متفرق مضامین

جمیل الرحمٰن جمیل

(مبشر شہزاد)

میرے سفر کا ہمسفر، میری یادوں کا چراغ

کچھ لوگ ہماری زندگی میں محض آتے جاتے نہیں بلکہ وہ وقت کے اوراق پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ جڑے لمحات، سفر، گفتگو اور احساسات ایک ایسی امانت بن جاتے ہیں جو عمر بھر ساتھ رہتی ہے۔ جمیل الرحمٰن جمیل میرے لیے ایسا ہی ایک ہمسفر، ایسا ہی ایک دوست، اور ایسا ہی ایک عہد تھا۔

میری اور جمیل کی دوستی کا آغاز بچپن کی اُن سادہ مگر سچی فضاؤں میں ہوا، جب میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں زیر تعلیم تھا۔ پہلی ملاقات میں ہی اس کی شائستہ گفتگو، سحر انگیز لہجہ اور دلنشین انداز نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا۔ وہ محض ایک عام لڑکا نہیں تھا بلکہ اس کے اندر ایک ٹھہرا ہوا وقار، ایک فطری ذہانت اور ایک گہری حساسیت موجود تھی، جو بعد ازاں اس کی ادبی شخصیت کا بنیادی حوالہ بنی۔

جمیل کا اصل نام کنور جلیل الرحمٰن خان تھا اور اس نے ’’جمیلؔ‘‘ کو بطور تخلص منتخب کیا تھا۔

اور پھر ادبی حلقوں میں جمیل الرحمٰن سے شہرت پائی، جمیل الرحمٰن ۲۲؍جنوری ۱۹۵۴ء کو محمد نگر، گڑھی شاہو لاہور میں پیدا ہوا۔ ان کا تعلق ایک معزز اور علمی گھرانے سے تھا۔ ان کے والد ڈاکٹر راؤ محمد حبیب الرحمٰن خان صدیق ایک اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز تھے اور محکمہ زراعت سے وابستہ تھے۔ حکومتی ذمہ داریوں کے باعث انہیں مختلف شہروں میں رہائش حاصل رہی، اور ان کا گھر علم، وقار اور نظم و ضبط کا ایک حسین نمونہ تھا۔ جمیل کی والدہ محترمہ امۃالکریم صاحبہ نہایت شفیق اور مہربان خاتون تھیں۔ میں جب بھی ان کے گھر گیا، انہوں نے مجھے اپنے بیٹوں کی طرح محبت اور اپنائیت دی۔ یوں جمیل کا گھر میرے لیے محض ایک دوست کا گھر نہیں رہا بلکہ ایک ایسا آنگن بن گیا جہاں مجھے ہمیشہ خلوص اور شفقت ملی۔

وقت کے ساتھ ہماری دوستی گہری ہوتی گئی، اور پھر ۱۹۷۷ء کا وہ تاریخی لمحہ آیا جب ہم نے ایک طویل سفر ایک ساتھ طے کیا جس کا آغاز لاہور سے ہوا اور جرمنی میں جاکر اختتام پذیر ہوا۔ یہ سفر محض جغرافیائی فاصلہ طے کرنے کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ ایک آزمائش، ایک جدوجہد اور ایک خواب کی تعبیر کی تلاش تھی جو ہم دونوں کی آنکھوں میں یکساں تھے اس سفر میں جمیل ہر موڑ پر میرے ساتھ رہا۔ جب حالات نے سختی دکھائی، وسائل کم پڑے، یا راستے دشوار ہوئے میں نے اور جمیل نے کبھی ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ وہ صرف ہمسفر نہیں تھا، وہ حوصلہ تھا، وہ امید تھا، وہ ایک ایسا ساتھی تھا جس کی موجودگی ہر مشکل کو آسان بنا دیتی تھی افغانستان کی سرزمین، ترکی کے راستے اور یورپ کی سرحدیں، ہم نے سب کچھ ایک ساتھ دیکھا، اچھے بُرے حالات کو ایک ساتھ جھیلا اور محسوس کیا۔ یہی وہ سفر ہے جس کا ذکر میں نے اپنی کتاب “خاکِ راہ” میں کیا ہے، اور اس داستان کا سب سے روشن اور وفادار کردار بھی جمیل الرحمٰن ہے۔ جمیل کی شخصیت صرف میری دوستی کا حوالہ نہیں بلکہ وہ ادب کا ایک روشن چراغ بھی تھا وہ بیس کتابوں کا خالق تھا، اُس نے نہ صرف شاعری کی بلکہ تنقید اور صحافت میں بھی اپنی پہچان بنائی۔ اس کا قلم ایک حساس دل کی ترجمانی کرتا تھا، جس میں وقت کی دھڑکن، انسان کے دکھ اور زندگی کے نشیب و فراز کی گہری جھلک ملتی ہے۔ اس کی تصانیف اس کے فکری اور فنی سفر کی عکاس ہیں۔ اس کے نمایاں مجموعہ ہائے کلام میں شامل ہیں:

