افریقہ (رپورٹس)

جماعت احمدیہ مالی کے ستارھویں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء کا بابرکت انعقاد

٭… ’’اسلام میں مذہبی آزادی اور رواداری‘‘ کے مرکزی موضوع پر منعقدہ جلسہ سالانہ میں مختلف روحانی، تربیتی اور علمی موضوعات پر علمائے سلسلہ کی تقاریر کا اہتمام

٭… جلسہ کی کارروائی سوشل میڈیا پر نشر ہوئی اور ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد نے مختلف ویڈیوز اور لائیو نشریات کے ذریعہ جلسہ دیکھا

٭… ملک بھر کی ۳۰۰؍جماعتوں اور مقامات کی نمائندگی کرتے ہوئے کل ۶۶۱۲؍احباب کی شمولیت

محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ مالی کو اپنا ۱۷واں جلسہ سالانہ ’’اسلام میں مذہبی آزادی اور رواداری‘‘ کے مرکزی موضوع پر ۲۷تا۲۹؍مارچ ۲۰۲۶ء کو اپنی جلسہ گاہ ’حدیقۃ المہدی‘ پر منعقد کرنے کی توفیق ملی۔

جلسہ سالانہ کی تیاریاں کئی ماہ قبل وقار عمل کے ذریعے شروع کر دی گئی تھیں۔ اس سال جلسے کی تیاریوں کے دوران ۵؍مرکزی وقار عمل کیے گئے جن میں خدام اور اطفال نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مدرسۃ الاحمدیہ کے طلبہ نے بھی ان تمام مراحل میں انتھک محنت کی۔

امسال حدیقۃ المہدی کے میدان کو ۱۰؍ہزار مہمانوں کی باسہولت میزبانی کے لیے تیار کیا گیا۔ گذشتہ سالوں میں تعمیر کیا گیا مرکزی اوپن ایئر شیڈ امسال بھی شاملین کے لیے ایک بڑی سہولت ثابت ہوا۔ انتظامات میں ایک اہم اضافہ لنگر خانہ کے شعبے میں کیا گیا جہاں کھانا تیار کرنے اور اسے تقسیم کرنے کی جگہ پر ایک نیا اوپن شیڈ تعمیر کیا گیا۔

جلسے سے ایک ماہ قبل ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک کے دو نیشنل ٹی وی چینلز، ایک ریڈیو اسٹیشن اور آٹھ اخبارات کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس موقع پر میڈیا نمائندگان کو جلسے کے اغراض و مقاصد، تاریخ اور دیگر ضروری معلومات فراہم کی گئیں اور ان کے سوالات کے جواب دیے گئے جس کی بدولت جلسے کا پیغام قومی سطح پر نمایاں ہوا۔

مالی کے موجودہ ملکی حالات اور بعض علاقوں میں عدم استحکام و دہشت گردی کی سرگرمیوں کی وجہ سے دور دراز کے علاقوں میں جسمانی طور پر پہنچنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ ان حالات میں جماعت کے ۱۵؍ریڈیو سٹیشنز نے ایک کلیدی اور بنیادی کردار ادا کیا۔ ریڈیو کے ذریعے جلسے کا پیغام ان دشوارگزار اور دور افتادہ علاقوں تک پہنچایا گیا جہاں سیکیورٹی خدشات کی بنا پر جانا ممکن نہ تھا۔

سوشل میڈیا ٹیم نے بھی اس مہم میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں اور جدید پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوان نسل اور شہری آبادی تک جلسے کی رسائی کو یقینی بنایا۔ ملکی حالات کی سنگینی کے باوجود، مربیان اور معلّمین نے جانفشانی سے کام لیتے ہوئے سینکڑوں جماعتوں کا دورہ کیا اور انفرادی و اجتماعی ملاقاتوں کے ذریعے احباب کو جلسے میں شرکت کی ترغیب دی۔ مزید برآں، جلسے سے ایک ماہ قبل مختلف ریجنز کے جماعتی وفود نے اپنے اپنے علاقوں کی سرکاری اتھارٹیز اور مقامی حکام سے ملاقاتیں کیں اور انہیں جلسے میں شرکت کی دعوت دی جس سے حکومتی سطح پر بھی جماعت کے وقار میں اضافہ ہوا۔

جمعرات سے ہی دُور دراز کے علاقوں اور پڑوسی ممالک سے وفود کی آمد شروع ہوگئی۔ امسال پڑوسی ممالک سے آنے والے وفود میں برکینا فاسو کا ایک بڑا وفد بشمول نائب امیر صاحب برکینا فاسو اور خدام الاحمدیہ برکینافاسو کے ممبران شامل تھے۔ اس کے علاوہ سینیگال اور نائیجر سے بھی وفود جلسہ گاہ پہنچ گئے۔

