنی عالمی امن کے قیام کی ابتدائی سکیم پیش کی جس کے ردِعمل میں ۱۹۲۰ء میں لیگ آف نیشنز کا وجود عمل میں آیا۔ لیکن عدمِ مساوات اور عدل کے فقدان کے نتیجہ میں یہ لیگ دیر پا امن کی ضمانت فراہم نہ کر سکی اور بیس سال کا عرصہ بھی نہ گزرا تھا کہ یورپ سے ہی از سر نو دوسری جنگِ عظیم کی آگ شعلہ زن ہوئی۔ پھر جنگِ عظیم دوم کے بعد ۱۹۴۵ء میں عالمی امن کی ایک نئی رَو چلی اور اقوامِ متحدہ کے قیام کا اعلان کیا گیا اور ساتھ ہی Never again کے موٹو یعنی کبھی دوبارہ نہیں کے الفاظ میں انسانیت کو تسلی دی کہ اب دنیا تیسری جنگِ عظیم کی کبھی شکار نہ بنے گی بلکہ جیسا کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا آغاز ہوتا ہے ہم انسانیت سے عالمی امن و سلامتی کا عہد کرتے ہیں۔ بہر حال افسوس سے کہنا پڑتا کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے کی بجائے اس کا سنگِ بنیاد ہی عدمِ انصاف پر رکھا گیا جب پانچ طاقتوں کو ویٹو پاور کا اختیار دے کر باقی تمام دیگر ممالک پر فوقیت دی گئی۔ اس کے نتیجہ میں اقوامِ متحدہ کی ۸۰ سالہ تاریخ نا انصافی اور خود غرضی پر مبنی فیصلوں اور قراردادوں کی ایک لمبی فہرست سے بھری پڑی ہے اور اب حالاتِ حاضرہ میں یہ ناانصافی کی لہریں اس قدر زور سے موجزن ہیں کہ خود مغربی طاقتور ممالک کے نمائندگان کی ضمیر نے انہیں مجبورکر رکھا ہے کہ اس کے خلاف بر ملا طور پر آواز اٹھائیں۔ مثلاً کینیڈا کے پرائم منسٹر نے Forum of Davos کے موقع پر جو تقریر کی اس میں خود اقرار کیا: We knew the story of the international rules-based order was partially false that the strongest would exempt themselves when convenient, … And we knew that international law applied with varying rigour depending on the identity of the accused or the victim

ہم جانتے تھے کہ عالمی قوانین پر مبنی نظام کا قصہ کسی نسبت غلط تھا اور یہ کہ سب سے طاقتور موقع کے مطابق اپنے آپ کو (ان قوانین) سے مستثنیٰ بنالیتا اور ہمیں علم تھا کہ یہ عالمی قانون مختلف پیمانہ سے نافذ کیا جاتا ہے جہاں دیکھا جاتا ہے مجرم کون ہے اور مظلوم کون ہے۔‘‘

افغانستان، عراق، شام، یوکرائن، غزہ اور ایران میں جنگوں اور بربریت کے پیشِ نظر اب یہ آوازیں جو مغرب سے ہی بلند ہو رہی ہیں صرف اقوامِ متحدہ کی تنقید تک محدود نہیں بلکہ اب اس کے مدِ مقابل یا بحیثیت جانشین نئے تنظیم کے قیام کی تجویزیں اور سکیمیں بھی پیش ہو رہی ہیں۔ مثلاً اس سال کے آغاز میں ہی امریکہ کے پریذیڈنٹ کی سربراہی میں بورڈ آف پیس کے اجرا کا اعلان کیا گیا۔ بد قسمتی سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اکثر سیاست دانوں کی عقلیں اور نظریں تو صرف اس امر تک محدود ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے نام یا ظاہری شکل و جسامت میں تبدیلیاں کی جائیں لیکن اقوامِ متحدہ کی روح کوجس اصلاح کی ضرورت ہے اس کی طرف وہ قدم اٹھانا ہی نہیں چاہتے۔ ان کی حالت بعینہٖ اس انگریزی محاورہ اور ضرب المَثَل کے مطابق ہے کہ پرانے شربت کو نئے برتن میں پیش کیا جائے۔(Old wine in new bottle)

