خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۵؍اکتوبر۲۰۲۴ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)

سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب:فرمایا: جنگِ احزاب میں بنو قریظہ کے عہد توڑنے پرجنگِ احزاب کے بعد ان کے قلعوں کے محاصرہ کا ذکرہو رہا تھا تا کہ انہیں مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور عہد شکنی کرنے کی سزا دی جائے۔

سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے غزوہ بنو قریظہ میں حضرت سعد بن معاذؓکے حَکَم بنائے جانے اور ان کے فیصلہ کی بابت کیا بیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: رسول اللہﷺنے یہود کو قید کرنے کا حکم دیا تو ان کو رسیوں سے باندھ دیا گیا۔ اس کام کی نگرانی حضرت محمد بن مسلمہؓ نے کی۔ عورتوں اور بچوں کو قلعوں سے باہر نکالا اور ان کو بھی ایک طرف کر دیا اور ان پر حضرت عبداللہ بن سلامؓ کو نگران مقرر کیا اور جو کچھ ان کے قلعوں میں تھا مثلاً ہتھیار، سامان اور کپڑا وغیرہ، وہ جمع کیا گیا۔ انہیں وہاں پندرہ سو تلواریں، تین سو زرہیں، دوہزار نیزے، پندرہ سو چمڑے کی ڈھالیں اور بہت سا سامان ملا۔ بہت سے برتن، شراب، گھڑے، نشہ آور چیزیں ملیں جن کو بہا دیا گیا اور بہت سے اونٹ اور دوسرے جانور بھی پائے گئے جو سب کے سب جمع کرلیے گئے۔اَوس قبیلے کے معززین رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہﷺ !بنوقریظہ ہمارے حلیف ہیں۔ عہد شکنی کی وجہ سے ہمارے حلیف بھی نادم و پریشان ہیں۔ پس ان کو ہماری خاطر بخش دیں۔ رسول اللہﷺ خاموش بیٹھے رہے یہاں تک کہ اَوس کا اصرار بڑھنے لگا اور اَوس کے سارے لوگ ہی آ گئے اور التجا کرنے لگے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ ان کے بارے میں فیصلہ تم میں سے ہی ایک شخص کے حوالے کر دیا جائے؟ سب نے کہا کیوں نہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ یہ معاملہ سعد بن معاذ ؓکے سپرد کیا جاتا ہے۔ایک دوسری روایت میں اس طرح بیان ہو اہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ فیصلے کے لیے میرے صحابہ میں سے جس کو چاہو اختیار کر لو تو انہوں نے حضرت سعد بن معاذ ؓکو اختیار کر لیا۔ رسول اللہﷺ اس پر راضی ہو گئے۔ حضرت سعدؓ اوس قبیلے کے رئیس تھے اور بنو قریظہ کے حلیف تھے۔ یوں قبیلہ اوس کے لوگ نہ صرف مطمئن ہو گئے بلکہ خوش ہو گئے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اب معاملہ ہمارے ہاتھ میں ہے اور عرب کا دستور تھا کہ حلیف کی پاسداری کی جاتی تھی۔ لیکن خدائی تقدیر کچھ اَور ہی فیصلہ کیے ہوئے تھی اور حضرت سعدؓ کا پاکیزہ اور مخلص دل خدا اور اس کے رسولﷺ کو ہی سب رشتوں اور تعلقات پر مقدم کیے ہوئےتھا۔ حضرت سعدؓ اس وقت مدینہ کی مسجد میں رفیدہ اسلمیہ کے خیمہ میں تھے۔ وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور ان کا مسجد میں ہی ایک خیمہ تھا۔ رسول اللہﷺ نے حضرت سعدؓ کو اس خیمہ میں ٹھہرایا تھا تا کہ علاج معالجے کی نگرانی اور بسہولت ان کی، زخمیوں کی عیادت بھی کی جا سکے۔ جب رسول اللہﷺ نے معاملہ حضرت سعد بن معاذؓ کے سپرد کر دیا تو قبیلہ اوس والے ان کے پاس گئے اور انہیں ایک گدھے پر سوار کیا جس کی زین کھجور کی چھال کی تھی اور زین کے اوپر چمڑے کا گدا بچھایا ہوا تھا۔ اس کی لگام بھی کھجور کے ریشوں کی تھی۔ حضرت سعدؓ بھاری بھرکم جوان تھے۔ لوگ حضرت سعدؓ کے ارد گرد جمع ہو گئے اور کہنے لگے اے ابو عمرو! رسول اللہﷺ نے اوس کے حلیفوں کا معاملہ آپ کے سپرد کیا ہے تا کہ آپ ان کے ساتھ بھلائی کریں۔ پس آپ ان پر احسان کیجیے۔ اتنے میں اَور بھی بہت سے لوگ جمع ہو گئے لیکن حضرت سعدؓ خاموش رہے۔ جب لوگوں کا اصرار زیادہ ہو گیا توحضرت سعدؓ نے فرمایا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کروں۔حضرت سعدؓ رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور لوگ بھی آنحضرتﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے…رسول اللہﷺ نے فرمایا :اے سعد !ان کے درمیان فیصلہ کرو۔ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسولﷺ فیصلہ کے زیادہ حقدار ہیں۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم ان کے بارے میں فیصلہ کرو۔ اوس کے لوگ کہنے لگے کہ اے ابوعمرو! رسول اللہﷺ نے آپ کے حلیفوں کا فیصلہ آپ کے سپرد کر دیا ہے۔ پس آپ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیجیے اور ان کی مصیبتوں کو اپنے سامنے رکھیں۔ حضرت سعدؓ نے فرمایا کیا تم بنو قریظہ کے متعلق میرے فیصلے پر راضی ہو گے؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ ہم آپ کے فیصلے پر اس وقت سے راضی ہیں جبکہ آپ ہم میں موجود نہ تھے یعنی آپ کی غیر حاضری میں بھی ہم نے آپ کا نام تجویز کیا تھا۔ ہماری طرف سے آپ کو اختیار ہے اور امید کرتے ہیں کہ آپ ہم پر احسان فرمائیں گے جیسے آپ کے علاوہ کسی اور نے اپنے حلیف بنو قینقاع کے ساتھ کیا ہے اور ہماری ترجیح آپ ہی ہیں اور ہم آپ کے فیصلے کے آج کے دن بہت محتاج ہیں۔ حضرت سعدؓ نے فرمایا میں پوری کوشش کروں گا۔ تو لوگوں نے پوچھا اس بات سے آپ کی کیا مراد ہے کہ میں پوری کوشش کروں گا؟ حضرت سعدؓ نے فرمایا تمہیں اللہ کے عہد و پیمان کی قسم کیا میرا فیصلہ ہی نافذ ہو گا؟ پکا کرنے کے لیے دوبارہ پوچھا۔ انہوں نے کہا جی ہاں۔پھر حضرت سعدؓ اس طرف متوجہ ہوئے جہاں رسول اللہﷺ تھے۔ وہ رسول اللہﷺ کے جلال و عظمت کی وجہ سے آپؐ سے مخاطب نہ ہوئے اور یہ کہا کہ اور اِدھر بیٹھے ہوئے لوگ بھی یہ وعدہ کرتے ہیں۔ آنحضرتﷺ کی طرف اشارہ کیا۔ رسول اللہﷺ نے اور ان لوگوں نے کہا جی ہاں۔پھرحضرت سعدؓ نے فرمایا کہ میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے بالغ مردوں کو قتل کر دیا جائے اور عورتوں اور بچوں کو قید کر دیا جائے اور مال تقسیم کر دیا جائے اور گھر مہاجرین کو دے دیے جائیں نہ کہ انصار کو۔انصار نے کہا کہ ہم ان کے بھائی ہیں، ان کے ساتھ ہی تھے۔ فرمایا میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ تم سے مستغنی ہو جائیں۔ یعنی مہاجرین کچھ آزادانہ طور پر اپنے کام کریں۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: سعد! تمہارا فیصلہ اللہ کے اس فیصلے کے مطابق ہے جو اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر کیا ہے۔ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت سعدؓ کے فیصلے کے بارے میں فرمایا۔ اسی فیصلے کے متعلق مجھے فرشتے نے سحری کے وقت بتایا تھا۔

سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت سعد بن معاذؓ کے حَکم بنائے جانےاور ان کے فیصلہ کی بابت حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کا کیا مؤقف بیان فرمایا ؟

جواب: فرمایا: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے فرمایا ’’آخر کم وبیش بیس دن کے محاصرہ کے بعد یہ بدبخت یہود ایک ایسے شخص کوحَکم مان کر اپنے قلعوں سے اترنے پررضامند ہوئے جو باوجود ان کا حلیف ہونے کے ان کی کارروائیوں کی وجہ سے ان کے لیے اپنے دل میں کوئی رحم نہیں پاتا تھا اور جو گوعدل وانصاف کا مجسمہ تھا مگر اس کے قلب میں رَحْمۃٌ لِّلْعَالَمِین کی سی شفقت اور رأفت نہیں تھی۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ قبیلہ اَوس بنوقریظہ کاقدیم حلیف تھا اور اس زمانہ میں اس قبیلہ کے رئیس سعد بن معاذؓ تھے جو غزوۂ خندق میں زخمی ہو کر اب مسجد کے صحن میں زیر علاج تھے۔سعدؓ سوار ہو کر آئے اور راستہ میں قبیلہ اَوس کے بعض لوگوں نے ان سے اصرار کے ساتھ اور بار بار یہ درخواست کی کہ قریظہ ہمارے حلیف ہیں جس طرح خزرج نے اپنے حلیف قبیلہ بنوقینقاع کے ساتھ نرمی کی تھی تم بھی قریظہ سے رعایت کامعاملہ کرنا اورانہیں سخت سزانہ دینا۔ سعد بن معاذؓ پہلے تو خاموشی کے ساتھ ان کی باتیں سنتے رہے لیکن جب ان کی طرف سے زیادہ اصرار ہونے لگا توسعد نے کہا کہ ’’یہ وہ وقت ہےکہ سعد اس وقت حق وانصاف کے معاملہ میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہیں کر سکتا۔‘‘یہ جواب سن کر لوگ خاموش ہو گئے۔جب سعدؓ آنحضرتﷺ کے قریب پہنچے تو آپؐ نے صحابہ سے فرمایا: قُوْمُوْااِلٰی سَیِّدِکُمْ۔ یعنی ’’اپنے رئیس کے لیے اٹھو اور سواری سے نیچے اترنے میں انہیں مدد دو۔‘‘جب سعد سواری سے اتر کر آنحضرتﷺ کی طرف آگے بڑھے تو آپؐ نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: ’’سعد! بنو قریظہ نے تمہیں حَکَم مانا ہے اور ان کے متعلق جوتم فیصلہ کرو انہیں منظور ہوگا۔‘‘اس پر سعد نے اپنے قبیلہ اوس کے لوگوں کی طرف نظر اٹھا کر کہا۔ عَلَیْکُمْ بِذَالِکَ عَھْدُ اللّٰہِ وَمِیْثَاقُہٗ اِنَّ الْحُکْمَ فِیْھِمْ بِمَا حَکَمْتُ۔ ’’کیا تم خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ پختہ عہد کرتے ہو کہ تم بہرحال اس فیصلہ پر عمل کرنے کے پابند ہوگے جو میں بنو قریظہ کے متعلق کروں؟‘‘ لوگوں نے کہا ہاں ہم وعدہ کرتے ہیں۔ پھر سعدؓ نے اس جہت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جہاں آنحضرتﷺ تشریف رکھتے تھے کہا۔ وَعَلٰی مَنْ ھٰھُنَا۔ یعنی ’’وہ صاحب جو یہاں تشریف رکھتے ہیں کیا وہ بھی ایسا ہی وعدہ کرتے ہیں کہ وہ بہرحال میرے فیصلہ کے مطابق عمل کرنے کے پابند ہوں گے۔‘‘آنحضرتﷺ نے فرمایا ہاں میں وعدہ کرتا ہوں۔اس عہدوپیمان کے بعد سعدؓ نے اپنا فیصلہ سنایا جو یہ تھا کہ “بنو قریظہ کے مقاتل یعنی جنگجو لوگ قتل کر دئے جائیں اور ان کی عورتیں اور بچے قید کر لیے جائیں اور ان کے اموال مسلمانوں میں تقسیم کر دئے جائیں۔’’آنحضرتﷺ نے یہ فیصلہ سنا تو بے ساختہ فرمایا۔ لَقَدْ حَکَمْتَ بِحُکْمِ اللّٰہِ۔ یعنی ‘‘تمہارا یہ فیصلہ ایک خدائی تقدیر ہے۔‘‘جو ٹل نہیں سکتی اور ان الفاظ سے آپ کا یہ مطلب تھا کہ بنوقریظہ کے متعلق یہ فیصلہ ایسے حالات میں ہوا ہے کہ اس میں صاف طورپر خدائی تصرف کام کرتا ہوا نظرآتا ہے۔

سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے حضرت سعد بن معاذ ؓ کے فیصلہ کی تنفیذ کی بابت کیا بیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: جب حضرت سعدبن معاذؓ نے فیصلہ کرلیا تو رسول اللہﷺ نو ذوالحجہ بروز جمعرات مدینہ واپس تشریف لے آئے۔ ایک روایت میں ہے کہ پانچ ذوالحجہ کو واپس آئے۔ ابن سعد نے لکھا ہے کہ رسول اللہﷺ سات ذوالحجہ کو مدینہ واپس تشریف لائے اور وہ جمعرات کا دن تھا۔ ان قیدیوں کے بارے میں حکم دیا کہ ان کو مدینہ میں لایا جائے۔ رسول اللہﷺ کے حکم کے مطابق قیدیوں کو حضرت اسامہ بن زیدؓ کے گھر لایا گیا۔ عورتوں اور بچوں کو حضرت رملہ بنت حارثؓ کے گھر لایا گیا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان سب کو حضرت رملہ بنت حارثؓ کے گھر قید کیا گیا اور رسول اللہﷺ نے ان کے لیے کھجوریں لانے کا حکم دیا تو وہ ساری زمین پر بکھیر دی گئیں۔ لوگ بےشمار کھجوریں لے آئے اور یہودی ساری رات وہ بافراغت کھاتے رہے۔ ہتھیار، سامان، کپڑے وغیرہ حضرت رملہ کے گھر لانے کا حکم دیا اور اونٹوں اور بکریوں کو وہیں درختوں کے نیچے چرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا… جب صبح ہوئی تو مدینہ کے ایک بازار میں گڑھے کھودنے کا حکم دیا جو اَبُو جَھْم عَدْوِی کے گھر اَحْجَارُالزَّیْت تک کھودے گئے۔ پھر رسول اللہﷺ تشریف فرما ہوئے اور آپ کے ساتھ بعض دیگر صحابہ بھی تھے۔ آپ نے بنوقریظہ کے مردوں کو بلایا۔ انہیں ٹولیوں کی شکل میں نکالا جاتا اور اس خندق میں قتل کر دیا جاتا۔ جب انہیں لے جایا جا رہا تھا تو کعب بن اسد سے لوگوں نے کہا کہ تیری کیا رائے ہے کہ محمدﷺ کیا کرنے لگے ہیں؟ اس نے کہا کہ جو تمہیں برا لگے۔ وہ کرنے لگے ہیں جو تمہیں اچھا نہیں لگے گا۔ ہلاکت ہو تم پر۔ تم کسی حالت میں بھی سمجھتے نہیں ہو۔ بلانے والا چھوڑتا نہیں اور جو چلا جاتا ہے وہ واپس نہیں آتا۔ اس کے لیے اللہ کی قسم!تلوار ہے۔ یعنی اب تو تمہاری زندگی کے بچنے کا کوئی بھی امکان نہیں ہے۔ میں نے تمہیں اس کے علاوہ کی طرف بلایا تھا لیکن تم نے انکار کر دیا۔ یہود کہنے لگے یہ غصہ کا وقت نہیں ہے۔ اگر ہم تمہاری رائے کو مان لیتے تو ہم اس عہد کو توڑنے کے مرتکب نہ ہوتے جو ہمارے اور محمد رسول اللہﷺ کے درمیان تھا۔ حیی بن اخطب نے کہا اب اس ملامت کو چھوڑ دو۔ اب تم سے کچھ بھی دور نہیں کیا جائے گا۔ اب بس تلوار کے لیے صبر کرو۔ حضرت علی اور حضرت زبیر بن عوامؓ کو یہود کے قتل پر مامور کیا گیا۔ بعض روایات کے مطابق کچھ قیدیوں کو قتل کرنے کے لیے مختلف صحابہ میں تقسیم کر دیا گیا۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 27؍فروری 2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button