تقریر جلسہ سالانہ

جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ء: اجلاس مستورات کی کارروائی

’’آنحضرت ﷺ كی حیات مباركہ محبت الٰہی كا زندہ ثبوت ‘‘، ’’رسول اللہﷺ کی پیروی کے ذریعہ محبت الٰہی کا حصول ‘‘ اور ’’نورِخلافت حقیقی اسلام كی طرف راہنمائی كا ذریعہ ‘‘ کے عناوین پر سیر حاصل تقاریر

آج مستورات کی جلسہ گاہ میں کارروائی کا آغاز صبح دس بجے ہوا۔ اجلاس کی صدارت نیشنل صدر صاحبہ لجنہ اماءاللہ یوکے مکرمہ ڈاکٹر قرۃالعین عینی صاحبہ نے کی۔ اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ مکرمہ منصورہ امینی صاحبہ نے سورۃ آل عمران کی آیات ۱۹۱ تا ۱۹۵ کی تلاوت کی اور اردو ترجمہ بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ پیش کیا۔ مکرمہ رضوانہ شمس صاحبہ نے منظوم کلام از کلامِ محمود ’’تیری محبت میں میرے پیارے ہر اک مصیبت اٹھائیں گے ہم‘‘ پیش کیا۔

مستورات کے اجلاس کی پہلی تقریر ڈاكٹر ملیحہ منصور صاحبہ (معاونہ صدر واقفات نو۔ لجنہ اماء اللہ برطانیہ) کی انگریزی زبان میں تھی جس کا عنوان ’’آنحضرت ﷺ كی حیات مباركہ محبت الٰہی كا زندہ ثبوت‘‘ تھا۔

ڈاكٹر ملیحہ منصور صاحبہ نے سورت آل عمران كی آیت۳۲ كی تلاوت سے تقریر كا آغاز كیا: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُم یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی پیروی کرو، تب اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا۔

پھر بتایا كہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت حاصل کرنے کا راستہ واضح کر دیا ہے، اور وہ راستہ صرف دعووں یا زبانی عقیدت کا نہیں بلکہ حضور اکرمﷺ کی کامل اتباع کا ہے۔ آپﷺ کی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی محبت کا زندہ ثبوت ہے۔

رسول اللہﷺ یتیم پیدا ہوئے، نہ کوئی سلطنت تھی اور نہ مال و دولت، لیکن اللہ تعالیٰ نے بچپن ہی سے آپؐ کو ایسی عزت عطا فرمائی کہ پورا عرب آپ کو ’’صادق‘‘ اور ’’امین‘‘ کے لقب سے یاد کرتا تھا۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندے کی عزت خود قائم کرتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت ڈال دیتا ہے۔

حضرت خدیجہؓ سے آپﷺ کی شادی بھی اللہ تعالیٰ کی خاص محبت کی ایک عظیم مثال ہے۔ انہوں نے اپنا سارا مال رسول اللہﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا، مگر آپﷺ نے دنیاوی آسائشوں کو اختیار کرنے کے بجائے وہ سب اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا۔

رسول اللہﷺ کا دل ابتدا ہی سے اللہ تعالیٰ کی محبت سے سرشار تھا۔ یہی محبت آپ کو بار بار غارِ حرا لے جاتی، جہاں آپ تنہائی میں عبادت کرتے، دعا کرتے اور اپنے رب کی قربت تلاش کرتے تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے بھی بیان فرمایا ہے کہ آپ ﷺ نے روحانی پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے غیرمعمولی مجاہدہ کیا، تب اللہ تعالیٰ نے آپؐ پر اپنی کامل وحی نازل فرمائی اور قرآن کریم جیسی عظیم نعمت عطا کی۔

اللہ تعالیٰ کی محبت کا ایک اور عظیم اظہار قبلہ کی تبدیلی کے واقعہ میں نظر آتا ہے۔ رسول اللہﷺ کے دل میں یہ خواہش تھی کہ نماز کا رخ بیت اللہ کی طرف ہو۔ آپؐ نے اس خواہش کا اظہار بلند آواز میں نہیں کیا، مگر اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے دل کی کیفیت کو جان لیا اور قرآن کریم میں حکم نازل فرمایا کہ اب آپ اپنا رخ مسجدِ حرام کی طرف کریں۔ اس طرح پوری امت کا قبلہ ہمیشہ کے لیے بیت اللہ قرار دیا گیا۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب رسول ﷺ کے دل کی خاموش خواہشوں کو بھی پورا فرماتا ہے۔