حق تو یہ ہے کہ گذشتہ ایک صدی سے دنیا والوں نے عالمی امن کی خاطر مختلف نظاموں کا اجرا کیا اور انسان کے بنائے ہوئے قوانین اور لائحہ عمل کو نافذ کیا گیا مختلف اقوام اور ممالک کے ما بین معاہدات بھی کیے گئے لیکن یہ سب انسانی کوششیں ناکام رہیں اور انسانیت بالآخر عالمی جنگ اور عالمی فسادات سے پناہ حاصل نہ کر سکی۔

حق تو یہ ہے کہ اگر کوئی زندگی بخش شربت ہے جس کے پینے سے عالمی امن نصیب ہوسکتا ہے تو ایک ہی آب حیات ہے، ان اندھیری راتوں میں اگر روشنی کی کوئی کِرَن ہے تو وہ ایک ہی شمع ہے اگر ان عالمی تباہی کے خطرات سے پناہ میں آنے کا کوئی قلعہ ہے تو ایک ہی حِصنِ حَصین ہے جو خدا تعالیٰ کی ذات ہے جوہر قسم کی ظاہری و باطنی امن و سلامتی کا منبع اور سرچشمہ۔

اس نکتہ کو حضرت مصلح موعودؓ نے سورۃ الشعراء کی تفسیر میں نہایت سبق آموز انداز میں بیان فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاں تک ظاہری امن کاوسیع سطح پر قیام کا سوال ہے تو وہ خدا کی ذات کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ کیونکہ اگر غور کریں تو بظاہر ساری دنیا امن کی خواہشمند ہے، خواہ کسی مذہب، قوم یا نسل یا کسی طبقہ یا پیشہ سے تعلق رکھنے والے فرد سے پوچھیں تو سب امن کی خواہش کا اقرار کریں گے لیکن سمجھنے والی بات یہ ہے دنیا میں اس قدر اختلافات پائے جاتے ہیں کہ جب تک ایک قاعدہ کے تحت امن کو حاصل نہ کیا جائے سب لوگ مطمئن ہو ہی نہیں سکتے۔ دنیا تو الگ رہی ایک ہی قوم یا ایک ہی خاندان کے افراد کی خواہشات، خیالات و جذبات مختلف ہوتے ہیں، تو ان متضادتمناؤ ں اور احساسات کے ہوتے ہوئے تو نا ممکن ہے کہ دنیا کو امن حاصل ہو سکے۔

اسی طرح امن میں سب سے بڑی روک جو حائل ہے وہ انصاف اورحقوق کاایسا محدود دائرہ کھینچا جاتا ہے جس میں اپنے حقوق کا مطالبہ تو کیا جاتا ہے لیکن غیر کو اس دائرہ سے باہر رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔یہ نہایت غور طلب بات ہے کہ جب بالعموم دنیا دار لوگ کہتے ہیں کہ انصاف بڑی اچھی بات ہے تو اس سے وہ اپنے دشمنوں یا غیروں سے انصاف کے سلوک کا مطالبہ نہیں کرتے بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ میرے لیے اور میرے دوستوں اور میرے ہم خیال کے لیے انصاف کے متمنّی ہیں۔ یہاں تک کہ اکثر اوقات لوگ اپنی خوشحالی کے لیے اگر دوسرے کے حقوق بھی تلف کر لیے جائیں تو اسے برائی نہیں سمجھتے بلکہ جائز سمجھتے ہیں۔

حضورؓ اس میں مثال پیش کرتے ہیں کہ جیسا ایک بچہ دوسرے بچہ سے کھلونا چھین کر اپنا امن تو قائم کرلیتا ہے لیکن ساتھ ہی دوسرے کے امن کو چھین لیتا ہے اب جب تک کوئی ایسا باپ یا ماں یا نگران موجود نہ ہو جس کی مطمحِ نظر دونوں بچوں کی خوشحالی ہے اور ساتھ ہی دونوں کے برابر حقوق قائم نہ کیے جائیں حقیقی اور دائمی امن کا حصول نہ ممکن ہے۔

