متفرق شعراء

خلافت جان ہے میری، خلافت آن ہے میری

خلافت نُورِ سُبحانی، خلافت نُورِ رحمانی
خلافت کو خدا نے دی محبت کی فراوانی

خلافت باغِ احمد میں گُلابوں کی حسیں خوشبو
ہر اک لمحہ یہ کرتی ہے دُعاؤں سے نگہبانی

خلافت کی دعاؤں کا مِلے جس کو حسیں تُحفہ
مُقدر کا سکندر ہے، عطا ہو جس کو سُلطانی

خلافت کی محبت کا نہیں کوئی بھی پیمانہ
زمانے میں نہیں دیکھا کوئی بھی اس کا اک ثانی

خلافت فضل و احساں ہے، خلافت نُورِ عرفاں ہے
نظر ٹِکنے نہیں پاتی، حسیں چہرہ ہے نُورانی

عُروجِ آدمیت کا ہے سِرّ پِنہاں خلافت میں
دلوں کو رام کرتی ہیں مجالس اس کی روحانی

محبت سے کرے سیراب ہر اپنے پرائے کو
وفا کے پُھول پھل چُنتی ہے اس سے نوعِ انسانی

خلافت چشمۂِ فیضاں، خلافت دین کا بُرہاں
پیو جام و سُبو بھر کے ہے جاری فیضِ عرفانی

خلافت جان ہے میری، خلافت آن ہے میری
سدا قائم رہے اعظمؔ خلافت کی یہ تابانی

(اعظم نوید۔ کینیڈا)

مزید پڑھیں: شانِ خلافت

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button