نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم
لب پہ ذکرِ صفا محمدؐ کا
وِرد صلِّ علیٰ محمدؐ کا
جب بھی کرتا کسی کو وہ تبلیغ
بات کرتا تھا وہ فصیح و بلیغ
میرا محسن مرا حبیب ہے وہ
میرے دل کے بڑا قریب ہے وہ
اس کی سب سے بڑی جو طاقت تھی
اس کی ہر بات میں صداقت تھی
آشنا لطف سے زبان کروں
کچھ صفات اس کی میں بیان کروں
گفتگو اس کی ہوتی تھی جامع
اس کو سنتے تھے شوق سے سامع
وہ ہے رحمت خدا کی سب کے لیے
وہ نمونہ ہے روز و شب کے لیے
مختصر جو کلام کرتا تھا
دشمنوں کو بھی رام کرتا تھا
عشق یوں اس کو اپنے رب سے تھا
منتظر اس کا جیسے، کب سے تھا
کی گئی تھی عطا اسے حکمت
رعب سے دی گئی اسے نصرت
ذکر کرتا تھا اس کا کثرت سے
آج بھی لوگ دیکھیں حسرت سے
معرفت سے بھری جو باتیں تھیں
تھیں عبادت سے پُر جو راتیں تھیں
اس نے اُمّی لقب تو پایا تھا
خود خدا نے اسے پڑھایا تھا
مل گئی تھی خبر زمانوں کی
کنجیاں دی گئیں خزانوں کی
علم و عرفاں کا وہ خزانہ تھا
اس کا قائل ہوا زمانہ تھا
وہ تو حاضر ہوا خدا کے حضور
چھوڑ کر وہ گیا خدا کا نور
جب خدا اس سے ہم کلام ہوا
جاری قرآن کا نظام ہوا
مل گئے اب ہمیں خزانے وہ
ڈھونڈتے ہم ہیں پر زمانے وہ
(ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔ لندن)
مزید پڑھیں: وہ دربارِ خلافت ہے وہ جلسہ ہے جماعت کا




