حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

رسول کریمﷺ کے بعض اخلاقِ فاضلہ کا ذکر

(خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۷؍اگست۲۰۱۲ء)

آپؐ کا تحمل بھی انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔ شراب کی حرمت سے پہلے ایک صحابی نے نشہ میں آپؐ کو بہت کچھ کہہ دیا۔ آپؐ خاموشی سے سنتے رہے۔ اُسے کچھ نہیں کہا۔ (ماخوذ از صحیح البخاری کتاب المساقاۃ باب بیع الحطب والکلأ حدیث2375)

جب آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے بادشاہت بھی عطا فرما دی۔ مدینہ آ گئے، حکومت بھی قائم ہو گئی تو اس وقت بھی اس تحمل کی اعلیٰ مثالیں ہمیں ملتی ہیں۔ دنیا میں تو ہم دیکھتے ہیں کہ کسی کے پاس چار پیسے آ جائیں یا تھوڑا سا عہدہ مل جائے تو ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتا۔ طبیعت کے خلاف کوئی بات ہو جائے تو ناک منہ چڑھانے لگ جاتا ہے۔ لیکن آپ کا رویہ کیا ہوتا تھا؟ ایک مرتبہ ایک یہودی آیا اور آ کر آپؐ سے بحث شروع کر دی اور دورانِ بحث بار بار اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ کر بات کرتا تھا۔ وہ تو صرف اے محمد ہی کہتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب آپؐ نہ صرف مدینہ کے حاکم تھے بلکہ ارد گرد اور دور تک آپ کی بادشاہت اور حکومت پھیل چکی تھی۔ صحابہ کو یہودی کا یہ طرزِ گفتگو پسندنہیں آیا کیونکہ صحابہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ’یا رسول اللہ‘ کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔ اور جو غیرمسلم تھے وہ آپ کو آپ کی کنیت ابوالقاسم سے پکارتے تھے۔ تو یہودی کے اس طرح بار بار ’’اے محمد‘‘ کہنے پر صحابہ نے اُسے غصہ سے ٹوکا کہ اگر رسول اللہ نہیں کہہ سکتے تو آپ کی کنیت سے پکارو اور ابوالقاسم کہو۔ یہودی نے کہا کہ مَیں تو اسی نام سے بلاؤں گا جو آپ کے ماں باپ نے آپ کا رکھا ہے۔ اس پر آپؐ مسکرائے اور فرمایا یہ ٹھیک کہتا ہے میرے ماں باپ نے میرا نام محمد ہی رکھا ہے۔ اسی طرح اس کو مخاطب کرنے دو اور غصہ نہ کرو۔ (ماخوذ ازصحیح مسلم کتاب الحیض باب بیان صفۃ منی الرجل و المرأۃ…حدیث 716)

بعض دفعہ ایسا ہوتا کہ لوگ آپ کا ہاتھ پکڑ کر کھڑے ہو جاتے۔ بسااوقات آپ کے ضروری کاموں میں روک پیدا ہو رہی ہوتی، آپ کا وقت ضائع ہو رہا ہوتا لیکن بڑے صبر اور تحمل سے آپؐ اُن کی باتیں سنتے اور اُن کی حاجتیں پوری فرماتے۔ (صحیح مسلم کتاب الفضائل باب قرب النبیﷺ من الناس… حدیث 6044)

انصاف کے معیار کا یہ حال تھا کہ اگر کسی نے جرم کیا ہے تو یہ نہیں دیکھنا کہ امیر ہے یا غریب ہے یا اعلیٰ خاندان کا ہے یا عام آدمی ہے۔ جب ایک امیر عورت نے کسی دوسرے کے مال کو ہتھیانے کی کوشش کی اور اُس پر قبضہ کیا تو اُس کو سزا ہوئی۔ تو ان کے جو قبائل تھے اُن میں سے بعضوں میں، خاص طور پر اُن لوگوں میں جو اس کے قریبی تھے، اس سے بڑی بےچینی پیدا ہو گئی کہ یہ بڑے خاندان کی عورت ہے، اس کو کیوں سزا ہوئی ہے؟ آپؐ کی خدمت میں اُسامہؓ کو سفارش کے لئے بھیجا گیا کہ اس کی سزا معاف کر دیں۔ آپ نے یہ سنا تو غصہ کا اظہار فرمایا۔ حالانکہ آپ وہ ہستی تھے جو سراپا شفقت اور عفو سے کام لینے والے تھے، خوش اخلاقی سے بات کرنے والے تھے اور آپؐ کو کبھی غصہ نہیں آتا تھا لیکن اس موقع پرآپؐ کو غصہ آیا کہ میرے پاس خدائی حکم کے مخالف سفارش کرنے آئے ہو۔ فرمایا پہلی قومیں اس لئے تباہ ہوئیں کہ بڑوں کا لحاظ کرتی تھیں اور چھوٹوں پر ظلم کرتی تھیں۔ اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔ خدا کی قسم! اگر میری بیٹی فاطمہ بھی جرم کرتی تو مَیں اُسے سزا دئے بغیر نہ چھوڑتا۔ (صحیح البخاری کتاب احادیث الانبیاء باب 52/54 حدیث 3475)

آجکل ہم دیکھتے ہیں کہ انصاف مسلمانوں میں مفقود ہے اور یہی ان کے زوال کا سبب بن رہا ہے۔ پس ہمیں بھی بہت زیادہ اس بارے میں احتیاط کرنی چاہئے۔ ہمارے عہدیداروں کو بھی انصاف کے تقاضے پورے کرنے چاہئیں اور ایسے معیار قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ یہ بہت خطرناک چیز ہے جو زوال کا باعث بنتی ہے۔

