حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ اراکین نیشنل عاملہ مجلس خدام الاحمدیہ و مجلس اطفال الاحمدیہ کینیڈا نیز قائدین مجالس کی ملاقات

دوسروں کو نہ دیکھیں کہ وہ کیا کرتے ہیں، اپنے اندر ایک تبدیلی پیدا کر لیں۔ نوجوان اگر تبدیلی پیدا کر لیں گے تو اُمید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ نسلوں میں دین قائم رہے گا۔ لیکن ہم ہی اگر سُست ہو گئے تو آئندہ نسلوں کی ضمانت تو نہیں دی جا سکتی

مورخہ ۴؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء، بروزاتوار، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے اراکینِ نیشنل عاملہ مجلس خدام الاحمدیہ و اطفال الاحمدیہ اور قائدینِ مجالس کے ایک وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں واقع ایوانِ مسرور میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات کی غرض سے کینیڈاسے اسلام آباد (ٹِلفورڈ) کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔

ملاقات کا باقاعدہ آغاز دعا سے ہوا۔ بعدازاں تمام شاملین مجلس کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے اور اپنی مفوّضہ ذمہ داریوں کی بابت بیش قیمت راہنمائی حاصل کرنے کا بھی موقع ملا۔

مہتمم تربیت سے گفتگو کے دوران حضورِ انور نے شعبہ تربیت کے بنیادی اصول اور ترجیحات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ نمبر ایک، تربیت کا اثر تب ہوگاجب خود بھی اپنا عمل ٹھیک ہو۔ نمبر دو، تربیت ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے، اس لیے دو نفل روزانہ پڑھا کریں۔ خدام کے لیے دعا کیا کریں۔ اپنے لیے بھی اور لوگوں کے لیے بھی۔

پھر حضورِ انور نے فرمایا کہ اب بتائیں تربیت کیا کرتے ہیں؟

اس پر مہتمم تربیت نے نماز باجماعت کی ترویج کے متعلق کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا کہ اس سال تمام تر توجہ اقامتِ نماز پر ہی مرکوز رہی ہے۔

حضورِ انور نے پیش کیے گئے تجنید کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے نماز سینٹرز میں حاضری کے تناسب کی بابت دریافت فرمایا کہ وہ کہتے ہیں کہ ۷۹۰۰؍تجنید ہے، کتنے لوگ ہیں کہ جو نماز سینٹر میں نماز پڑھتے ہیں؟مہتمم تربیت نے نماز باجماعت ادا کرنے والوں کی حاضری کی صورتِ حال سے آگاہ کرتے ہوئے عرض کیا کہ سائق فارم کے دستیاب ڈیٹا کے مطابق تقریباً ۱۸؍ فیصد احباب ایسے ہیں کہ جو نماز سینٹر میں ایک یا ایک سے زائد نمازیں ادا کر رہے ہیں۔

اس پر حضورِ انور نے بقیہ احباب کے حوالے سے اصلاح کی گنجائش کی طرف توجہ دلاتے ہوئے استفہامیہ انداز میں استفسار فرمایا کہ باقی ۸۲؍ فیصد معاف کرا کے آئے ہیں؟

جس پر مہتمم تربیت نے عاجزانہ اعتراف کرتے ہوئے عرض کیا کہ ان احباب کی اصلاح اور حاضری کو بہتر بنانے کے لیے ابھی بہت گنجائش موجود ہے۔

حضورِ انور نے جلسہ و اجتماعات و دیگر مواقع پر ارشاد فرمودہ خطابات کے عملی نفاذ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ابھی مَیں نے خدام الاحمدیہ کے اجتماع پر یہاں کہا تھا۔ اس کے بیچ بیچ میں سے پوائنٹس نکال کے آگے بھجوانے چاہیے تھے۔ خدام الاحمدیہ یوکے کے اجتماع پر تقریر تربیت کے بارے میں ہی تھی۔ تو اس کے پوائنٹس نکال کے آپ نے ساروں کو دیے ہیں؟

اس پر مہتمم تربیت نے عدم تعمیل کا اعتراف کرتے ہوئے عرض کیا کہ اس کے نکات نہیں بھجوا سکے۔

جس پر حضورِ انور نے ان بصیرت افروز خطاباتِ مبارکہ سے نکات مرتّب کرنے اور ان کی عالمگیر افادیت کو اُجاگر کرتے ہوئے راہنمائی عطا فرمائی کہ پھر یہ صرف یو کے والوں کے لیے تو نہیں تھی۔ ساری دنیا کو یہ دینا چاہیے، جو آپ لوگ بڑی جماعتیں ہیں، ان کو تو خاص طور پر دیکھنا چاہیے۔

تربیت کے بنیادی کردار کو واضح کرتے ہوئے حضورِ انور نے اسے دیگر شعبہ جات کے مسائل کے حل کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ تربیت ہی ایک ایسی چیز ہے، تربیت کر لیں گے تو باقی سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ نہ مال والوں کو کوئی problemگی، نہ اُمورِ عامہ والوں کو رہے گی، نہ رشتہ ناطہ والوں کو رہے گی، نہ جماعت میں اُمورِ عامہ کو رہے گی، نہ قائدین کے لیےمسائل پیدا ہوں گے۔