اب خود ہی جائزہ لے لیں کہ حالاتِ حاضرہ بھی اسی کا عکس ہیں اور “Might is right‘‘ کے اصول کے تحت جس کا زور چلتا ہے دوسرے ملک پر حملہ کر کے اس کا کھلونا چھین لیتا ہے۔

اس کے تسلسل میں حضرت مصلح موعودؓ بیان کرتے ہیں کہ جو جنگیں ہیں، فسادات ہیں وہ درحقیقت شرک کی ہی مخفی درمخفی شاخیں ہیں کیونکہ شرک صرف ایک خدا کی بجائے دو یا تین خداؤں کی عبادت کا نام نہیں بلکہ جھوٹ، تکبر،دوسروں کے حقوق پر اپنے حقوق کو ترجیح دینا یا خودغرضی یہ سب شرک کی باریک شاخیں ہیں۔اور ساتھ ہی توحیدکامل کے بغیر عالمی مُواخا ت اور مساوات پیدا نہیں ہو سکتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ خالق کی حقیقی معرفت ہی ہے جو ہمیں اُس کی مخلوق سے محبت، ہمدردی اور حقوق کی بجا آوری کی طرف لے جاتی ہے۔

چنانچہ اس پیغام کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا سے خبر پاکر ۱۴۰۰ سال قبل ہی دنیا کے سامنے ان الفاظ میں پیش کر دی تھی کہ ’’وَاللّٰہُ یَدۡعُوۡۤا اِلٰی دَارِ السَّلٰمِ ‘‘(یونس:۲۶) یعنی اے لوگو!تم تاریکی میں پڑے ہوئے تھےاور اس تلاش میں تھےکہ اپنے خدا کی مرضی یعنی قیامِ امن کو کس طرح پوراکرسکتے ہو۔ پس خدا تعالیٰ نے اسلام کی صورت میں دنیا کے لیے امن و سلامتی کا گھر تعمیر کردیا تا کہ تم خود بھی امن کی حالت میں آجاؤ اور پھر دوسروں کے لیے بھی امن کا باعث بنو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص کو جو اس گھر میں داخل ہوتا ہے جہاں مسلم کے نام سے مشرف کیا وہاں ساتھ ہی اس ٹائٹل میں ان مستقل فرائض کی بھی نقش آوری کردی کہ اگر مسلم کا لقب چاہتے ہو تو پھر اس کی شرط یہ ہے مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسِانِہٖ وَیَدِہٖ یعنی پھر باقی مخلوق کے لیے بھی امن و سلامتی کا مجسمہ بنو اوریاددہانی کے طور پر ایک دوسرے کو ملنے پر ’’السلام علیکم‘‘ کہہ کر ایک دوسرے پر سلامتی کے تحائف بھیجا کرو۔

