حالاتِ جنگ میں پاکیزہ اُسوۂ رسولؐ اور تعلیماتِ اسلامیہ
’’جب ایسا روحانی حسن والا انسان جس میں محبت الٰہیہ کی روح داخل ہو جاتی ہے جب کسی غیر ممکن اور نہایت مشکل امر کے لیے دعا کرتا ہے…
تو چونکہ اپنی ذات میں حسنِ روحانی رکھتا ہے اس لیے خداتعالیٰ کے امر اور اذن سے اس عالم کا ذرّہ ذرّہ اس کی طرف کھینچا جاتا ہے‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)
حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل رضی اللہ عنہ قرآن پاک کی آیت وَاِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیۡفَۃً کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جب فرشتوں نے اس کے جواب میں کہا اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُفْسِدُ فِیْھَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاءَتو اس کی وجہ یہ تھی کہ ’’صوفیوں نے لکھا ہے تمام عناصر کا مجموعہ انسان ہے۔ ہر عنصر پر ایک فرشتہ ہوتا ہے وہ اپنے اپنے متعلّقہ شَے کی ماہیت کو جانتے تھے۔ وہ سمجھے کہ یہ تمام عناصر جب ملیں گے ضرور ان میں اختلاف ہو گا۔ مگر انہیں معلوم نہ تھا خدا انسان کو مجموعۂ کمالات بنانا چاہتا ہے۔‘‘ (حقائق الفرقان جلد۱ صفحہ۱۲۳)
چنانچہ تہذیب انسانی پر ایک ایسا وقت آیا کہظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِیعنی جنگل بھی بگڑگئے اور دریا بھی بگڑگئے۔ ’’یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے جو اہلِ کتاب کہلاتے ہیں وہ بھی بگڑ گئے اور جو دوسرے لوگ ہیں جن کو الہام کا پانی نہیں ملا وہ بھی بگڑ گئے۔‘‘(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلدششم صفحہ ۳۰۶)
’’ساتویں صدی عیسوی کا آغاز قومی، معاشرتی اور مذہبی انتشار کا زمانہ تھا… زرتشت، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ نے جو شمع کی روشن کی تھی اس کی لو انسانی خون کے چھینٹوں سے بجھائی جا چکی تھی۔ ایک بگڑی ہوئی زرتشتیت نے اور ایک اُس سے بھی زیادہ بگڑی ہوئی عیسائیت جو ایک دوسرے سے برسرِپیکار تھیں، انسانی ضمیر کی ناطقہ بندی کر رکھی تھی اور کرّۂ ارض کے بعض شادماں تریں خطّوں کو لہو کی ندیوں کا سنگھم بنا رکھا تھا… روئے زمین کے باشندے جو ایک بے جان مشائخ پرستی کی آہنی ایڑیوں سے کچلے جا رہے تھے، خدا سے اپنے آقاؤں کے مظالم کی فریاد کر رہے تھے۔ دنیا کی تاریخ میں ایک نجات دہندہ کی اس سے زیادہ ضرورت کبھی لاحق نہ ہوئی تھی۔(سیّد امیر علی، روحِ اسلام، کشمیر کتاب گھر، جمّوں، صفحہ ۶، ۷)
جہاں تک ان قوموں کا تعلق ہے جن کو الہام کا پانی ملا تھا تو ان کی مقدس کتابوں میں یہ لکھا ہوا تھا ’’اور جیسا کہ خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا، اس کے مطابق انہوں نے مدیانیوں سے جنگ کی اور سب مردوں کو قتل کیا۔ اور بنی اسرائیل نے مدیان کی عورتوں اور ان کے بچوں کو اسیر کیا اور ان کے چوپائے اور بھیڑ بکریاں اور مال و اسباب لوٹ لیا… اور انہوں نے سارا مالِ غنیمت اور سب اسیر کیا انسان اور کیا حیوان ساتھ لیے۔
(موسیٰ سرداروں پر جھلّا کر) ان سے کہنے لگا کیا تم نے سب عورتیں بچا رکھی ہیں؟ اس لیے ان بچوں میں جتنے لڑکے ہیں سب کو مار ڈالو اور جتنی عورتیں مرد کا منہ دیکھ چکی ہیں ان کو قتل کر ڈالو۔ لیکن ان لڑکیوں کو جو مرد سے واقف نہیں اور اچھوتی ہیں اپنے لیے زندہ رکھو۔(گنتی ۳۱، آیت ۱۷ تا ۳۵۔ بحوالہ نقوش، رسول نمبر جلد ۴ صفحہ ۳۱۲)
جبکہ وید میں یہ حوالہ ملتا ہے’’طاقتور اندر نے بداندیش داس کا سر کاٹ کر پھینک دیا۔ وہ اندر جس نے ورترا کو قتل کیا۔ اور جس نے قصبے کے قصبے اور گاؤں کے گاؤں تہ و بالا کر دیے جو جولاہے داسوں (غلاموں) کی فوجوں کو تباہ کرتا ہے۔‘‘ (بحوالہ: آرسی دت، قدیم ہندوستان کی تہذیب ترجمہ اے وی احمد، کتاب ۱، باب ۴ صفحہ ۳۷)
’’اس نے پچاس ہزار سیاہ فام دشمنوں کو لڑائی میں تباہ و غارت کیا ہے۔‘‘(Ibid:38)
