پرندوں کی مہمان نوازی کا قصہ
حضرت مفتی محمدصادق صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک شب کا ذکر ہے کہ کچھ مہمان آئے جن کے واسطے جگہ کے انتظام کے لئے حضرت ام المومنین حیران ہو رہی تھیں کہ سارا مکان تو پہلے ہی کشتی کی طرح پُر ہے۔ اب اُن کو کہاں ٹھیرایا جائے۔ اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسّلام نے اکرامِ ضیف کا ذکر کرتے ہوئے حضرت بیوی صاحبہ کو پرندوں کا ایک قصہ سُنایا۔ چونکہ مَیں بالکل ملحقہ کمرے میں تھا اور کواڑوں کی ساخت پُرانے طرز کی تھی جن کے اندر سے آواز بآسانی دوسری طرف پہنچتی رہتی ہے، اِس واسطے مَیں نے اس سارے قصہ کو سُنا۔
فرمایا: دیکھو ایک دفعہ جنگل میں ایک مسافر کو شام ہو گئی۔ رات اندھیری تھی۔ قریب کوئی بستی اُسے دکھائی نہ دی اور وہ ناچار ایک درخت کے نیچے رات گزارنے کے واسطے بیٹھ رہا۔ اُس درخت کے اُوپر ایک پرندےکا آشیانہ تھا۔ پرندہ اپنی مادہ کے ساتھ باتیں کرنے لگا کہ دیکھو یہ مسافر جو ہمارے آشیانہ کے نیچے زمین پر آ بیٹھا ہے یہ آج رات ہمارا مہمان ہے اور ہمارا فرض ہے کہ اِس کی مہمان نوازی کریں۔ مادہ نے اس کے ساتھ اتفاق کیا اور ہر دو نے مشور ہ کر کے یہ قرار دیا کہ ٹھنڈی رات ہے اور اس ہمارے مہمان کو آگ تاپنے کی ضرورت ہے۔ اور تو کچھ ہمارے پاس نہیں ہم اپناآشیانہ ہی توڑ کر نیچے پھینک دیں تا کہ وہ ان لکڑیوں کو جلا کر آگ تاپ لے۔ چنانچہ انہوں نے ایساہی کیا اور سارا آشیانہ تنکا تنکا کرکے نیچے پھینک دیا۔ اس کو مسافر نے غنیمت جانا اوران سب لکڑیوں کو،تنکوں کو جمع کر کے آگ جلائی اور تاپنے لگا۔ تب درخت پر اس پرندوں کے جوڑے نے پھر مشورہ کیا کہ آگ ہم نے اپنے مہمان کو بہم پہنچائی اور اُس کے واسطے سیکنے کا سامان مہیا کیا۔ اب ہمیں چاہئے کہ اسے کچھ کھانے کو بھی دیں اور توہمارے پاس کچھ نہیں۔ ہم خود ہی اس آگ میں جا گریں اور مسافر ہمیں بھون کرہمارا گوشت کھا لے۔ چنانچہ اُن پرندوں نے ایساہی کیا اور مہمان نوازی کاحق ادا کیا ‘‘۔
(ذکر حبیب صفحہ 67-68 مصنفہ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ)