ہنسنامنع ہے!
تھرماس
سلیم تھر ماس لے کر پکنک پر گیا توکلیم نے پوچھا:کیا ہے یہ ؟
سلیم: یہ ہے تھر ماس۔ اس میں گرم چیزیں گرم اور ٹھنڈی چیزیں ٹھنڈی رہتی ہیں !
کلیم: واہ بھئی! تو ابھی کیا ہے اس میں ؟
سلیم : 4 قلفیاں اور ایک پلیٹ گرما گرم بریانی!
موبائل
بہن: پیارے بھائی! تم سارا دن موبائل میںمصروف رہتے ہو۔ چھٹی کے دن تو کم از کم گھر کے لیے وقت نکال لیا کرو۔
بھائی نے موبائل چارجر سے لگایااور کہا: جی میری بہن۔ آج کا سارا دن گھر کے نام۔
بہن نے خوش ہو کر کہا: ارے واہ بھائی!
بھائی نے چھت کی طرف دیکھا اور بولا: ارے، یہ کیا؟ چھت پر اتنے جالے لگ گئے ہیں، تم نے صفائی نہیں کی؟ اور یہ صوفے پر بھی اتنی گرد جمی ہوئی ہے، اسے بھی صاف کرو۔ ہاں، میری قمیص کے بٹن ٹوٹ گئے تھے، وہ بھی لگا دو۔ اور ہاں، دوپہر کو کھانا بھی بنانا ہے اور شام کو خشکی……
بہن نے فوراً موبائل چارجر سے نکالا اور بھائی سے کہا:یہ لیں بھائی صاحب! آپ کا موبائل بھی چارج ہو گیا ہے!
بقیہ حصہ
ریاض امتحان میں فیاض کے پیپر سے نقل کر رہا تھا نگران نے دیکھ لیا اور اسے اٹھا کر دور بٹھا دیا۔
جب ریاض کو اور کچھ نہ سوجھا تو سوال کے آخر میں لکھ دیا: جواب کا بقیہ حصہ فیاض کے پیپر میں ملاحظہ فرمائیں۔
مفت دوا
ڈاکٹر مریض سے: اگر تم میری مفت دوائی سے ٹھیک ہو گئے تو تم مجھے کیا تحفہ دو گے ؟
مریض : جناب میں تو قبریں کھودتا ہوں آپ کی فری میں کھود دوں گا۔
فی میل اور میل مکھیاں
بیوی : کیا کر رہے ہو ؟
شوہر : مکھیاں مار رہا ہوں ۔
بیوی : کتنی مارلیں ؟
شوہر : تین فی میل دو میل ۔۔
بیوی : آپ کو پتا کیسے چلا کہ دو میل ہیں اور تین فی میل؟؟
شوہر : تین شیشے کے آگے بیٹھی تھیں دو سگریٹ کی ڈبی پر۔
مدد
افطاری سے 2 منٹ پہلے باورچی خانے میں آکر بھائی نے اپنی بہن سے پوچھا: میری مدد چاہیے ؟
بہن نے غصے سے جواب دیا: ہاں جی! بس چھت پر جاکراذان دے آؤ۔
اعتبار
ریاض: دو بےوقوف بینک لوٹنے گئے مگر بندوق لے جانا بھول گئے۔مگر پھر بھی بینک لوٹ لیا۔
فیاض: بھلا کیسے؟
ریاض: بینک مینیجر بھی بے وقوف تھا، بولا: بندوق کل دکھا دینا مجھے تمہاری زبان پر اعتبار ہے۔
بھاری جیب
اسد کی جیب میں پتھر دیکھ کر ماں نے پوچھا: اسد! یہ پتھر کیوں رکھے ہیں؟
اسد: آج ٹیچر نے بتایا ہے کہ دنیا میں اس کی قدر ہوتی ہے جس کی جیب بھاری ہوتی ہیں۔
٭…٭…٭
