متفرق

صنعت وتجارت

ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ فرماتے ہیں: ’’پس باہر سے آنے والے احمدیوں کی ایک بڑی تعداد ، ضرورت سے بے نیاز ہوکر، یہاں صرف اس لیے شاپنگ کرتی ہے کہ جس جگہ کو خدا نے آج تمام دنیا میں نو ر پھیلانے کا مرکز بنایا ہے، وہاں کی چیزیں لے کر جائیں۔ ان میں امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک سے آنے والے احمدی بھی ہوتے ہیں۔ ان کو ضرورت تو نہیں ہوتی کہ یہاں سے چیزیں خریدیں بلکہ ساری دنیا ان سے چیزیں خریدتی ہے۔ اس لیے جب باہر کے مہمان یہاں آکر شاپنگ کرتے ہیں تو خالصتہً نیکی کی وجہ سے اور للّٰہی محبت کے اظہار کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے جب بعض دکاندار زیادتی کرتے ہیں تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کے ایمان کو کیسی ٹھو کر لگتی ہوگی۔ وہ منہ مانگے دام دے دیتے ہیں ۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ایک احمدی دوکاندار جائز منافع سے زیادہ لے گا یا ہمارے بھول پن سے فائدہ اٹھا کر ہمیں کچھ زیادہ دام بتائے گا۔لیکن جب وہ دوسری جگہ جاتے ہیں اور وہاں نسبتاً نیک دکاندار ملتا ہے تو ان کو ٹھوکر لگتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اچھا! یہ قیمت ہے اس کی ؟ ہمیں تو فلاں جگہ یہ بتائی گئی تھی ۔ چنانچہ ایسے واقعات وہ پھر بتاتے ہیں۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۷؍دسمبر ۱۹۸۲ء، مطبوعہ خطبات طاہر جلد ۱ صفحہ۳۴۴)

(مرسلہ: وکالت صنعت و تجارت)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button