جماعت احمدیہ ڈنمارک کا جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء
٭… ’’الخیر کلّہ فی القرآن‘‘کے مرکزی موضوع پر منعقدہ جلسہ سالانہ کے موقع پر
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ارسال کردہ خصوصی پیغام ٭… ۴۱۰؍احباب کی شمولیت
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ ڈنمارک کو اپنا جلسہ سالانہ ’’الخیر کلہ فی القرآن‘‘ کے مرکزی موضوع پر مورخہ ۶و۷؍جون ۲۰۲۶ء کو مسجد نصرت جہاں کمپلیکس، کوپن ہیگن میں منعقد کرنے کی توفیق ملی۔

جلسہ کی ضروریات کے پیش نظر متعدد شامیانے نصب کیے گئے۔ خواتین کی سہولت کے لیے نصرت ہال کے علاوہ ایک کمیونٹی سینٹر بھی کرایہ پر حاصل کیا گیا۔ مسجد کے اردگرد رہائش پذیر ہمسایوں کو جلسہ کے انعقاد سے آگاہ کرنے اور انہیں شرکت کی دعوت دینے کے لیے خطوط بھی بھجوائے گئے۔ اسی طرح پارکنگ کی سہولت کے لیے مسجد سے منسلک ایک سکول کی پارکنگ بھی عارضی طور پر حاصل کی گئی۔
تقریب پرچم کشائی: ۶؍جون کو صبح ۱۱؍بجے پرچم کشائی کی پُروقار تقریب منعقد ہوئی۔ مکرم مبارک احمد تنویر صاحب نائب امیر و مبلغ انچارج جرمنی نے لوائے احمدیت فضا میں بلند کیا جبکہ ڈنمارک کا قومی پرچم مکرم محمد زکریا خان صاحب امیرو مبلغ انچارج جماعت احمدیہ ڈنمارک نے لہرایا۔ اس کے بعد اجتماعی دعا ہوئی اور ناصرات الاحمدیہ نے ترانے پیش کیے۔

افتتاحی اجلاس:ٹھیک سوا گیارہ بجے امیر صاحب کی زیر صدارت افتتاحی اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ مکرم مدبر احمد قادر صاحب نے تلاوت قرآن کریم جبکہ متلوّ آیات کا ترجمہ مکرم عمر احمد صاحب کو پیش کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس کے بعد امیر صاحب نے بتایا کہ جماعت احمدیہ ڈنمارک کے لیے یہ انتہائی خوش قسمتی اور سعادت کی بات ہے کہ ہر سال حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ازراہ شفقت جلسہ سالانہ کے لیے خصوصی پیغام ارسال فرماتے ہیں۔ امسال بھی حضور انور کا خصوصی پیغام موصول ہوا جو امیر صاحب نے پڑھ کر سنایا۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خصوصی پیغام کے بعد امیر صاحب نے اپنی افتتاحی تقریر میں جلسہ ہائے سالانہ کی اہمیت بیان کی اور کہا کہ یہ جلسے روحانی تربیت، علمی ترقی اور ازدیاد ایمان کا ذریعہ ہیں۔
اجتماعی دعا کے بعد اجلاس کے دوسرے حصہ کی کارروائی مکرم رضوان افضل صاحب مبلغ سلسلہ لولیو، سویڈن کی صدارت میں ہوئی۔ مکرم رفیع احمد چیمہ صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کے منظوم کلام ’’وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا‘‘ سے چند اشعار خوش الحانی سے پیش کیے۔ اس کے بعد مکرم خاور احمد صاحب نیشنل سیکرٹری مال نے ’’مالی قربانی ایک انعام الٰہی‘‘ کے موضوع پر جبکہ مکرم ڈاکٹر عبدالرؤوف خان صاحب نیشنل جنرل سیکرٹری نے ’’نظام خلافت اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان پر تقاریر کیں۔ بعد ازاں چند اہم اعلانات کے ساتھ یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
دوسرا اجلاس:وقفہ برائے طعام اور نماز ظہر و عصر کی ادائیگی کے بعد سہ پہر تین بجے دوسرے اجلاس کی کارروائی خاکسار (مبلغ سلسلہ ڈنمارک) کی صدارت میں شروع ہوئی۔ مکرم افتخار احمد صاحب نے تلاوت قرآن کریم و اردو ترجمہ پیش کیا جبکہ مکرم عطاء القادر صاحب نیشنل سیکرٹری اشاعت نے اس کا ڈینش ترجمہ پیش کیا۔ بعد ازاں خاکسار نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خصوصی پیغام کا ڈینش ترجمہ پڑھ کر سنایا اور مکرم نوید احمد صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کا منظوم کلام پیش کیا۔ اس اجلاس میں ڈینش زبان میں تین تقاریر ہوئیں:’’اسلامی اخلاق فاضلہ اور معاشرتی برائیوں کا خاتمہ‘‘ از مکرم فلاح الدین ملک صاحب مبلغ سلسلہ، ’’اسلامی تعلیمات کی روشنی میں باہمی حقوق و فرائض‘‘ از مکرم محمد اکرم محمود صاحب مبلغ سلسلہ اور ’’الخیر کلہ فی القرآن‘‘ از خاکسار۔
