اداریہ۔ حقیقی امن دینے والےمحمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ادارہ الفضل کو جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۶ء کے موقع پر اپنا سالنامہ بعنوان ’’حالاتِ جنگ میں پاکیزہ اُسوۂ رسول ﷺ اور جامع تعلیماتِ اسلامیہ‘‘ شائع کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔الحمدللہ
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کے حالات روز بروز بد سے بدتر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب ایجادات اور مواصلاتی ذرائع کی ترقی نے دنیا کو ایک گلوبل ویلج بنا دیا ہے جہاں پل پل کی خبر لمحہ بھر میں اکنافِ عالم میں پھیل جاتی ہے۔ اس وجہ سے جہاں بھی کسی قوم یا ملک پر زیادتی یا ظلم ہورہا ہوتو وہ چھپانے سے بھی نہیں چھپ پاتا۔ ظالم کا ظلم کسی نہ کسی طرح بے نقاب ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں ہر سطح پر دنیا کا امن متاثر ہوتا ہے۔
لیکن اس تصویر کا ایک دوسرا رُخ بھی ہے۔جہاں ظلم کی اشاعت بے دریغ ہو رہی ہے وہاں خدا تعالیٰ کے نور کا پیغام بھی اسی طرح دنیا کے ہر کونے میں متلاشیانِ حق کے لیے مہیا ہورہاہے۔ خلافت خامسہ کے دَور سعید میں ہم اس بات کو قطعی یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام احمدیت کا پیغام دنیا کے ہر کنارے تک پہنچ گیا ہے۔ یہی وہ دَور ہے جس میں چاہے کوئی قطب شمالی پر ہو یا قطب جنوبی پر اس زمانے کے حصنِ حصین کا پیغام انسان سے صرف ایک کلک کے فاصلے پر موجود ہے۔ یہی وہ زندگی بخش پیغام ہے جو دنیا میں جنگ کی فضا کو ختم کرنے اور امن و امان قائم کرنے کا موزوں نسخہ ہے۔ امن است در مکانِ محبت سرائےما۔
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:’’اس وقت دنیا میں ہم عام طور پر یہ دیکھتے ہیں کہ لوگ امن کے خواہشمند ہیں لیکن امن ان کومیسر نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں اتنی مختلف الانواع مخلوق ہے کہ جب تک کسی ایک قاعدہ کے ماتحت امن کا حصول نہ ہو، اُس وقت تک سب لوگ مطمئن نہیں ہو سکتے۔ ہم دیکھتے ہیںکہ دنیا میں انسانوں میں ہزاروں اختلافات پائے جاتے ہیں، ایک دوسرے کے مفاد مختلف ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے جذبات مختلف ہوتے ہیں، ایک دوسرے کی خواہشات مختلف ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کی ضرورتیں مختلف ہوتی ہیں ان متضاد خواہشوں اور متضاد ضرورتوں کےہوتے ہوئے دنیا میں امن کس طرح ہو سکتا ہے؟ ایسے متضاد اور مخالف خیالات کی موجودگی میںتبھی امن قائم ہوسکتا ہے جب ساری دنیا ایک ایسی ہستی کی تابع ہو جو امن دینے کا ارادہ رکھتی ہواگر یہ بات نہ ہو تو کبھی امن میسر نہیں آ سکتا۔ … پس در حقیقت امن اُس وقت حاصل ہو سکتا ہے جب دنیا پر ایک ایسی بالا ہستی ہو جو امن کی متمنی ہو اور جو دوسروں کو امن دینا چاہتی ہو اور ایسے قوانین نافذ کرنا چاہتی ہو جو امن دینے والے ہوں اور وہی شخص حقیقی امن دینے والا قرار پا سکتا ہے جو اس ہستی کی طرف لوگوں کو بلائے۔ یہ امن دینے والی ہستی کی طرف توجہ دلانے والی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی وہ انسان ہیں جن کے ذریعہ دنیا کو یہ معلوم ہواکہ خدا تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام امن دینے والا بھی ہے۔ چنانچہ سورہ حشر میںاللہ تعالیٰ کے جو نام گنائے گئے ہیں ان میں سے ایک نام یہ بھی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَلۡمَلِکُ الۡقُدُّوۡسُ السَّلٰمُ کے اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! تُو لوگوں کو توجہ دلا اُس خدا کی طرف جو بادشاہ ہے، پاک ہے اور السَّلٰمُ یعنی دنیا کو امن دینے والا اور تمام سلامتیوں کاسرچشمہ ہے۔ …