اسلام کی یہ بھی امتیازی خوبی ہے کہ جس بالا ہستی کا دنیا کے سامنے تعارف کروایا ہے اس کے اسمائے حسنہ میں سے ایک نام ’’السلام‘‘ بیان کیا یعنی وہ ذات ہے جو امن دینے والا اور تمام سلامتیوں کا سرچشمہ۔ لیکن ساتھ ہی وضاحت کردی کہ اس کی یہ صفت کسی خاص قوم سے مشروط نہیں بلکہ اس کی سلامتی کا فیض دنیا کے تمام اقوام اور سب رنگ و نسل کے افراد پر محیط ہے جیسا کہ قرآن کے آغاز میں ہی سکھایا کہ ’’اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ‘‘ یعنی خدا تعالیٰ کا فیض عام ہے اور تمام مخلوق کا پالنے والی ایک ہی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ اپنی تصنیف پیغام صلح میں اس نکتہ پر مزید روشنی ڈالتے ہیں کہ دنیا میں اکثر فتنہ و فساد تب جنم لینا شروع کرتے ہیں جب خدا کے فیوض کو کسی خاص قوم یا مذہب یا زمانہ سے محدود قرار دیا جاتا ہے۔ چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں: ’’عالَم کے لفظ میں تمام مختلف قومیں اور مختلف زمانے اور مختلف ملک داخل ہیں۔ اور اس آیت سے جو قرآن شریف شروع کیا گیا۔ یہ درحقیقت اُن قوموں کا رد ہے جو خداتعالیٰ کی عام ربوبیت اور فیض کو اپنی ہی قوم تک محدود رکھتے ہیں اور دوسری قوموں کو ایسا خیال کرتے ہیں کہ گویا وہ خداتعالیٰ کے بندے ہی نہیں اور گویا خدا نے ان کو پیدا کرکے پھر ردّی کی طرح پھینک دیا یا ان کو بھول گیا ہے اور یا (نعوذ باللہ) وہ اس کے پیدا کردہ ہی نہیں۔…پس اس نے عام فیض دکھلا کر ان تمام اعتراضات کو دفع کردیا اور اپنے ایسے وسیع اخلاق دکھلائے کہ کسی قوم کو اپنے جسمانی اور روحانی فیضوں سے محروم نہیں رکھا اور نہ کسی زمانہ کو بے نصیب ٹھہرایا۔‘‘ (پیغام صلح، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ۴۴۰)

پھر یہی بس نہیں کی بلکہ اس ’’السلام‘‘ خدا نے اپنے سب سے افضل اور محبوب پیغمبرؐ کو پوری دنیا کے لیے شاہنشاہِ امن بنا کر مبعوث کیا اس کی ذات کے متعلق اعلان فرمایا کہ ’’وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ‘‘ یعنی یہ وہ نبی ہے جس کو امن و سلامتی کا مجسمہ اور پیکر بنا کر دنیا کی سب مخلوقات کی طرف مبعوث کیا جارہا ہے کوئی فرد بھی خواہ کسی مذہب، کسی قوم کسی رنگ و نسل سے تعلق رکھتا ہو اس کی سلامتی سے محروم نہیں رہے گا۔

پھر مزید اس رحمةللعالمین رسولؐ کے طفیل خدا تعالیٰ نے امن کا ایک مرکز بھی قائم کیا یعنی خانہ کعبہ جس کی بنیادی غرض و غایت یہ بیان کی کہ وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًا(البقر ۃ:۱۲۶) یعنی خانہ کعبہ ہم نے اس لیے بنایا ہے تا کہ چاروں طرف سے لوگ اس مرکز میں بار بار جمع ہوں اوراس مرکزی مدرسہ سے مستقل امن کا سبق سیکھتے رہیں۔

یہ ہر گز اتفاق نہیں کہ اسی مرکزی امن کے مقام پرہی اللہ تعالیٰ نے آپؐ سے وہ کلمات کہلوائے جو عالمی امن کی فضا قائم کرتے ہیں۔ آپؐ نے حَجة الوِداع کے موقع اپنے آخری خطبہ میں نصیحت فرمائی کہ غور سے سماعت فرما لو کہ کسی عربی کوعجمی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے۔نہ ہی کسی عجمی کو عربی پر کوئی برتری حاصل ہے۔آپ ﷺ نے سکھایا کہ کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں ہے نہ ہی کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت ہے۔ اس اعلان میں آپؐ نے چودہ سو سال قبل دنیا کو یہ سبق سکھا دیا کہ ہماری قومیتیں اور نسلی پسِ منظر ہماری شناخت کا ذریعہ تو ہیں لیکن وہ ہمیں کسی قسم کی برتری اور فوقیت کا مستحق نہیں بناتیں، بلکہ سب لوگوں کو بلا امتیاز اور بلاتعصّب یکساں حقوق ملنے چاہیں۔یہ سنہری اصول کہ سب انسان برابر ہیں بین الاقوامی امن اور ہم آہنگی کی بنیا دی اور اول شرط ہے۔

