آنحضرت ﷺ کا عشق الٰہی
(خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۲۶؍دسمبر ۲۰۲۵ء)
آج اللہ تعالیٰ کی محبت کے حوالے سے آپؐ کی سیرت کے کچھ پہلو بیان کروں گا۔
…ہم دیکھتے ہیں کہ آپؐ کی سیرت کے اس پہلو سے اللہ تعالیٰ کی آپؐ سے محبت کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ صرف آپؐ کی اللہ تعالیٰ سے محبت نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی بھی آپؐ سے محبت ہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس اظہار کے بعد جو اللہ تعالیٰ کی محبت کا آپؐ سے ہے آپؐ کی راہنمائی فرمائی اور پھر کس طرح اس محبت میں مزید بڑھ کر آپؐ نے اپنی امّت کی تربیت کی اور امّت کی راہنمائی بھی کی۔
اللہ تعالیٰ نے جو تعلیم آپؐ پر نازل فرمائی آپؐ نے امّت تک کس طرح اسے پہنچایا تا کہ ان کی راہنمائی ہو ۔اس کے لیے آپؐ کے دل میں ایک درد تھا بلکہ یہ درد ہی تھا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہی آپؐ کی راہنمائی کی کہ آپؐ نے امّت کی بھی راہنمائی کرنی ہے۔ یا یوں کہنا چاہیے کہ ایک طرف آپؐ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا دَرد تھا اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی محبت کا دَرد اور انہیں تباہی سے بچانے کی خواہش تھی۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میںسورۃ الضحیٰ میں فرماتا ہے کہ وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَھَدٰی۔(الضحیٰ:8) اور جب اس نے تجھے اپنی قوم کی فکر میں سرگرداں دیکھا تو ان کی اصلاح کا صحیح طریقہ تجھے بتا دیا ۔اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے لحاظ سے اس آیت کے یہ معنی بنیں گے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تجھے اپنی محبت میں بے انتہا صدمہ رسیدہ دیکھا اور آخر تجھے وہ راستہ بتا دیا جس پر چل کر تو ہمارے پاس پہنچ گیا۔ تفسیر کبیر امام رازی میں سورة الضحیٰ کی آیت وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَھَدٰی کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ضَلَال کے ایک معنی محبت کے بھی ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد اِنَّکَ لَفِیْ ضَلٰلِکَ الْقَدِیْمِ میں ضلال کا مطلب اپنی محبت ہے۔پس مفہوم یہ ہوگا کہ تُو مُحِب ہے۔ پس مَیں نے تیری ایسے راستوں کی طرف راہنمائی کی جن کے ذریعہ سے تُو اپنے محبوب کی خدمت کر کے قرب کی منازل طے کر سکتا ہے۔‘‘ (مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) جلد 16جزء 31 صفحہ 197۔ تفسیر سورۃ الضحیٰ زیر آیت 7۔ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2004ء)
اس سے اللہ تعالیٰ نے سند دے دی کہ تُو اللہ تعالیٰ کی محبت میں سرشار ہے۔
اس محبت کا اظہار ہم مختلف روایات میں دیکھتے ہیں جو محبت اللہ تعالیٰ نے آپؐ سے کی تھی اور جو محبت آپؐ کو اللہ تعالیٰ سے تھی۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ جو شخص قرآن کریم کے اسالیب کلام کو بخوبی جانتا ہے اس پر پوشیدہ نہیں کہ بعض اوقات وہ کریم و رحیم جلّ شانہ اپنے خواص عباد کے لیے ،اپنے خاص بندوں کے لیے،ایسے الفاظ استعمال کر دیتا ہے کہ بظاہر بدنما ہوتے ہیں مگر معناً نہایت محمود اور تعریف کا کلمہ ہوتا ہے۔ بظاہر اگر اس لفظ کو عام طور پر استعمال میں دیکھیں تو لگتا ہے کہ یہ صحیح لفظ نہیں ہے کیونکہ ضَال کا مطلب گمراہی ہے ۔لیکن نہیں ! جب اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کے لیے خاص موقع پر اسے استعمال کرتا ہے تو اس کے معنی بدل جاتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمایا کہ وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَھَدٰی۔ (الضحیٰ:8)اب ظاہر ہے کہ ضال کے معنی مشہوراور متعارف جو اہل لغت کے منہ پر چڑھے ہوئے ہیں گمراہ کے ہیں ۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ جس کے اعتبار سے آیت کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اے رسولؐ! تجھ کو گمراہ پایا اور ہدایت دی۔ یعنی کہ عام لوگ جو معنے کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی گمراہ نہیں ہوئے اور جو شخص مسلمان ہو کر یہ اعتقاد رکھے کہ کبھی آنحضرتﷺ نے اپنی عمر میں ضلالت کا عمل کیا تھا تو وہ کافر ہے ،بے دین ہے اور حد شرعی کے لائق ہے بلکہ آیت کے اِس جگہ وہ معنی لینے چاہئیں جو آیت کے سیاق و سباق سے ملتے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اللہ جلّ شانہ نے پہلے آنحضرت ﷺ کی نسبت فرمایا:اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْمًا فَاٰوٰی۔ وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَھَدٰی۔ وَوَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی۔(الضحیٰ:7-9) یعنی خدا تعالیٰ نے تجھے یتیم اور بیکس پایا اور اپنے پاس جگہ دی اور تجھ کو ضال یعنی عاشقِ وجہِ اللہ پایا۔ اللہ تعالیٰ کا عاشق پایا۔ پس اللہ تعالیٰ اپنی طرف تجھے کھینچ لایا اور تجھے درویش پایا پس اس نے تجھے غنی کر دیا۔ (ماخوذ از آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 170-171)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ ’’چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پاک باطنی و انشراح صدری و عصمت و حیا وصدق و صفا و توکل و وفا اور عشق الٰہی کے تمام لوازم میں سب انبیاء سے بڑھ کر اور سب سے افضل و اعلیٰ و اکمل و ارفع و اجلیٰ و اصفا تھے اس لئے خدائے جلّ شانہ نے ان کو عطر کمالات خاصہ سے سب سے زیادہ معطر کیا۔ اور وہ سینہ اور دل جو تمام اوّلین و آخرین کے سینہ و دل سے فراخ تر و پاک تر و معصوم تر و روشن تر تھا وہ اسی لائق ٹھہرا کہ اس پر ایسی وحی نازل ہو کہ جو تمام اوّلین و آخرین کی وحیوں سے اقویٰ و اکمل ہو‘‘۔ یعنی بہت مضبوط اور مکمل ہو۔ اور ارفع و اتم ہو۔ اور بہت بلند اور کامل ہو۔ کامل ہوکر صفات الٰہیہ کے دکھلانے کے لئے ایک نہایت صاف اور کشادہ اور وسیع آئینہ ہو۔اس آئینے میں ،اس شیشے میں اللہ تعالیٰ کی صفات کو بھی دیکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات کا ہر پہلو ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں بھی اور آپؐ کی تعلیم میں بھی نظر آتا ہے۔
فرمایا :’’سو یہی وجہ ہے قرآن شریف ایسے کمالات عالیہ رکھتا ہے جو اس کی تیز شعاؤں ا ور شوخ کرنوں کے آگے تمام صحف سابقہ کی چمک کالعدم ہو رہی ہے۔‘‘ یعنی تمام صحف سابقہ اور ان کے کلام کی چمک اس کے سامنے کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی۔’’کوئی ذہن ایسی صداقت نکال نہیں سکتا جو پہلے ہی سے اس میں درج نہ ہو۔‘‘ قرآن کریم میں ہر چیز موجود ہے اور کوئی ایسی بات نہیں ہے جو دنیا کاانسان پیدا کر سکے یا نکال سکے اور قرآن شریف میں موجود نہ ہو۔ ہاں !سمجھنے کی ضرورت ہے۔ فرمایا: ’’کوئی فکر ایسے برہان عقلی پیش نہیں کر سکتا جو پہلے ہی سے اس نے پیش نہ کی ہو۔ کوئی تقریر ایسا قَوی اثر کسی دل پر ڈال نہیں سکتی جیسے قَوِی اور پُربرکت اثر لاکھوں دلوں پر وہ ڈالتا آیا ہے‘‘ یعنی قرآن کریم۔ فرمایا کہ’’وہ بلاشبہ صفات کمالیہ حق تعالیٰ کا ایک نہایت مصفّا آئینہ ہے جس میں سے وہ سب کچھ ملتا ہے جو ایک سالک کو مدارج عالیہ معرفت تک پہنچنے کے لئے درکار ہے۔ ‘‘ (ماخوذ از سرمہ چشم آریہ،روحانی خزائن2صفحہ71-72حاشیہ)
پس اب جو تعلیم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری وہ بھی ایسی پاک تھی جو سب چیزوں سے بالا تھی ۔سب تعلیموں سے بالا تھی ۔سب صحیفوں سے زیادہ بلند تھی ۔مکمل اور کامل تعلیم ہے قرآن کریم کی۔ اس لیے آپؐ کا وجود بھی اس تعلیم کا حامل ہے یعنی وہ بھی مکمل اور کامل ہے۔ آپؐ نے یہ ثابت فرمایا ہے کہ جو کتاب آپؐ پر نازل ہوئی وہ اسی وجہ سے ہوئی کہ آپؐ کا وجود سب انسانوں سے کامل ہے اور آپؐ ہی وہ کامل انسان ہیں جن کے مقام تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ ہاں! اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے تمہارے لیے اسوہ ہے، ان کی پیروی کرنے کی کوشش کرو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے ذریعہ یہ بھی اعلان کروا دیا کہ لوگوں کو بتا دو کہ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَاللّٰہُ غُفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔(اٰل عمران:32) تُو کہہ دے کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو اس صورت میں وہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے قصور بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ سے محبت حاصل کرنے کے طریق بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے ہی سیکھنے ہوں گے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: حضرت محمدﷺ کی محبت اور عبادت الٰہی کا بہترین نمونہ



