حضرت مسیح موعودؑ کے کارہائے نمایاں(قسط دوم۔ آخری)
(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۱۸؍ستمبر ۱۹۲۵ء)
حضرت مصلح موعودؓ کے بیان فرمودہ اس خطبہ جمعہ میں حضورؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کے کارناموں کے مضمون پر روشنی ڈالی۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)
چونکہ کامل توحید انبیاء کے ذریعہ ہی آتی ہے اورعقل سے نہیں بلکہ خدا سے علم پا کرآتی ہے اس لیے انبیاء ہی اس کے لیے آتے ہیں اور انبیاء ہی اسے حقیقی طور پر قائم کر سکتے ہیں۔ پس حضرت مرزا صاحب نے بھی چونکہ اصل توحید قائم کی اوردوسرے کسی کو اس کی توفیق نہ ہوئی اس لیے آپ سچے نبی تھے کیونکہ آپ ہی شرکیہ عقیدوں کو بدل کر توحید کو لوگوں میں پیدا کر سکے
[گذشتہ سے پیوستہ]بات دراصل یہ ہے کہ لوگوں کا منہ سے کہہ دینا شرک نہ کرواورتوحید پرقائم رہو۔ اورتوحید فی الواقع پھیلانا ان دونوں باتوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ اوراتنا ہی فرق ہے جتنا ان باتوں میں ہے کہ ایک شخص تو بیمار سے کہے میاں علاج کراوردوسرا اسے بیماری کا نسخہ لکھ کردے دے کہ اسے استعمال کر۔ وہ لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے توحید پھیلاتے نظرآتے ہیںوہ صرف علاج کرو ،کہتے تھے۔ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر نسخہ لکھ دیا اور بتایا کہ توحید یہ ہے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پہلے بھی لوگ یہ کہتے تھے کہ شرک نہیں کرنا چاہیے اورتوحید کا قائل ہونا چاہیے لیکن وہ جانتے نہیں تھے کہ توحید کیا ہے۔
ایسے لوگوں میں سب سے پیش پیش وہابی تھے۔ مگر انہیں حقیقی توحید سے کوئی تعلق نہ تھا۔ کیا وہ لوگ بھی توحید سمجھ سکتے ہیں جو یہ مانیں کہ حضرت مسیح ناصری نے بھی پرندے پیدا کیے تھے۔ حالانکہ خلق کرنے کی صفت صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔ پھر کیا وہ لوگ توحید کی حقیقت پا سکتے ہیں جو یقین رکھتے ہوں کہ مسیح ناصری مردے زندہ کیا کرتے تھے۔ حالانکہ دنیا میں مُردوں کا زندہ ہونا سنت اللہ کے خلاف ہے۔ پھرکیا وہ لوگ توحید جان سکتے ہیں جو ایک انسان میں دیگر خدائی صفات مانتے ہوں۔ مثلاً ان وہابیوں کے نزدیک حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی اسی طرح علمِ غیب حاصل تھا جس طرح خدا تعالیٰ کو ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں حضرت مسیح علیہ السلام لوگوں کا روزانہ کھایا پیا بتا دیا کرتے تھے۔ بے شک وہ یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح یہ سب کچھ باذنِ اللہ کرتے تھے لیکن مشرکین میں سے کون ہے جو باذن اللہ نہیں لگاتا۔ عیسائی، ہندواوردوسرے تمام اس قسم کے عقائد رکھنے والے سب یہی کہتے ہیں کہ جنہیں وہ خدا کا شریک بناتے ہیں وہ سب باذن اللہ خدائی کا کام کرتے ہیں۔ پس جب مشرک بھی باذن اللہ کہتے ہیں اورباوجود باذن اللہ کہنے کے ان کے اس قسم کے کاموں اورعقیدوں کو دیکھ کرانہیں مشرک کہا جاتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ مسلمان کہلانے والوں کو مشرکانہ عقائد رکھنے کی وجہ سے اس لیے مشرک نہ کہا جائے کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق باذن اللہ کے الفاظ لگاتے ہیں۔ بات یہی ہے کہ دونوں مشرک ہیں ایک پرذرا پردہ پڑا ہوا ہے اور دوسرے پر بالکل نہیں۔
