نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۲۱؍ستمبر ۲۰۲۶ء بروز سوموار بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرمہ حامده صدیقہ منان صاحبہ بنت مکرم میاں عبد المنان صاحب مرحوم (ار لز فیلڈ۔یوکے)اور مکرم عزیز احمد ملک صاحب ابن مکرم ملک محمد شفیع نو شہر وی صاحب (وانڈز ورتھ یو کے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
۱۔مکرمہ حامده صدیقہ منان صاحبہ بنت مکرم میاں عبدالمنان صاحب مرحوم (ار لز فیلڈ۔یوکے)
۱۵؍ستمبر۲۰۲۶ء کو ۷۴ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ حضرت میاں عبد العزیز صاحب (المعروف المغل) رضی اللہ عنہ کی نواسی اور حضرت حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسیٰ رضی اللہ عنہ کی پڑپوتی تھیں۔ مرحومہ ۱۹۶۰ء کی دہائی میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ یوکے آئیں۔ آپ کو ۳۰ سال تک لجنہ اماءاللہ یو کے میں مختلف عہدوں پر خدمت کی توفیق ملی۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، چندوں میں باقاعدہ، خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار، بڑی نیک اورغریب پرور خاتون تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ایک بہن اور چار بھائی شامل ہیں۔آپ مکرم میاں منصور منان صاحب (نیشنل آڈیٹر جماعت یو کے) کی بہن اور مکرم ربیب احمد مرزا صاحب (مربی سلسلہ یوکے) کی خالہ تھیں۔
۲۔مکرم عزیز احمد ملک صاحب ابن مکرم ملک محمد شفیع نوشہروی صاحب (وانڈزورتھ یوکے)
۱۶؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو۸۶ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ کو اسلام آباد پاکستان اور یو کے میں بطور صدر جماعت خدمت کی توفیق ملی۔ پیشہ کے لحاظ سے آرکیٹکٹ تھے۔ ہیومینٹی فرسٹ کے تحت واٹر ویل اور واٹرپمپ پراجیکٹس میں بھی خدمت بجالاتے رہے۔ مرحوم پنجوقتہ نمازوں کے پابند، تہجد گزار،خلافت کے فدائی ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ مسجد فضل میں با قاعدگی کے ساتھ نمازوں کے لیے آیا کرتے تھے۔ چندہ جات کی ادائیگی میں باقاعدہ اور مستحق لوگوں کی مالی امداد کے لیے ہر وقت تیار رہتے۔مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا، ایک بیٹی، پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔
نماز جنازہ غائب
۱۔ مکرم احمد بشیر صاحب (Baltimore۔یوایس اے)
۷؍جولائی ۲۰۲۶ء کو ۷۹سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ افریقن امریکن نژاد احمدی تھے۔ مرحوم نے ۱۹۷۰ء میں ۲۴ سال کی عمر میں بیعت کی سعادت حاصل کی تھی۔ آپ بہت مخلص اور انتھک خدمت کرنے والے فرد تھے۔ خلافت کے ساتھ گہرا اخلاص اور وفا کا تعلق تھا۔MTA پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبات اور تقاریر باقاعدگی سے سنتے تھے اور حضورانور کے امریکہ کے دورہ جات میں کوشش کرکے تمام مقامات پر پہنچا کرتے تھے۔ لازمی چندہ جات اور دیگر مالی تحریکات میں بھی باقاعدگی سے حصہ لیتے تھے۔ باقاعدگی سے مسجد آکر نماز باجماعت ادا کرتے اور شدید بیماری میں بھی اس پر عمل پیرا رہے۔ آپ امریکی فوج سے بطور سارجنٹ ریٹائر ہوئے اور بعد میں امریکی ریاست Pennsylvania کے محکمہ جیل میں بطور میل نرس کام کیا۔ مرحوم خدمتِ خلق کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ آپ نے اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر Baltimore شہر میں ضرورتمندوں کو کھانا پہنچانے کا پروگرام شروع کیا اور مقامی جماعت کے زیرانتظام یہ کام ہفتہ وار بنیادوں پر اب تک جاری ہے۔ آپ ہر فرد جماعت سے پیار، عاجزی اور انکساری سے پیش آتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک سوتیلا بیٹا شامل ہے۔
