کک وٹ اور کاسائی اورینٹل ریجن کانگو کنشاسا کے جلسہ ہائے سالانہ ۲۰۲۶ء کا انعقاد
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کانگو کنشاسا کو ماہ جون ۲۰۲۶ء میں کک وٹ (Kikwit) اور کاسائی اورینٹل (Kasai Oriental) میں جلسہ ہائے سالانہ منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ فالحمدللہ علیٰ ذالک
پانچواں جلسہ سالانہ کک وٹ
جماعت احمدیہ کک وٹ، کانگو کنشاسا کو اپنا پانچواں جلسہ سالانہ مورخہ ۱۹و۲۰؍جون ۲۰۲۶ء کو مسجد سے متصل جگہ پر منعقد کرنے کی توفیق ملی۔
مرکزی وفد:امسال نیشنل ہیڈکوارٹر سے جلسہ سالانہ میں شرکت کے لیے مکرم امیر صاحب نے مکرم نوید احمد اشرف صاحب افسر جلسہ سالانہ و مبلغ سلسلہ Mbanza-Ngungu کو اپنے نمائندہ کے طور پر بھیجا۔ موصوف کے علاوہ مکرم کلیم اللہ صاحب مبلغ سلسلہ بوما ریجن اور مکرم انس محمد موسو صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ بھی وفد کا حصہ تھے۔

مورخہ ۱۸؍جون بروز جمعرات بعد نماز مغرب و عشاء افسر جلسہ سالانہ نے تمام ناظمین کے ساتھ میٹنگ کی اور جلسہ کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
جلسہ سالانہ کا آغاز حسبِ روایت نماز تہجد سے ہوا جو لوکل مشنری مکرم ہارون کونگولو صاحب نے پڑھائی۔ نماز فجر کے بعد درس القرآن، درس الحدیث اور درس ملفوظات پیش کیے گئے۔
نماز جمعہ افسر جلسہ سالانہ نے پڑھائی اور احباب جماعت کو تربیتی امور کی طرف توجہ دلائی۔ نماز کے بعد حاضرین نے ایم ٹی اے پر براہ راست حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ سنا۔
سہ پہر تین بج کر ۴۵؍منٹ پر افسر جلسہ سالانہ نے لوائے احمدیت لہرایا اور صدر مجلس خدام الاحمدیہ نے کانگو کا جھنڈا لہرایا۔ بعد ازاں مبلغ سلسلہ نے دعا کروائی۔
پہلے اجلاس کا آغاز مکرم نوید احمد اشرف صاحب مبلغ سلسلہ کی صدارت میں تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو لوکل مشنری مکرم عرفان Mabuma صاحب نے کی۔ عزیزم قاسم احمد نے ترنم سے قصیدہ پیش کیا۔ صدر مجلس نے مکرم امیر صاحب کا پیغام پیش کرتے ہوئے احباب جماعت کو جلسہ سالانہ کے مقاصد اور برکات کے حوالہ سے آگاہ کیا۔ افتتاحی تقریر کے بعد ریجنل مبلغ Kikwit مکرم عطاء القیوم صاحب نے ’’جلسہ سالانہ کی اہمیت و اغراض‘‘ کے عنوان پر تقریر کی۔ بعد ازاں لوکل مشنری مکرم ہارون Kongolo صاحب نے ’’اللہ تعالیٰ کی وحدانیت‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔ پھر صدر اجلاس نے دعا کروائی۔ دعا کے بعد نماز مغرب و عشاء ادا کی گئیں اور حاضرین جلسہ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔

دوسرے دن مجلس سوال و جواب کا بھی پروگرام تھا۔ حاضرین نے اپنے سوالات لکھ کر جمع کروائے تھے۔ اس اجلاس کی صدارت صدر مجلس خدام الاحمدیہ نے کی۔ تلاوت قرآن کریم کے ساتھ اس اجلاس کا آغاز ہوا اور یہ پروگرام ایک گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ اس کے بعد مکرم صدر صاحب نے ذیلی تنظیموں سے مخاطب ہو کر انہیں ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی اور دعا کے ساتھ اس اجلاس کا اختتام ہوا۔ اس کے بعد نماز ظہر و عصر ادا کی گئیں۔
اختتامی اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم عطاء القیوم صاحب ریجنل مبلغ سلسلہ نے کی۔ مکرم ہارون کونگولو صاحب اور مکرم قیصر Bekope صاحب معلم سلسلہ نے مل کر حضرت مصلح موعودؓ کا منظوم کلام پیش کیا۔ مکرم عرفان Mabuma صاحب لوکل مشنری نے ’’آنحضرت ﷺ کا عشق الٰہی‘‘ کے عنوان پر تقریر کی۔ دوسری تقریر مکرم عیسیٰ Museju صاحب لوکل مشنری نے ’’حضرت مسیح موعودؑ کا عشق رسول ﷺ‘‘ کے موضوع پر کی۔ آخری تقریر میں مکرم نوید احمد اشرف صاحب مبلغ سلسلہ نے امن و سلامتی کے حوالہ سے اسلام کی خوبصورت تعلیم پیش کی۔