پھر دشمن سے انصاف کا قرآنی حکم ہے۔ تو اس کا کیا نمونہ دکھایا؟ اس کی بھی ایک مثال دیتا ہوں۔ آپؐ نے صحابہ کو مکّہ کی طرف کسی جگہ خبر رسانی کے لئے بھجوایا۔ جب یہ حرم کی حدود میں پہنچے تو وہاں ان کو کچھ آدمی مل گئے جو ان کو جانتے تھے یا ان کو شک ہوا کہ یہ لوگ مکّہ والوں کو جا کر خبر کر دیں گے۔ چنانچہ اس بنا پر اُن صحابہ نے اُن پر حملہ کر دیا اور اُن میں سے ایک کو قتل کر دیا۔ جب یہ صحابہ مدینہ واپس پہنچے تو پیچھے پیچھے مکہ والوں کی طرف سے بھی ایک وفد شکایت لے کر آ گیا کہ اس طرح حرم کی حدود میں انہوں نے قتل کیا ہے۔ اُن کو جواب دیا جا سکتا تھا کہ تم نے جو مسلمانوں پر اتنے ظلم کئے ہیں اور حرم کی حدود میں بھی جرم کئے ہیں وہ بھول گئے ہو؟ لیکن آپؐ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے، شاید ان لوگوں نے ان صحابہ کا اس وجہ سے مقابلہ نہ کیا ہوکہ حرم میں پناہ لے لیں گے اور ان کی جان محفوظ ہو جائے گی۔ ہمارے آدمیوں سے زیادتی ہوئی ہے۔ اور آپؐ نے ان کو فرمایا کہ ٹھیک ہے تمہیں اس کا خون بہا دیا جائے گا۔ چنانچہ عرب کے رواج کے مطابق اُن کا خون بہا ادا کیا گیا۔ (ماخوذ از السیرۃ الحلبیہ جلد3صفحہ 217تا 221باب سرایاﷺ و بعوثہ، سریۃ عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ…دارالکتب العلمیہ بیروت 2002ء)

پس یہ وہ انصاف کے معیار تھے جو مُنصفِ اعظم نے ہر جگہ قائم فرمائے۔

دوسروں کے جذبات کے احترام کی بھی انتہا دیکھیں۔ ایک یہودی آپ کے پاس شکایت کرتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرا دل دکھایا ہے اور کہا ہے کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ سے افضل بنایا ہے۔ اس بات کو سن کر یہودی نے کہا مجھے تکلیف پہنچی ہے۔ اب یہ حقیقت بھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے افضل ہیں۔ قرآنِ کریم اس کی گواہی دیتا ہے۔ لیکن آپ نے حضرت ابوبکرؓ کو بلا کر جب پوچھا اور انہوں نے بتایا کہ ابتدا اس شخص نے کی تھی اور کہا تھا کہ مَیں موسیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کو خدا نے تمام دنیاپر فضیلت دی ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ پھر بھی ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے۔ (ماخوذ ازشرح العلامۃ الزرقانی علیٰ المواھب اللدنیۃجزء8صفحہ287-288النوع الأول فی ذکرآیات…مطبوعہ دارالکتب العلمیۃبیروت1996ء)

پس یہ تھا دوسروں کے جذبات کا احترام۔

بنی نوع انسان کی خدمت کرنے والوں کا کس طرح آپ احترام فرماتے تھے، روایات میں آتا ہے جب طئی قبیلے کے لوگوں نے مسلمانوں سے لڑائی کی اور ان میں سے کچھ لوگ گرفتار ہوئے تو اُن میں حاتم جو مشہور سخی عرب گزرا ہے اُس کی بیٹی بھی تھی۔ آپ کو جب علم ہوا تو اس سے حسنِ معاملہ کیا اور اس کی سفارش پر اُس کی قوم کی سزاؤں کو بھی معاف کر دیا۔

پس یہ تھا محسنِ انسانیت کا انسانیت کی خدمت کرنے والوں کے ساتھ عزت و احترام کا سلوک۔

آپ نے عورتوں کی عزت و احترام کس طرح قائم فرمائی؟ عرب اپنے رواج کے مطابق عورتوں کو مار پیٹ دیا کرتے تھے، آپؐ کو پتہ چلا تو آپ نے فرمایا۔ عورتیں خدا کی لونڈیاں ہیں، تمہاری لونڈیاں نہیں۔ (سنن ابی داؤد کتاب النکاح باب فی الضرب النساء حدیث 2145)

ایک صحابی نے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ بیویوں کے ہم پر کیا حق ہیں؟ تو آپؐ نے فرمایا جو خدا تمہیں کھانے کے لئے دے اُسے کھلاؤ اور جو تمہیں پہننے کے لئے دے، اُسے پہناؤ۔ اور اُس کو تھپڑ نہ مارو اور اُسے گالیاں نہ دو اور اُسے گھر سے نہ نکالو۔ (ماخوذ از سنن ابی داؤد کتاب النکاح باب فی حق المرأۃ علی زوجہا حدیث2142)

آجکل بھی اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں بعض شکایتیں آتی ہیں، ایسے لوگوں کو غور کرنا چاہئے۔ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہیں۔ دوسری طرف ان حکموں کی خلاف ورزی بھی کر رہے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک میں سب سے بہتر ہے۔ اور مَیں تم سب سے بڑھ کر یہ حسنِ سلوک کرنے والا ہوں۔ (سنن الترمذی کتاب المناقب باب فضل ازواج النبیؐ حدیث 3895)

مزید پڑھیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رسول کریم ﷺ کی ناموس کے لیے غیرت

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button