خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۰؍دسمبر۲۰۲۴ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)

سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب:فرمایا: آنحضرتﷺ کی سیرت کے پہلوغزوات اور سرایا کے واقعات کے حوالے سےبیان ہو رہے ہیں ۔

سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سریہ عکاشہ بن محصن اورسریہ محمدبن مسلمہ کی بابت کیابیان فرمایا ؟

جواب: فرمایا: سیرت خاتم النبیینؐ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے لکھا ہے کہ’’آنحضر تﷺ نے اپنے ایک مہاجر صحابی عکاشہ بن مِحصن ؓ کو چالیس مسلمانوں پر افسر بنا کر قبیلہ بنی اسدکے مقابلہ کے لیے روانہ فرمایا۔ یہ قبیلہ اس وقت ایک چشمہ کے قریب ڈیرہ ڈالے پڑا تھا جس کا نام غَمْر تھا جو مدینہ سے مکہ کی سمت میں چند دن کے فاصلہ پر واقع تھا۔ عکاشہ کی پارٹی جلدی جلدی سفر کر کے غمر کے قریب پہنچی تا کہ انہیں شرارت سے روکا جا سکے ۔‘‘ جو منصوبہ بنا رہے تھے وہ لوگ اس سے روکا جائے۔ ’’تو معلوم ہوا کہ قبیلہ کے لوگ مسلمانوں کی خبر پاکر اِدھر اُدھر منتشر ہوگئے تھے۔ اس پر عکاشہؓ اور اس کے ساتھی مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے اور کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔‘‘اسی طرح سریہ محمد بن مَسْلَمہ کا ذکر ملتا ہے۔ یہ سریہ ربیع الثانی چھ ہجری کو پیش آیا۔ رسول اللہﷺ نے حضرت محمد بن مسلمہؓ کو بنو ثَعْلَبَہ اور بَنُو عُوَال کی طرف بھیجا جو ذُوالقَصَّہ میں رہتے تھے۔اور ذوالقصہ مدینہ سے رَبَذَہ کے راستے پر چوبیس میل کے فاصلے پر ہے۔رسول اللہﷺ نے حضرت محمد بن مسلمہ ؓکو دس آدمی دے کر بھیجا۔ یہ جماعت رات کے وقت وہاں پہنچی۔ ان لوگوں نے حضرت محمد بن مسلمہؓ اور آپ کے ساتھیوں کو گھیر لیا اس حال میں کہ یہ سوئے ہوئے تھے اور دشمن کے سو آدمی تھے۔ مسلمانوں کو اس وقت تک علم نہ ہوا جب تک کہ دشمن نے ان کا تیروں سے محاصرہ نہ کر لیا۔ حضرت محمد بن مسلمہؓ جلدی سے اٹھے اور آپ کے پاس کمان تھی۔ آپ نے اپنے ساتھیوں میں زور سے آواز لگائی کہ ہتھیار سنبھال لو۔ وہ سب بھی جلدی سے اٹھے۔ رات کی ایک گھڑی تیر اندازی ہوتی رہی۔ کچھ وقت تک تیر اندازی آپس میں ہوئی۔ پھر بدوؤں نے نیزوں سے حملہ کر کے باقی سب کو شہید کر دیا اور حضرت محمد بن مسلمہؓ زخمی ہو کر گر پڑے۔ آپ کے ٹخنے پر ایسی چوٹ لگی کہ آپ حرکت نہیں کر سکتے تھے اور ان لوگوں نے آپ کے کپڑے اتار لیے اور چلے گئے۔ ایک مسلمان آدمی کا مقتولین پر سے گزر ہوا اس نے اِنَّا للّٰہ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُوْن پڑھا۔ جب حضرت محمد بن مسلمہؓ نے اس کو سنا تو حرکت کی۔ اس نے آپؓ کو کھانا دیا اور آپؓ کو سواری پر بٹھا کر مدینہ لے آیا۔