حقیقی امن تبھی پیدا ہو سکتا ہے جب انسان کو یہ معلوم ہو کہ میرے اوپر ایک بالا ہستی ہے جو میرے لئے ہی امن نہیں چاہتی بلکہ ساری دنیا کیلئے امن چاہتی ہے اور جو میرےملک کے لئے ہی امن نہیں چاہتی بلکہ سارے ملکوں کیلئے امن چاہتی ہے اور اگر میں صرف اپنےلئے یا صرف اپنی قوم کیلئے یا صرف اپنے ملک کیلئے امن کا متمنی ہوں تو اس صورت میں مجھے اس کی مدد، اس کی نصرت اور اس کی خوشنودی کبھی حاصل نہیں ہوسکتی۔ جب یہ عقیدہ دنیا میں رائج ہو جائے تبھی امن قائم ہو سکتا ہے ورنہ نہیں۔
پس اَلۡمَلِکُ الۡقُدُّوۡسُ السَّلٰمُکہہ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی ارادوں کو پاک وصاف کر دیا اور یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ جب تک ارادے درست نہ ہوں اُس وقت تک کام بھی درست نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں اس وقت جتنے فساداور لڑائیاں ہیں سب اسی وجہ سے ہیں کہ انسانوں کے ارادے صاف نہیں۔ وہ منہ سے جو باتیںکرتے ہیں ان کے مطابق اُن کی خواہشات نہیں اور ان کی خواہشات کے مطابق اُن کےاقوال وافعال نہیں۔ آج سب دنیا کہتی ہے کہ لڑائی بُری چیز ہے لیکن اس کا مطلب صرف یہ ہوتاہے کہ اگر ہمارے خلاف کوئی لڑے تو یہ بُری بات ہے لیکن اگر ان کی طرف سے جنگ کی ابتداء ہوتو یہ کوئی بُری بات نہیں سمجھی جاتی اور یہ نقص اسی وجہ سے ہے کہ لوگوں کی نظر ایک ایسی ہستی پر نہیںجو سلام ہے۔ وہ سمجھتے ہیں جہاں تک ہمارا فائدہ ہے ہم ان باتوں پر عمل کریں گے مگر جب ہمارےمفاد کے خلاف کوئی بات آئے گی تو اسے رد کر دیں گے۔ پس یہی عقیدہ حقیقی امن کی طرف دنیا کولا سکتا ہے کہ دنیا کا ایک خدا ہے جو یہ چاہتا ہے کہ سب لوگ امن سے رہیں۔ جب ہمارا یہ عقیدہ ہوگا تو اُس وقت ہماری خواہشات خود غرضی پر مبنی نہیں ہونگی بلکہ دنیا کو عام نفع پہنچانے والی ہونگی،اس وقت ہم یہ نہیں دیکھیں گے کہ فلاں بات کا ہمیں فائدہ پہنچتا ہے یا نقصان، بلکہ ہم یہ دیکھیںگے کہ ساری دنیا پر اس کا کیا اثر ہے۔(آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلم اور امن عالم، انوار العلوم جلد ۱۵ صفحہ۱۹۴تا۱۹۶)
اللہ تعالیٰ دنیا کو توفیق دے کہ وہ حضرت محمد رسول اللہﷺ کو پہچان کر آپؐ کے جھنڈے تلے آ جائے اور دنیا میں حقیقی اور پائیدار امن کا قیام ممکن ہو۔
الفضل کے سالانہ نمبر کے لیے امیر المومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود ازراہ شفقت ایک انتہائی بصیرت افروز پیغام عنایت فرمایا جس پر ادارہ تہ دل سے حضورِ انور کاشکرگزار ہے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم اپنے پیارے امام سے اسی طرح فیض پاتے رہیں۔
اسی طرح تمام مضمون نگار، شعرائے کرام اور الفضل کے ٹیم ممبران بھی شکریہ کے مستحق ہیں جنہوں نے کسی بھی طرح اس کی اشاعت میں اپنا کردار ادا کیا۔ فجزاھم اللہ احسن الجزا
مزید پڑھیں: وہ چھاؤں چھاؤں سا اک سلسلہ ہمارے لیے