پہلا دن: جلسہ سالانہ کے پہلے دن کا باقاعدہ آغاز باجماعت نماز تہجد سے ہوا جس کی امامت مکرم عبدالقادر تراورے صاحب نے کروائی۔ بعد ازاں مکرم یوسف یوسی صاحب نے نماز فجر پڑھائی اور ’’اسلام میں پڑوسیوں کے حقوق‘‘ کے موضوع پر درس دیا۔

دوپہر سے قبل مکرم ظفر احمد بٹ صاحب امیر جماعت احمدیہ مالی نے معزز مہمانان کرام، امیر صاحب سینیگال، امیر صاحب نائیجر اور نائب امیر صاحب برکینافاسو کے ہمراہ جلسہ گاہ کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس دورے کا مقصد تمام شعبہ جات کی کارکردگی کو جانچنا اور شدید موسم میں کام کرنے والے کارکنان کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ کی براہ راست نشریات شاملین جلسے کو دکھانے کے لیے دو بڑی سکرینز نصب کی گئیں تھیں نیز خطبہ جمعہ کا مقامی زبان میں ترجمہ بھی پیش کیا گیا۔ خطبہ جمعہ کے اختتام پر نماز جمعہ اور نماز عصر کی ادائیگی ہوئی جس کی امامت مکرم اسد مجید صاحب امیر جماعت احمدیہ نائیجر نے کروائی۔ پھر دوپہر کا کھانا پیش کیا گیا۔

تقریب پرچم کشائی اور افتتاحی اجلاس:شام چار بجے پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی۔ مکرم امیر صاحب جماعت احمدیہ مالی نے مالی کا قومی پرچم لہرایا جبکہ مکرم بشارت احمد نوید صاحب امیر جماعت احمدیہ سینیگال نے لوائے احمدیت فضا میں بلند کیا۔ پرچم کشائی کے دوران شاملین نے بلند آواز میں نعرہ ہائے تکبیر اور احمدیت زندہ باد کے نعرے بلند کیے جس سے جلسہ گاہ کا ماحول ایک خاص جوش اور ولولے سے بھر گیا۔

پرچم کشائی کے فوری بعد پہلے اجلاس کی کارروائی مکرم امیر صاحب جماعت احمدیہ سینیگال کی زیر صدارت تلاوت قرآن کریم وترجمہ سے شروع ہوئی۔ حافظ آداما سوگے صاحب نے تلاوت قرآن کریم پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اس کے بعد مکرم عبدالقادر تراورے صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کے ایک عربی قصیدہ سے چند اشعار پیش کیے۔ مکرم امیر صاحب نے اپنے افتتاحی کلمات میں مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ آپ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اجتماع خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا اور اپنی روحانی اصلاح کے لیے منعقد کیا گیا ہے، لہذا تمام شاملین ان ایام کو ذکر الٰہی اور دعاؤں میں بسر کریں۔ اس کے بعد صدر مجلس نے جلسہ سالانہ کے مرکزی موضوع پر تقریر کی اور اجتماعی دعا کروائی جس کے بعد نماز مغرب و عشاء باجماعت ادا کی گئیں۔ نمازوں کے بعد شاملین جلسہ کی خدمت میں عشائیہ پیش کیا گیا۔

رات سوا آٹھ بجے ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا جس کا عنوان ’’تاثرات و تجربات‘‘ تھا۔ اس اہم تربیتی اور تعلیمی اجلاس کی صدارت مکرم عمر معاذ کولیبالی صاحب نائب امیر جماعت احمدیہ مالی نے کی۔ یہ نشست خاص طور پر نومبائعین کے لیے تھی۔ انہیں اپنے ایمان افروز واقعات اور قبول احمدیت کے قصص بیان کرنے کا موقع دیا گیا۔

دوسرا دن: جلسہ سالانہ کے دوسرے دن کا آغاز بھی باجماعت نماز تہجد سے ہوا جس کی امامت مکرم عمر معاذ کولیبالی صاحب نائب امیر جماعت احمدیہ مالی نے کروائی۔ پھر مکرم ادریس کولیبالی صاحب نے نماز فجر پڑھائی اور مکرم الحسن کیرے صاحب نے گذشتہ ایک سال کے دوران وفات پاجانے والے احباب جماعت کے اسماء پیش کیے اور تمام شاملین نے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ بعدازاں ’’خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے ذرائع‘‘ کے موضوع پر درس دیا گیا۔