سوال نمبر۳: حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سریہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح اورسرایازیدبن حارثہ کی کیاتفصیل بیان فرمائی؟

جواب: فرمایا: اس کی تفصیل میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے لکھا ہےکہ’’آنحضرتﷺ کو جب ان حالات کا علم ہوا۔‘‘ یعنی ذُوالقَصَّہ میں محمد بن مسلمہؓ کے ساتھیوں کی شہادت کا علم ہوا ’’تو آپؐ نے ابوعبیدہ بن الجراح ؓکو جو قریش میں سے تھے اور کبار صحابہ میں شمار ہوتے تھے محمد بن مسلمہؓ کے انتقام کے لیے ذوالقصہ کی طرف روانہ فرمایا اور چونکہ اس عرصہ میں یہ بھی اطلاع موصول ہو چکی تھی کہ قبیلہ بنوثعلبہ کے لوگ مدینہ کے مضافات پر حملہ کا ارادہ رکھتے ہیں اس لیے آپؐ نے ابوعبیدہؓ کی کمان میں چالیس مستعد صحابہ کی جماعت بھجوائی اور حکم دیا کہ راتوں رات سفر کرکے صبح کے وقت وہاں تک پہنچ جائیں۔ ابوعُبَیدہؓ نے تعمیل ارشاد میں یلغار کر کے عین صبح کی نماز کے وقت انہیں جا دبایا اور وہ اس اچانک حملہ سے گھبرا کر تھوڑے سے مقابلہ کے بعد بھاگ نکلے اور قریب کی پہاڑیوں میں غائب ہو گئے۔ ابوعُبَیدہؓ نے مال غنیمت پر قبضہ کیا اور مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے۔۔۔‘‘پھر ایک سَرِیہَّ ہے سَرِیہَّ زید بن حارِثہَ جو بنو سُلَیم کی طرف بھیجا گیا۔ اس کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓلکھتے ہیں کہ ’’ماہ ربیع الآخر ۶؍ہجری میں آنحضرتﷺ نے اپنے آزاد کردہ غلام زیدبن حارثہ ؓکی امارت میں چند مسلمانوں کو قبیلہ بنی سُلَیم کی طرف روانہ فرمایا۔ یہ قبیلہ اس وقت نجد کے علاقہ میں بمقام جَمُوم آباد تھا اور ایک عرصہ سے آنحضرتﷺ کے خلاف برسرپیکار چلا آتا تھا۔ چنانچہ غزوہ خندق میں بھی اس قبیلہ نے مسلمانوں کے خلاف نمایاں حصہ لیا تھا۔ جب زید بن حارثہؓ اور ان کے ساتھی جَمُوم میں پہنچے جو مدینہ سے قریباً پچاس میل کے فاصلہ پر تھا تو اسے خالی پایا مگر انہیں قبیلہ مُزَینَہ کی ایک عورت حلیمہ نامی سے جو مخالفین اسلام میں سے تھی اس جگہ کاپتہ لگ گیا جہاں اس وقت قبیلہ بنوسلیم کا ایک حصہ اپنے مویشی چرا رہا تھا۔ چنانچہ اس اطلاع سے فائدہ اٹھا کر زید بن حارثہؓ نے اس جگہ پر چھاپا مارا۔ اس اچانک حملہ سے گھبرا کر اکثر لوگ ادھر ادھر بھاگ کرمنتشر ہوگئے مگر چندقیدی اورمویشی مسلمانوں کے ہاتھ آگئے جنہیں وہ لے کر مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے۔ اتفاق سے ان قیدیوں میں حلیمہ کا خاوند بھی تھا اور ہرچند کہ وہ حربی مخالف تھا‘‘جنگ لڑنے والا تھا۔’’آنحضرتﷺ نے حلیمہ کی اس امداد کی وجہ سے‘‘یعنی جو اس نے معلومات مہیا کی تھیں اس کی وجہ سے ’’نہ صرف حلیمہ کو بلا فدیہ آزاد کر دیا بلکہ اس کے خاوند کوبھی احسان کے طور پر چھوڑ دیا اور حلیمہ اور اس کا خاوند خوشی خوشی اپنے وطن کو واپس چلے گئے۔‘‘اسی طرح سریہ زید بن حارثہ کا ذکر ملتا ہے جو عِیصْ کی طرف بھیجا گیا۔ اس کی تفصیل میں سیرت خاتم النبیین میں اس طرح بیان ہوا ہے کہ ’’آنحضرتﷺ نے جُمَادی الاولیٰ‘‘چھ ہجری’’کے مہینہ میں انہیں‘‘یعنی زید بن حارثہ ؓکو ’’ایک سو ستّر صحابہ کی کمان میں پھر مدینہ سے روانہ فرمایا۔ اس مہم کی وجہ اہلِ سِیر نے‘‘سیرت لکھنے والوں نے ’’یہ لکھی ہے کہ شام کی طرف سے قریش مکہ کاایک قافلہ آرہا تھا اس کی روک تھام کے لیے آنحضرتﷺ نے اس دستہ کو روانہ فرمایا تھا … قریش کے قافلے ہمیشہ مسلح ہوتے تھے اور مکہ اورشام کے درمیان آتے جاتے ہوئے وہ مدینہ کے بالکل قریب سے گزرتے تھے جس کی وجہ سے ان کی طرف سے ہر وقت خطرہ رہتا تھا۔ علاوہ ازیں … یہ قافلے جہاں جہاں سے گزرتے تھے قبائل عرب کو مسلمانوں کے خلاف اکساتے جاتے تھے۔ جس کی وجہ سے سارے ملک میں مسلمانوں کے خلاف عداوت کی ایک خطرناک آگ مشتعل ہوچکی تھی اس لیے ان کی روک تھام ضروری تھی۔ بہرحال آنحضرتﷺ نے قافلہ کی خبر پا کر زید بن حارثہ ؓکواس طرف روانہ فرمایا اور وہ اس ہوشیاری سے گھات لگاتے ہوئے بڑھے کہ بمقام عِیص قافلہ کو جا دبایا۔ عِیص ایک جگہ کانام ہے جو مدینہ سے چار دن کی مسافت پر سمندر کی جانب واقع ہے چونکہ یہ اچانک حملہ تھا اہل قافلہ مسلمانوں کے حملہ کی تاب نہ لاسکے اور اپنے سازوسامان کوچھوڑ کر بھاگ نکلے۔ زیدؓنے بعض قیدی پکڑ کراورسامان قافلہ اپنے قبضہ میں لے کر مدینہ کی راہ لی اور آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔‘‘

سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے ابوالعاص بن ربیع کےقیدہونےاوراسلام لانےکی بابت کیا بیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: اس بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے یوں لکھا ہے کہ’’ان قیدیوں میں جو سریہ بطرف عِیص میں پکڑے گئے ابوالعاص بن الربیع بھی تھے جو آنحضرتﷺ کے داماد تھے اورحضرت خدیجہؓ مرحومہ کے قریبی رشتہ داروں میں سے تھے۔ اس سے قبل وہ جنگِ بدر میں بھی قید ہوکر آئے تھے مگر اس وقت آنحضرتﷺ نے انہیں اس شرط پرچھوڑ دیا تھا کہ وہ مکہ پہنچ کرآپؐ کی صاحبزادی حضرت زینبؓ  کو مدینہ بھجوا دیں گے۔ ابوالعاص نے اس وعدہ کو پورا توکردیا تھا مگر وہ خود ابھی تک شرک پرقائم تھے۔ جب زید بن حارثہ انہیں قید کرکے مدینہ میں لائے تورات کا وقت تھا مگر کسی طرح ابوالعاص نے حضرت زینبؓ  کو اطلاع بھجوا دی کہ میں اس طرح قید ہوکر یہاں پہنچ گیا ہوں تم اگرمیرے لیے کچھ کرسکتی ہو تو کرو۔ چنانچہ عین اسی وقت کہ آنحضرتﷺ اور آپؐ کے صحابہ صبح کی نماز میں مصروف تھے زینبؓ نے گھر کے اندر سے بلند آواز سے پکار کرکہا کہ ’’اے مسلمانو! میں نے ابوالعاص کو پناہ دی ہے۔