نظم
خلافت کے امیں ہم ہیں، امانت ہم سنبھالیں گے
خلافت کے امیں ہم ہیں، امانت ہم سنبھالیں گے
جو نعمت چِھن چکی پہلے وہ نعمت ہم سنبھالیں گے
خلیفہ کے لبوں سے جو گل و جوہر بکھرتے ہیں
بڑے انمول موتی ہیں، یہ دولت ہم سنبھالیں گے
اِسی کی رہبری میں یہ فلک تک جو رسائی ہے
قسم مولا کی کھاتے ہیں یہ قامت ہم سنبھالیں گے
مرے رہبر! مرے مُرشد ! ترے خدّام کہتے ہیں
تمہیں چھاؤں میں رکھیں گے، تمازَت ہم سنبھالیں گے
ہے تن من دھن فدا اپنا خلافت کی حفاظت میں
عدو نے جو بھی ڈھانی ہو قیامت ہم سنبھالیں گے
