متفرق شعراء
سچ نکھرتا ہے ابتلاؤں میں

سچ نکھرتا ہے ابتلاؤں میں
لطف آتا ہے پھر دعاؤں میں
وہ جو اپنے لہو سے سینچے تھے
دیپ جلتے رہے ہواؤں میں
میں نے اس کی دعا سے دیکھا ہے
پھول کِھلنے لگے خزاؤں میں
وجہِ تخلیقِ کائنات ہے وہ
ہے جو بےمثل مہ لقاؤں میں
یہ بھی اُس کے کرم کا صدقہ ہے
عمر گزری مری وفاؤں میں
اُس کی چوکھٹ پہ جب بھی جاتا ہوں
سر جھکاتا ہوں التجاؤں میں
اُس کی صحبت کا ہے اثر، افضل
نام آتا ہے دلرباؤں میں
(افضل مرزا ۔ کینیڈا)
مزید پڑھیں: دامنِ مولیٰ پکڑنے کا ہے وقت