تنظیمی سطح پر رابطوں کے فروغ اور جامع منصوبہ بندی کی اہمیت کواُجاگر کرتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ اگر تربیت کا شعبہ آپ کا فعّال ہو جائے، اور جو آپ کےان کی مختلف قیادتوں میں respectiveناظمینِ تربیت ہیں،ان کے ساتھ رابطہ ہو، ان کو اپنا پروگرام دیں تا کہ وہ پھر اپنا پورا پلان بنائیں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔

اسی تناظر میں حضورِ انور نےآئندہ کے اہداف کے متعلق دریافت فرمایا کہ تو ٹارگٹ پھر آپ نے کیا رکھا ہے، ۱۸؍پرسنٹ آپ کی نمازوں میں حاضری ہے تو اس دفعہ آپ نے کیا ٹارگٹ رکھا ہے؟

اس پرمہتمم تربیت نے عرض کیا کہ ابھی تک اگلے سال کا کوئی ہدف مقرر نہیں کیاتاہم ان شاء اللہ اس سے زیادہ رکھیں گے۔

جس پرحضورِ انور نے بروقت منصوبہ بندی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے توجہ دلائی کہ ان شاء اللہ پر عمل کرتے رہے، تو پھر ایک سال گزر جائے گا۔ مہینہ تو رہ گیا ہے اس سال کا۔ ابھی ان شاء اللہ ہی ہے تو ماشاء اللہ کب آئے گا؟ تربیت کوئی چھوٹا موٹا کام نہیں ہے۔ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔

حضور انور ِنے باہمی تعاون کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے یاد دلایا کہ صدر صاحب کو بھی پتا ہونا چاہیے کہ ذمہ داری ہے۔آپ کا آدھا کام تو ان کو کرنا چاہیے۔

اسی طرح دریافت فرمایا کہ اور یہاں کون نائب صدر ہے کہ جو تربیت کا کام کر رہا ہے؟

نشاندہی پر حضورِ انور نے متعلقہ نائب صدر کو مخاطب کرتے ہوئے ہدایت فرمائی کہ ان کی مدد کیا کرو۔

اس پر متعلقہ نائب صدر صاحب نے ان شاء اللہ کے دعائیہ کلمات ادا کیے، تو حضورِ انور نے فرمایا کہ ان شاء اللہ کہنا بڑی اچھی بات ہے، لیکن ان شاء اللہ کا مطلب، ان شاء اللہ ہوتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی حضورِ انور نے ان شاءاللہ کے حقیقی مفہوم کو ایک سبق آموزمثال کے ذریعے سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ اس بچے کی طرح ان شاء اللہ نہ کہو کہ جو اپنی ماں کے ساتھ ایئرپورٹ پر کھڑا تھا۔ اور جہاز گزر رہے تھے ۔ انہوں نے جہاز پر جانا تھا۔ وہ بڑا desperateتھا۔ اس کو بڑی جلدی تھی کہ مَیں بھی جہاز پرچڑھوں۔ تو جہاز جا رہے تھے۔ وہ رونے لگ گیا کہ یہ سارے جہاز جا رہے ہیں، ہم کیوں نہیں بیٹھتے، تو ماں نے کہا کہ ان شاء اللہ ابھی ہم چلتے ہیں۔ تو وہ زمین پر لیٹ کے اور زیادہ رونے لگ گیا۔ ماں نے کہا کہ مَیں نے کہا تو ہے کہ ان شاء اللہ ابھی جاتے ہیں۔ وہ کہنے لگا کہ امّی! جب آپ ان شاء اللہ کہتی ہیں تو وہ کام ہوتا ہی نہیں۔ حالانکہ ان شاء اللہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو گواہ بنایا ہے تو کام کرنا ہے۔

مزید برآں حضورِ انور نےشعبہ تربیت کے بنیادی لائحہ عمل کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ نمازوں کی طرف آپ اگر ساروں کولے آئیں اور قرآنِ کریم پڑھنے کی طرف لے آئیں، دو کاموں کی طرف لے آئیں تو باقی سارے کام آسان ہو جائیں گے۔

خاندانی اور معاشرتی حالات میں بگاڑ اور شعبہ تربیت کی ہمہ گیر اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ آپ کے رشتے بھی صحیح طرح قائم نہیں رہتے ،نوجوانوں میں بھی بڑی جلد بازی ہے، لڑکوں میں بھی اور لڑکیوں میں بھی۔ رشتے ٹوٹتے ہیں یا گھروں میں سکون نہیں ہے اور جماعتی نظام میں آتے ہیں تو وہاں پُوری اطاعت نہیں ہے۔ تو یہ ساری چیزیں تربیت سے تعلق رکھتی ہیں اور یہ ایک ایسا شعبہ ہے کہ جوبہتimportant ہے۔ آپ اس کی اہمیت کو سمجھیں ۔

مؤثر منصوبہ بندی اور کارکردگی کے جائزے کے لیے فیڈبیک لینے کی بابت حضورِ انور نے ہدایت فرمائی کہ اس کے لیے پہلے لانگ ٹرم ماسٹر پلان بنائیں۔ایک شارٹ ٹرم پلان بنائیں اور پھر اس کے رزلٹ دیکھا کریں۔ یہ نہیں کہ ہم نے یہ کہا۔ اس کے بعد قیادتوں سے فیڈ بیک لیا کریں کہ جو کہا اس پر عمل کیا؟کیا تو کتنے پرسنٹ کیا؟ اور کون سی قیادت نے زیادہ اچھا عمل کیا۔