جلسہ کے اختتام پر بعض غیر از جماعت مہمانوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ ناظم شہر نے کہا کہ وہ اس جلسہ میں پہلے بھی شامل ہو چکے ہیں اور دوبارہ اسے دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں۔ انہوں نے جلسہ کی سب کو مبارک باد پیش کی۔
٭…جناب میئر کے نمائندہ نے سلام پیش کرتے ہوئے جلسہ کی مبارک باد دی اور کہا کہ جب سے جماعت احمدیہ سے تعارف ہوا ہے انہوں نے کوئی شرپسند عنصر نہیں دیکھا بلکہ ہمیشہ احمدیوں کا اچھا کردار سامنے آتا ہے۔ انہوں نے جلسہ میں دینی اور مذہبی باتیں سن کر خوشی کا اظہار کیا۔
٭… ریڈیو Mwinda کے ڈائریکٹر نے کہا کہ وہ اس جلسہ میں پہلی دفعہ شامل ہوئے ہیں اور جلسہ کی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں بہت سے مذاہب کے بہت سے پادریوں سے ملاقات کی ہے مگر جماعت احمدیہ اور اس کے معلمین جیسا کردار انہوں نے کہیں نہیں دیکھا۔ انہوں نے جماعت کی تعلیم کو امن اور محبت سے بھرپور اور جلسہ کو ’’Well Organised‘‘ قرار دیا۔
آخر پر مکرم نوید احمد اشرف صاحب نے تمام مہمانان کرام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اختتامی دعا کروائی۔ اس کے بعد تمام احباب کی عشائیہ سے تواضع کی گئی۔
الحمدللہ، اس جلسہ سالانہ میں ۸؍جماعتوں سے ۲۷۸؍احمدی احباب نے شرکت کی، جبکہ ۱۴۷؍غیراز جماعت افراد شامل ہوئے۔ چنانچہ کُل حاضری ۴۲۵؍رہی۔ الحمدللہ علیٰ ذالک
دسواں جلسہ سالانہ کاسائی اورینٹل
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کاسائی اورینٹل، کانگو کنشاسا کو مورخہ ۲۱؍جون ۲۰۲۶ء کو صوبائی دارالحکومت Mbuji-Mayi میں اپنا دسواں جلسہ سالانہ منعقد کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ Mbuji-Mayi کا شہر ملک کی معیشت اور جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ کانگو کے بہت سے اولین احمدی اسی خطے سے تعلق رکھتے تھے۔
مکرم خالد محمود شاہد صاحب امیر و مبلغ انچارج کانگوکنشاسا، نے خاکسار (مبلغ سلسلہ کنشاسا)کو جلسہ سالانہ میں شرکت کے لیے اپنا نمائندہ مقرر کیا۔ جلسہ کا باقاعدہ آغاز پرچم کشائی کی تقریب سے ہوا جس میں لوائے احمدیت خاکسار لہرایا گیا اور مکرم صدر جماعت Mbuji-Mayi نے قومی پرچم لہرایا جس کے بعد اجتماعی دعا کی گئی۔
باقاعدہ کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ صدر اجلاس نے اپنی افتتاحی تقریر میں جلسہ سالانہ کے بنیادی مقاصد اور برکات پر روشنی ڈالی اور شرکاء پر زور دیا کہ وہ تقویٰ اور نیکی کے اعلیٰ ترین درجات کے حصول کی کوشش کریں۔
اس کے بعد ان موضوعات پر تقاریر ہوئیں: ’’بیعت کی تیسری شرط‘‘ از مکرم صالح Lufuluabu صاحب لوکل معلم، ’’مالی قربانی کی اہمیت‘‘ از مکرم عباس Lufuluabu صاحب اور ’’آنحضرت ﷺ بطور رحمۃ للعالمین‘‘ از مکرم مطیع اللہ صاحب ریجنل مبلغ سلسلہ۔
ظہر اور عصر کی نمازوں کے وقفے کے بعد دوسرے اجلاس کا آغاز ہوا۔ تلاوت اور اردو نظم کے بعد لوکل مشنری مکرم احمد عیسیٰ صاحب نے فرانسیسی زبان میں ’’اسلام: امن کا مذہب‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔ اس اجلاس کا اختتام صدر اجلاس کی اختتامی تقریر سے ہوا جس میں آپ نے حضرت مسیح موعودؑ کی تحریرات کی روشنی میں جماعت احمدیہ کی تعلیمات کی تفصیل سے وضاحت کی۔ اختتامی تقریر کے بعد سوال و جواب کا اجلاس ہوا اور اجتماعی دعا ہوئی۔
جلسہ سالانہ کے اختتام پر تمام شرکاء کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔
کاسائی اورینٹل کے دسویں جلسہ سالانہ میں ۴۱۵؍احمدیوں کے ساتھ ساتھ ۳۵؍غیر از جماعت اور سرکاری عہدیداران نے بھی شرکت کی۔
اللہ تعالیٰ اس تمام مساعی کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور جماعت احمدیہ کو روزافزوں ترقیات عطا فرماتا چلا جائے۔ آمین
(رپورٹ: شاهد محمود خان۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)




