ہمارے نبی، پیارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
ذی روح کو تنگ کرنے کی سزا
سعید بن جُبیر سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمرؓ قریش کے چند نوجوانوں کے پاس سے گذرے۔ انہوں نے ایک پرندےکو باندھا ہوا تھا اور اس پر تیر اندازی کر رہے تھے۔ انہوں نے پرندے کے مالک سے یہ طے کیا تھا کہ ان کے ہر خطا جانے والے تیر اس کے ہوں گے۔ جب انہوں نے حضرت ابن عمرؓ کو دیکھا تو منتشر ہو گئے۔ حضرت ابن عمرؓ نے کہا یہ کس نے کیا ہے؟ اللہ اس پر لعنت کرے جس نے یہ کیا ہے۔ یقینا ًرسول اللہﷺ نے اس پر لعنت کی ہے جو کسی روح والی چیز کو (باندھ کر) ٹارگٹ بناتا ہے۔
(مسلم كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان، باب النهي عن صبر البهائم حدیث نمبر 3605 )