رسول اللہﷺ نے بھی اللہ تعالیٰ کی محبت کا حق ادا کیا۔ آپؐ نے ہر قسم کی تکلیف برداشت کی، طائف میں پتھر کھائے، مکہ میں بائیکاٹ برداشت کیا، فاقے کاٹے، کھجور کے پتوں کی چٹائی پر لیٹتے اور راتوں کو لمبی عبادت میں کھڑے رہتے یہاں تک کہ پاؤں مبارک سوج جاتے۔حتیٰ کہ بیماری کے آخری ایام میں بھی آپ ﷺ شدید کمزوری کے باوجود نماز باجماعت کی اہمیت کے باعث مسجد تشریف لے گئے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے اس کیفیت کو ’’شریعتِ محبت‘‘ قرار دیا، یعنی محبت انسان کو عام فرائض سے بھی بڑھ کر قربانی پر آمادہ کر دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول ﷺ کو ایسا مقام عطا فرمایا کہ خود اللہ اور اس کے فرشتے آپؐ پر درود بھیجتے ہیں اور مومنوں کو بھی حکم دیا کہ وہ آپؐ پر درود و سلام بھیجیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ درود پڑھنا دراصل ہماری اپنی روحانی ترقی اور اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہے، کیونکہ رسول اللہﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کامل عزت پہلے ہی حاصل ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس محبت كی وجہ سے اپنے محبوبؐ کی حفاظت بھی فرمائی۔ مکہ کے سرداروں نے بارہا رسول اللہﷺ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی مگر ہر مرتبہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیروں کو ناکام بنا دیا۔ ہجرت کی رات کفار نے آپؐ کے گھر کا محاصرہ کیا مگر اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو محفوظ نکال دیا۔ غارِ ثور میں مکڑی کے جالے اور کبوتر کے گھونسلے كے ذریعہ حفاظت فرمائی۔ اسی طرح كسریٰ نے جب آپﷺ کا خط پھاڑ دیا اور آپؐ کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تو اللہ تعالیٰ نے اسی رات اس کی حکومت ختم کر دی۔

قرآن کریم نے مومنوں کو یہ بھی سکھایا کہ رسول اللہﷺ کا ادب کس قدر ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنی آواز نبی ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو اور ان کے سامنے انتہائی ادب اختیار کرو، کیونکہ یہی ادب اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رضا کا ذریعہ بنتا ہے۔ تقریر میں اس اصول کو خلافت کے ساتھ بھی جوڑا گیا کہ جسے اللہ تعالیٰ اپنے دین کی خدمت کے لیے منتخب فرمائے، اس کا احترام، اطاعت اور ادب بھی ایمان کا حصہ ہے۔

صحابہؓ کی رسول اللہﷺ سے محبت بھی اللہ تعالیٰ کی محبت کا ایک عظیم مظہر تھی۔ انہوں نے اپنی جان، مال اور ہر آسائش کو دین پر قربان کر دیا۔ حضرت زیدؓ کا یہ جواب کہ وہ اپنی جان قربان کر سکتے ہیں مگر رسول اللہ ﷺ کے پاؤں میں کانٹا بھی نہ چبھے، صحابہؓ کی بے مثال محبت کی عکاسی کرتا ہے۔ حضرت ابوسفیان جیسے دشمن کو بھی یہ اعتراف کرنا پڑا کہ دنیا میں کسی نے اپنے قائد سے ایسی محبت نہیں کی جیسی محمدﷺ کے صحابہؓ نے آپؐ سے کی۔ بعد ازاں حضرت مسیح موعودؑ نے بھی واضح فرمایا کہ حقیقی طور پر رسول اللہﷺ کی پیروی انسان کو اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے اور اس کے دل میں اللہ کی سچی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔

رسول اللہﷺ نے اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کے لیے یہ دعا سکھائی کہ اے اللہ! مجھے اپنی محبت، اپنے محبوب بندوں کی محبت اور ایسے اعمال عطا فرما جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دیں، اور اپنی محبت کو میرے لیے میری جان، میرے اہل و عیال اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنا دے۔ حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھی توجہ دلائی ہے کہ ہر وہ شخص جو رسول اللہﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے اسے یہ دعا کثرت سے پڑھنی چاہیے۔ رسول اللہﷺ نے اپنی امت سے اتنی محبت فرمائی کہ فرمایا: ’’میں اپنے ان بھائیوں سے ملنے کا خواہش مند ہوں جو مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائیں گے۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ کی محبت صرف اپنے زمانے کے لوگوں تک محدود نہیں تھی بلکہ قیامت تک آنے والے ہر سچے مومن کے لیے تھی۔

رسول اللہﷺ کی زندگی بے شمار ذمہ داریوں سے بھرپور تھی۔ آپؐ عبادت بھی کرتے، لوگوں کی تعلیم و تربیت بھی فرماتے، ریاست کے امور بھی چلاتے، عدل و انصاف بھی قائم کرتے اور اپنے گھر والوں کے حقوق بھی ادا کرتے، مگر اس کے باوجود رات کے آخری حصے میں تنہا اپنے رب کے حضور کھڑے ہو کر عبادت کرتے۔ خصوصاً خواتین کو یہ نصیحت کی گئی کہ وہ اپنے بچوں کے دلوں میں رسول اللہﷺ کی محبت اور سیرت کا نقش قائم کریں تاکہ وہ دنیا کے غلط نمونوں کی بجائے آپﷺ کی پاکیزہ زندگی کو اپنا آئیڈیل بنائیں۔

آخر میں یہ بیان کیا گیا کہ تئیس برس کی مسلسل قربانیوں کے بعد جب دین مکمل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول ﷺ کو اپنے پاس بلالیا۔ آپؐ نے دنیا پر اپنے رب کی رفاقت کو ترجیح دی اور آخری الفاظ ’’الرفیق الاعلیٰ‘‘ ادا کرتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی رسول اللہﷺ کی سیرت پر عمل کرنے، ان کی کامل اطاعت اختیار کرنے، ان سے سچی محبت پیدا کرنے اور اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

٭…٭…٭

اس اجلاس کی دوسری تقریر ڈاكٹر فریحہ خان صاحبہ سابق صدر لجنہ اماء اللہ یوکے نے ’’رسول اللہﷺ کی پیروی کے ذریعہ محبت الٰہی کا حصول‘‘ کے موضوع پر کی۔ آپ نے اپنی تقریر میں اس بنیادی قرآنی حقیقت کو اجاگر کیا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا واحد اور کامل ذریعہ حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی کامل پیروی ہے۔ اس ضمن میں سورت آلِ عمران کی آیت قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ کو بنیاد بناتے ہوئے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کے حصول کو آنحضرتﷺ کی اطاعت اور اسوۂ حسنہ پر عمل کرنے سے وابستہ فرمایا ہے۔

تقریر میں بیان کیا گیا کہ آنحضرت ﷺ بعثت سے قبل بھی توحید پر قائم، صادق، امین اور اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے، لیکن آپؐ کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو اپنے رب کی تلاش اور اس کی محبت کا حصول تھا۔ اسی شوق نے آپؐ کو غارِ حرا کی تنہائیوں میں عبادت، دعا اور غور و فکر کی طرف متوجہ رکھا جہاں آپؐ کئی کئی دن اللہ تعالیٰ کے حضور راز و نیاز میں مشغول رہتے تھے۔ یہ عبادت محض ظاہری رسم نہیں بلکہ خالص عشقِ الٰہی کا اظہار تھی۔

پہلی وحی کے نزول کے بعد آنحضرتﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے کامل اطاعت کا نمونہ پیش کرتے ہوئے نبوت کی عظیم ذمہ داری قبول کی۔ حضرت خدیجہؓ کی گواہی سے واضح ہوتا ہے کہ آپؐ نہ صرف حقوق اللہ بلکہ حقوق العباد کی ادائیگی میں بھی بے مثال تھے۔ آپؐ صلہ رحمی کرتے، کمزوروں کا سہارا بنتے، محتاجوں کی مدد فرماتے اور مہمان نوازی میں اعلیٰ نمونہ قائم کرتے تھے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں واضح کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے محبوب رسول ﷺ کو غار کی تنہائی سے نکال کر دنیا کی اصلاح اور ہدایت کے عظیم منصب پر فائز فرمایا۔

آپ نے تقریر میں آنحضرت ﷺ کی استقامت، شجاعت اور خدا تعالیٰ سے بے مثال محبت کا ذکر کرتے ہوئے اس تاریخی واقعہ کو بیان کیا کہ جب قریش نے دنیاوی نعمتوں کی پیشکش کے بدلے تبلیغِ اسلام ترک کرنے کی شرط رکھی تو آپؐ نے دوٹوک الفاظ میں فرمایا کہ اگر ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے پر چاند بھی رکھ دیا جائے تب بھی آپؐ اپنے مشن سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اس واقعہ کو خدا تعالیٰ کی محبت اور احکامِ الٰہی کی کامل اطاعت کی عظیم مثال قرار دیا ہے۔