یہ تو دریاؤں کی حالت تھی۔ جہاں تک جنگلوں کا تعلق ہے تو اُن کا تو یہ حال تھا کہ عمروبند منذر نے منّت مانی کہ بنی دارم کے سو آدمیوں کو نذرِ آتش کروں گا۔ چنانچہ اُس نے حملہ کیا تو ۹۹ آدمی ہاتھ لگے جنہیں زندہ جلا دیا گیا۔ اب ایک آدمی کی کمی رہ گئی تو اتفاق سے کوئی مسافر جو بھوکا تھا گوشت کی بو سونگھ کر یا دھوؤں کو دیکھ کر یہ سوچا کہ کھانا پک رہا ہے اس خیال سے وہ بھی ادھر آ گیا چنانچہ اسے بھی آگ میں جھونک دیا گیا۔ ’’اب دیکھو کہ جب اندھیرا چھا جاتا ہے تو سورج نکلتا ہے اور جب زمین تپ جاتی ہے تو وہ بارش کھینچتی ہے تو روحانی اندھیرے کے بعد روحانی سورج نہ نکلتا؟ … اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:یُقَلِّبُ اللّٰہُ الَّیْلَ النَّھَارَ (النور۴۵)نیز فرماتا ہے اِعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ یُحْیِ الْاَرضَ بَعْدَ مَوْتِھَا۔(الحدید ۱۸)دنیا مر چکی تھی اور خداتعالیٰ نے اپنے اس نبی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج کر نئے سرے سے دنیا کو زندہ کیا۔(سیرت خاتم النبیینؐ، صفحہ ۷۱)
چنانچہ جب ہم اسلامی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں عرفات کی چوٹیوں سے فتح مکہ تک عالم امر کے ارتسامات نظر آتے ہیں۔ تہذیبِ انسانی کی کشتی طوفانوں کے رحم و کرم پہ تھی کہ آپؐ نے اسے اپنے پاکیزہ اسوہ اور جامع تعلیمات کے ذریعے سمت اور منزل عطا فرمائی اور تاریخ انسانی میں ایک ایسا انقلاب آیا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔ اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو موجودہ زمانہ کی مادی ترقی بھی اسی روحانی انقلاب کی مرہونِ منت ہے۔ اگر موجودہ دنیا تباہی کے خطرات سے بچنا چاہتی ہے جو کہ ایک حقیقت کی طرح نظر آرہے ہیںتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقوشِ قدم اور پاک تعلیمات ہی عافیت کا حصار ہیں۔’’آنحضرتﷺ کے نقشِ قدم پر چلنا… اس کا ضروری نتیجہ ہے کہ انسان خدا کا محبوب بن جاتا ہے۔‘‘(حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام اپنی تحریروں کی رُو سے۔ جلد اوّل صفحہ۴۲۲۔۴۲۳)
چنانچہ جب جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ آپؐ کے ساتھ آپ کی دعاؤں کے طفیل ایک مخفی تائید الٰہی تھی کیونکہ آپﷺ خدا کے سچے رسول تھے اور خدا کے ہی مشن کو پورا کرنے کے لیے آپؐ مبعوث ہوئے تھے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :’’اگر آنجناب درحقیقت خدا کے سچے رسول نہ ہوتے تو ضرور ہلاک کیے جاتے… پس صاف ظاہر ہے کہ آنحضرتﷺ کا ان تمام پُرخطر موقعوں سے نجات پانا اور ان تمام دشمنوں پر آخرکار غالب ہو جانا ایک بڑی زبردست دلیل اس بات پر ہے کہ درحقیقت آپؐ صادق تھے اور خدا آپؐ کے ساتھ تھا۔ ‘‘(چشمہ معرفت۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۲۶۳، ۲۶۴ حاشیہ)
چنانچہ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ مولائے کُل ختم الرسلﷺ نے کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ چنانچہ ہمیں آپﷺ کے غزوات کی تاریخ میں ماکیاولی (Machiavelli) کی Political Realism اور جوزف فلیچر کی Situational Ethics کا کوئی شائبہ تک نظر نہیں آتا۔
ہم دیکھتے ہیں کہ مکہ میں مسلمانوں کو مصائب کے طوفانوں سے گزرنا پڑرہا تھا۔ مسلمان اپنے عقائد کی تبلیغ نہیں کر سکتے تھے۔ مسلمان دل ہی دل میں پیچ و تاب کھا رہے تھے۔ ’’ایک دفعہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ’’یارسول اللہؐ! جب ہم مشرک تھے تو ہم معزز تھے اور کوئی شخص ہماری طرف آنکھ تک نہیں اٹھا سکتا تھا۔ لیکن مسلمان ہو کر ہم کمزور و ناتواں ہو گئے اور ہمیں ذلیل ہو کر رہنا پڑتا ہے۔ پس آپؐ ہمیں ظالموں سے مقابلہ کی اجازت دیں۔ آپؐ نے فرمایا: اِنِّیْ اُمِرْتُ بِالْعَفْوِ فَلَا تُقَاتِلُوْا یعنی مجھے ابھی تک عفو کا حکم ہے۔ اس لیے میں تمہیں لڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔‘‘(سیرت خاتم النبیینؐ حصہ اول صفحہ ۲۸۱)