‘‘آنحضرتﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو صحابہ ؓکی طرف متوجہ ہوکر فرمایا۔ ’’جو کچھ زینب نے کہا ہے وہ آپ لوگوں نے سن لیا ہو گا۔ واللہ! مجھے اس کا علم نہیں تھا مگر مومنوں کی جماعت ایک جان کاحکم رکھتی ہے اگران میں سے کوئی کسی کافر کوپناہ دے تو اس کا احترام لازم ہے۔‘‘ پھر آپؐ نے زینبؓ  کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا ’’جسے تم نے پناہ دی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں۔‘‘ اور جو مال اس مہم میں ابوالعاص سے حاصل ہوا تھا وہ اسے لوٹا دیا۔ پھر آپ گھر میں تشریف لائے اور اپنی صاحبزادی زینبؓ سے فرمایا ’’ابوالعاص کی اچھی طرح خاطر تواضع کرو مگر اس کے ساتھ خلوت میں مت ملو کیونکہ موجودہ حالت میں تمہارا اس کے ساتھ ملنا جائز نہیں ہے۔‘‘چند روز مدینہ میں قیام کرکے ابوالعاص مکہ کی طرف واپس چلے گئے مگر اب ان کا مکہ میں جانا وہاں ٹھہرنے کی غرض سے نہیں تھا کیونکہ انہوں نے بہت جلد اپنے لین دین سے فراغت حاصل کی اور کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے اور آنحضرتﷺ کی خدمت میں پہنچ کر مسلمان ہو گئے جس پر آپؐ نے حضرت زینبؓ  کوان کی طرف بغیر کسی جدید نکاح کے لوٹا دیا۔‘‘ یعنی اب ان کواجازت دے دی کہ وہ بیوی کے طور پر رہ سکتی ہیں ۔’’…بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ اس وقت حضرت زینبؓ اور ابوالعاص کا دوبارہ نکاح پڑھا گیا تھا مگر پہلی روایت زیادہ مضبوط اور صحیح ہے۔‘‘

سوال نمبر۵ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے غزوہ بنولحیان کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے جو نتیجہ اخذ کیا ہے اس میں اسے جمادی الاولیٰ چھ ہجری بمطابق ستمبر ۶۲۷ء کا غزوہ لکھا ہے۔ آپؓ لکھتے ہیں کہ ’’غزوہ بنولحیان کی تاریخ کے متعلق مؤرخین میں اختلاف ہے۔ ابن سعد نے اسے ربیع الاول چھ ہجری میں بیان کیا ہے مگر ابن اسحاق اور طبری نے تصریح کی ہے کہ وہ جمادی الاولیٰ چھ ہجری میں ہوا تھا۔‘‘آپؓ کہتے ہیں کہ ’’میں نے اس جگہ ابن اسحاق کی پیروی کی ہے‘‘ یعنی ان کے نزدیک وہ صحیح ہے۔’’واللہ اعلم‘‘غزوہ بنو لحیان کے پس منظر کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ اصحاب رَجِیع کے المناک واقعہ کا حوالہ دے کر ذکر کرتے ہیں کہ ’’اس موقع پردس بے گناہ مسلمان جواسلام کی پُرامن تبلیغ کے لیے بھجوائے گئے تھے نہایت بےدردی اور دھوکے کے ساتھ قتل کردئے گئے تھے اور اس سارے فتنہ کی تہ میں بنولحیان کا ہاتھ تھا جو اس زمانہ میں مکہ اورمدینہ کے درمیان وادی غُرَان میں آباد تھے۔ طبعاً آنحضرتﷺ کو اس واقعہ کاسخت صدمہ تھا اور چونکہ بنولحیان کا رویہ ابھی تک اسی طرح معاندانہ اور مفسدانہ تھا اور ان کی طرف سے آئندہ کے لیے بھی اندیشہ تھا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف کسی مزید فتنہ انگیزی کاباعث نہ بنیں اس لیے آپؐ نے انتظامی لحاظ سے مناسب خیال فرمایا کہ ان کی کسی قدرگوشمالی ہوجائے تاکم از کم آئندہ کے لیے مسلمان ان کے فتنوں سے محفوظ ہو جائیں۔‘‘اس لیے آنحضرتﷺ نے حضرت ابن اُمِّ مکتوم کو مدینہ پر نائب مقرر کیا۔ اس گوشمالی کی مہم کے لیے آپ نکلے اور ابن اُمِّ مکتوم ؓکو نائب مقرر کیا۔رسول اللہﷺ اپنے ساتھ دو سو صحابہؓ اور بیس گھوڑے لے کر مدینہ سے شمال کی طرف شام کے رستے پر روانہ ہوئے جبکہ بنو لحیان مدینہ کے جنوب میں حجاز میں مکہ کے رستے کے قریب رہتے تھے۔ شمال کی طرف جانے کی وجہ یہ تھی کہ آپ بنو لحیان پر ان کی لاعلمی میں اچانک حملہ کرنا چاہتے تھے تا کہ وہ حملہ کی اطلاع پا کر کہیں بھاگ نہ جائیں ۔ اسی مقصد کے لیے آپؐ نے ایسا رستہ استعمال کیا جو عام طور پر استعمال نہ ہوتا تھا اور تیزی سے سفر کرتے ہوئے بنو لحیان کی بستی غران میں پہنچ گئے جہاں آپﷺ کے صحابہ شہید ہوئے تھے۔ آپ نے اپنے شہید صحابہ کے لیے رحمت کی دعا کی۔ بنو لحیان کو آپؐ کے آنے کا علم ہوا تو وہ پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرف بھاگ گئے۔ اس لیے ان میں سے کوئی بھی نہ پکڑا گیا۔ آپؐ نے ایک یا دو دن وہاں قیام فرمایا اور ہر طرف گروہ روانہ کئے لیکن پھر بھی کوئی نہ پکڑا گیا۔’’آپؐ نے منزل مقصود پرپہنچ کروہاں کچھ وقت قیام فرمایا اور روایت آتی ہے کہ جب اس سفر میں آپؐ اس مقام پرپہنچے جہاں آپؐ کے صحابہؓ  شہید کئے گئے تھے تو آپؐ پرسخت رقت طاری ہو گئی اور آپؐ نے نہایت الحاح کے ساتھ ان شہداء کے لیے دعا مانگی۔‘‘…حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ’’واپسی سفر کے دوران میں آپؐ نے ایک دعا فرمائی جسے بعد میں مسلمان اپنے اہم سفروں سے واپسی کے موقع پر عموماً پڑھا کرتے تھے۔وہ دعایہ ہے۔ آئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ سَاجِدُوْنَ لِرَبِّنَاحَامِدُوْنَ۔ یعنی ’’ہم لوگ اپنے خدا کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔ اسی کی طرف جھکنے والے۔ اسی کی عبادت کرنے والے۔ اسی کے سامنے گرنے والے اوراپنے ربّ کی تعریف کے گیت گانے والے۔‘‘آنحضرتﷺ خود بھی اپنے بعد کے سفروں میں عموماً یہ دعافرمایا کرتے تھے اور بعض اوقات اس کے ساتھ یہ الفاظ زیادہ فرماتے تھے کہ صَدَقَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ وَنَصَرَعَبْدَہٗ وَحَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ۔ یعنی ’’ہمارے خدا نے اپنا وعدہ پورا کیا اوراپنے بندے کی نصرت فرمائی اور دشمن کے لشکروں کو خود اپنے دم سے پسپا کر دیا۔‘‘

مزید پڑھیں: کہیں تو بہرِ خدا ذکرِ یار چلے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button