حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرو جو سب سے اعلیٰ ہے

(خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۴؍مئی۲۰۱۰ء)

سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی۔ الَّذِیۡ خَلَقَ فَسَوّٰی۔ وَ الَّذِیۡ قَدَّرَ فَہَدٰی (الاعلیٰ: 2-4)

یہ آیات جو مَیں نے تلاوت کی ہیں۔ سورة اعلیٰ کی پہلی تین آیات ہیں۔ یعنی بسم اللہ کے علاوہ۔ اس سورة کو جیسا کہ ہمارے ہاں عموماً طریق رائج ہے، جمعہ اور عیدین میں پہلی رکعت میں پڑھا جاتا ہے۔ کیونکہ حدیث میں روایت ملتی ہے کہ آنحضرتﷺ جمعہ اور عیدین پر پہلی رکعت میں سورة اعلیٰ پڑھا کرتے تھے۔ اسی طرح دوسری رکعت میں سورة الغاشیہ پڑھا کرتے تھے۔ (مسلم کتاب الجمعة باب ما یقرأ فی صلٰوة الجمعة حدیث نمبر 1912)

پس یہ اس سنت کی پیروی ہے جو آنحضرتﷺ کی سنت ہے جس کی وجہ سے یہ سورتیں پڑھی جاتی ہیں۔ اسی طرح یہ بھی روایت ہے کہ آنحضرتﷺ وتروں کی پہلی رکعت میں سورة اعلیٰ پڑھا کرتے تھے۔ اور دوسری رکعت میں سورة الکافرون اور تیسری رکعت میں بعض روایات میں آتا ہے سورة الاخلاص اور بعض میں یہ ہے کہ آخری تین سورتیں۔ آخری دو قل اور سورة اخلاص۔ (ترمذی ابواب الوتر باب ما جاء فی ما یقرأ بہ فی الوترحدیث نمبر 462، 463)

بہر حال اس وقت سورة الاعلیٰ کی ان آیات کے حوالے سے کچھ کہوں گا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے تفسیرِ کبیر میں اس کی بڑی تفصیل سے تفسیر بیان کی ہے اور بحث فرمائی ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ کی تفاسیر جو ہیں وہ بھی ایک عظیم علمی خزانہ ہیں۔ گو یہ پوری قرآنِ کریم کی تو تفسیر نہیں ہے لیکن جن جن سورتوں کی ہے اُن کو پڑھنے کی طرف جماعت کو توجہ کرنی چاہئے۔ یہ مختلف دس جلدیں ہیں ۔سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی (الاعلیٰ: 2) یعنی تسبیح کر اپنے ربّ کی جو اعلیٰ ہے۔ یعنی تیرا رب جو ربوبیت کے لحاظ سے سب سے بلند اور اعلیٰ شان رکھتا ہے اُس کی تسبیح کر۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ تو اپنے رب کا نام دنیا میں بلند کر۔ گویا دو ذمہ داریاں ایک مومن کی لگائی گئی ہیں جو اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ آنحضرتﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے کامل نمونہ بنایا اور آپؐ پر شریعت کامل ہوئی اور آپؐ کے طریق پر چلنا ہم پر فرض قرار دیا۔ پس ہر شخص جو آپ کی طرف حقیقی رنگ میں منسوب ہوتا ہے اور ہونا چاہتا ہے، اس کا یہ فرض ہے کہ آپ کے اسوہ پر چلنے کی کوشش کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الاحزاب: 22) یقیناً تمہارے لئے اللہ کے رسول میں ایک کامل نمونہ ہے جس کی پیروی کرنی چاہئے۔ اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرنے میں آپ کا کیا نمونہ تھا؟ آپ کے صبح شام، رات دن اللہ تعالیٰ کے ذکر سے پُر گزرتے تھے۔ پھر بھی آپ فرماتے ہیں کہ اے رب! مجھے اپنا ذکر کرنے والا اور اپنا شکر کرنے والا بنا۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الدعاء باب دعاء رسول اللّٰہﷺ حدیث نمبر3830)

رکوع اور سجدے میں آپ اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید فرماتے تھے۔ اور آپ کی تسبیح و تحمید اور گریہ و زاری ایک عجیب رنگ رکھتی تھی۔ رکوع میں جب سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم سے اپنے عظیم ربّ جو ربّ العالمین ہے، اس کی بزرگی اور برتری کا ذکر فرماتے ہیں تو کھڑے ہو کر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہہ کر پھر اللہ تعالیٰ کی بے شمار حمد کی طرف توجہ فرماتے ہیں۔ آپؐ کے رکوع اور سجود اور قیام اور نماز کی ہر حرکت کے بارہ میں ایک دفعہ پوچھنے پر حضرت عائشہؓ نے فرمایا تھا کہ اس کی خوبصورتی اور لمبائی نہ پوچھو۔ (بخاری کتاب التہجد باب قیام النبیﷺ باللیل فی رمضان وغیرہ حدیث نمبر 1147)