۲۔مکرم ذوالفقار احمد صاحب (کینیڈا)
۲؍اگست ۲۰۲۶ء کو ۴۱ سال کی عمر میں کیلگری جاتے ہوئے گاڑی کے حادثہ میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کا تعلق دار الصدر شرقی حلقہ طاہر ربوہ سے تھا۔ ۲۰۰۹ء میں یوگنڈا منتقل ہوئے اور وہاں سے اپریل ۲۰۲۶ء میں مع فیملی کینیڈا آگئے۔ آپ نے ربوہ اور یوگنڈا میں مختلف شعبہ جات میں بڑے اخلاص و وفا کے ساتھ خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند،بڑے نیک اطوار،خوش اخلاق، خلافت کے ساتھ بڑامضبوط اور پختہ تعلق رکھنے والے ایک مخلص انسان تھے۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں والدین، اہلیہ، دو بیٹے،ایک بہن اور تین بھائی شامل ہیں۔
۳۔مکرم حکیم محمد امین خالد صاحب (جرمنی)
۳؍اگست ۲۰۲۶ء کو ۸۲ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ مکرم منشی محمد یعقوب صاحب (سابق خوشنویس روزنامہ الفضل)کے بیٹے اور مکرم مولوی محمد صدیق صاحب ننگلی مرحوم (سابق مربی سلسلہ سرینام و سیر الیون) کے چھوٹے بھائی تھے۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند، دعا گو، تہجد گزار، خلافت سے گہراعقیدت اور وفا کا تعلق رکھنے والےانسان تھے۔ جماعتی خدمتوں میں آپ پیش پیش رہتے اور انسانی ہمدردی کے جذبے سے سرشار، نیک، مخلص اور نافع الناس وجو د تھے۔ اڑھائی سال تک بطور معلم وقف جدید خدمت کی توفیق پائی۔ دیگر دینی خدمات کے علاوہ ۱۶ سال تک جرمنی کے حلقہ Eidelstadt کے صدر اور ۲۴ سال تک ہمبرگ شہر کے سیکرٹری وصایا کے طور پر خدمت بجالاتے رہے۔اسی طرح طویل عرصہ تک ہمبرگ میں مسجد فضل عمر اور بعد ازاںمسجد بیت الرشید میں امام الصلوٰۃ کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے۔ آپ نے سینکڑوں افراد کو ترتیل کے ساتھ قرآن کریم پڑھانے کی بھی توفیق پائی۔ کچھ عرصہ اسیر راہ مولیٰ بھی رہے۔ آپ کو ایک مرتبہ حج بیت اللہ اور عمرہ کی سعادت بھی نصیب ہو ئی۔ مرحوم موصی تھے۔ آپ نے ساری زندگی ایک واقف زندگی کی طرح خدمت دین میں گزاری۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ پانچ بیٹے، پانچ بیٹیاں اور پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم محمود احمد طلحہ صاحب (مربی سلسلہ و استاد جامعہ احمدیہ یوکے) کے چچا تھے۔
۴۔مکرمہ امۃ الباسط بشریٰ صاحبہ اہلیہ مکرم غلام مجتبیٰ صاحب ایڈووکیٹ مرحوم (کیلیفورنیا امریکہ)
۳؍اگست ۲۰۲۶ء کو ۸۸سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ حضرت صوفی غلام محمد صاحب رضی اللہ عنہ کی بیٹی اور حضرت محمد الدین صاحب واصل باقی صاحب رضی اللہ عنہ کی پوتی اور مکرم چودھری مبارک مصلح الدین صاحب مرحوم (سابق وکیل التعلیم ربوہ) کی بہن تھیں۔ آپ کے شوہر نے کئی مقدمات میں جماعت کی طرف سے پیروی کی۔ آپ کے سسر مکرم ڈاکٹر غلام مصطفیٰ صاحب مرحوم حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ذاتی معالج تھے۔ آپ کی پرورش خالص دینی ماحول میں ہوئی۔ مرحومہ بڑی باوقار، نفاست پسند، عبادت سے گہرا شغف رکھنے والی، صابرہ وشاکرہ، متوکل علیٰ اللہ، مہمان نواز، صلہ رحمی کے جذبہ سے سرشار،ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے سسرالی رشتہ داروں سے بہترین تعلق نبھانے کا ملکہ عطا کر رکھا تھا۔ کسی کی غیبت نہ کرتیں اور نہ ہی کسی کا دل دکھاتیں بلکہ ہمیشہ دوسروں کی دلجوئی کیا کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں ایک بیٹا اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے بیٹے مکرم پروفیسر ڈاکٹر غلام مقتدیٰ چودھری صاحب Boston امریکہ میں Cardiologist ہیں اور کئی دفعہ طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ ربوہ میں وقف عارضی کی توفیق پاچکے ہیں۔
۵۔مکرم محمد اشرف باجوہ صاحب (کیلگری۔کینیڈا)
۲۶؍جولائی ۲۰۲۶ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت چودھری رحمت خان صاحب رضى الله عنہ کے پوتے تھے۔مرحوم۳۵سال کویت میں رہنے کے بعد سن ۲۰۱۰ء میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کیلگری شفٹ ہوگئے تھے۔ آپ کو قرآن کریم سے بے انتہا محبت تھی۔ روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور باربار قرآن پاک کا دور مکمل کرنا آپ کا پسندیده مشغلہ تھا۔ آخری دنوں میں جب طبیعت بہت خراب رہنے لگی تو پھر اشارے سے قرآن پاک کی تلاوت سننے کا کہتے اور تلاوت سنتے ہی آپ سکون میں آجاتے تھے۔ آپ کو خدمت دین، خدمت خلق اور تبلیغ کا بہت شوق تھا۔ عربی زبان سیکھنے کی وجہ سے کویت میں اور پھر کینیڈا آکر بھی عرب احباب کو تبلیغ کرتے رہے۔آپ کے اندرصلہ رحمی کا وصف اس قدر نمایاں تھا کہ روزانہ باقاعدگی سے اپنے بھائی بہن، بچوں اور دیگر عزیز و ں کی خیریت معلوم کیا کرتے تھا۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹیاں اور چار بیٹے شامل ہیں۔
۶۔مکرم چودھری ادریس احمد صاحب ابن مکرم چودھری بشیر احمد صاحب (آف بھلیسرانوالہ ضلع گجرات۔ حال آسٹریلیا)
۱۶؍مارچ ۲۰۲۶ء کو ۷۴ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ حضرت حافظ احمد دین صاحب رضی اللہ عنہ کے پڑ نواسے اور حضرت اکبر علی صاحب رضی اللہ عنہ کے پوتے تھے۔آپ نے کولن جرمنی میں سیکرٹری مال اور پاکستان میں مقامی جماعت کے صدر کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ ۲۰۲۳ء میں آپ اپنی بیٹی کے پاس آسٹریلیا چلے گئے۔ نماز کے لیے ہمیشہ ان کی کوشش ہوتی کہ سب سے پہلے مسجد پہنچیں۔ نماز جمعہ کا بھی خاص اہتمام کیا کرتے تھے۔ جماعتی پروگراموں میں بھی ہمیشہ حاضر ہوتے۔ آس پاس کی چھوٹی جماعتوں کا بہت خیال رکھتے اوران کے ساتھ رابطے میں رہ کر ہر ممکن مدد فراہم کیا کرتے تھے۔ ۱۹۸۹ء میں جب چک سکندر کے احمدیوں کو ہنگامی طور پر اپنے گھر چھوڑنے پڑے تو آپ ان کی دیکھ بھال میں پیش پیش رہے اور جب تک ان کا کوئی اَور انتظام نہیں ہوگیاتقریباً ۱۰۰؍افراد کو اپنے گھر میں پناہ دیے رکھی۔ اپنے علاقے میں بہت اثر ورسوخ رکھتے تھے۔ مرحوم بڑےخوش گفتار، جماعت اور خلافت کی غیرت رکھنے والے، نڈر، مہمان نواز اور ہمدرد انسان تھے۔ ضرورت مندوں کی مدد کرنے کے لیے اپنے علاقے میں مشہور تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم اخلاق احمد انجم صاحب (مربی سلسلہ وکالت تبشیر یوکے) کے ماموں زاد بھائی، مکرم محمود ناصر ثاقب صاحب (مشنری انچارج بینن) کے پھوپھی زاد بھائی اور مکرم رشید احمد طیب صاحب …کے بہنوئی تھے۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔
اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
٭…٭…٭