آپﷺ بدر کے میدان میں تین سو جاں نثاروں کے ساتھ موجود ہیں۔ کفّار ہزار آدمی کی جمعیت تھی۔ اس موقع پر بھی جبکہ دشمن کی عظیم الشان تعداد مقابل تھی اور مسلمانوں کی طرف ایک آدمی بھی آکر بڑھ جاتا تو کچھ نہ کچھ مسرّت ہوتی۔ حضرت حذیفہؓ بن یمان اور حضرت حسیلؓ دو صحابی کہیں سے آرہے تھے۔ راہ میں کفّار نے روکا کہ محمدؐ کی مدد کو جارہے ہو؟ انہوں نے انکار کیا اور عدم شرکت کا وعدہ کیا۔ آنحضرتﷺ کے پاس آئے تو صورت حال عرض کی۔ فرمایا ہم ہر حال میں وعدہ وفا کریں گے۔ ہم کو صرف اللہ کی مدد درکار ہے۔(بحوالہ سیرت النبیؐ حصہ اوّل صفحہ ۲۰۸ مصنفہ شبلی نعمانی)
آپﷺ کا خداتعالیٰ پر بھروسا اتنا تھا کہ نہ Situational Ethics نہ Political Realism کو آپؐ نے درخور اعتنا سمجھا جو آج کی جدید دنیا میں مغربی طاقتوں کا طرّہ امتیاز ہے۔ دراصل اسلام کا آوازۂ حق اُس وقت بلند ہوا جب جب ریاستی جبرسفّاک مذہبی راہنماؤں کے استبداد اور ظلم و ستم کے نتیجہ میں مظلوم انسانیت کراہ رہی تھی اور اِیلی اِیلی لِمَا سبقتنی کی دردناک آوازیں بلند کر رہی تھی اسلام کے اس حیات آفریں پیغام نے انسانیت کو نوید سحر دی۔ لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ، دین میں کوئی جبر نہیں اور دین کے نام پر دکھ دینا حرام ہےقَدْ تَبَیَّنَ الرُّشْدُ۔
آپﷺ رحمۃ للعالمین بن کر آئے اور انسانیت کو ظلم و جبر اور استبداد کی زنجیروں سے ہمیشہ کے لیے رہائی بخش دی اور اپنے کامل اسوۂ حسنہ کے ذریعہ ایسی روشن مثالیں قائم کیں
کہ دشمن بھی کہنے لگے آفریں
علیک الصلوٰۃ علیکَ السّلام
اسلامی انقلاب ہی تاریخ انسانی کا واحد واقعہ ہے جو نہ صرف ایک جامع نظریہ ہے بلکہ ایک تاریخی حقیقت بھی ہے جبکہ برٹرنڈ رسل دنیا میں دو تحریکات کا ذکر کرتا ہے جنہوں نے دنیا میں تشتت و انتشار ختم کرنے کی کوشش کی۔ ایک رومی سلطنت اور کلیسا لیکن رومی سلطنت محض ایک طاقت پر مبنی حقیقت تھی جس کی بنیاد کسی نظریہ یا تصوّر پر نہ تھی جبکہ کلیسا محض ایک نظریہ تھا جو عملی حقیقت کی شکل اختیار نہ کر سکا۔
(’’The Roman Empire was a brute fact, not an idea. The Catholic world, which was an idea, but was never adequately embodied in fact.‘‘
(BERTRAND RUSSELL, History of Western Philosophy, New Delhi, 1957, p. 482)
مغربی تہذیب اپنے لڑکپن میں تھی جب صلیبی جنگوں کا آغاز ہو گیا۔ بقول کیرن آرمسٹرانگ
’’one of its most enduring legacies is a profound hatred of Islam.‘‘
(Karen Armstrong, The Curse of The Infidel, The Guardian, 20 Jun 2002)
چنانچہ اس تعصب کی جھلکیاں ہمیں متعصب پادریوں کی تحریروں سے لے کر جدید مستشرقین کی تحقیقات میں نظر آتی ہیں۔ چنانچہ جو انقلاب ایک فانی فی اللہ کی دعاؤں اور تائیدِ الٰہی کی بدولت رونما ہوا اس میں ان متعصب پادریوں اور جانب دار مستشرقین کو تلوار کارفرما نظر آتی ہے۔ چنانچہ پادری فنڈر لکھتا ہے :’’پھر جبکہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے تابع دار مدینے میں بڑھے اور دشمنوں سے لڑنے اور بدلہ لینے کی قوّت حاصل کی تو جہاد کی آیت نازل کر کے لڑنے لگا۔ اپنی فتح مند فوج کا سردار ہوا تب دشمن ان سے ڈرنےاور خوف کرنے لگا ہے… اپنا دین انہی وسیلوں سے… عرب کے اکثر ملکوں میں پھیلایا۔‘‘ (پادری فنڈر۔ میزان الحق۔ ارفن سکول پریس۔ کلکتہ ۱۸۴۳ء صفحہ ۴۷۱)
منٹگمری واٹ بھی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مدینہ میں جارحیت کا آغاز مسلمانوں نے کیا تاکہ اہل مکہ کے تجارتی قافلوں کو نشانہ بنایا جائے۔
’’The chief point to notice is that the Muslims took the offensive. With one exception these seven expeditions were directed against Meccan caravans.‘‘
(W. Montgomery Watt, Muhammad at Medina, Oxford, 1956, p. 2)
اب دیکھتے ہیں کہ عیسائی پادریوں اور مستشرقین میں یہ تعصّب کیوں ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ
’’Islam is a religion of success unlike Christianity… Muhammad… was dazzling success, politically, as well as spiritually.‘‘
(Moyeres, B. (Host). (2002, March 1) NOW with Bill Moyers [Television broadcast]
لیکن دل خون کے آنسو روتا ہے جب بعض نام نہاد اسلامی تحریکوں کے لیڈروں کو اسی طرح خامہ فرسائی کرتے دیکھتے ہیں جو متعصب پادریوں اور جانب دار مستشرقین کا طرزِعمل اور وتیرہ ہے۔ چنانچہ مولانا مودودی صاحب لکھتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۱۳ برس تک عرب کو اسلام کی دعوت دیتے رہے ۔ وعظ و تلقین کا جو مؤثر انداز ہو سکتا تھا اسے اختیار کیا… لیکن جب وعظ و تلقین کی ناکامی کے بعد داعی اسلام نے ہاتھ میں تلوار لی… تو دلوں ے رفتہ رفتہ بدی و شرارت کا زنگ چھوٹنے لگا۔ (سید ابوالاعلیٰ مودودی۔ الجہاد فی الاسلام، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشر، دہلی، اپریل ۲۰۰۰ء صفحہ ۱۷۳)
ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اسلام اپنی تاریخ کے نازک دور سے گزر رہا تھا۔ ایسے علماء جن کے سیاسی ایجنڈے تھے اور مغرب کی فاشسٹ تحریکوں سے متأثر تھے مذہب کا چولا پہن اہل مغرب کی دریوزہ گری کرنے لگے: ’’اگر دلوں کے زنگ دھونے کے لیے تلوار ایسی ضروری تھی تو ابوبکرؓ اور عمرؓ اور عثمانؓ اور علیؓ کے دلوں کے زنگ کس تلوار نے دھوئے تھے اور کس تلوار نے بلال حبشیؓ کے دل میں توحید کا نور داخل کیا تھا؟… اور وہ سارے مہاجرینؓ اور وہ سارے انصارؓ جن کی تعداد ہزار تک جا پہنچی… کسی طرح تطہیر قلوب کے اس ضروری ہتھیار کے بغیر پاک دل ہونے میں کامیاب ہو گئے؟‘‘(حضرت مرزا طاہر احمد،ؒ مذہب کے نام پر خون۔ صفحہ ۳۸، ۳۹)
جب مسلمان غزوۂ بدر کے موقع پرزخران پہنچے تو آنحضرتﷺ کو خبر پہنچی کہ قافلے کی حفاظت کے لیے ایک بڑا لشکر قریش کا آرہا ہے۔ آپﷺ نے صحابہؓ سے مشورہ کیا۔ چنانچہ مقداد بن اسود جن کا دوسرا نام مقداد بن عمر وبھی تھا نے کہا :’’یارسول اللہؐ! ہم موسیٰ کے اصحاب کی طرح نہیں ہیں کہ آپؐ کویہ جواب دیں کہ جا تُو اور تیرا خدا جا کر لڑو۔ ہم یہیں بیٹھے ہیں۔ ہم آپؐ کے ساتھ ہیں اور ہم آپؐ کے دائیں اور بائیں اور آگے اور پیچھے ہو کر لڑیں گے۔‘‘… آپؐ نے یہ تقریر سنی تو آپؐ کا چہرہ مبارک خوشی سے تمتمانے لگا۔‘‘(بخاری کتاب المغازی۔ بحوالہ سیرت خاتم النبیینؐ۔ صفحہ ۴۰۱)
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مقداد بن اسودؓ کے دل کے زنگ کو کس تلوار نے دھویا تھا؟ درحقیقت آنحضرتﷺ نے تلوار نہیں اٹھائی بلکہ تلوار آپؐ پر اٹھائی گئی، جنگ آپؐ پر مسلط کی گئی ’’یعنی آنحضرتﷺ اور آپؐ کے صحابہ ؓ ہجرت کرکے مدینہ میں آئے اور انصار نے انہیں پناہ دی تو تمام عرب ایک جان ہو کر ان کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ اس وقت مسلمانوں کا یہ حال تھا کہ رات کو بھی ہتھیار لگا کر سوتے تھے اور دن کو ہتھیار لگائے رکھتے تھے کہ کہیں کوئی اچانک حملہ نہ ہو جائے۔‘‘(حاکم بحوالہ سیرت النبیؐ صفحہ ۳۱۸)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’لڑائیوں کے سلسلہ کو دیکھنا از بس ضروری ہے… سلسلہ تو یہ ہے کہ اوّل کفار نے ہمارے نبی صلعم کے قتل کا ارادہ کر کے آخر اپنے حملوں کی وجہ سے ان کو مکہ سے نکال دیا۔ پھر تعاقب کیا اور جب تکلیف حد سے بڑھی تو پہلا حکم جو لڑائی کے لیے نازل ہوا وہ یہ تھا اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا… ‘‘یعنی جہاد میں یعنی لڑنے میں اسلام سے ابتدا نہیں ہوئی۔(تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔ جلد پنجم صفحہ ۳۷۹)
اس حقیقت کا اعتراف ایک غیرمتعصب منصف مزاج محقق کیرن آمرسٹرانگ بھی کرتی ہیں:
“In fact, the reality was different. Islam, for example, is not the intolerant or violent religion of western fantasy, Muhammad was forced to fight against the city of Mecca, which had vowed to exterminate the new Muslim community.”