سجدوں کی لمبائی کے بارہ میں ایک روایت میں یہ ذکر ملتا ہے۔ حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ ایک دن مسجد میں تشریف لائے اور قبلہ رُو ہو کر سجدے میں چلے گئے۔ بہت لمبا سجدہ کیا۔ اتنا لمبا کہ مَیں آپ کو دیکھ کر پریشان ہو گیا۔ بلکہ یہاں تک میری پریشانی بڑھی کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض کر لی ہے۔ اس پریشانی کی حالت میں مَیں آپ کے قریب پہنچا تو آپ سجدہ سے اٹھ بیٹھے۔ آپ نے فرمایا کہ کون ہے؟ مَیں نے عرض کی یا رسول اللہ! مَیں عبدالرحمن ہوں۔ پھرمَیں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول!آپ کا یہ سجدہ اتنا زیادہ لمبا ہو گیا تھا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کی روح تو قبض نہیں ہو گئی۔ آپ نے فرمایا کہ میرے پاس جبریل آئے تھے اور یہ خوشخبری دی تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے حق میں فرماتا ہے کہ جو آپ پر درود بھیجے گا اس پر میں رحمتیں نازل کروں گا۔ اور جو سلامتی بھیجے گا اس پر مَیں سلامتی نازل کروں گا۔ اس بات پر مَیں سجدہ شکر بجا لا رہا تھا اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کر رہا تھا۔ (مسند احمد بن حنبل جلد 1صفحہ 512-513حدیث نمبر: 1664مسند عبدالرحمن بن عوف مطبوعہ بیروت ایڈیشن 1998ء)

یہی نہیں کہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا یہ اتنا بڑا انعام تھا اس کی وجہ سے شکر بجا لا رہے ہیں، بلکہ ہر چھوٹی سے چھوٹی اللہ تعالیٰ کی جو نعمت تھی، اس پر بھی آپ اللہ تعالیٰ کی بے انتہا تسبیح و حمد و شکر گزاری فرمایا کرتے تھے۔ آپ کی خوراک کیا تھی۔ بعض وقت تو فاقے بھی ہوتے تھے اور روکھی سوکھی روٹی ہوتی تھی۔ لیکن اس کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر فرماتے تھے۔ اور تسبیح سے اپنی زبان کو تَر رکھتے تھے۔

یہاں یہ بھی بتا دوں کہ روایت میں آتا ہے کہ سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی (الاعلیٰ: 2) کی آیت اترنے سے پہلے آنحضرتﷺ خود بھی یہ دعا کرتے اور اپنے صحابہ کو بھی آپ نے فرمایا ہوا تھا کہ سجدے میں یہ دعا پڑھا کرو کہ اَللّٰھُمَّ لَکَ سَجَدْتُ۔ لیکن اس آیت کے بعد پھر آپ نے سُبْحَانَ رَبِّیَ الاعلٰی کی دعا سکھائی۔ اسی طرح فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیم کی آیت جب نازل ہوئی ہے تو پھر آپ نے رکوع میں بھی سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیم کی دعا سکھائی ہے۔ (ابوداوٴد کتاب الصلوٰة باب مایقول الرجل فی رکوعہ و سجودہ حدیث نمبر869، 871)

آپ نے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے کے طریق کس طرح سکھائے؟ کس طرح ہر وقت آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور برتری کا خیال رہتا تھااور آپ راہنمائی فرماتے تھے؟ اس بارے میں ایک روایت میں حضرت جویریہؓ بیان کرتی ہیں کہ صبح کی نماز کے وقت آنحضرتﷺ میرے پاس سے گئے۔ اس وقت مَیں مصلّے پر بیٹھی تھی اور دن چڑھے جب آپ واپس آئے تو میں اس وقت بھی مصلّے پر بیٹھی تھی اور ذکر کر رہی تھی اور تسبیح کر رہی تھی۔ تو آپ نے پوچھا تم صبح سے اس حال میں یہاں بیٹھی کیا کر رہی ہو؟ مَیں نے عرض کی کہ مَیں تسبیح کر رہی ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہی ہوں۔ آپؐ نے فرمایا اس کے بعد جب سے مَیں یہاں سے گیا ہوں اور اب آیا ہوں مَیں نے صرف چار کلمات تین دفعہ دہرائے ہیں۔ اگر ان کلمات کا موازنہ میں تمہارے اس سارے وقت کے ذکر اور تسبیح سے کروں تو میرے کلمے جو ہیں وہ بھاری ہیں۔ جو یہ ہیں۔ کہ سُبْحَانَ اللّٰہِ عَدَدَ خَلْقِہٖ، سُبْحَانَ اللّٰہِ رِضَاءَ نَفْسِہٖ، سُبْحَانَ اللّٰہِ زِنَۃَ عَرْشِہٖ، سُبْحَانَ اللّٰہِ مِدَادَ کَلِمَاتِہٖ۔ (مسلم کتاب الذکر و الدعا والتوبۃوالاستغفار باب التسبیح اوّل النہار وعندالنوم: 6807-6808)

اللہ پاک ہے اس قدر جتنی اس کی مخلوق ہے۔ اللہ پاک ہے جس قدر اس کی ذات یہ بات پسند کرتی ہے۔ اللہ پاک ہے جس قدر اس کے عرش کا وزن ہے یعنی بے انتہا پاک ہے اور اللہ پاک ہے جس قدر اس کے کلمات کی سیاہی ہے۔

مزید پڑھیں: آنحضرت ﷺ کا عشق الٰہی

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button