دوسرا روز:جلسہ سالانہ کے دوسرے روز کا پہلا اجلاس ۷؍جون کو صبح ۱۱؍بجے مکرم نائب امیر و مبلغ انچارج جرمنی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ مکرم ڈاکٹر محمد رحمان صاحب نے تلاوت قرآن کریم و اردو اور ڈینش ترجمہ پیش کیا، جس کے بعد مکرم فلاح الدین ملک صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کا بابرکت منظوم کلام پیش کیا۔ اس کے بعد ان موضوعات پر تقاریر ہوئیں: ’’حسد اور بدظنی‘‘ از مکرم مصور احمد شاہکار صاحب مبلغ انچارج ناروے، ’’خلافت دل ہمارا ہے‘‘ از مکرم رضوان افضل صاحب مبلغ سلسلہ سویڈن اور ’’امر بالمعروف اور نہی عن المنکر‘‘ از صدر اجلاس۔
اختتامی اجلاس:جلسہ سالانہ کے اختتامی اجلاس کی کارروائی نماز ظہر و عصر کی ادائیگی کے بعد سہ پہر تین بجے امیر صاحب ڈنمارک کی زیر صدارت شروع ہوئی۔ مکرم بلاج محمود بٹر صاحب نے تلاوت قرآن کریم مع اردو و ڈینش ترجمہ پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم امیر صاحب نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے موصولہ خصوصی پیغام دوبارہ پڑھ کر سنایا اور احباب جماعت کو حضور انور کی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی۔ بعد ازاں مکرم مصور احمد چیمہ صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کا منظوم کلام ترنم کے ساتھ پیش کیا۔ اس کے بعد امیر صاحب نے اپنی اختتامی تقریر میں دنیاوی زندگی کی عارضی حیثیت، آخرت کی کامیابی کے لیے دینی فرائض کی ادائیگی اور خلافت سے مضبوط تعلق و کامل اطاعت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ نیز کارکنان، شاملین اور بیرونِ ملک سے آنے والے مبلغین کا شکریہ ادا کیا۔ اجتماعی دعا کے ساتھ یہ جلسہ سالانہ اختتام پذیر ہوا۔
حاضری:اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ سالانہ میں ۴۱۰؍سے زائد افراد نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں دیگر ممالک اور خصوصاً سویڈن سے بھی متعدد مہمان جلسے میں شامل ہوئے۔
اللہ تعالیٰ تمام شاملین جلسہ کو ان برکات اور دعاؤں کا وارث بنائے جو حضرت مسیح موعودؑ نے جلسہ میں شامل ہونے والوں کے لیے خدا تعالیٰ کے حضور کیں اور ہم سب کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے تمام ارشادات پر کماحقہٗ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(رپورٹ: نعمت اللہ بشارت۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا جلسہ سالانہ ڈنمارک ۲۰۲۶ء کے موقع پر بصیرت افروز پیغام
پیارے احبابِ جماعت احمدیہ ڈنمارک
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمدلله کہ جماعت احمدیہ ڈنمارک کو ۶اور ۷؍جون ۲۰۲۶ء کو اپنا جلسہ سالانہ منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اس جلسہ کو ہر لحاظ سے کامیاب و کامران فرمائے اور ہر یک شاملِ جلسہ کو اس کی روحانی اور علمی برکات سے بھرپور استفادہ کی توفیق بخشے۔ آمین
یاد رکھیں کہ تمام انبیاء کی بعثت کی غرض مشترک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سچی محبت لوگوں کے دلوں میں قائم کی جائے اور بنی نوع انسان اور اخوان کے حقوق اور محبت میں ایک خاص رنگ پیدا کیا جائے۔ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں اسلام کے احیاء کے لئے نبی کریمﷺ کا بروز بنا کر مبعوث فرمایاہے اور آپ علیہ السلام کی بعثت کا مقصد بھی یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید کو دلوں میں قائم کیا جائے جیسا کہ آپ فرماتے ہیں: ’’ہمارا سلسلہ تو یہ ہے کہ انسان نفسانیت کو ترک کر کے خالص توحید پر قدم مارے۔‘‘ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 286 حاشیہ۔ جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)