پہلا اجلاس: جلسہ سالانہ کے دوسرے دن کے پہلے اجلاس کا آغاز صبح نو بجے مکرم اسد مجید صاحب امیر جماعت احمدیہ نائیجر کی زیر صدارت ہوا۔ کارروائی کا آغاز مکرم ناصر احمد ناصر صاحب کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا جس کے فوراً بعد تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کے لیے ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر نیشنل سیکرٹری تعلیم نے مختلف تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کے نام پڑھے جنہیں امیر صاحب نائیجر، امیر صاحب مالی اور امیر صاحب سینیگال نے انعامات اور اعزازی اسناد سے نوازا۔ اس کے بعد مکرم مرزا ماجد محمود صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کا منظوم کلام خوش الحانی سے پیش کیا۔ اس کے بعد ان موضوعات پر تقاریر ہوئیں: ’’آنحضرت ﷺ کا غیر مسلموں کے ساتھ مثالی حسن سلوک‘‘ از مکرم محمد علی کوناتے صاحب، ’’دور حاضر میں حقیقی امن کے قیام کے لیے اسلامی اصولوں کی ناگزیریت‘‘ از مکرم الحسن گنگانے صاحب، ’’موجودہ دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بچوں کی اسلامی نہج پر تربیت‘‘ از مکرم عبدالقادر تراورے صاحب اور ’’سوشل میڈیا کے محفوظ استعمال‘‘ از مکرم زکریا کولیبالی صاحب۔ ان تقاریر کے دوران نظمیں بھی پیش کی گئیں۔ یہ اجلاس نماز ظہر و عصر کی باجماعت ادائیگی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

دوسرا اجلاس: دوسرے دن کے دوسرے اجلاس کا آغاز شام چار بجے مکرم کابورے سلیمان صاحب نائب امیر جماعت احمدیہ برکینا فاسو کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس کی کارروائی کا آغاز مکرم علی تمبینی صاحب کی تلاوت قرآن کریم اور اس کے مقامی زبان میں ترجمہ سے ہوا، جس کے بعد مکرم محمد سال صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کا منظوم کلام پیش کیا۔ بعدہٗ ان موضوعات پر تقاریر ہوئیں: ’’ہیومینٹی فرسٹ: مصیبت زدہ لوگوں کے آنسو پونچھنا‘‘ از مکرم لسینا مائیگا صاحب، ’’مالی قربانی: رضائے الٰہی کا راستہ‘‘ از مکرم احمد کوکائنا صاحب، ایک نظم کے بعد ’’صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اخلاص و وفا‘‘ از مکرم امیر صاحب نائیجر۔

اجلاس کے اختتام پر معزز مہمانوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا جس کے بعد نماز مغرب و عشاء کی ادائیگی کی گئی اور تمام شاملین کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔

رات کے خصوصی پروگرام: عشائیہ کے بعد جلسہ گاہ میں دو مختلف تربیتی نشستیں منعقد ہوئیں:

٭…سوال و جواب کی نشست (مردانہ پنڈال): مردانہ پنڈال میں ایک علمی نشست کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت مکرم عمر معاذ کولیبالی صاحب نائب امیر مالی نے کی۔ اس نشست میں شاملین کو عقائد احمدیت، فقہی مسائل اور دور حاضر کے چیلنجز کے حوالے سے سوالات کرنے کا موقع دیا گیا۔ نائب امیر صاحب نے قرآن و حدیث اور کتب حضرت مسیح موعودؑ کی روشنی میں ان سوالات کے جواب دیے۔

٭… مستورات کا خصوصی اجلاس: مالی میں جلسہ سالانہ کی تاریخ میں پہلی بار مستورات نے اپنے پنڈال میں ایک الگ اور مکمل اجلاس کا کامیاب انعقاد کیا۔ اس خصوصی اجلاس میں لجنہ اماءاللہ کی عہدیدار خواتین نے مختلف تربیتی اور تعلیمی موضوعات پر تقاریر کیں۔ اس موقع پر ناصرات الاحمدیہ نے بھی نہایت جوش و خروش سے نظمیں پیش کیں۔ اس منفرد اجلاس نے خواتین میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس پیدا کرنے اور ان کے علمی معیار کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

تیسرا روز: جلسہ سالانہ کے تیسرے اور آخری دن کا آغاز باجماعت نماز تہجد سے ہوا جس کی امامت مکرم ناصر احمد ناصر صاحب نے کروائی۔ بعد ازاں نماز فجر امیر صاحب جماعت احمدیہ سینیگال نے پڑھائی۔

اختتامی اجلاس: ملک کے سیکیورٹی حالات کے پیش نظر نماز فجر کے فوراً بعد صبح ساڑھے پانچ بجے اختتامی اجلاس کا آغاز ہوا جس کی صدارت امیر صاحب جماعت احمدیہ سینیگال نے کی۔ اجلاس کی کارروائی کا آغاز مکرم مادو کولیبالی صاحب کی تلاوت قرآن کریم اور ترجمہ سے ہوا، جس کے بعد بماکو کے خدام نے حضرت مسیح موعودؑ کا منظوم کلام پیش کیا۔

