خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)
٭… جماعت احمدیہ جرمنی کا پچاسواں جلسہ سالانہ مورخہ۴ تا ۶؍ستمبر۲۰۲۶ء بروز جمعہ ہفتہ و اتوار مینڈگ میں منعقد ہوا اورفیوض اور برکات بکھیرتے ہوئے کامیابی سے اختتام پذیر ہوا۔ اس موقع پر روزنامہ الفضل انٹرنیشنل نے خصوصی رپورٹنگ کے ذریعہ ویب سائٹ اور سوشل میڈیا کے توسط سے احبابِ جماعت کو اس تاریخی جلسے کے احوال سنائے۔ اس جلسہ سے اميرالمومنين حضرت خليفة المسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۵؍ستمبر۲۰۲۶ء بروز ہفتہ مستورات سے اور ۶؍ستمبر۲۰۲۶ء کو اسلام آباد (ٹلفورڈ ۔ یوکے) سے اختتامی خطاب بھی فرمایا جو ایم ٹی اے کے توسط سے پوری دنیا میں نشر ہوا۔ مستورات سے خطاب میں حضور انور نے حضرت مسیح موعودؑ کے ارشادات کی روشنی میں قرآن کی تعلیم حاصل کرنے، اسلامی وقار کو اپنانے اور تبلیغ میں اپنے بھرپور کردار ادا کرنے کی نصیحت فرمائی اور تلقین فرمائی کہ احمدی خواتین کو یہ سامنے رکھنا ہے کہ انہوں نے اپنے فرائض کس طرح ادا کرنے ہیں اور کس طرح گھر، معاشرے، بچوں اور خاندان کی بہتری کے لیے اپنا نمونہ دکھانا ہے۔ اختتامی خطاب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ء کے اختتامی خطاب کے تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں شرائط بیعت پر روشنی ڈالی۔
اس جلسے میں ۸۸؍ممالک کی نمائندگی رہی اور ۴۸؍ہزار ۳۳۰؍حاضری رہی۔(تفصیل آئندہ شماروں میں ملاحظہ کیجیے)
٭…برطانوی حکومت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے گھروں میں کم از کم تین دن کا راشن اور پانی محفوظ رکھیں۔ نائب وزیراعظم اولیور ڈاؤڈن نے ’’Prepare‘‘ نامی ویب سائٹ کا اجرا کیا ہے، جہاں ہنگامی حالات میں حفاظتی اقدامات سے متعلق راہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ حکومت نے ہر فرد کے لیے روزانہ تین لیٹر پینے کا پانی رکھنے اور ایسی ڈبہ بند غذائیں ذخیرہ کرنے کی تجویز دی ہے جنہیں پکانے کی ضرورت نہ ہو۔ اس کے علاوہ ٹارچ، بیٹریاں، wipes اور فرسٹ ایڈ کٹ رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد قدرتی آفات، وباؤں اور دیگر ہنگامی حالات کے لیے قوم کو تیار کرنا ہے۔
٭…ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر ہونے والے ہر نئے حملے کا جواب پہلے سے زیادہ سخت دیا جائے گا۔ ان کے مطابق امریکی اڈوں پر حالیہ حملے صرف ابتدا تھے اور امریکا کو سمجھنا چاہیے کہ جنگ کے اصول بدل چکے ہیں۔ قالیباف نے کہا کہ ایران کو فوجی کارروائیوں کے ساتھ معاشی جنگ کا بھی سامنا ہے، جہاں پابندیوں کے ذریعے اشیا کی فراہمی اور توانائی کے نظام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے ملکی پیداوار بڑھانے، درآمدات بہتر بنانے اور قومی اتحاد کو مضبوط کرکے ان مشکلات کا مقابلہ کرنے پر زور دیا۔
٭…ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ایک عہدیدار کے مطابق ۳۰؍اگست سے قبل دس دن کے دوران آبنائے ہرمز میں روزانہ دو سے پانچ بحری جہازوں کو مبینہ خلاف ورزی پر نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب امریکی افواج نے تین ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جن میں ایک خارگ جزیرے کے قریب موجود تھا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے امریکی بحری جہازوں پر بیلسٹک میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی۔ ایران نے مزید امریکی یا امریکہ سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے غیر مجاز آبی راستوں سے گزرنے والے جہازوں کو خبردار کیا ہے۔