البتہ زرتشتی کہتے ہیں کہ خدا دو ہیں۔ایک نیکی کا خدا اوردوسرا شرکا۔ لیکن ان کی کتابوں میں بھی لکھا ہے کہ آخر شر کا خدا تباہ ہو جائے گا اور نیکی کا خدا رہ جائے گا۔ پس بدی کے خدا کی ہلاکت بتاتی ہے کہ وہ کسی اَور کے ماتحت ہے جو اس کو ہلاک کر دے گا۔ اسی طرح جو باقی رہ جائے گا وہ نیکی کا خدا ہوگا۔ اصل خدا ہرمز کو مانتے ہیں اور اہرمن اوریزدان دو اَور خدا قرار دیتے ہیں۔ مگر ان کے کام جو بتاتے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو جبرائیل اورعزرائیل کی طرح سمجھتے ہیں۔ یعنی جبرائیل اورعزرائیل فرشتوں کو انہوں نے یہ نام دے دئیے ہیں اور بطورخدا ان کوماننا شروع کر دیا ہے۔ اصل میں وہ بھی ایک ہی خدا قرار دیتے ہیں لیکن باوجود اس کے اذن اللہ کہنے کا ہرایک میں دستور پایا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ مشرک مقلّد قبروں پر سجدے کرنے والوں میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے۔
تو اذن اللہ کہنے والوں کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس طرح وہ مشرک نہیں ہوتے۔ سیّد عبدالقادر جیلانی کے مرید بھی یہی اذن اللہ کہا کرتے ہیں مگران کے مشرکانہ خیالات سے کون ناواقف ہے۔ پس وہابیوں کا فریق بڑا ہی توحید کا مدعی تھا اور ہے مگروہ بھی شرک سے پُر ہے جیسا کہ ابھی میں نے ان کے حضرت مسیح کے متعلق عقائد سے بتایا ہے۔
یہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی تھے جنہوں نے خاص توحید کو پیش کیا اور مسیح علیہ السلام کی حیات کی تردید کر کے اس شرک کو مٹا دیا جو اس مسئلے کی وجہ سے عام طور پر پھیلا ہوا تھا۔
شاید بعض لوگ کہہ دیں گے سرسیّد احمد خان صاحب بھی حضرت عیسیٰ کی وفات کا قائل تھا۔ لیکن اس میں بھی فرق ہے۔ سرسیّد اس لیے وفاتِ مسیح کے قائل نہ ہوئے تھے کہ اس سے خدا تعالیٰ کی توحید پراثرپڑتا ہے بلکہ اس لیے تھے کہ موجودہ زمانے کی سائنس حضرت مسیح کی حیات کے خلاف تھی۔ پس انہوں نے بھی اس مسئلے کی توحید پر بناء نہیں رکھی بلکہ نیچریت پررکھی ہے۔ دیکھو ایک دہریہ اور نیچری خدا کو نہیں مانتا۔ وہ بھی وفاتِ مسیح کا قائل ہوگا اوروہ ان معجزات کو بھی نہیں مانے گا جوحضرت مسیح کے متعلق بیان کرکے انہیں خدائی صفات میں شریک بنایا جاتا ہے لیکن اس سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ توحیدِالٰہی کی وجہ سے ایسا کرتا ہے۔ یہی حال سرسیّد احمد خان کا تھا۔ پس
ایک شخص تو اس لیے مسیح کی حیات کا انکار کرتا ہے کہ خدا ہی نہیں۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس لیے اس کا انکار کرتے ہیں کہ خدا ہے اوراس کا قانون یہ ہے کہ سب کو وفات دے۔
سرسیّد یورپ کے اعتراضات سے بچنے کے لیے حیاتِ مسیح کا انکار کرتا تھا۔ لیکن حضرت مرزا صاحب خدا تعالیٰ کے جلال کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ اور ان دونوں باتوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ دیکھو اگر کسی جگہ کچھ اسباب پڑا ہو۔ اور ایک شخص اسے اٹھا لے کہ میں اس کے مالک کے گھر پہنچاؤں اورایک اس لیے اٹھائے کہ میں اسے اپنے گھر لے جاؤں۔ تو ایسے شخص ہرگزبرابرنہیں ہو سکتے۔
سر سیّد صاحب نے اگرایسی کوشش کی تو صرف یورپ والوں کے اعتراضات سے بچنے کے لیے۔ لیکن حضرت مرزا صاحب نے خدا کا جلال ظاہر کرنے کے لیے یہ کام کیا۔ گو کام ایک ہی ہے۔ لیکن نتائج کے لحاظ سے ان میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت تو دینی کہلائے گی اور سرسیّد کی قومی تو کہلائے گی لیکن دینی نہیں کہلا سکتی۔ پس
جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خدا کی توحید کو قائم کیا اس زمانہ میں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں اوریہ صرف نبیوں کا ہی کام ہے۔
شاید بعض یہ کہیں کہ یہ جو کچھ مرزا صاحب نے کیا۔ سب کچھ قرآن شریف میں موجود تھا۔ مثلاً قرآن پکار پکار کروفاتِ مسیح کا اقرارکررہا تھا۔ پھر مرزا صاحب نے کیا کیا۔
مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب کچھ قرآن شریف میں موجود تھا تو مولویوں نے کیوں نہ نکال لیا اورکیوں نہ اسے دنیا میں پیش کیا اوراس سے کام لیا۔
اس سے تو مولویوں کی اَور بھی زیادہ بے وقوفی کا ثبوت ملتا ہے کہ ایک چیز جس کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ موجود تھی لیکن باوجود اس کے موجود ہونے کے انہوں نے اسے استعمال نہ کیا۔
افسوس ہے کہ مولویوں کے سامنے قبر پرستی ہوتی رہی۔ مولویوں کے سامنے لوگ بت پرستی کرتے رہے۔ مولویوں کے سامنے لوگ درختوں پر ٹونے کرتے رہے۔ پتھروں پر ٹونے کرتے رہے۔ گدھوں تک کی قبروں کی پرستش کی جاتی رہی۔ لیکن وہ نہ روک سکے۔ اوراب جب حضرت مرزا صاحب نے شرک کو مٹانے والی کئی لاکھ کی جماعت کھڑی کر دی۔ کہتے ہیں مرزا صاحب نے کوئی نیا کام آ کے نہیں کیا اور توحید کو قائم نہیں کیا۔
اس وقت جب کہ سب کچھ ہو رہا تھا انہوں نے کیا کیا؟ نہ قرآن سے ہی انہیں وہ کچھ نظرآیا جو حضرت مرزا صاحب نے نکال کر ان کے آگے رکھ دیا۔ اور نہ ہی وہ طریق معلوم ہوئے جن پر چلتے ہوئے حضرت مرزا صاحب نے شرک کی بیخ کنی کی۔ مگراب کہنا شروع کر دیا کہ یہ سب کچھ قرآن شریف میں موجود تھا۔ موجود تو تھا مگر تم نے اس سے کیا فائدہ اٹھایا۔ کیا تم نے اس کے ذریعہ دنیا کو شرک سے روکا۔ روکنا کیا تھا۔ مولوی بیچارے تو آپ ہی قبروں پرچراغ جلاتے تھے اور کئی قسم کے شرکوں میں مبتلا تھے۔ اوران میں سے جس کسی نے اس کے برخلاف کچھ کیا وہ بھی دھڑا بندی سے کیا نہ کہ توحید کے لیے۔
اگر وہابی خدا تعالیٰ کی توحید قائم کرنے کے لیے قبروں وغیرہ کی پرستش سے روکتے تو حضرت مسیح کو ہرگز زندہ نہ مانتے۔ وہ چونکہ ایسے بزرگوں کے قائم مقام تھے جو اس قسم کے کام کرتے تھے۔ اس لیے وراثتاً یہ کام کرتے تھے اوراپنے آباء کو دیکھ کرایسا کرتے تھے نہ کہ فی الواقع انہیں توحید کا خیال تھا۔ وہ چونکہ ان لوگوں کی اولاد تھے جنہوں نے توحید کو پھیلایا اس لیے ان میں یہ باتیں تھیں۔ اگر مقلّدوں کے ہاں پیدا ہوتے تو یہ بھی مقلّد ہی ہوتے۔ پس ان کا اتنے ہی پر خوش ہونا اورجب حقیقی علاج بتایا گیا تواس پربگڑنا اورایسا علاج بتانے والے کی مخالفت کرنا بتلاتا ہے کہ وہ توحید پر عقیدۃً نہیں تھے بلکہ رسماً تھے لیکن حضرت مرزا صاحب عقیدۃً اس پر قائم تھے اورلاکھوں انسانوں کو قائم کر دیا۔
حضرت مسیح موعودؑ نے اَور کام بھی کیے اور توحید کو بھی پیش کیا۔ اور خدا کے بتائے ہوئے طریق کے ماتحت اس طرح پیش کیا کہ دنیا کا حال ہی بدل گیا۔ لوگ شرک میں پھنسے ہوئے تھے۔ ان کے ہر عقیدہ میں شرکیہ باتیں داخل ہو چکی تھیں۔ مگر آپ نے عقائد کی بھی اصلاح کی اورعملی طور پربھی لوگوں کو شرک سے بچایا۔ کیا کوئی مولوی ایسا کرسکتا تھا۔ یا کسی مولوی نے ایسا کیا۔ غالباً یہ کہہ دیا جائے گا کہ مولوی بھی ایسا کرسکتے ہیں لیکن کرسکنے کا سوال نہیں کرنے کا سوال ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کرلینے کا ثبوت موجود ہے۔ بات یہ ہے کہ
چونکہ کامل توحید انبیاء کے ذریعہ ہی آتی ہے اورعقل سے نہیں بلکہ خدا سے علم پا کرآتی ہے اس لیے انبیاء ہی اس کے لیے آتے ہیں اور انبیاء ہی اسے حقیقی طور پر قائم کر سکتے ہیں۔ پس حضرت مرزا صاحب نے بھی چونکہ اصل توحید قائم کی اوردوسرے کسی کو اس کی توفیق نہ ہوئی اس لیے آپ سچے نبی تھے کیونکہ آپ ہی شرکیہ عقیدوں کو بدل کر توحید کو لوگوں میں پیدا کر سکے۔
( الفضل ۲۶؍ستمبر ۱۹۲۵ء )
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: حضرت مسیح موعودؑ کے کارہائے نمایاں(قسط اول)