اس اجلاس کی کلیدی تقریر مکرم عمر معاذ کولیبالی صاحب نے ’’خلفائے کرام کے ارشادات پر عمل درآمد کی اہمیت اور تحریک‘‘ کے موضوع پر کی۔ پروگرام کے آخری مرحلے میں مکرم امیر صاحب جماعت احمدیہ مالی نے تمام رضاکاروں، مقامی انتظامیہ اور پڑوسی ممالک سے آئے ہوئے وفود کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے نامساعد حالات کے باوجود جلسے کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ صدر مجلس نے اپنی اختتامی تقریر میں شاملین کو جلسے کی برکات کو اپنے ساتھ لے جانے اور اپنے علاقوں میں جا کر دوسروں کے لیے نمونہ بننے کی نصیحت کی اور دعا کروائی جس کے ساتھ ہی ۱۷واں جلسہ سالانہ مالی بخیر و خوبی اپنے اختتام کو پہنچا۔ دعا کے بعد تمام شاملین کی خدمت میں ناشتہ پیش کیا گیا جس کے بعد قافلوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوا۔

جلسہ سالانہ مالی کے انتظامات میں سوشل میڈیا، ریڈیو اور ملکی میڈیا کے مؤثر استعمال کے ساتھ ساتھ لنگر، سیکیورٹی، طبی سہولیات اور پارکنگ کے شعبہ جات نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ جلسے کی کارروائی یوٹیوب، فیس بک اور ٹک ٹاک پر براہِ راست نشر کی گئی جسے ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد نے دیکھا۔

لنگر خانہ میں ۱۲۰ سے زائد رضاکاروں جبکہ لجنہ اماءاللہ کی ۵۰؍سے زائد ممبرات نے خدمت کی توفیق پائی اور تینوں دن ہزاروں مہمانوں کے لیے بروقت کھانے کا انتظام کیا۔ سیکیورٹی کے لیے خدام نے چوبیس گھنٹے ڈیوٹی دی جبکہ حکومت کی جانب سے ۵۰؍پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔ منظّم پارکنگ کے انتظام کے باعث ہزاروں گاڑیوں کے باوجود ٹریفک کی روانی برقرار رہی۔

جلسے کی کارروائی کی براہِ راست ریڈیو نشریات کے لیے بماکو کا مرکزی ریڈیو سٹیشن ’ریڈیو نور‘ اہم ذریعہ تھا جس کے ساتھ ملک بھر کے جماعتی ۱۵؍ریڈیو سٹیشنز منسلک رہے۔ اس طرح تلاوت، نظموں اور تقاریر کی آواز ملک کے مختلف علاقوں تک پہنچی اور احمدی و غیر از جماعت سامعین نے ان نشریات سے استفادہ کیا۔

جلسے کو ملکی میڈیا میں بھی نمایاں کوریج حاصل ہوئی۔ مجموعی طور پر ۴؍ٹی وی و ویب ٹی وی چینلز، یعنی ORTM، AlafiaTv، Joliba News اور NCP News نے جلسے کی رپورٹنگ کی، جبکہ ۸؍بڑے اخبارات و میڈیا اداروں جن میں le Républicain, le Jour, Mali24 اور AMAP Koulikoro شامل ہیں، نے بھی کوریج دی۔

جلسے میں پانچ ممالک سے ۲۷؍غیر ملکی مہمان بھی شریک ہوئے۔ بعض علاقوں سے جلسہ گاہ تک سفر کا کرایہ ۴۰؍ہزار فرانک تک پہنچنے کے باوجود احباب نے اپنے وسائل سے سفر کیا جبکہ بعض صاحبِ استطاعت افراد نے دیگر احباب کے سفری اخراجات بھی برداشت کیے۔

شاملین کی صحت کے لیے مفت میڈیکل کیمپ قائم کیا گیا جہاں طبی معائنہ اور ادویات فراہم کی گئیں۔ علمی نمائش میں قرآن کریم کے مختلف زبانوں میں تراجم، کتب حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کی تصاویر پیش کی گئیں جبکہ شاملین کی ضروریات کے لیے بازار بھی قائم کیا گیا۔

جلسے کے کامیاب اختتام پر کارکنان کے اعزاز میں ضیافت کا اہتمام کیا گیا جس میں معزز مہمانوں نے رضاکاران اور مبلغین کی مخلصانہ خدمات کو سراہا۔

اللہ تعالیٰ تمام شاملین جلسہ کو اس جلسہ سالانہ سے بھرپور مستفید ہونے اور شاملین جلسہ کے حق میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی خاص دعاؤں کا وارث بنائے۔ آمین

(رپورٹ: واصف شہزاد۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: مجلس خدام الاحمدیہ ایسیا(Issia)، آئیوری کوسٹ کے ریجنل اجتماع کا انعقاد

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button