حُسنِ کارکردگی کو جانچنے کے حوالے سے حضورِ انور نے عَلمِ انعامی کے مروجہ معیار پر روشنی ڈالتے ہوئے توجہ دلائی کہ آپ عَلمِ انعامی دینے لگے ہیں۔ وہاں آپ نے جو سوال نامہ بنایا ہوا ہے، جو اس کاcriteriaہے، اس میں نمازیں بھی لکھا ہوا ہے اور یہ بھی، وہ بھی۔ اب اس میں اگر کوئی گپ مار دے، تو اَور بات ہے لیکن کوئی بھی جو ہے وہ جو required چیزیں آپ کو چاہئیں، اس پر ٢٠؍ پرسنٹ بھی عمل نہیں ہوتا۔ اور جو ٣٠؍ پرسنٹ کرتا ہےتواس کو آپ عَلم ِانعامی دے دیتے ہیں۔ حالانکہ امتحانوں میں بھی، تیسری دنیا میں، تھرڈ ورلڈ میں، غریب ملکوں میں بھی، وہاں بھی پرائمری سکول میں پاس ہونے کے لیے ٣٣؍ پرسنٹ چاہئیں۔ تو یہ چیزیں سوچنے والی ہیں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ اس لحاظ سے سوچا کریں۔ اس لحاظ سے پلاننگ کیا کریں۔ آپ لوگ بھی، نائب ناظمین بھی، قائدین بھی، اطفال کی عاملہ بھی، سارے اگر اس نہج سے سوچیں گے تو پھر ترقی ہوگی۔ نہیں تو ایکroutine چل رہی ہے۔ صدر صاحب نے ایک عاملہ بنا دی۔ چھ، سات نائب صدر بنا دیے اور مہتممین بنا دیے۔ ہر ایک کوشعبہ مل گیا۔ مہینے میں شاید ایک میٹنگ کر لی۔ میٹنگ میں بہت سارے لوگ حاضر ہوئے اور بہت سارے آن لائن شامل ہو گئے۔بس میٹنگ ہو گئی، کارروائی ہو گئی، منٹس بن گئے۔ وہ فائل میں لگ گئےاور کام ختم۔ اس طرح جماعتیں نہیں چلا کرتیں اور نہ ہی اس سے تربیت کا کوئی حق ادا ہوتا ہے۔

حضورِ انور نے تلاوتِ قرآنِ کریم کرنے والوں کی تعداد کی بابت دریافت کرتے ہوئے استفسار فرمایا کہ اس کے علاوہ کیا کرتے ہیں؟ قرآنِ شریف پڑھنے والے کتنے ہیں؟

مہتمم تربیت نے عرض کیا کہ دستیاب ڈیٹا کے مطابق تقریباً چار ہزار افراد باقاعدگی سے تلاوت کرتے ہیں۔

اس پر حضور انور نے تلاوتِ قرآنِ کریم کا رجحان پیدا کرنے اور اس کے فروغ کے لیے عملی تدابیرکی بابت ترغیب دلاتے ہوئے فرمایا کہ اگر آپ کی عاملہ پُوری طرح کرنے والی ہو، تو یہpercentageبڑھ سکتی ہے۔ پھر ترجمہ پڑھیں۔ ان کے لیے بھی آپ چھوٹے چھوٹے میسج بھیج سکتے ہیں، کلپ بنا کے بھیج سکتے ہیں، وہ آگے دے سکتے ہیں۔ لوگوں کو پڑھنے کا زیادہ شوق نہیں۔ لیکن عادت یہ ڈالیں کہ فجر کی نماز کے بعد پندرہ منٹ کم از کم قرآنِ شریف کی تلاوت کرنی ہے۔

نماز اور تلاوت کو دین کی اساس قرار دیتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ یہی چیز ہے، اس کے بغیر تو دین ہی نہیں ہے۔ پہلے یہ ہے کہ دین نماز کے بغیر نہیں۔ ابھی مَیں نے تقریر میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بیان کی تھی کہ جس دین میں عبادت نہیں وہ دین نہیں۔ تو جب دین نہیں، تو پھر ہم احمدی کس طرح کہلا سکتے ہیں؟ تو بہت گہرائی میں جا نا پڑے گا۔پہلے تو یہ ٹارگٹ مقرر کریں کہ ہم نے سو فیصد نمازی بنانے ہیں۔

نوجوان نسل کی دینی تربیت اور آئندہ نسلوں کے ایمان کے تحفّظ کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے حضورِ انور نے ذاتی اصلاح کی بابت نہایت فکر انگیز انداز میں توجہ مبذول کروائی کہ انصار کو نہ دیکھیں، دوسروں کو نہ دیکھیں کہ وہ کیا کرتے ہیں، اپنے اندر ایک تبدیلی پیدا کر لیں۔ نوجوان اگر تبدیلی پیدا کر لیں گے تو اُمید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ نسلوں میں دین قائم رہے گا۔ لیکن ہم ہی اگر سُست ہو گئے تو آئندہ نسلوں کی ضمانت تو نہیں دی جا سکتی۔