اللہ تعالیٰ کا شکر و احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس سلسلہ میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔ ہم میں سے بعض کو ان کے بزرگوں کی نیکیوں کی وجہ سے اس سلسلہ کو شناخت کرنے کی توفیق عطا ہوئی اور ہم احمدی خاندانوں میں پیدا ہوئے اور بعض کو خود اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی کہ وہ بیعت کر کے سلسلے میں داخل ہوئے ہیں۔ پس یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے اور اس کی توحید کے قیام کے لئے جدوجہد کرنا ہر احمدی کا فرض ہے۔ توحید کے قیام کے لئے سب سے اہم کام جو انسان کا مقصد پیدائش ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور نمازوں کی حفاظت کرنا۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’نماز کو خوب سنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے۔ نماز ساری ترقیوں کی جڑ اور زینہ ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ نماز مومن کا معراج ہے… آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: قُرَّةُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوةِ۔ یعنی میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے اور فی الحقیقت جب انسان اس مقام اور درجہ پر پہنچتا ہے تو اس کیلئے اکمل اتم لذت نماز ہی ہوتی ہے اور یہی معنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے ہیں۔ پس کشاکش نفس سے انسان نجات پا کر اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتا ہے۔‘‘(ملفوظات جلد4 صفحہ 605 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)
پھر حقیقی عابد کے لئے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حق بھی ادا کرنے والا ہو۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ’’نوع انسان پر شفقت اور اس سے ہمدردی کرنا بہت بڑی عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے یہ ایک زبردست ذریعہ ہے۔‘‘(ملفوظات جلد 4 صفحہ 438-439)
پس حقوق اللہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے بھی اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنا ہر احمدی کے لئے ضروری ہے۔ ہر ایک کا دوسرے سے تعاون، ہمدردی اور حسنِ سلوک کا رویّہ ہونا چاہئے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَتَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَالتَّقۡوٰی کہ ایک دوسرے کے ساتھ نیکی اور تقویٰ پر تعاون کرو۔
سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔: ’’اس جلسہ سے مدعا اور اصل مطلب یہ تھا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے ایک ایسی تبدیلی اپنے اندر حاصل کر لیں کہ ان کے دل آخرت کی طرف بکلّی جھک جائیں اور ان کے اندر خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور وہ زُہد اور تقویٰ اور خدا تَرسی اور پرہیزگاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مواخات میں دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں‘‘
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگیوں میں، اپنی حالتوں میں بھی وہ انقلابی کیفیت طاری کرنے کی توفیق بخشے جس کی زمانے کے امام نے اسلام کی خوبصورت تعلیم کی روشنی میں ہم سے توقع کی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کو احسن رنگ میں ادا کرنے کی توفیق بخشے۔