(Karen Armstrong, The Curse of the Infidel, The Guardian, Thus 20 June 2002)
درحقیقت اسلام کا فروغ جنگ کے نتیجے میں نہیں بلکہ صلح کے دور میں ہوا۔’’ دعویٔ نبوت سے لے کر صلح حدیبیہ تک جو مصیبتوں اور بدامنی کا دور تھا تقریباً انیس سال کے عرصے میں جس قدر لوگوں نے اسلام قبول کیا اس سے کہیں زیادہ تعداد میں صلح حدیبیہ کے دو سالہ دور میں لوگ مسلمان ہوئے… زیادہ سے زیادہ مسلمان مردوں کی تعداد جو صلح حدیبیہ سے پہلے کسی جنگ میں شریک ہوئی ہے تین ہزار بنتی ہے… فتح مکہ کے موقع پر مسلمان لشکر کی تعداد دس ہزار قدوسیوں پر مشتمل تھی۔ ان مزید سات ہزار میں بہت ہی کم تھے جو جنگِ احزاب اور صلح حدیبیہ کے درمیان مسلمان ہوئے۔‘‘(حضرت مرزا طاہر احمد،ؒ مذہب کے نام پر خون۔ صفحہ ۴۳)
دراصل اسلامی انقلاب کے پیچھے جو حیرت انگیز قوّت کارفرما تھی جو مغربی دانشوروں اور نام نہاد علماء کی نظروں سے اوجھل رہی وہ آپﷺ کی روحانی کشش تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :’’حسن بشرہ صرف ایک یادو شخص کے فانی عشق کا موجب ہو گا جو جلد زوال پذیر ہو جائے گا اور اس کی کشش نہایت کمزور ہو گی۔ لیکن روحانی حسن جس کو حسن معاملہ سے موسوم کیا گیا ہے وہ اپنی کششوں میں ایسا سخت اور زبردست ہے کہ ایک دنیا کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور زمین و آسمان کا ذرہ ذرہ اس کی طرف کھینچا جاتا ہے اور قبولیت دعا کی بھی درحقیقت یہی فلاسفی ہے کہ جب ایسا روحانی حسن والا انسان جس میں محبتِ الٰہیہ کی روح داخل ہو جاتی ہے جب کسی غیرممکن اور نہایت مشکل امر کے لیے دعا کرتا ہے اور اس دعا پر پورا پورا زور دیتا ہے تو چونکہ اپنی ذات میں حسنِ روحانی رکھتا ہے اس لیے خداتعالیٰ کے امر اور اذن سے اس عالم کا ذرّہ ذرّہ اس کی طرف کھینچا جاتا ہے۔ ایسے اسباب جمع ہو جاتے ہیں جو اس کی کامیابی کے لیے کافی ہوں۔(تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد ششم صفحہ ۲۸)
چنانچہ ہم غزوۂ بدر کے موقع پر دیکھتے ہیں کہ قریش چونکہ پہلے پہنچ گئے تھے انہوں نے مناسب موقعوں پر قبضہ کر لیا۔ مسلمانوں کی طرف زمین ایسی ریتلی تھی کہ اونٹوں کے پاؤں دھنس جاتے تھے۔ تائید ایزدی سے مینہ برس گیا جس سے گَرد جم گئی۔ اس قدرتی احسان کا اللہ نے قرآن میں ذکر کیا وَیُنَزِّلُ عَلَیۡکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَہِّرَکُمۡ بِہٖ(الانفال :۱۲)
جہاں غزوۂ بدر میں مسلمانوں کی بےسروسامانی کا عالم تھا کہ بعض مسلمان فکرمند تھے ’’کہ اس موقع پر جبکہ لشکرِ قریش کے ساتھ مٹھ بھیڑ ہو جانے کا احتمال ہے آنحضرتﷺ کی حفاظت کی اہم ذمہ داری سے عہدہ برا ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ چنانچہ انہی لوگوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن شریف فرماتا ہے اِنَّ فَرِیۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ لَکٰرِہُوۡنَ ‘‘(الانفال:۶) (سیرت خاتم النبیینﷺ صفحہ ۳۹۹)
بقول مولانا شبلی نعمانی ’’یہ عجیب منظر تھا، اتنی بڑی وسیع دنیا میں توحید کی قسمت صرف چند جانوں پر منحصر تھی ۔ صحیحین میں ہے کہ آنحضرتﷺ پر سخت خضوع کی حالت طاری تھی، دونوں ہاتھ پھیلا کر فرماتے تھے ’’خدایا تُو نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا آج پورا کر۔‘‘ محویت اور بیخودی کے عالم میں چادر کندھے سے گر پڑتی تھی اور آپؐ کو خبر تک نہ ہوتی تھی، کبھی سجدہ فرماتے تھے کہ ’’خدایا اگر یہ چند نفوس آج مِٹ گئے تو پھر قیامت تک تُو نہ پوجا جائے گا۔… حضرت ابوبکرؓ نے عرض کی ’’حضور! اللہ اپنا وعدہ وفا کرے گا‘‘۔ آخر روحانی تسکین کے ساتھ سَیُھْزَمُ الْجمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ (قمر)پڑھتے ہوئے لب مبارک فتح کی پیشن گوئی سے آشنا ہوئے۔ (شبلی نعمانی۔ سیرت النبیﷺ حصہ اوّل۔ دوم صفحہ ۲۰۸)
