حالاتِ حاضرہ

خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

٭…ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ان کا ملک خطے میں امن اور استحکام چاہتا ہے اور کسی جنگ کا آغاز نہیں کیا۔ ان کے مطابق ایران کسی پر حملہ نہیں کرنا چاہتا بلکہ صرف اپنے دفاع کا حق استعمال کر رہا ہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے جوہری حقوق محدود کرنے کا اختیار نہیں۔ انہوں نے دشمن پر انفراسٹرکچر، اسکولوں اور اسپتالوں پر حملوں کا الزام بھی لگایا۔ دوسری جانب محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا سے مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، لیکن اب بھی نمایاں اختلافات باقی ہیں۔

٭…امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار Mohammad Bagher Ghalibaf کے مطابق کچھ معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے، لیکن دونوں فریقین کے درمیان اب بھی اہم اختلافات موجود ہیں۔ ٹرمپ نے بھی بات چیت کو بہت اچھی قرار دیا، تاہم آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران کو بلیک میلنگ سے خبردار کیا۔ ایران نے عارضی طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، جس سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی۔ ادھر لبنان میں جھڑپوں کے دوران ایک اسرائیلی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی بھی ہوئے۔

٭… امریکہ کی University of Iowa میں اتوار کو علی الصبح فائرنگ کے واقعے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ Iowa City Police Department کے مطابق افسران رات تقریباً ۲ بجے ایک بڑی لڑائی کی اطلاع پر کیمپس پہنچے، جہاں انہوں نے فائرنگ کی آوازیں سنیں۔ واقعہ ایک مصروف نائٹ لائف والے علاقے میں پیش آیا۔ زخمیوں کو فوری طور پر مقامی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، تاہم ان کی حالت کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ ابھی تک کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ یونیورسٹی نے ہنگامی الرٹ جاری کرتے ہوئے لوگوں کو علاقے سے دور رہنے اور محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

٭…اسرائیلی میڈیا کے مطابق، جنگ بندی کے بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان کے زیرِ قبضہ علاقوں کو تین زونز میں تقسیم کر دیا ہے۔ اخبار Yedioth Ahronoth کے مطابق پہلی ’’سرخ لکیر‘‘ سرحدی دیہات پر مشتمل ہے جہاں زیادہ تر عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں اور حذب اللہ کے جنگجو موجود نہیں۔ دوسری ’’پیلی لکیر‘‘ ۶ سے ۱۰کلومیٹر اندر ہے، جہاں اسرائیلی فوج راکٹ حملے روکنے کے لیے تعینات ہے اور جھڑپیں جاری ہیں، خاص طور پر بنت جبیل کے قریب۔ تیسرا زون دریائے لیطانی تک پھیلا ہے جہاں فوج نگرانی اور فائر پاور کے ذریعے کنٹرول رکھنا چاہتی ہے۔ اسرائیلی فوج نے اس رپورٹ پر تبصرہ نہیں کیا۔

٭…یوکرینی صدر Volodymyr Zelenskyy نے روسی تیل پر پابندیوں میں نرمی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے روسی فوج کو اربوں ڈالر مل رہے ہیں، جو یوکرین کے خلاف جنگ میں استعمال ہو رہے ہیں۔ یہ بیان امریکہ کی جانب سے عارضی استثنیٰ دینے کے بعد سامنے آیا، جس کا مقصد توانائی کی بڑھتی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ہے۔ زیلنسکی کے مطابق سمندر میں موجود درجنوں ٹینکرز لاکھوں ٹن روسی تیل لے جا رہے ہیں، جن کی فروخت سے تقریباً 10 ارب ڈالر حاصل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم براہِ راست یوکرین پر حملوں میں استعمال ہو رہی ہے اور روسی برآمدات کو روکنا ضروری ہے۔

٭…تقریباً چھ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ نے ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے باعث لاکھوں افراد بے روزگار ہو رہے ہیں۔ صنعتی تنصیبات، خاص طور پر Mobarakeh Steel Company اور پیٹروکیمیکل مراکز کی تباہی سے پیداوار رک گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کا سب سے زیادہ اثر یومیہ مزدوروں اور غیر رسمی شعبے پر پڑا ہے، جبکہ اجرتیں بھی تیزی سے کم ہو رہی ہیں۔ انٹرنیٹ پابندیوں نے فری لانسرز اور ڈیجیٹل کارکنوں کو بھی متاثر کیا۔ حکام کے مطابق جنگ سے ۲۰۰ ارب یورو سے زائد نقصان ہوا ہے، اور معیشت کی بحالی میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

٭…لبنان میں نعیم قاسم نے جنگ بندی معاہدے کو لبنان کی توہین قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کسی ایسی یکطرفہ جنگ بندی کو قبول نہیں کر سکتی جس میں صرف ایک فریق پر ذمہ داریاں عائد ہوں جبکہ دوسرا فریق حملے جاری رکھے۔ نعیم قاسم کے مطابق ۲۰۲۴ء کی سابقہ جنگ بندی کے دوران اسرائیل کو کارروائی کی اجازت تھی اور حزب اللہ نے تحمل کا مظاہرہ کیا، لیکن اب وہ ایسی صورتحال دوبارہ قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سفارتی کوششیں بے نتیجہ ہیں اور اس دوران کوئی حقیقی پیش رفت نہیں ہوئی۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے حزب اللّٰہ کے ایک رہنما کے بھتیجے کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button