از افاضاتِ خلفائے احمدیت

صنعت و تجارت۔ ارشاد حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: ’’قاعدہ ہے کہ جو شخص کسی چیز کی اہمیت سے ناواقف ہے ،وہ اس کے فوائد کو حاصل بھی نہیں کرسکتا۔ مثلاً یہی چائے جو ہندوستان میں پیدا ہوتی ہے، لوگ اس سے ناواقف تھے۔انہوں نے اس کی طرف توجہ نہ کی۔ اس کا پودا پیدا ہوتا تھا اور جنگل میں ہی سوکھ جاتا تھا۔انگریزوں نے چینیوں کے ساتھ تجارت میں اس کے فوائد اور اس کی اہمیت کو سمجھا اور فوراً ان علاقہ جات کو سستے داموں خرید لیا، جہاں چائے پیدا ہوتی ہے۔اب تمام ہندوستان میں چائے کے باغات انگریزوں کے ہیں۔انہوں نے زبردستی نہیں لئے، قیمت سے لئے ہیں۔ہاں اپنے علم سے فائدہ اٹھایا ہے۔اب اسی چائے سے بیس کروڑ روپیہ سالانہ انگریز ہندوستان میں کماتے ہیں۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۶؍اپریل ۱۹۲۲ء، مطبوعہ خطبات محمود جلد ۳ صفحہ ۱۵۱)

(مرسلہ: وکالت صنعت و تجارت)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button