چنانچہ پیشن گوئی اس شان سے پوری ہوتی ہے کہ دشمن کو شکستِ فاش ہوتی ہے اور اس کی کمر ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جاتی ہے۔
بقول مولانا شبلی نعمانی، مغربی مورخین کو جن کے نزدیک عالم اسباب میں جو کچھ ہے صرف اسباب ظاہری کے نتائج ہیں حیرت ہے کہ تین سو پیدل آدمیوں نے ایک ہزار جن میں سو سواروں کا رسالہ تھا کیونکر فتح پائی۔(شبلی نعمانی۔ سیرت النبیﷺ حصہ اوّل۔ دوم صفحہ ۲۱۱)
امام الزماں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ہماری راہنمائی فرماتے ہیں کہ ’’جب ایسا روحانی حسن والا انسان جس میں محبت الٰہیہ کی روح داخل ہو جاتی ہے جب کسی غیر ممکن اور نہایت مشکل امر کے لیے دعا کرتا ہے… تو چونکہ اپنی ذات میں حسنِ روحانی رکھتا ہے اس لیے خداتعالیٰ کے امر اور اذن سے اس عالم کا ذرّہ ذرّہ اس کی طرف کھینچا جاتا ہے۔‘‘(تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد ششم صفحہ ۲۸)
لیکن افسوس کہ اس فیج اعوج کے دَور میں یہ حقیقت علماء کی نگاہوں سے پنہاں ہو گئی۔ بقول مصنف مشائخ دیوبند ۱۸۵۷ء کے ہنگامے کے وقت علماء کے درمیان بحث ہو رہی تھی اس موقع پر جہاد فرض ہے کہ نہیں۔ ’’مولانا شیخ محمد کی رائے تھی کہ انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا ہم مسلمانوں پر فرض تو درکنار موجودہ احوال میں جائز نہیں ۔پھر یہ سوال پوچھا گیا کیا اتنا بھی سامان نہیں جتنا غزوۂ بدر میں تھا۔ اس موقع پر شیخ محمد نے سکوت فرمایا…چنانچہ جہاد کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔(ماخوذ از مفتی عزیزالرحمٰن۔ مشائخ دیوبند ۱۹۶۲۔ صفحہ ۸۲)
ان علماء کی نظر مادی اسباب پر تھی۔ اور اُن کو اپنا سروسامان اور اسباب غزوۂ بدر میں موجود مسلمانوں سے کم نظر نہیں آتا تھا لیکن انہیں فخرِ موجودات، سرورِ عالم کے اُس روحانی حسن کی کشش کی کوئی خبر نہیں تھی جس کی کشش سے عالم کا ذرّہ ذرّہ آپ کی طرف کھنچا چلا آیا اور کامیابی کے اسباب جمع ہو گئے۔ لہٰذا جنگ میں کود پڑے جب پکڑے گئے تو بقول مولانا مفتی محمود سب عدالت میں جھوٹ بول کر چلے آئے۔ (حسین احمد مدنی۔ نقشِ حیات جلد دوم)
اب ہم اس امر کا جائزہ لیتے ہیں کہ اگر اسلامی انقلاب کے پسِ پشت تلوار کارفرما نہیں تھی تو فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعاؤں کے طفیل کون سے اسباب پیدا ہوئے جو اُس وقت عالمی حالات کے تناظر میں کارفرما ہوئے اور بقول ڈاکٹر حمیداللہ ’’چند محلوں پر مشتمل ایک شہری مملکت (city state) سے جو آغاز ہوا وہ روزانہ دو سو چوہتر میل کے اوسط سے وسعت اختیار کرتی ہے۔ اور دس سال بعد جب آنحضرتﷺ کی وفات ہوئی تو دس لاکھ مربع میل کا رقبہ آپؐ کے زیرِ اقتدار آچکا تھا… وسیع علاقے کی فتح میں… دشمن کے ڈیڑھ سو آدمی قتل ہوئے… مسلمان فوج کا مشکل سے اس دس سال میں ماہانہ ایک سپاہی شہید ہوتا رہا۔ انسانی خون کی عزّت تاریخ عالم میں بے نظیر ہے… اور … آپؐ کی وفات کے پندرہ سال بعد تین براعظموں… پر مدینے کی حکومت کا قائم ہو جانا۔‘‘ (ماخوذ از محمد حمیداللہ۔ عہدِ نبویؐ کے میدانِ جنگ۔ انتظامی پریس حیدرآباد دکن ۲۰۰۰ء صفحہ ۳، ۴)