موجودہ عالمی کشیدگی اور جنگوں کے خطرات کے تناظر میں حضورِ انور نے دنیوی تباہی سے بڑھ کر روحانی تباہی کے خطرات کی بابت توجہ دلاتے ہوئے متنبّہ فرمایا کہ ہم دنیا والوں کو ڈراتے ہیں کہ تم جنگ میں پڑے ہوئے ہو، اَور جنگ ہو گی تو بڑی شدید ہوگی۔ ایٹم بم پڑیں گے ،تباہی ہوگی، بم پڑیں گے۔ قومیں تباہ ہو جائیں گی۔ جو بچے پیدا ہوں گے، وہ معذور پیدا ہوں گے، malformedہوں گے۔ لیکن اس سے بڑی وارننگ یہ ہے کہ جو ہوں گے، وہ کہیں گے کہ ہمیں ہمارے بڑوں نے دین نہیں سکھایا۔ تو یہ اس سے بھی بڑی خطرناک وارننگ ہے جو ہمیں ہر ایک کو دینی چاہیے ۔ لیکن پیار سے، نرمی سے۔

تربیت کے عمل میں مستقل مزاجی اور حکمت و نرمی کے ساتھ مسلسل نصیحت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے حضورِ انور نے ہدایت فرمائی کہ اپنے ناظمین کو بھی کہیں، قائدین کو بھی کہیں کہ مستقل مزاجی سے تربیت کرتے رہیں۔ نہ ایک دفعہ کہہ کے کام ہوتا ہے، نہ ایک دفعہ کہہ کے کام سے رک جانا چاہیے یاdisappointہو جانا چاہیے، یہ کچھ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو قرآنِ شریف میں فرمایا ہے کہ نصیحت کرو اَور کرتے جاؤ۔ اس لیے ہم نے جب تک اپنا ٹارگٹ نہیں بنا لینا، اس وقت تک نصیحت کرتے چلے جانا ہے۔

تربیت کی غیر معمولی اہمیت کے پیشِ نظر حضورِ انور نے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی کی مثال سے اس ذمہ داری کے گہرے احساس کو اُجاگر فرمایا کہ اس لحاظ سے ایک پلان بنائیں اور صدر صاحب سوچیں۔ تربیت کا ایک بڑاcomprehensiveپلان ہونا چاہیے۔ اس کو چھوٹا موٹا نہ سمجھیں، آپ کی ساری بنیاد جو ہے وہ تربیت کے اُوپر ہے۔ مہتمم تربیت تو وہی ہے کہ جو اپنے آپ کو یہ سمجھے گا کہ میرا ہاتھ حضرت طلحہ رضی الله عنہ کا ہاتھ ہے، اگر ہِلا تو سب زخمی ہو جائیں گے، تو صدر صاحب اور آپ دونوں مل کر تربیت کریں اور نائب صدر صاحب بھی۔

بعد ازاں مہتمم مال سے گفتگو کے دوران حضورِ انور نے شعبہ تربیت اور شعبہ مال کے باہمی تعلق کو واضح کرتے ہوئے عملی نمونوں کی اہمیت پر زور دیا کہ اب تربیت کا شعبہ اگر اچھا ہو جائے تو مال بھی ٹھیک ہو جائے گا۔ کوئی مثال قائم کرنے کے لیے ایک نمونہ چاہیے۔ تو نمونہ تو آپ لوگ ہی ہیں۔ اپنی نمازوں کے نمونے تربیت کے شعبے میں بنائیں۔ قرآن پڑھنے کے نمونے ہر لیول کی عاملہ بنا لے۔

اسی طرح حضورِ انور نے چندوں کے معاملے میں سچائی اور دیانتداری اختیار کرنے اور مالی مجبوری کے باعث کم شرح پر چندہ دینے کی گنجائش کو واضح کرتے ہوئے اس اَمر پر زور دیا کہ چندوں کے بارے میں سچ بولیں۔ بعض کے حالات ایسے ہوتے ہیں، بڑےgenuineہوتے ہیں کہ چندہ نہیں دے سکتے، کیونکہ جماعتی چندے بھی دے رہے ہیں، تحریکوں کے چندے بھی دے رہے ہیں۔ تو اگر وہ خدام الاحمدیہ کا چندہ کم شرح پر بھی دیتے ہیں، تو کم از کم بتا دیں۔ تربیت کا یہ بھی ایک کام ہے، جھوٹ کو بھی eradicate کرنا، اپنے اندر سے، صفحہ ہستی سے مٹا دینا۔ تو اس کے بعدجو دیتے ہیں، وہ ٹھیک ہے۔ جو نہیں دیتے، تو ان سے بھی کہیں کہ اگر آپ نہیں دے سکتے تو نہ دیں، لیکن یہ کہہ دیں کہ مَیں اتنا چندہ دے سکتا ہوں۔ اتنا تو کم از کم لکھ کے دینا چاہیے۔ زیادہ گہرائی میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ پھر لوگ چِڑ جاتے ہیں۔

مہتمم صحتِ جسمانی سے حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ گیم کیا کرتے ہیں؟ اس پر انہوں نے عرض کیا کہ اس وقت تو کھیل کچھ رکی ہوئی ہے۔ حضورِ انور نے مزید دریافت فرمایا کہ پہلے کیا کرتے تھے، جب کھیل نہیں رکی تھی تو تب کیا کرتے تھے؟ اس پر انہوں نے عرض کیا کہ اس وقت وہ باسکٹ بال اور وَالی بال کافی کھیلتے تھے۔

جس پر حضورِ انور نے ازراہِ شفقت مسکراتے ہوئے دریافت فرمایا کہ اچھا! بال bucketکر لیتے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ حضور! کوشش ہوتی ہے۔

تو حضورِانور نے مسکراتے ہوئے تبصرہ فرمایا کہ اگر جمپ لیتے بھی ہوں گے تو منگلے [نیشنل مجلسِ عاملہ کے ایک دراز قد ممبر]سے نیچے ہی رہتے ہوں گے۔اس پر تمام شاملینِ مجلس بھی مسکرا دیے۔

اسی تناظر میں پھر حضورِ انور نے از راہِ شفقت پست قامت کے باوجود باسکٹ بال میں غیر معمولی مہارت کی مثال دیتے ہوئے ٹی آئی کالج کے ایک کھلاڑی کا دلچسپ واقعہ بیان فرمایا کہ ویسے تو چھوٹے قد والے بھی بعض بڑا اچھا کھیلتے ہیں۔ ہمارے ٹی آئی کالج میں ایک ٹیم تھی، ہمارے وہاں ایک باسکٹ بال کے پلیئر تھے، ٹی آئی کالج کی ٹیم میں تھے۔ بڑے اچھے تھے اور ان کا سلطان نام تھا۔ اور پھر ان کو اسی بنیاد پر یونیورسٹی میں داخلہ بھی مل گیا۔ کہلاتے وہ سلطان شُرلی تھے، شُرلی کہتے ہیں کہ جو بڑا تیز ہوتا ہے۔ وہ چھوٹے قد کا تو تھا، لیکن یوں دائیں بائیں ہو کے لوگوں کی ٹانگوں میں سے گزر کے، جا کےbucketکر دیتا تھا۔ تو اچھا تھا۔ لیکن active تھا ماشاء اللہ۔آپ کی طرح چھوڑی ہوئی صحت تو نہیں تھی اس کی۔

دورانِ ملاقات حضورِ انور نے قائدین کو مخاطب کرتے ہوئے مہتممین کو فرمودہ ہدایات کے ان پر بھی اطلاق پانے کی بابت ارشاد فرمایا کہ باتیں آپ نے سُن لیں، جو اِن مہتممین کا کام ہے، وہی قائدین کا کام ہے۔ قائدین اگر اپنی اپنی جگہوں پر active ہوں اور سارے سسٹم کو سمجھتے ہوں، خود اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوں، تو سارا نظام ٹھیک ہو سکتا ہے۔Root لیول پر اگر کام صحیح ہو رہے ہوں تو اُوپر تک صحیح جاتے ہیں۔ اس لیے جو مہتممین کی ذمہ داری ہے، اس سے بڑھ کر آپ لوگوں کی ذمہ داری ہے۔ آپ کی چھوٹی سی عاملہ بھی ہوتی ہے، تو اس سے کام لینا اور اس کے سامنے اپنے نمونے قائم کرنا، دینی حالت کا، روحانی حالت کا، اخلاقی حالت کا، یہ عہدیدار کا نمونہ ہونا چاہیے۔

قائدین کو اپنی روزانہ کی حالت کا جائزہ لینے اور عملی نمونہ قائم کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ اپنی روزانہ کی حالت کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ گراف اُوپر جا رہا ہے یا نیچے۔ کیونکہ دنیاوی ترقی ہمارے اصل ٹارگٹس نہیں ہیں، نہیں تو وہ کہہ دیں گے کہ قائد صاحب، ناظم صاحب پہلے اپنی اصلاح کریں، پھر ہماری اصلاح کریں۔ تو چھوٹی ذمہ داری نہیں ہے۔ آپ اپنے اپنے حلقے میں وہی ذمہ داریاں رکھتے ہیں کہ جو صدر صاحب نیشنل لیول پر رکھتے ہیں۔

موجودہ دَور کے فتنوں اور مادہ پرستانہ رجحانات سے بچاؤ کے لیے فکری بیداری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تبھی تو فرمایا تھا؂

ہم تو جس طرح بنے کام کیے جاتے ہیں

آپ کے وقت میں یہ سلسلہ بدنام نہ ہو

تو یہ ذمہ داری لینی پڑے گی کہ ہم نے صرف تقریریں کر کے یا تقریریں سُن کے یا ترانے پڑھ کے کہ ہم طلحہ(رضی الله عنہ) بن جائیں گے، طلحہ(رضی الله عنہ) کا بازو بن جائیں گے، طلحہ(رضی الله عنہ) کا ہاتھ بن جائیں گے۔اس سے کچھ نہیں ہو گا ۔ اس کے لیے عمل کی ضرورت ہے۔اور عمل نچلے لیول پر، ناظمین کے لیول پر، قائدین کے لیول پر ہونا ضروری ہے۔

پھر حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ ناظمین بھی آئے ہوئے ہیں؟

نفی میں جواب سماعت فرما کر حضورِ انور نے تلقین فرمائی کہ تو پھران ناظمین کو جا کے آپ نے بتانا ہے اور ان کو تیز کرناہے۔ ان کو ذمہ داریوں کا احساس دلانا ہے۔ لیکن اس سے پہلے اپنے آپ کو دیکھنا ہو گا تا کہ وہ یہ نہ کہیں کہ قائد صاحب پہلے اپنی اصلاح کریں پھر میری اصلاح کریں۔ اسی طرح مہتممین ہیں۔ اسی طرح اطفال کی عاملہ ہے۔

