متفرق شعراء
شانِ خلافت
نِگاہِ اُلفَتِ حضرت، سکونِ جانِ مومن ہے
اُسی کی ذات سے روشن دل و ایقانِ مومن ہے
وہ ہے محبوبِ سبحانی، کرے اُس گھر کی دربانی
اُسی کے فیض سے قائم دلِ حیرانِ مومن ہے
وہی وارث، وہی مظہر، وہی آئینۂ احمدؐ
اُسی کے دم سے قائم آج بھی وجدانِ مومن ہے
ادب گاہِ حضوری میں نہ ہو غفلت قدم بھر بھی
حق و باطل میں باقی اک یہی فرقانِ مومن ہے
اُسی کی ہر نصیحت کو ہمیشہ غور سے سننا
کہ اُس کا ہر سخن سرمایۂ ایمانِ مومن ہے
کبھی تم چھوڑ مت دینا خلافت کی اطاعت کو
جُدا اُس سے کبھی دل ہو وہی زندانِ مومن ہے
خدا کے فضل سے قائم ہوا یہ سلسلہ حقّہ
اسی میں دین کی عزت، اسی میں شانِ مومن ہے
(طاہر احمد۔ فن لینڈ)
مزید پڑھیں: وہ سارے نبیوں میں ایک ہیرا الٰہی نور و ضیا کا خاتَم