اگر ایک بالا’’السلام‘‘ ہستی پر ایمان قائم ہو جائے اور یہ قبلہ بھی درست ہوجائے کہ بحیثیت انسان ہم سب برابر ہیں تو اب یہ مرحلہ باقی رہتا ہے اس عقیدہ کوقیامِ امن میں عملی جامہ اور لباس کس طرح پہنایا جا سکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کی روح سے امن اور عدل لازم و ملزوم ہیں اور عدل امن کا ارہاص اور پیش خیمہ ہے۔

جہاں تک عدل کی تعریف یا معیار کا سوال ہے تو سورۃ النسآء آیت نمبر ۱۳۶ میں اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب فراہم کردیا یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُہَدَآءَ لِلّٰہِ وَلَوۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ اَوِ الۡوَالِدَیۡنِ وَالۡاَقۡرَبِیۡنَ۔ فرماتا ہے کہ خواہ تمہیں اپنے خلاف گواہی دینی پڑے یا اپنے والدین یا اپنے عزیز ترین رشتہ دار کے خلاف گواہی دینی پڑے تب بھی تمہیں انصاف اور سچائی کو قائم رکھنے کے لیے ایسا کرنا چاہیے۔ اس آیت کی رو سے حقیقی امن تبھی قائم ہوگا جب ذاتی، خاندانی،نسلی، قومی اور ملکی ترجیحات سے با لا ہوکر عدل کو قائم کیا جائے۔

پھر اسلام کو تو یہ امتیاز حاصل ہے کہ دنیا کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنانے کی خاطر اس نے دشمنوں کے حقوق بھی قائم کیے ہیں اور ان سے بھی عدل سے پیش آنے کی تلقین کی ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے: وَلَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعۡدِلُوۡاؕ اِعۡدِلُوۡا ۟ ہُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰی۔ (المائدہ:۹) “اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔انصاف کرو یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو۔یقیناً اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔”

جنگ کی صورت میں بھی اسلام نے ہر قسم کے افراط و تفریط سے بالا ہو کر اعتدال کی راہ اختیار کی ہےجیسا کہ فرمایا: وَقَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ۔ جب اپنی حفاظت کے لیے لڑنے کی ضرورت ہو لڑو لیکن دفاع اور جنگ کے حالات میں بھی دشمن کے خلاف ہرگز ظلم و تعدی کے مرتکب بنو۔

اب اسی قرآنی آیت کے مطالعہ سے یہ معاملہ بھی کھل کر سامنے آجاتا ہے کہ یہ عدل کی بیّن خلاف ورزی ہے اور ظلم کے مترادف ہے کہ ذاتی مفادات یا دوسروں کی دولت پر قبضہ کرنی کی حرص سے یا دوسروں کو اپنے زیرِ نگیں کرنے کے لیے جنگ کے بہانے تراشے جائیں۔

نیز اسی قرآنی اصول کی تشریح میں آپؐ اپنے لشکر کو ہر جنگ سے قبل سختی سے یہ تاکید فرماتے کہ یہ عدل کے برخلاف ہے کہ دشمن قوم کی عورتوں، بچوں، بے ضرر لوگو ں، مذہبی راہنماؤں پر حملہ کرنا اور اپنے صحا بہؓ کی توجہ بھی اس الٰہی ارشاد کی طرف مبذول کرواتے کہ خدا کی نظر میں ایک معصوم جان کا قتل کرنا تمام انسانیت کے قتل کےبرابر ہے۔ یقیناً آپؐ کی تربیت اور اسوہِ حسنہ کا ہی اثر تھا کہ غزوہِ احد جیسے نازک اور خطرناک اور دشوار موقع میں بھی آپؐ کے صحابہؓ نے ان اعلیٰ قدروں کو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔

چنانچہ اسلامی تاریخ کے سنہری اوراق میں حضرت زبیرؓ کی دلوں کو بہلا دینے والی روایت ملتی ہے کہ جب مسلمان اور کفارِ مکہ کے لشکروں کا آمنے سامنے ٹکڑاؤ ہوا تو اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار ہاتھ میں لے کر فرمایا: مَنْ یَاْخُذُ ھٰذَا السَّیْفَ بِحَقِّہٖ۔ یعنی کون ہے جو اسے لے کر اس کا حق ادا کرے؟ بہت سے صحابہؓ نے اس فخر کی خواہش کے لیے اپنے ہاتھ پھیلائے جن میں حضرت زبیرؓ خود بھی شامل تھے بلکہ خیال کرتے تھے کہ آپ سب سے زیادہ اس تلوار کے حقدار ہیں۔ بہرحال ان کی توقعات کے برخلاف آپؐ نے اپنی تلوار ابودُجانہ انصاریؓ کو عنایت فرمائی۔ حضرت زبیرؓ بیان کرتے ہیں کہ اس پر مجھے تجسس پیدا ہوا کہ کیا وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تلوار نہیں دی اورابودجانہؓ کو دے دی ہے؟ لہٰذا دل میں عہد کیا کہ میں اس میدان میں ابودجانہؓ کے ساتھ ساتھ رہوں گا اوردیکھوں گا کہ وہ اس تلوار کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ ابودجانہؓ نے اس تلوار کو لے کر مشرکین کی صفوں میں گھس گیا اورمیں نے دیکھا کہ وہ جدھر جاتا تھا گویا موت بکھیرتا جاتا تھا اور میں نے کسی آدمی کو نہیں دیکھا جو اس کے سامنے آیا ہو اور پھر وہ بچا ہو۔ حتٰی کہ وہ لشکر قریش میں سے اپنا راستہ کاٹتا ہوا لشکر کے دوسرے کنارے نکل گیا جہاں قریش کی عورتیں کھڑی تھیں۔ ہند زوجہ ابوسفیان جوبڑے زوروشور سے اپنے مردوں کو جوش دلارہی تھی اس کے سامنے آئی اور ابو دجانہؓ نے اپنی تلوار اس کے اوپر اٹھائی۔ جس پر ہند نے بڑے زور سے چیخ ماری اوراپنے مردوں کوامداد کے لیے بلایا مگر کوئی شخص اس کی مدد کو نہ آیا لیکن میں نے دیکھا کہ ابودجانہؓ نے خودبخود ہی اپنی تلوار نیچی کرلی اوروہاں سے ہٹ آیا اور ان عورتوں پر حملہ نہ کیا۔ زبیرؓ روایت کرتے ہیں کہ اس موقع پر میں نے ابودجانہؓ سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ پہلے تم نے تلوار اٹھائی اورپھر نیچی کر لی۔ اس نے کہا کہ میرا دل اس بات پر تیار نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار ایک عورت پر چلاؤں اور عورت بھی وہ جس کے ساتھ اس وقت کوئی مرد محافظ نہیں۔ زبیرؓ  کہتے ہیں کہ میں نے اس وقت سمجھا کہ واقعی جو حق رسول اللہ ؐکی تلوار کاتھا وہ اس نے ادا کیا۔(https://www.alislam.org/urdu/article/ابودُجَانہ/)

خود ہی فیصلہ کرلیں کہاں وہ ساتویں صدی اور عرب کے صحرا ؤں میں بسنے والے صحابہؓ اور ان کے یہ آسمان کو چھونے والے اعلیٰ معیار اور کہاں اس کے برعکس یہ اکیسویں صدی کی نام نہاد مہذب اور ترقی یافتہ دنیا جہاں افغانستان، عراق، شام، سوڈان، یمن، ایران، لبنان اور غزا میں معصوموں اور بچوں کا دن دَہاڑے قتلِ عام کیا جاتا ہے اور ’’سیلف ڈیفنس‘‘ کو اخلاقی ڈھال اور عذر بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

پھر جنگوں کو جلد ختم کرنے اور مصالحت کی فضا کو فروغ دینے کی خاطر قرآن نے یہ تعلیم دی ہے کہ اگر دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو باقیوں کا فرض ہے کہ اُن کے درمیان صلح کروائیں۔ پس اگر اُن میں سے ایک دوسرے کے خلاف سرکشی کرے تو جو زیادتی کر رہی ہے اُس کے خلاف لڑیں اور کارروائی دکھائیں یہاں تک کہ وہ اللہ کے فیصلہ یعنی مذاکرات اور صلح کی طرف لوٹ آئے۔ اور مصالحت کا جو معیار اور ذمہ داری ہے اس کی تعریف یوں بیان کی: فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا بِالۡعَدۡلِ وَاَقۡسِطُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ۔ (الحجرات:۱۰) یعنی مصالحت کا یہ معیار قائم کیا کہ ان دونوں متصادم فریقین کے درمیان عدل سے صلح کرواؤ اور انصاف کو ہر سطح اور ہر مرحلہ پر برقرار رکھو۔یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