اب ہم اس امر کا جائزہ لیتے ہیں کہ وہ کیا اسباب اور وجوہات تھیں جن کی وجہ سے اسلام حیرت انگیز طور پر قلیل مدّت میں تین براعظموں میں پھیل گیا۔
بقول حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرتﷺ ہی وہ پہلوان تھے جو توحید کو، جو دنیا سے گم ہو چکی تھی، واپس لے کر آئے تھے۔ توحید اگر دنیا سے گم ہو جائے اس کے کیا اثرات انسانی تمدّن اور تہذیب پر پڑتے ہیں۔ انسانی تہذیب کی بنیاد تصوّرِ توحید پر قائم ہے۔ یہ نظریہ توحید ہے جو انسان کو نسلی اور قومی اور علاقائی تفاخر سے ماورا کرتا ہے اور انسانی تہذیب کی بنیاد ڈالتا ہے۔ انسان کو ذمہ داری کا احسان ہوتا ہے کہ وہ جواب دِہ ہے۔
ظہورِ اسلام سے قبل جو دنیا کی حالت تھی بقول حضرت شاہ ولی اللہ ’’واضح ہو کہ ایران اور روم میں جبکہ سالہاسال سے سلطنت چلی آئی اور دنیوی لذت میں مستغرق ہو گئے اور دارِ آخرت کو بھول گئے… اسباب پر فخر کرنے لگے… ہر ایک شخص دوسرے پر ان امور میں سبقت کرنے اور فخر کرنے کی کوشش کرتا… جب تک بہت سامان صرف نہ کیا جائے یہ لطف حاصل نہیں ہو سکتے تھے اور مال کی اتنی مقدار حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کاشتکاروں، تاجروں اور پیشہ وروں پر ٹیکس زیادہ کیے جائیں… ان کو بمنزلہ گدھے اور بیل کر دیں جو آب پاشی، جوتنے اور اناج کی کٹائی میں استعمال کیے جاتے ہیں… جب یہ مصیبت زیادہ بڑھ گئی اور بیماری سخت ہو گئی … تو خدا کی مرضی ہوئی کہ اس مرض کو بالکل زائل کر دے اس واسطے اس نے ایک نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔‘‘ (حضرت امام شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی۔ حجۃ اللہ البالغۃ۔ جلد اوّل اصح المطابع و کارخانہ تجارت کتب آرام باغ، کراچی ۔ صفحہ ۲۲۴ تا ۲۲۸)
اسلامی انقلاب کی حیرت انگیز کامیابی اور فروغ کی وجہ یہ تھی کہ یہ ان مظلوم طبقات کے لیے جن کی حالت گدھےاور بیل کی طرح ہو گئی تھی اور جو صرف امراء کی ضروریات پورا کرنے کے لیے جانوروں کی طرح استعمال کیے جا رہے تھے اور وہ اپنے خدا کی عبادت بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا تھا۔ لہٰذا انہیں اس جبر و استبداد سے رہائی ملی اور وہ اپنے خدا کے آگے جھکنے کے قابل ہو گئے اور انسانیت کے استحصال سے نجات پا کر ترقی اور خوشحالی کی راہوں پر گامزن ہوگئے۔ تاریخ اسلام میں ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک موقع پر حضرت ابوعبیدہؓ کو حمص کا شہر چھوڑنا پڑا۔ ’’حضرت ابوعبیدہؓ نے حبیب بن مسلمہ کو جو افسر خزانہ تھے بلا کر کہا عیسائیوں سے جو جزیہ یا خراج لیا جاتا ہے اس وقت ہماری حالت ایسی نازک ہے کہ ہم ان کی حفاظت کا ذمہ نہیں اٹھا سکتے… سب ان کو واپس کر دو… چنانچہ کئی لاکھ کی رقم جو وصول ہوئی تھی کُل واپس کر دی گئی۔ عیسائیوں پر اس واقعہ کا اس قدر اثر ہوا کہ وہ روتے جاتے تھے اور جوش سے کہتے جاتے تھے خدا تم کو واپس لائے۔
یہودیوں پر اس سے بھی زیادہ اثر ہوا۔ انہوں نے کہا تورات کی قسم جب تک ہم زندہ ہیں قیصر حمص پر قبضہ نہیں کر سکتا۔‘‘ (علامہ شبلی نعمانی۔ الفاروق۔ دارالاشاعت۔ اردو بازار کراچی ۱۹۹۱ء صفحہ ۱۲۱)