پھر مکہ مکرمہ کے تیرہ سالہ دورِ ابتلا کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ شدید جسمانی، ذہنی، معاشرتی اور معاشی مظالم کے باوجود آنحضرت ﷺ نے کبھی شکایت کا اظہار نہیں کیا بلکہ ہر تکلیف کو خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے برداشت فرمایا۔

اسی طرح آپ نے واقعۂ طائف کو محبتِ الٰہی، صبر اور رحمت کا عظیم شاہکار قرار دیتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی وہ درد بھری دعا پیش کی جس میں آپؐ نے اپنی تمام بے بسی اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کی مگر اپنی قوم کے لیے ہدایت اور رحمت ہی طلب کی۔ جب پہاڑوں كے فرشتے نے اہلِ طائف کو تباہ کرنے کی اجازت چاہی تو آپؐ نے ان کی آئندہ نسلوں کےلیے ہدایت کی دعا كی۔ یہ واقعہ آپؐ کی خدا تعالیٰ سے کامل وابستگی اور بنی نوع انسان سے بے مثال شفقت کا روشن ثبوت ہے۔

تقریر میں اس امر پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ آنحضرت ﷺ کی پوری زندگی خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے وقف تھی۔ قرآن کریم کی آیت قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات بیان کیے گئے کہ آنحضرتﷺ کی نماز، قربانیاں، زندگی اور وفات سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے تھیں اور آپؐ فنا فی اللہ ہونے کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز تھے۔

نماز محبتِ الٰہی کے حصول کا بنیادی ذریعہ ہے، چنانچہ نماز آنحضرت ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی۔ عبادت کے دوران آپؐ کے سینۂ مبارک سے ہانڈی کے اُبلنے جیسی آواز آتی تھی اور نماز میں طویل قیام کے باعث آپؐ کے قدم مبارک سوج جاتے تھے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے اس کیفیت کو خدا تعالیٰ کے احسانات پر مسلسل شکرگزاری اور محبت کے جذبے کا اظہار قرار دیا ہے۔

تقریر میں اس حقیقت کو بھی نمایاں کیا گیا کہ دشمنانِ اسلام کی طرف سے آنحضرت ﷺ کی ازدواجی زندگی پر کیے جانے والے اعتراضات حقیقت سے بعید ہیں، کیونکہ حضرت عائشہؓ کی روایات سے ثابت ہے کہ آپؐ اپنی ازواج سے اجازت لے کر راتوں کو عبادت میں مصروف رہتے تھے۔ حتیٰ کہ اپنی آخری بیماری میں بھی شدید کمزوری کے باوجود جماعت کے ساتھ نماز کی ادائیگی کو مقدم رکھا۔

مزید بیان کیا گیا کہ آنحضرتﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ ذکرِ الٰہی سے معمور تھا۔ آپؐ نے زندگی کے ہر موقع کے لیے دعائیں سکھا کر امت کو ہر حال میں خدا تعالیٰ کو یاد رکھنے کی تعلیم دی۔ حضرت مصلح موعود ؓ کے مطابق یہی مسلسل ذکرِ الٰہی آنحضرت ﷺ کی خدا تعالیٰ سے کامل محبت کا عملی اظہار تھا، جس کا اثر آج تک مسلمانوں کی روزمرہ زندگی میں نمایاں ہے۔

پھر مقررہ نے اس امر پر زور دیا کہ اسلام کی کامل تعلیم حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کو یکساں اہمیت دیتی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی عملی زندگی سے واضح فرمایا کہ بندوں کے حقوق کی ادائیگی بھی اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس زمانہ میں دجالی فتنوں سے بچنے کے لیے آنحضرت ﷺ کی کامل پیروی اور اپنی نسلوں کی دینی تربیت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

تقریر کے اختتام پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ پُر شوكت اقتباس پیش كیا گیاجس میں آپؑ نے فرمایا کہ وہ جو عرب کے بیابان میں ایك عظیم انقلاب برپا ہوا وہ دراصل اس فنا فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعاؤں کا نتیجہ تھا، جس نے مردہ دلوں کو زندہ کر دیا اور دنیا کو خدا تعالیٰ کی معرفت سے منور کر دیا۔