اگر چہ یہ تعلیم مسلمانوں کے متعلق ہے لیکن اقوامِ متحدہ یا کوئی بھی بین الاقوامی تنظیم اِس اُصول کو اختیار کر کے دنیا میں بہت سی عداوتوں اور جنگوں کا مؤثر سدِباب کرسکتی ہیں۔ اسی قرآنی آیت سے پیارے آقاؐ نے یہ استنباط بھی کیا ہے کہ اگر جارحیت کرنے والی قوم شکست کھا کر باہمی مذاکرات پر آمادہ ہو جائے تو ہر ایک فریق کو چاہیے کہ ایک ایسے معاہدہ کے لیے کوشش کریں جس کے نتیجہ میں صلح ہو اور دیر پا امن قائم ہو۔ایسی سخت اور غیر منصفانہ شرائط عائد نہیں کرنی چاہئیں جس کے نتیجہ میں بے چینی پیدا ہو اور بالآخر مزید فساد پر منتج ہو۔

تاریخی طور پر جب ہم جائزہ لیتے ہیں اسی قرآنی تعلیم کو پس پُشت ڈالنے کا نتیجہ تھا کہ وہ صلح نامہ جو پہلی جنگِ عظیم کے اختتام پر نافذ کیا گیا اور Treaty of Versailles سے تاریخ میں موسوم ہے۔اس میں بظاہرتو صلح کی پیشکش کی گئی تھی لیکن اس معاہدہ کی بنیاد ایسی شرائط پر قائم کی گئی جو انصاف کے بالکل متضاد تھیں اور مزید عداوت اور دشمنی کے بیج بوئے گئے۔

اسی طرح حالاتِ حاضرہ میں امن کے قیام میں ایک بنیادی مُزاحمت یہ پیش آتی ہے کہ دشمن کو بالکل ذلیل کر کے صفحۂِ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی جاتے ہے۔ لیکن اس کے برعکس اسلام کی تعلیم ہے کہ اگر دوسرا فریق صلح کی طرف آمادہ ہوتا ہے تو بلا وجہ جنگ کے بہانہ تلاش نہ کیے جائیں بلکہ صلح اور امن کو فوقیت دی جائے جیسے فرمایا: وَ اِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلۡمِ فَاجۡنَحۡ لَہَا (الانفال:۶۲)