بقول سیّد امیر علی ’’حضرت عمرؓ نے زرعی خوشحالی کو فروغ دینے کی خاطر جو اقدامات کیے ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں لوگوں کی فلاح اور اُن کے مفادات کو ترقی دینے کا کتنا خیال تھا۔ زمین پر جو لگان لگایا گیا وہ معتدل اور منصفانہ بنا پر مقرر کیا گیا۔ مملکت کے ہر حصے میں نہریں کھدوائی گئیں۔ جاگیرداری کے زمانے میں جو محاصل اور خرچ کاشت کاروں کے لیے عذابِ جاں بنے ہوئے تھے وہ سب منسوخ کر دیے گئے۔ چنانچہ صدیوں کا بوجھ اُن کے سر پر سے اتر گیا۔‘‘(سیّدامیرعلی۔ روحِ اسلام۔ ترجمہ ہادی علی۔ کشمیر کتاب گھر جمّوں۔ ۱۹۹۶ء۔ صفحہ ۴۳۴)
انسانیت کی سب سے بڑی میراث جس سے تہذیبِ انسانی کی کشتی تباہی کے بحرانوں اور طوفانوں سے بچ کر بحفاظت نکل سکتی ہے وہ آپﷺ کا خطبہ ہے جو آپؐ نے فتح مکہ کے موقع پر ارشاد فرمایا جس کا خطاب صرف اہل مکہ سے نہیں بلکہ تمام عالم سے تھا۔ ’’ایک اللہ کے سوا اَور کوئی اللہ نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اُس نے اپنا وعدہ سچا کیا… اب جاہلیت کا غرور اور نسب کا افتخار اللہ نے مٹا دیا ہے۔ تمام لوگ آدم کی نسل سے ہیں اور آدمی مٹی سے بنے تھے۔‘‘(علامہ شبلی نعمانی۔ سیرۃ النبیﷺ۔ حصہ اوّل ۔دوم۔ ادارہ اسلامیات صفحہ ۳۱۴)
اسلامی تاریخ میں اس کی نہایت روشن مثالیں ملتی ہیں کہ کس طرح جاہلیت کے غرور اور نسلی امتیاز کے تصور کا خاتمہ کیا گیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دَور میں ایک غسّانی بادشاہ جبلہ (Jabala) اسلام لاتا ہے۔ جب وہ مدینہ آتا ہے تو بڑی تکریم کے ساتھ اُس کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔ جب وہ کعبہ کا طواف کر رہا تھا تو معمولی حیثیت کے کسی حاجی کے احرام کا ایک گوشہ اس کے شانوں پر گر پڑا۔ جبلہ نے فرطِ غضب سے حاجی کے منہ پر طمانچہ رسید کیا۔ حضرت عمرؓ نے اس کی روئیداد حضرت ابوعبیدہؓ کو جو کہ شام میں عساکر اسلامی کے سپہ سالار تھے لکھی۔ ’’غریب حاجی میرے پاس آیا… مَیں نے جبلہ کو بلا بھیجا… اس سے پوچھا کہ اس نے ایک مسلمان بھائی کے ساتھ بدسلوکی کیوں کی؟ اُس نے جواب دیا اس آدمی نے میری توہین کی۔… مَیں نے کہا اگر تم نے اس آدمی سے معافی نہ مانگی اور اس نے تمہیں معاف نہ کیا تو تمہیں قانونی سزا بھگتی پڑے گی۔‘‘ … قانون کی نگاہوں میں دونوں کی ایک حیثیت ہے۔ ‘‘(سید امیر علی۔ روحِ اسلام۔ صفحہ ۴۲۲)چنانچہ جبلہ مظلوم حاجی سے ایک دن کی مہلت لیتا ہے اور فرار ہو جاتا ہے۔
آج کل کی دنیا میں بھی ایک نظریاتی خلا پیدا ہو چکا ہے اور دنیا اپنے تہذیبی اور قومی تفاخر اور بالادستی کے تصوّر کی طرف لوٹ گئی ہے۔
’’All are equal… but Some… are more equal than others.‘‘
اس وقت طاقت ور قوموں اور ریاستوں کا نصب العین بنا ہوا ہے۔ اس وقت اُس شہادتِ توحید کی ضرورت ہے جس کی طرف حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اشارہ فرماتے ہیں: ’’اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو! ایک دفعہ پھر اس نوبت کو اس زور سے بجاؤ کہ دنیا کے کان پھٹ جائیں۔… محمدؐ رسول اللہ کا تخت آج مسیحؑ نے چھینا ہوا ہے۔ تم نے مسیحؑ سے چھین کر پھر وہ تخت محمدؐ رسول اللہ کو دینا ہے اور محمد رسول اللہ نے وہ تخت خدا کے آگے پیش کرنا ہے اور خداتعالیٰ کی بادشاہت دنیا میں قائم ہونی ہے۔ (سیرِروحانی۔ مجموعہ تقاریر سیدنا حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمدؓ صفحہ۶۲۰)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: مومن کی زندگی کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے ساتھ اُس کا تعلق ہے