’’خواب، ہوا اور خوشبو‘‘، ’’کوئے بازگشت‘‘ (غزلیں)،’’کارنیوال‘‘(نظمیں)، ’’زمیں جب آنکھ کھولے گی‘‘، ’’لہو کی بوند جب بولے گی‘‘، ’’ہم پہ سورج کہیں ڈوبتا ہی نہیں‘‘، ’’ڈوبتے دن کی سرگزشت‘‘، ’’قریۂ غزل‘‘، ’’حرف سقراط‘‘، ’’عکس ابھرتا نہیں‘‘، ’’لہو کی تال پر‘‘، ’’لہو کی لکیر پر‘‘، ’’کنارشی‘‘، ’’گم شدہ آسمان‘‘، ’’خلا زاد‘‘، ’’میورل‘‘، ’’جلتی آنکھیں بجھتے خواب‘‘، ’’چیخ اور چپ کے درمیان‘‘، ’’معدوم سے موجود تک‘‘ اور خاص طور پر علم عروض پر اس کی تصنیف ’’حدیقۃالعروض‘‘ اس کی علمی گہرائی اور فنی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

جمیل الرحمٰن نے ہجرت کے بعد اپنی زندگی کے مختلف ادوار جرمنی، ہالینڈ اور پھر برطانیہ میں گزارے۔ ستمبر ۱۹۷۷ء سے ۱۹۸۲ء تک جرمنی، پھر ۱۹۸۲ء سے ۲۰۰۸ء تک ہالینڈ میں رہا، اور اس کے بعد برطانیہ میں قیام، ان تمام ہجرتوں کے دوران بھی اس کا قلم رواں رہا۔ اس کی شاعری پاک و ہند، یورپ اور برطانیہ میں قدر کی نگاہ سے دیکھی گئی۔ مگر آج یہ سب کچھ ایک خاموشی میں ڈھل گیا ہے۔ ۱۷؍مارچ ۲۰۲۶ء کو عارضہ قلب اور سانس کی تکلیف کے باعث، جمیل الرحمٰن لندن میں اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔

یہ خبر سن کر یوں محسوس ہوا جیسے میرے وجود کا ایک حصہ جدا ہو گیا ہو۔ وہ دوست، جس کے ساتھ میں نے بچپن سے، جوانی اور تقریباً نصف صدی تک دوستی کا سفر کیا اور خوابوں کی تعبیر کی تلاش میں دنیا کے راستے ناپے اب ہمیشہ کے لیے جدا ہو گیا آج میرے پاس اس کی یادوں کے جگنو، لفظوں کی بازگشت کے سوا کچھ باقی نہ رہا، جمیل الرحمٰن جمیل صرف ایک دوست یا شاعر و ادیب ہی نہیں تھا، بلکہ وہ ایک احساس تھا… ایک رفاقت تھی… ایک ایسا چراغ جو بجھ کر بھی روشنی دیتا رہے گا۔

اللہ تعالیٰ اسے اپنی جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں اس کی یادوں کے ساتھ جینے کا حوصلہ دے۔ آمین

مزید پڑھیں: ’’اِک آبجو جو چلی بحر بیکراں کے لیے‘‘

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button