اطفال الاحمدیہ کی تربیت اور عمر کے ساتھ بڑھنے والی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کے حوالے سے حضورِ انور نے فرمایا کہ اطفال کی عاملہ کی بڑی ذمہ داری ہے، کیونکہ بچوں کو سنبھالنا ہے۔ اطفال تک تو بڑے اچھے ہوتےہیں، active ہوتے ہیں، کیونکہ شاید وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں ابھی آزادی نہیں ہے۔ بات مان لیتے ہیں۔ سولہ سترہ سال تک بھی بات مان لیتے ہیں۔ لیکن جب اٹھارہ سال کو پہنچتے ہیںتو آزاد ہو جاتے ہیں، سمجھتے ہیں کہ اب ہم آزاد ہیں۔ تو اطفال الاحمدیہ کی بھی ایسی تربیت ہو کہ ان کو پتا ہو کہ ہم نے خادم ہو کے بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہے اور جو روح ہے، دین کو دنیا میں مقدّم رکھنے کی، عہد کی اس کو پُورا کرنا ہے۔

ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر دین کو دنیا پر مقدّم رکھنے اور حق گوئی اور عدل کے تقاضوں پر کماحقہ عمل کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضورِ انور نے ایمان افروز نصیحت فرمائی کہ اصل چیز یہ ہے، جو قائدین کے لیے بھی اور مہتممین کےلیے بھی بہت مشکل کام ہے کہ دین کو دنیا پر مقدّم کرنے کا عہد تو ہم کرتے ہیں، اس پر عمل کروانا اور خود عمل کرنا بھی بہت مشکل کام ہے ۔ بعض باتیں ایسی ہیں، جب پرسنل معاملات آتے ہیں تو پھر انسان اپنے انٹرسٹ کو دیکھ لیتا ہے۔ اس وقت دیکھنا چاہیے کہ قرآنِ کریم کیا کہتا ہے کہ اگر تمہیں اپنے خلاف بھی گواہی دینی پڑے تو دو۔ قرآن تو یہی کہتا ہے۔ اب کوئی دیکھے اور سوچے کہ اپنے خلاف اگر کہیں موقع آئے گواہی دینے کاتو ہم دے سکتے ہیں؟ ہمارے میں اتنا حوصلہ ہے؟ ہمارا ایمان اتنا ہے؟ ہم تو اپنے رشتہ دار کا معاملہ آ جائے، بھائی بہن کا، تو وہاں بھی جھوٹی گواہی دے جاتے ہیں تو اپنے خلاف کہاں سے دینی ہے؟ اس لیےبہت سوچنے سمجھنے والی باتیں ہیں کہ جن کی ضرورت ہے۔

دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضور انور کی خدمت میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جوابات کی روشنی میں حضورِانور کی زبانِ مبارک سے پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

ایک خادم نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ کینیڈا میں بہت سے خاندانوں میں والدین دونوں ملازمت کرتے ہیں جس کی وجہ سے بچوں کے ساتھ ان کا مطلوبہ رابطہ نہیں رہتا اور تربیت کا موقع نہیں ملتا۔ ایسی صورت میں مجلس خدام الاحمدیہ کو ان بچوں کو جماعت کے ساتھ جوڑے رکھنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

parentsکو تو مَیں مختلف جگہوں پر، خطبوں میں، تقریروں میں مستقل سمجھاتا رہتا ہوں۔ آپ بھی سمجھاتے رہیں۔پہلے ڈیٹا لیں، انفارمیشن لیں کہ آپ کی کتنی تجنید ہے، کتنے لوگ وہاں رہتے ہیں۔ کتنےparentsہیں کہ جو دونوںjobکرتے ہیں۔کتنےparentsہیں کہ جن کے بچے neglected ہیں، وہ کیا محسوس کرتے ہیں؟ ان بچوں کی اپنی کیا کیا خواہشات ہیں؟ وہparentsسے کیا چاہتے ہیں اور جماعت سے کیا چاہتے ہیں؟ تو یہ ساری انفارمیشن پہلے لینی ہوگی۔ اس لیول پر basicکام کریں۔ یہ انفارمیشن اکٹھی ہوجائے تو پھر آپ پلان کر سکتے ہیں۔

حضورِ انور نے اس اَمر کا بھی اظہار فرمایا کہ اتنا تو مَیں کہہ دوں گا ، نصیحت میں بھی کر دوں، آپ بھی کر دیں تو بات ختم ہو گئی ۔ لیکن ہمارے پاس انفارمیشن کوئی نہیں۔ آپ نے یہ کہہ دیا کہ جو کام کرتے ہیں، اب بتائیں کہ آپ کے حلقے میں جماعت کی کتنی تعداد ہے؟

اس پر جب عرض کیا گیا کہ فی الوقت ایسے والدین کے اعدادو شمار موجود نہیں ہیں، تو حضورِ انور نے حلقے میں موجود خاندانوں اور سنگل parentگھرانوں کے حالات کا جائزہ لینے اور ان کی تفصیلات جمع کرنے کی ہدایت کا اعادہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ڈیٹا لینا پڑے گا کہ آپ کے حلقے میں کتنی فیملیاں ہیں، چاہے وہ انصار میں سے ہیں یا خدام میں سے۔ کتنی فیملیاں ہیں کہ جو سنگلparentsکے طور پر ہیں، چاہے وہ عورتوں میں سے ہیں یا مردوں میں سے۔ مردوں میں تو کم ہی ہیں کہ جو بچوں کو پالتے ہیں، زیادہ تر عورتیں ہی ہیں۔ ان کے مسائل کھڑے ہوتے ہیں، پھر وہ علیحدہ ہو جاتی ہیں اور بچوں کو پال رہی ہوتی ہیں اور پھر ان کو مجبوراًjobبھی کرنا پڑتی ہے اور جبjobکرنا پڑتی ہے تو بچےneglectedہوتے ہیں۔

اسی طرح حضورِ انور نے مزید دریافت فرمایا کہ کتنے خاندان ایسے ہیں کہ جہاں دونوںparentsکام کررہےہیں؟کتنے ہیں جو ہفتے میں تین دن کام کر رہے ہیں، دو دن کام کر رہے ہیں یا گھر سے کام کر رہے ہیں؟ کتنے ہیں کہ جن کے بچے جب سکول سے آتے ہیں تو ماں باپ گھر میں نہیں ہوتے؟ کتنے ہیں کہ ماں باپ ان کے لیےگھر میں کچھ پکا کے چھوڑ کے جاتے ہیں کہ نہیں چھوڑ کے جاتے؟ کتنے ہیں کہ جن کو ماں باپ سے شکایت ہے۔

حضورِ انور نے اس بات پربھی زور دیا کہ یہ ساری انفارمیشن پہلےلینی پڑے گی ۔ اس کے بعد پھر آپ کو پلان کرنا پڑے گا۔

مزید برآں منصوبہ بندی کے لیے جامع معلومات کے حصول اور ہر فرد کے حالات کے مطابق الگ حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت کو واضح کرتے ہوئے حضورِ انور نے ایک عملی مثال کے ذریعے سمجھایا کہ دنیا میں یہی پلاننگ کا طریقہ ہے۔ تم پڑھے لکھے لوگ ہو، آپ عاملہ میں بیٹھے ہیں تو پلاننگ کے لیے ساری proper انفارمیشن ہونی چاہیے۔ تو آپ سارے detailed work کریں، تو پھر آپ کو پتا لگے گا کس کو کس طرح deal کرنا ہے۔ ہر ایک کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانک سکتے۔ ہر ایک کے لیے مختلف categories بنائیں گے تو پھر ان کے مطابق مختلف treatment ہوگی۔ جس کو ملیریا ہے، اس کو ملیریا کی دوائی دینی ہے، جس کو ٹائیفائڈ ہے، اس کو ٹائیفائڈ کی دوائی دینی ہے اور جس کو ہارٹ کی تکلیف ہے اس کو اس کی دوائی دینی ہے۔ ہر ایک کو آپ Paracetamol تو نہیں دے دیں گے؟

ایک شریکِ مجلس نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ موجودہ عالمی حالات جنگ کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں اور ہماری نسل نے ایسے بحران کا سامنا پہلے کبھی نہیں کیا۔ ایسے حالات میں ہم بحیثیت نیشنل عہدید اران خود کو روحانی اور عملی طور پر کس طرح تیار کریں تاکہ اپنے گھروں کو سنبھالتے ہوئے جماعت کے افراد کی مؤثر راہنمائی کر سکیں اور بیرونی حالات کے باوجود اپنی جماعتی سرگرمیوں کو احسن طریقے سے ادا کر سکیں؟

اس پر حضورِ انور نے تعلق باللہ کی اہمیت اور دنیاوی خواہشات سے بچنے کے حوالے سے یا د دلایا کہ ابھی مَیں نے یہی باتیں کی ہیں کہ اللہ سے تعلق پیدا کرو اور پھر اللہ سے تعلق پیدا ہوگاتو جو دنیاوی خواہشات ہیں وہ کم ہوں گی۔ دنیاوی خواہشات کم ہوں گی تو ان کا حصہ نہیں بنو گے۔ باقی جو تباہی دنیا میں آنی ہے اس کا حصہ تو بننا ہے۔ اُردو کا محاورہ ہے کہ آٹے کے ساتھ گُھن بھی پستا ہے۔ تو جب باقیوں پر تباہی ہوگی تو کچھ نہ کچھ تو نقصان ہوگا ۔ اس لیے سب سے بڑی بات تو یہی ہے کہ اللہ سےتعلق پیدا کریں۔

عالمی جنگوں اور مختلف ممالک کے حالات سے عبرت اور ان کے تناظر میں موجودہ صورتِ حال کا ادراک حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ عالمی جنگ تو ہونی ہے، تباہی آنی ہے، ہمیںexperienceنہیں ہے! تو کون سی قوم کوexperienceہوتا ہے؟ اگر عقلمند ہو تو دوسروں کو دیکھ کے ہی عبرت پکڑ لیتا ہے۔ نشان دیکھتا ہے۔ اتنی جنگیں ہوئی ہیں۔ عراق میں جنگ ہوئی، سیریا میں جنگ ہوئی، لیبیا میں بُرے حالات ہوئے، ایتھوپیا وغیرہ کے حالات بُرے ہیں، دنیا میں اور جگہ پاکستان میں حالات بُرے ہیں، انڈیا میں حالات بُرے ہیں۔ سارے حالات تو ہمیں سامنے نظر آرہے ہیں۔