اس کی بہترین نظیر ہمیں شاہنشاہِ امن نے فتحِ مکہ کے دن پیش کر کے دکھائی اور اس طرح رہتی دنیا کے لیے ایک عملی لائحہ عمل قائم کردیا۔ چنانچہ اس واقعہ کی عظمت آپؐ کے عاشقِ حقیقی حضرت مسیح موعودؑ ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں: ’’ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ جب مکہ والوں نے آپؐ کو نکالا اور تیرہ برس تک ہر قسم کی تکلیفیں آپؐ کو پہنچاتے رہے۔آپؐ کے صحابہ کو سخت سخت تکلیفیں دیں جن کے تصوّر سے بھی دل کانپ جاتا ہے اس وقت جیسے صبر اور برداشت سے آپؐ نے کام لیا وہ ظاہر بات ہے لیکن جب خدا تعالیٰ کے حکم سے آپؐ نے ہجرت کی اور پھر فتح مکہ کا موقع ملا تو اس وقت ان تکالیف اور مصائب اور سختیوں کا خیال کر کے جو مکہ والوں نے تیرہ سال تک آپؐ پر اور آپؐ کی جماعت پر کی تھیں آپؐ کو حق پہنچتا تھا کہ قتل عام کر کے مکہ والوں کو تباہ کر دیتے اور اس قتل میں کوئی مخالف بھی آپؐ پر اعتراض نہیں کر سکتا تھا کیونکہ ان تکالیف کے لئے وہ واجب القتل ہوچکے تھے اس لئے اگر آپؐ میں قوت غضبی ہوتی تو وہ بڑا عجیب موقع انتقام کا تھا کہ وہ سب گرفتار ہو چکے تھےمگر آپؐ نے کیا کیا؟ آپؐ نے ان سب کو چھوڑ دیا اور کہا لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (یوسف:۹۳)۔ یہ چھوٹی سی بات نہیں ہے مکہ کی مصائب اور تکالیف کے نظارہ کو دیکھو کہ قوت و طاقت کے ہوتے ہوئے کس طرح پر اپنے جانستان دشمنوں کو معاف کیا جاتا ہے یہ ہے نمونہ آپؐ کے اخلاق فاضلہ کا جس کی نظیر دنیا میں پائی نہیں جاتی… مکہ والے بھی اپنی شرارتوں اور مجرمانہ حرکات کے باعث اس قابل تھے کہ ان کو سخت سزائیں دی جاتیں اور ان کے وجود سے اس ارض مقدس اور اس کے گِردونواح کو صاف کر دیا جاتا مگر یہ رَحْمَةً لِلْعٰلَمِينَ (الانبیاء:۱۰۸) اور اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ (القلم:۵) کا مصداق اپنے واجب القتل دشمنوں کو بھی پوری قوت اور مقدرت کے ہوتے ہوئے کہتا ہے لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ۔ (یوسف:۹۳) (ملفوظات جلددوم صفحه ۲۹۷ تا ۲۹۹)

آخر پر خاکسار اپنی گزارشات کا اختتام پیارے آقا ایدہ اللہ تعالیٰ کے دو اقتباسات سے کرتا ہے۔ آپ کا پہلا پیغام غیروں کے لیے ہے جن کو مخاطب ہو کر آپ فرماتے ہیں: ’’پس میں دنیا والوں کو کہتا ہوں کہ اے دنیا والو جو سلامتی اور امن کی تلاش میں ہو اسلام کی تعلیم پر اعتراض کرنے کی بجائے آؤ اور حضرت محمدؐ کے عاشق صادق کی آواز کو سنو جسے اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو تباہی سے بچانے اور اپنی ناراضگی سے بچانے کے لیے بھیجا ہے جو کہتا ہے کہ ’’اے یورپ تو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا تو بھی محفوظ نہیں اور اے جزائر کے رہنے والو کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔ میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔‘‘ (اختتامی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ فرمودہ۳۰؍جولائی ۲۰۱۷ء)

پھر پیارے آقا ایک اور موقع پر اپنوں سے حضرت مسیح موعود ؑکی سر سبز شاخوں سے مخاطب ہوتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’نہ مسلمانوں میں انصاف رہا ہے، نہ غیر مسلموں میں انصاف رہا ہے اور نہ صرف انصاف نہیں رہا بلکہ سب ظلموں کی انتہاؤں کو چھو رہے ہیں۔ پس ایسے وقت میں دنیا کی آنکھیں کھولنے اور ظلموں سے باز رہنے کی طرف توجہ دلا کر تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچانے کا کردار صرف جماعت احمدیہ ہی ادا کرسکتی ہے۔ اس کے لئے جہاں ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے دائرے میں عملی کوشش کرنی چاہئے، وہاں عملی کوشش کے ساتھ ہمیں دعاؤں کی طرف بھی بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پس ایسے میں غلامانِ مسیح محمدی کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے دنیا کو تباہی سے بچانے کے لئے دعاؤں کا حق ادا کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۶؍اپریل ۲۰۱۳ء)

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فرائض کا حق ادا کرنے والا بنائے اور دنیا کو تباہی سے بچا لے۔آمین

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: جلسہ سالانہ جرمنی میں خدمات انجام دینے والے چند مرحومین کا ذکرِ خیر

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button