آخر میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی رسول کریم ﷺ کی کامل پیروی، محبتِ الٰہی کے حصول، عبادت، ذکرِ الٰہی اور اپنی نسلوں کی تربیت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

٭…٭…٭

اس کے بعدحضرت مسیح موعودؑ کا پاک منظوم کلام از در ثمین ’’خدا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار‘‘ محترمہ سلونی رشید صاحبہ نے نہایت پر ترنم انداز میں پیش کیا۔

اس اجلاس کی آخری تقریر مکرمہ فرزین قریشی صاحبہ نے انگریزی زبان میں ’’نورِخلافت حقیقی اسلام كی طرف راہنمائی كا ذریعہ‘‘ کے موضوع پر کی، جس میں آپ نے اپنے قبولِ احمدیت کے سفر، خلافت سے وابستگی، دعاؤں کی قبولیت اور اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کے ایمان افروز واقعات بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے خلافت کے بابرکت نظام کے ذریعہ ہر مرحلہ پر آپ كی راہنمائی اور تربیت فرمائی۔

آپ نے بیان کیا کہ ۲۰۰۱ء میں میری والدہ اچانک وفات پا گئیں۔ اس سانحہ نے مجھے زندگی کی حقیقت، موت اور آخرت کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کیا۔ مجھے احساس ہوا کہ ایک دن ہر انسان نے اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے، چنانچہ میں نے دعا اور غوروفکر کے ساتھ حق کی تلاش شروع کی۔

ان کا کہنا تھا کہ بعد میں مجھے احساس ہوا کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کو بہت پہلے سے حق کی قبولیت کے لیے تیار کر رہا تھا۔ بچپن ہی سے صحیح بات اختیار کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی خواہش میرے دل میں موجود تھی۔ سکول کے زمانہ میں اسلام کے بارے میں بعض سوالات نے مجھے حقیقی اسلامی تعلیمات کی تلاش کی طرف متوجہ کیا۔

آپ نے بتایا کہ والدہ کی وفات کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ بعض رشتہ دار احمدی مسلمان ہونے کی وجہ سے ایک تقریب میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ اس واقعہ نے میرے دل میں جماعت احمدیہ کے متعلق جاننے کا اشتیاق پیدا کیا۔ بعد ازاں ’’احمدالمہدی‘‘ نامی کتاب نے میرے بہت سے سوالات کے تسلی بخش جوابات دیے اور ہر دعویٰ قرآن کریم، احادیث اور عقلی دلائل کی روشنی میں پیش کیا گیا تھا جس سے میں بہت متاثر ہوئی۔

آپ نے مزید کہا کہ تحقیق کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق امتِ مسلمہ ایک موعود مسیح کی منتظر تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ اور نشانات کا مطالعہ خصوصاً رمضان کے سورج اور چاند گرہن کی پیشگوئی نے مجھ پر گہرا اثر ڈالا۔ اس کے بعد میں نے نہایت الحاح سے دعا شروع کر دی کہ اگر احمدیت حق ہے تو اللہ تعالیٰ مجھے سچائی تک پہنچا دے۔پھر مجھے ایک خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دکھائی گئی جس نے میرے یقین میں مزید اضافہ کر دیا۔

آپ نے مزید بتایا کہ اسی زمانے میں مَیں نے جماعت احمدیہ اور نظامِ خلافت کے بارے میں مزید جاننا شروع کیا اور ایم ٹی اے کی نشریات دیکھنے لگی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے خطابات سنتے ہوئے میرے دل میں خلافت کی محبت پیدا ہوتی گئی اور مجھے روحانی سکون حاصل ہونے لگا۔

پھر آپ نے بتایا کہ مسلسل مطالعہ، دعا اور تحقیق کے بعد مجھے کامل اطمینان حاصل ہوگیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی وہ ہستی ہیں جن كا وعدہ دیا گیا تھا۔ چنانچہ اپریل ۲۰۰۲ء میں مَیں نے بیعت کرکے جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار کر لی۔

اپنے قبولِ احمدیت کے بعد کے حالات بیان کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ میرے والد کو جب اس فیصلہ کا علم ہوا تو گھر کا ماحول کشیدہ ہوگیا اور مجھے مخالفت اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم انہی دنوں جماعت کی ایک عہدیدار خاتون کی طرف سے خیریت دریافت کرنے کے لیے آنے والا فون میرے لیے بہت حوصلہ افزا ثابت ہوا اور مجھے یقین ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔

آپ نے مزید بیان کیا کہ بعد ازاں میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کو خط لکھا۔ اسی دوران ایک خواب میں حضورؒ نے محبت سے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: ’’میری جماعت میں خوش آمدید۔‘‘ اگلے ہی دن حضورؒ کا خط موصول ہوا جس میں دعا، استقامت اور خلافت سے وابستگی کی نصیحت فرمائی گئی تھی۔ یہ واقعہ میرے ایمان کے لیے عظیم تقویت کا باعث بنا۔

ایک اور واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے بتایا کہ واٹرلو سٹیشن پر ایک احمدی مسلمان سے مختصر ملاقات ہوئی جس نے مجھے ایمان پر ثابت قدم رہنے اور خلافت سے مضبوط تعلق رکھنے کی نصیحت کی۔ اس ملاقات نے بھی مجھے غیرمعمولی حوصلہ عطا کیا۔

جلسہ سالانہ میں شرکت کے حوالہ سے آپ نے کہا کہ جب میں نے پہلی مرتبہ جلسہ سالانہ برطانیہ میں شرکت کا ارادہ کیا تو میرے والد نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا، لیکن میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے جلسہ میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ جلسہ کا روحانی ماحول، احبابِ جماعت کی محبت اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی زیارت نے میرے ایمان کو مزید مضبوط کر دیا۔ اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ میری تمام قربانیاں اسی روحانی نعمت کے حصول کے لیے تھیں۔

اسی طرح آپ نے بتایا کہ جلسہ کے اختتام پر بعض احمدی خواتین نے محبت اور اخوت کا عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے میری بھرپور مدد کی۔ واپسی کے سفر میں دعا کے دوران میرے والد کا فون آیا اور انہوں نے مجھے گھر واپس آنے کے لیے کہا۔ میں اس واقعہ کو قبولیتِ دعا کا نمایاں نشان سمجھتی ہوں۔

اپنے ایک روحانی تجربہ کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ ایک خواب میں مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ میں نے عرض کیا کہ میں نے مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کر لیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسكرائے اور آپ کی مسکراہٹ نے میرے دل کو غیرمعمولی سکون اور اطمینان عطا کیا۔

ایک اور خواب میں میں نے خود کو خانہ کعبہ کے اندر دیکھا جہاں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ خطاب فرما رہے تھے۔ بعد ازاں خانہ کعبہ کی اندرونی تصاویر دیکھ کر مجھے یقین ہوا کہ خواب میں دکھایا گیا منظر حقیقت سے مطابقت رکھتا تھا۔ میں اس خواب کو خلافت کی صداقت اور راہنمائی کا ایک عظیم نشان سمجھتی ہوں۔

اپنے خاندانی حالات کے حوالہ سے آپ نے بتایا کہ شادی اور اولاد کی نعمت کے بعد میرے خاندان کو حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے متعدد ملاقاتوں کی سعادت نصیب ہوئی۔ ایک ملاقات میں حضورِ انور کی شفقت نے مجھے وہ خواب یاد دلایا جس میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے فرمایا تھا: ‘‘میری جماعت میں خوش آمدید۔’’

آپ نے بتایا کہ ایک اور ملاقات میں حضورِ انور كی خدمت میں بیٹے کے لیے دعا کی درخواست كی تو فرمایا: ’’یہ بالکل ٹھیک رہے گا۔‘‘ بعد کے سالوں میں میں نے اپنے بیٹے کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ایسے آثار دیکھے جنہوں نے مجھے بارہا حضورِ انور کی دعاؤں کی یاد دلائی۔

اختتامی کلمات میں آپ نے کہا کہ جب میں اپنی زندگی کے اس سفر پر نظر ڈالتی ہوں تو مجھے واضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی سے میری راہنمائی فرمائی، مجھے احمدیت کی نعمت سے سرفراز کیا اور خلافت کے بابرکت نظام کے ذریعہ ہر آزمائش میں میری رہنمائی اور تسلی کے سامان مہیا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ سے زندہ تعلق، دعا، قرآن کریم سے وابستگی اور خلافت سے اخلاص و وفا ہی حقیقی روحانی ترقی کا ذریعہ ہیں۔

آخر پر آپ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام احمدیوں کو ہمیشہ خلافت سے مضبوط وابستگی، اطاعت اور وفاداری کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button