ممکنہ حالات سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی اور مجلس خدام الاحمدیہ کی سطح پر پلاننگ کمیٹی کے قیام کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ مختلف جو مواقع پیدا ہوئے ہیں، ان کی باتیں مَیں کرتا رہتا ہوں، خود بھی تاریخ پڑھیں ۔دیکھیں، پھر پلان کریں۔ اورآپ لوگوں کا بڑا fertile دماغ ہے ، اپنی خدام الاحمدیہ کے لیول پربھی پلاننگ کمیٹی بنائیں ۔ پھر دیکھیں کہ کیا کیا صورتحال ہو سکتی ہے اور اس میں ہم نےکیا کرنا ہے؟

جواب کے آخر میں آفتوں اور مشکلات سے محفوظ رہنے کا اصل نسخہ بیان کرتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ سب سے بڑی بات تو یہی ہے کہ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ؂

آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے

جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذوالعجائب سے پیار

اور اس کی تصریح میں بیان فرمایا کہ بس اللہ سے پیار کرو۔ لیکن اللہ سے پیار کرنے کے لیے پھر اللہ کہتا ہے کہ میری مانو۔ وہ دیکھو کہ کہاں تک مان رہے ہو؟

ایک سائل نے حضورِ انور خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ آجکل کے نوجوانوں میں ذہنی مسائل جیسے کہ اضطراب، ڈپریشن، تنہائی، نااُمیدی اور مایوسی بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ ان چیلنجز کو کس طرح مؤثر اور متوازن انداز میں ایڈریس کیا جا سکتاہے؟

اس پر حضورِ انور نے ذہنی سکون اور اطمینانِ قلب کے لیے ذکرِ الٰہی کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے قرآنِ کریم کی تعلیم کی روشنی میں ارشاد فرمایا کہ اس کا اللہ تعالیٰ نے حل قرآنِ شریف میں بتایا ہے: اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ ۔ یقیناً اللہ کا ذکر جو ہے وہ دلوں کو اطمینان بخشتا ہے اور جب اللہ یاد ہو تو دنیاوی خواہشات نہیں ہوتیں۔ جب دنیاوی خواہشات نہیں ہوتیں تو دنیا کے پیچھے چلنے کےلیے جو anxietyہوتی ہے یا اس خواہشات کو پُورا نہ ہونے پر جو ہوتی ہے وہ ختم ہوجاتی ہے۔

والدین کی عدم توجہی کے باعث بچوں میں پیدا ہونے والی بے چینی، مایوسی اور تنہائی کے اسباب اور ان کے تدارک کے حوالے سے حضورِ انور نے فرمایا کہ پھر ان کی بات کہ ماں باپ کام کرنے جا رہے ہوتے ہیں ،بچے neglectہورہے ہوتے ہیں، وہ بھی جب ایک سٹیج پر آتے ہیں تو ان میں anxiety بڑھتی ہے۔ پھر آخر میں بعض ایسی سٹیج پر بھی آتے ہیں کی جب ان کو پتا ہوتا ہے کہ مجھے سپورٹ کرنے والا کوئی نہیں ہوتا تو ڈپریشن میں بھی چلے جاتے ہیں۔ تو یہ چیزیں ہیں۔اس کے لیے یہی ہے کہ ماں باپ کو اپنی اصلاح کرنی چاہیے اور جو نظامِ جماعت ہے اس کو بھی کوشش کرنی چاہیے کہ کس طرح ان کو اپنے ساتھattachکریں اور کس طرح ان کے سامنے کوئی مقصد رکھیں۔

نوجوانوں میں مقصدِ حیات کے تعیّن اور عہد کی حقیقی روح کو سمجھنے کی اہمیت واضح کرتے ہوئے، نیز سوشل میڈیا کے منفی اثرات کی نشاندہی کرتے ہوئے حضورِ انور نے ارشاد فرمایا کہ ان کو بتائیں کہ دنیا کے پیچھےپڑیں گے تو یہی کچھ ہوگا۔ اس لیےصرف عہد کو عہد نہ سمجھیں۔ اس کے ایک ایک لفظ کی روح کو سمجھ کے بچوں کو بتاتے رہیں، بڑوں کو بتاتے رہیں تاکہ وہ سمجھیں کہ ہم نے کیا کرنا ہے اور ہمارا مقصد کیا ہے۔ جب انسان کے سامنے کوئی مقصد نہ ہو اَور مقصد اس نے خود بنانا ہو اور وہ مقصد ہو ٹیلی ویژن دیکھنے کے بعد اور انٹرنیٹ دیکھنے کے بعد اور سوشل میڈیا کو دیکھنے کے بعد تو وہ مقصد تو فرسٹریشن پیدا کرتا ہے اور جب فرسٹریشن پیدا ہوتی ہے تو اس کا یہی نتیجہ نکلتا ہے جو آپ بتا رہے ہیں۔

ملاقات کے اختتام پر حضورِ انور نے ازراہِ شفقت مجلس خدام الاحمدیہ اور مجلس اطفال الاحمدیہ کو عَلمِ انعامی عطا فرمائے۔ نیز بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ریجنز کو ریجنل ایوارڈز سے نوازا اور مجلس خدام الاحمدیہ سے مجلس انصار اللہ میں شامل ہونے والے افراد کو خصوصی ایوارڈز عطا فرمائے۔

بعد ازاں تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

الغرض یہ روح پرور نشست حضورِ انور کے دعائیہ کلمات ’’ السّلام علیکم‘‘پر بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ لجنہ اماء اللہ وناصرات الاحمدیہ سوئٹزرلینڈ کے وفد کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button