محمدؐ ہی نام اور محمدؐ ہی کام عَلَیْکَ الصَّلوٰۃُ عَلَیْکَ السَّلَامُ
(نجیب خدا کا نجیب بندہ: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم)
(انسان کو فطرتِ خداوندی پر پیدا کیا گیا ہے اسی لیے جس حد تک ممکن ہو اپنے خالق و مالک کی صفات کو اپنانے کی کوشش کرنا بھی انسان کا مقصدِحیات ہے۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ کو الہاماً بتایا گیا کہ ’’نجیب‘‘ بھی یکے از صفاتِ باری تعالیٰ ہے (ذکرِ حبیب)۔ اللہ تعالیٰ کے محبوب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر بھلا کون خدا کے رنگ میں رنگین ہو سکتا ہے۔ اسی مناسبت سے ’’نجیب خدا کا نجیب بندہ: محمدؐ ‘‘ کے عنوان سے ایک عاجزانہ کاوش پیش خدمت ہے۔ وباللہ التوفیق)
ہماری زندگی میں بعض لوگ ایسے ضرور آتے ہیں جن سے چند لمحے ملنے یا گفتگو کرنے کے بعد دل میں بے اختیار ان کے لیے احترام پیدا ہوجاتا ہے۔ ضروری نہیں کہ وہ بہت بڑے عالم ہوں، بہت دولت مند ہوں، کسی بلند منصب پر فائز ہوں یا ان کے گرد لوگوں کا ہجوم ہو، لیکن ان کی شخصیت میں ایک ایسا ٹھہراؤ ہوتا ہے جو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ وہ گفتگو کرتے ہیں تو الفاظ میں شائستگی ہوتی ہے، اختلاف کرتے ہیں تو تہذیب و اخلاق ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، کوئی سخت بات کہہ دے تو فوراً مشتعل نہیں ہوتے، اپنے سے کمزور شخص کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں تو اپنی طاقت جتانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے اور اگر کسی سے غلطی ہوجائے تو اس کی غلطی اور اس کی پوری شخصیت کو ایک ہی پیمانے پر نہیں تولتے۔ ایسی شخصیت کو اگر ایک لفظ میں بیان کرنے کی کوشش کی جائے تو شائد قریب ترین نجیب کا لفظ سمجھ میں آتا ہے۔ نجیب کے اندر شرافت بھی ہے، وقار بھی، حلم بھی، تحمل بھی اور وہ عالی ظرفی بھی جس میں انسان دوسرے کی کم ظرفی کو اپنے ظرف کا پیمانہ نہیں بننے دیتا۔
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نجابت کی اصل پہچان کیا ہے؟ کیا نرم لہجے میں بات کرنا ہی نجابت ہے، یا ہر حال میں خاموش رہنا، اپنے حق سے دست بردار ہوجانا اور ظلم برداشت کرتے چلے جانا نجابت ہے؟ ایسا نہیں ہے۔ اصل نجابت تو شاید وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں انسان کے پاس غصہ کرنے کی معقول وجہ موجود ہو، جواب دینے کی پوری صلاحیت بھی ہو اور بعض اوقات بدلہ لینے کا اختیار بھی حاصل ہو، لیکن وہ پھر بھی اپنے نفس کو اپنے اخلاق پر حاکم نہ بننے دے۔ دوسرے بھلے اخلاقی پستی کا مظاہرہ کریں لیکن وہ اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دے۔ کوئی اس کی توہین کرے تو وہ یہ ضروری نہ سمجھے کہ اپنی عزت ثابت کرنے کے لیے جواباً اُسے بھی اُس کی توہین کرنی ہوگی۔ کوئی سخت زبان استعمال کرے تو وہ اپنی زبان کی نرمی کو کھو نہ دے۔ گویا نجابت ایک اعلیٰ ظرف انسان کا وہ پیمانہ ہے جس سے اس کا ایک عام آدمی سے فرق بیان کیا جا سکتا ہے۔
قرآن کریم نے اس امر کو ایسی جامعیت کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ اس کا مالہٗ وماعلیہ چند الفاظ میں سمو دیا: وَالْكَاظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ یعنی وہ جو غصہ پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کردیتے ہیں۔ یہاں الکاظمین الغیظ کے الفاظ قابل توجہ ہیں۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ انسان کو غصہ آنا ہی بند ہوجائے کیونکہ غصہ انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ کمال یہ ہے کہ انسان اپنے غصے کا غلام نہ ہو۔ کسی ایسی صورت میں جبکہ اشتعال پیدا ہو سکتا ہو زبان اپنے اختیار میں رہے، دل دکھے مگر انصاف کا خون نہ کیا جائے، کسی طعن و تشنیع کے مقابل جواب ذہن میں آئے مگر انسان سوچے کہ کیا اسے زبان پر لانا ضروری بھی ہے یا نہیں۔ جدید دور میں آج اس صلاحیت کو emotional regulation کا نام دیا جاتا ہے۔ جبکہ رسولِ نجیبﷺ جنہیں جوامع الکلم عطا ہوئے تھے صدیوں پہلے اس حقیقت کو بیان فرما دیتے ہیں کہ طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے بلکہ اصل طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔
اسی صفت کو قرآن کریم ایک اَور مقام پر عبادالرحمٰن کی نشانی کے طور پر پیش فرماتا ہے: وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا یعنی رحمٰن کے بندے زمین پر فروتنی اور وقار سے چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو سلامتی کی بات کہتے ہیں۔ اس آیت کی خوبصورتی یہ ہے کہ قرآن کوئی ایسی خیالی دنیا پیش نہیں کرتا جہاں نیک انسانوں کو کبھی بے تمیز لوگ ملتے ہی نہیں۔ انہیں جاہل بھی ملیں گے، طعنے بھی سننے پڑیں گے، مخالفت بھی ہوگی، مگر دوسرے کا کردار ان کے کردار کو متأثر نہیں کرے گا۔ ہم عموماً کہتے ہیں کہ اس نے میرے ساتھ ایسا کیا تو میں کیا کرتا، اس نے پہلے بدتمیزی کی تھی، اس نے میری عزت نہیں کی تو میں اس کی عزت کیوں کرتا؟ گویا ہم اپنی زبان، اپنے مزاج اور اپنے اخلاق کا اختیار اپنے پاس رکھنے کی بجائے دوسرے شخص کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں جبکہ قرآنِ کریم اور سیرتِ نبویﷺ ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ دوسرے کا کردار اس کی ذمہ داری ہے، تمہارا کردار تمہاری۔
انسان گھر کے باہر اپنی ذات پر تصنّع کا خول چڑھا سکتا ہے لیکن گھر کے اندر اُس کی حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ حضرت انس بن مالکؓ کی ایک مختصر سی گواہی رسول نجیبﷺ کی شخصیت کے پوشیدہ پہلو کو دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ میں دس سال رسول اللہﷺ کی خدمت میں رہا، آپﷺ نے کبھی مجھے اُف تک نہ کہا، نہ میرے کام پر یہ کہا کہ ایسا کیوں کیا یا کیوں نہ کیا۔ گویا اخلاق نبویؐ گھر کے اندر اور باہر یکساں تھے۔ کسی شخص کے نجیب ہونے کی شاید ایک بڑی پہچان یہی ہے کہ انسان کا وہ اخلاق جو دنیا دیکھتی ہے اس کے گھر والے بھی اسی اخلاق کی گواہی دیتے ہوں۔
اسی پہلو کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی بعثت کے تناظر میں نہایت خوبصورتی سے بیان فرمایا کہ ’’خدا نے مجھے دنیا میں اس لئے بھیجا کہ تا میں حِلم اور خلق اور نرمی سے گم گشتہ لوگوں کو خدا اور اُس کی پاک ہدایتوں کی طرف کھینچوں اور وہ نور جو مجھے دیا گیا ہے اس کی روشنی سے لوگوں کو راہِ راست پر چلاؤں۔‘‘ (تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۱۴۳)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطباتِ جمعہ سے بارہا یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے تمام اخلاق حسنہ آپؑ کے آقا و مطاع نبی نجیبﷺ کے عکس کے طور پر تھے۔ آپؑ نے گھروالوں، دوستوں، اپنے اردگرد رہنے والوں بلکہ غیروں اور دشمنوں تک کے ساتھ حلم و رفق کے جو بھی نمونے قائم کیے وہ رسول نجیبﷺ کے اسوۂ حسنہ کی پیروی میں تھے۔
مسجد سے زیادہ پاکیزہ کون سی جگہ ہو سکتی ہے۔ نبی نجیبﷺ مسجد میں تشریف فرما ہیں کہ ایک دیہاتی مسجد میں آتا ہے اور ناواقفیت کی وجہ سے مسجد ہی کے ایک حصے میں پیشاب کرنا شروع کردیتا۔ صحابہ فطری طور پر ناراضگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے روکنے کے لیے بڑھتےہیں مگر آپؑ انہیں روک دیتے ہیں اور اُس کے فارغ ہوجانے کے بعد اُس جگہ پانی بہا دینے کا حکم دیتے ہیں۔ رسولِ نجیبﷺ جو بذاتِ خود انتہائی نفیس طبیعت کے مالک تھے اس موقعہ پر اُس دیہاتی کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے معاملے کو سنبھال لینا اور بظاہر اس افسوس ناک واقعہ سے اپنے صحابہ کی تربیت کا موقع پیدا کرلینا آپؐ کی انتہائی پُرحکمت اور عالی ظرف شخصیت کا گواہ ہے۔
ایک اَور اعرابی نبیوں کے سردارﷺ سے معمولی ادھار واپس مانگنے آتا ہے تو نہایت بے تکلف اور سخت انداز میں مال کا مطالبہ کرتے ہوئے آپؐ کے گلے میں پڑی چادر کو اس زور سے کھینچتا ہے کہ اس کے کنارے کا نشان جسم مبارک پر پڑ جاتا ہے، لاسّیں چھوڑ جاتا ہے۔ اردگرد جان نثار صحابہؓ موجود ہیں، اس زیادتی کا جواب دینے کی طاقت پوری طرح موجود ہے مگر رسولِ نجیبﷺ اس کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھتے ہیں اور اسے کچھ دینے کا حکم فرماتے ہیں۔ یہاں نبیﷺ کا اسوۂ حسنہ اَور بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اعرابی کی بدتہذیبی کا جواب بدتہذیبی سے نہیں دیا گیا بلکہ اسی وقار اور اعتماد اور حلم اور رفق کے ساتھ دیا گیا جو کہ رسول کریمﷺ کے اخلاق کا خاصّہ تھا۔ (جاری ہے)



