ابتدائی اسلامی جنگوں کا موجودہ دور کی جنگوں سے موازنہ
اقوام متحد کے کمیشن کے وضع کردہ تمام پانچوں اصولوں کے مطابق ابتدائی اسلامی جنگیں جائز اور ضروری قرار پاتی ہیں جبکہ ان کے مقابلہ میں موجودہ دور کی اکثر جنگیں ان اصولوں کے مطابق غلط اور ناانصافی پر مبنی ہیں۔ جنگوں کے دوران طرز عمل اور جنگ کے بعد عدل و انصاف سے کام لیتے ہوئے پائیدار امن کی کوششوں کو دیکھا جائے تو ابتدائی اسلامی جنگوں اور موجودہ دور کی اکثر جنگوں میں کوئی موازنہ ہی نہیں
اس زمانے میں اسلام کے خلاف جو اعتراضات اکثر کیے جاتے ہیں، ان میں سے ایک حصےکا تعلق ابتدائی اسلامی جنگوں سے ہے۔ یعنی یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جنگوں کے ضمن میں مغربی تہذیب کی تعلیم اسلامی تعلیم سے برتر ہے۔ چنانچہ ذیل میں ابتدائی اسلامی جنگوں کا موجودہ زمانےکی جنگوں سے موازنہ کیا گیا ہے۔ یہاں ’’ابتدائی اسلامی جنگوں‘‘ سے مراد آنحضورؐ کے زمانے میں لڑی گئی جنگیں ہیں۔ جبکہ ’’موجودہ دورکی جنگوں‘‘ سے مراد گذشتہ سو سال یعنی ۱۹۲۶ء سے ۲۰۲۶ء کی جنگیں ہیں۔ مگر موازنہ کرنے سے پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ موازنےکا پیمانہ کیا ہو گا؟
موازنہ کرنے کا پیمانہ
جب دو مختلف زمانوں، دو مختلف اقوام، دو مختلف علاقوں کی جنگوں کا موازنہ کرنا مقصود ہو تو اس کے لیے یقیناً ایسا پیمانہ ہونا چاہیے جو جانبدار نہ ہو۔ ہم اس کے لیے اسلامی تعلیم سے کوئی پیمانہ مقرر کرنے کی بجائے اقوام متحدہ کے بیان کردہ پیمانے پر ان جنگوں کو پرکھ سکتے ہیں تا کوئی یہ نہ کہے کہ پیمانہ ہی ایسا منتخب کیا گیا ہے جو ابتدائی اسلامی جنگوں کو بہتر ثابت کرے! اقوام متحدہ کے سابق جنرل سیکرٹری، کوفی عنان صاحب، نے ۲۰۰۳ء میں ایک کمیشن قائم کیا جس کا مقصد سلامتی کونسل کو وہ اصول فراہم کرنا تھا جن کی بنا پر جنگ کا فیصلہ کیا جا سکے۔ اس کمیشن نے ۲۰۰۴ء میں پانچ اصول وضع کیے۔(Lango, The Ethics of Armed Conflict, Edinburgh, 2014) یہ اصول واقعی زمانہ کی قید سے آزاد اور ہر مذہب و ملت کے لیے یکساں اہم ہیں:
۱۔خطرےکی سنگینی: یعنی کسی کو لاحق خطرہ اس نوعیت کا اور اتنا سنگین ہے کہ اس کے جواب میں جنگ ضروری سمجھی جائے؟
۲۔ وجہ جنگ: جنگ کا مقصد ایسے کسی خطرہ یا ظلم کو روکنا ہے ؟
۳۔ جنگ بطور آخری حیلہ: کیا جنگ سے پہلے تمام دیگر ذرائع استعمال کر لیے گئے ہیں؟
۴۔ توازن: کیا جنگ کا دائرہ کار، اس کا دورانیہ، اس کی سختی اس سے زیادہ تو نہیں جو ضروری ہے؟
۵۔ نتائج و مضمرات: کیا جنگ کی کامیابی کا امکان ہے اور جنگی نقصان، جنگ نہ کرنے کی صورت میں ہونے والے نقصان سے کم ہو گا؟
کمیشن کے مطابق اگر یہ پانچ امور جنگ کی اجازت دیتے ہوں، تو پھر جنگ کی اجازت ہونی چاہیے ورنہ نہیں۔ یہ اصول جنگ کی ابتدا کے متعلق ہیں۔ لیکن جب جنگ کا آغاز ہوجائے تو ہم مزید دو امور میں جنگوں کا موازنہ کر سکتے ہیں اور یہ دونوں امور بھی وقت، قوم، مذہب وغیرہ کی قید سے ایک حد تک آزاد ہیں یعنی:
۶۔ طرز عمل: جنگ کے دوران طرز عمل کیا تھا؟ اس میں دشمن فوجیوں، شہریوں، قیدیوں، مقتولین کے ساتھ سلوک سب شامل ہے۔
۷۔ جنگ کا اختتامیہ: مفتوحین کے ساتھ کیا طرز عمل اپنایا گیا؟ جنگ کے بعد امن کو قائم رکھنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟
چنانچہ ذیل میں انہی سات اصولوں پر ابتدائی اسلامی اور موجودہ دَور کی جنگوں کا موازنہ پیش کیا گیا ہے۔
۱۔ خطرے کی سنگینی
جہاں تک ابتدائی اسلامی جنگوں کا تعلق ہے تو خطرے کی سنگینی اظہر من الشمس ہے۔ مسلمانوں پر اس وقت نہ صرف ظلم ہو رہا تھا بلکہ ان پر حملہ کیا گیا تھا۔ قرآن کریم وضاحت کے ساتھ بیان فرماتا ہے:اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا۔ (الحج:۴۰)یعنی جنگ کی اجازت اس لیے دی جاتی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ظلم کے ساتھ جنگ مسلط کی گئی ہے۔ اس کی تفصیل سیرت اور تاریخ کی مستند کتابوں میں موجود ہے۔ مسلمانوں کے مکمل معاشرتی مقاطعہ، معاشی قتل، کھانے پینے کی اشیاکی خرید و فروخت پر پابندی، جلاوطنی، جائیدادوں پر قبضہ، ناقابل برداشت جسمانی تشدد، بہیمانہ قتل وغیرہ کے بعد جب وہ ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو اہل مکہ نے تپتے ریگستان میں کئی سو کیلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے مدینہ پر اس وقت حملہ کیا جبکہ مسلمان تعداد میں کم، ساز و سامان سے تہی اور فنون جنگ سے نابلد تھے۔ اور اس ارادے کے ساتھ حملہ کیا گیا کہ اسلام کو نیست و نابود کر دیا جائے گا۔ اس سے زیادہ سنگین خطرہ کیا ہوسکتا ہے؟ دنیا کی تاریخ میں اگر کبھی دفاعی جنگ کا جواز موجود تھا تو وہ یہی موقع تھا۔
اس کے برعکس موجودہ زمانےکی جنگوں کو دیکھا جائے تو بالکل متضاد صورتحال دکھائی دیتی ہے۔ خطرہ تو دور کی بات ہے مغربی اقوام نے خود ہزاروں کلومیٹر دور جا کر دیگر اقوام کے علاقوں پر قبضہ کیا اور یوں دوسروں کے لیے خطرہ ثابت ہوئیں۔ مثلاً براعظم امریکہ یا براعظم آسٹریلیا سے مغربی اقوام کو کوئی خطرہ نہ تھا جس کے جواب میں وہاں قبضہ اور مقامی آبادی کو وسیع پیمانے پر تہ تیغ کیا گیا۔ افریقہ، ہندوستان، مشرق وسطیٰ، چین، مشرق بعید نے کسی یورپی علاقہ پر حملہ نہ کیا تھا جس کے جواب میں ان کی آزادی سلب کی گئی۔ یہ تو گذشتہ صدیوں کی بات ہے۔ اگر آج کی صورتحال دیکھیں تو بھی یہی منظر نامہ ہے۔ گذشتہ سال اور اس سال از سر نَو امریکہ نے ایران کے خلاف جو غیر قانونی، غیر اخلاقی، جارحانہ جنگ شروع کی، اس سے پہلے ایران نے امریکہ پر کوئی حملہ نہیں کیا تھا۔ ان ممالک کی اخلاقی پستی کا یہ حال ہے کہ سپین کے سوا کسی یورپی ملک نے امریکی جارحیت کو غلط نہیں کہا بلکہ اکثر نے امریکہ کو اس زیادتی کے لیے ہوائی اڈے مہیا کیے جن میں جرمنی اور برطانیہ سر فہرست ہیں۔
خلاصہ یہ کہ اس اصول کے تحت ابتدائی اسلامی جنگیں تو جائز قرار پاتی ہیں مگر موجودہ دور کی اکثر جنگوں کو غلط قرار دینا پڑتا ہے۔
۲۔ وجہ جنگ
آج کل اکثر جنگوں کی حقیقی وجہ مالی یا سیاسی مفادات ہوتے ہیں۔ چنانچہ انیسویں صدی کے شہرہ آفاق جرمن جرنیل اور عسکری مدبر کلاؤزے وٹس کا کہنا تھا : ’’جنگ سیاسی حکمت عملی کا محض دیگر ذرائع سے تسلسل ہے۔‘‘(Clausewitz, On War, P38) اسی طرح بیسویں صدی کے برطانوی مؤرخ پی ایم ایچ بیل کا کہنا ہے کہ ’’جنگ سیاسی حکمت عملی کا ایک طریق ہے۔‘‘(Bell, The Origins of the Second World War in Europe, 2013, P10) پس جنگیں اب سیاسی مقاصد کی خاطر لڑی جاتی ہیں اور بین الاقوامی سیاست مالی مفادات پر مبنی ہے۔ دنیا بھر میں بعض ممالک نے جو فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں ان کا مقصد امریکہ یا برطانیہ یا فرانس کی سر زمین کا دفاع نہیں بلکہ اپنے تجارتی مفادات کی حفاظت اور اس سے بھی بڑھ کر دیگر ممالک کی تجارت یا ان کے قدرتی وسائل پر تسلط ہے۔ جرمن چانسلر ہٹلر نے صاف کہا کہ اعلیٰ نسلوں کی ترقی کے لیے نئے علاقے، وہاں کے قدرتی وسائل اور وہاں کی افرادی قوت کو صنعتی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔(Hitler, Mein Kampf, 1936, P148-149) اس دَور میں اکثر جنگیں انہی مقاصد کی خاطر لڑی جاتی ہیں، گو اتنے واشگاف الفاظ میں اس کا اعلان نہ کیا جاتا ہو۔
برطانیہ و فرانس نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ۱۹۵۶ء میں مصر پر حملہ کیا تو برطانوی دفتر خارجہ کے سب سے اعلیٰ افسر، Kirkpatrick، کا وہ خط ریکارڈ پر ہے جس میں اس نے لکھا:
If Middle Eastern oil is denied to us for a year or two, our gold reserves will disappear. If our gold reserves disappear, the sterling area disintegrates. If the sterling area disintegrates and we have no reserves, we shall not be able to maintain a force in Germany, or indeed, anywhere else. I doubt whether we shall be able to pay for the bare minimum necessary for our defence. And a country that cannot pay provide for its defence is finished. (Kyle, Suez: Britian’s End of Empire in the Middle East, 2011, P225-226)
یعنی یہ جنگ اس لیے شروع کی گئی کہ برطانیہ کے خیال میں مصر نے برطانیہ کو نہر سویز کے ذریعہ تیل کی ترسیل بند کر دینی تھی۔ اس جنگ میں ہزاروں لوگ مارے گئے، شہری بھی اور فوجی بھی۔
اس طرز فکر کے برعکس ابتدائی اسلامی جنگوں کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے: اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا (الحج:۴۰) یعنی اوّل تو جنگ کی یہ اجازت صرف ان لوگوں کے لیے ہے جن پر پہلے حملہ ہو چکا ہے یعنی دفاعی جنگ ہے۔ پھر: الَّذِیۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ بِغَیۡرِ حَقٍّ۔ اس جنگ سے پہلے انہوں نے یہاں تک جنگ سے بچنے کی کوشش کی کہ اپنا گھر بار تک چھوڑ دیا مگر پھر بھی انہیں امن سے نہیں رہنے دیا گیا۔ ایسا دو مرتبہ ہوا۔ پہلے حبشہ ہجرت کی اور پھر مدینہ ہجرت کی۔ پھر: اِلَّاۤ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ سوئم: جنگ ان پر محض مذہبی اختلاف کی وجہ سے مسلط کی گئی نہ کہ کسی سیاسی یا مالی مفاد کی خاطر۔ مکہ کے مسلمان نسلی، معاشی، معاشرتی یا اَور کسی طور پر مشرکینِ مکہ سے مختلف نہ تھے کہ ان پر ظلم کیا جاتا۔ ان مسلمانوں پر ظلم کی واحد وجہ ان کا دین تھا۔ چنانچہ مزید تشریح فرمائی: وَقٰتِلُوۡہُمۡ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ وَّیَکُوۡنَ الدِّیۡنُ لِلّٰہِ ؕ فَاِنِ انۡتَہَوۡا فَلَا عُدۡوَانَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ ۔(ابقرۃ: ۱۹۴) ان کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرو جب تک فتنہ نہ ختم ہو جائے اور دین محض خدا کے لیے نہ ہوجائے۔یعنی کسی کو دین کے معاملے میں خوف نہ رہے بلکہ جو چاہے جس دین کو چاہے اختیار کر لے۔ پھر اگر وہ رک جائیں، یعنی جارحیت بند کر دیں تو ظالموں کے سوا کسی پر حملہ نہیں کرنا۔
موجودہ دَور کی غیر اخلاقی، خود غرضی اور ناجائز وجوہات پر مبنی ظالمانہ جنگوں کا ایسی دفاعی جنگوں کے ساتھ کیا مقابلہ جو محض خدا کی خاطر ظلم برداشت کرنے اور تمام کوششیں کر چکنے کے بعد مجبوراً لڑی گئیں۔
۳۔ جنگ بطور آخری حیلہ
آنحضورؐ نے دفاعی جنگ کے آغاز سے پہلے درحقیقت تمام حیلے کیے۔ دو مرتبہ تو مسلمانوں نے ہجرت کی، اس کے علاوہ مال و جائیداد کا نقصان قبول کیا، رشتے ٹوٹے، اتنے سخت مقاطعہ کا سامنا کیا کہ متعدد بزرگ اس کے مضر اثرات کے نتیجے میں وفات پا گئے۔ مسلمانوں نے دل خراش بدنی مظالم بھی برداشت کیے۔ غرض اپنے حقوق کی کوئی ایسی قربانی نہ تھی جو مسلمانوں نے نہ دی ہو مگر جنگ نہ کی۔ جب مدینہ ہجرت کے بعد مشرکین مکہ نے مدینہ پر حملہ کر کے وہاں بھی قتل کرنے کا ارادہ کیا تو کم تعداد، ناتجربہ کاری، سامانِ حرب کی کمی بلکہ فقدان کے باوجود مجبوراً انہیں اپنا دفاع کرنا پڑا۔ اگر مسلمان ایسا نہ کرتے تو فنا ہو جاتے۔ فرمایا: وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ لَّہُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذۡکَرُ فِیۡہَا اسۡمُ اللّٰہِ کَثِیۡرًا(الحج :۴۱) اگر ایسی دفاعی جنگ کی اجازت دے کر حملہ آور لوگوں کو دفع دور نہ کیا جائے تو تمام مذاہب کی عبادت گاہیں تباہ کر دی جاتیں کیونکہ مشرکینِ مکہ تمام مواحد مذاہب کے خلاف تھے۔ قرآن کریم یہ گواہی بھی دیتا ہے کہ آخری لمحےتک مسلمان جنگ نہیں کرنا چاہتے تھے: کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الۡقِتَالُ وَہُوَ کُرۡہٌ لَّکُمۡ (البقرۃ :۲۱۷) تم پر یہ جنگ مقرر کی گئی ہے جبکہ تمہیں اس سے کراہت ہے! اسی کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ حدیبیہ میں جب مسلمانوں کے سامنے ہتک آمیز اور غیر منصفانہ شرائط رکھی گئیں تو آپؐ نے باوجود طاقتور ہونے کے ان کو قبول فرمالیا حالانکہ آپؐ کے قریبی صحابہؓ بھی ان شرائط سے متفق نہ تھے۔
اکثر طاقتور فریق جنگ سے بچنے کی حقیقی کوشش نہیں کرتا بلکہ ایسی شرائط پر اصرار کرتا ہے جو دوسرے فریق کے لیے ناقابل قبول ہوتی ہیں۔ مثلاً دوسری جنگ ِعظیم سے پہلے جرمنی نے پولینڈ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسے مشرقی پروشیا تک ریل اور سڑک کا راستہ دے۔ (Toland, Adolf Hitler, Vol 2, P 710-740, Crozier, The Causes of the Second World War, P150-151) پولینڈ نے اس کا جواب نہیں دیا جس پر بہانہ بنا کر حملہ کر دیا گیا ورنہ جرمنی کو پولینڈ سے کوئی خطرہ نہیں تھا ۔ دونوں میں طاقت کا عدم توازن اس قدر تھا کہ یکم ستمبر کو جنگ شروع ہوئی اور ۲۷؍ستمبر کو پولینڈ نے ہتھیار ڈال دیے!
امریکہ کی ایران کے خلاف حالیہ جنگ میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ تمام جوہری اور میزائل پروگرام بند کرے اور اپنا جوہری مواد امریکہ کے حوالے کرے۔ ظاہر ہے کہ کوئی خود دار ملک ایسا نہیں کر سکتا ۔ اس پر اس کے خلاف جنگ شروع کر دی گئی۔ بلکہ مذاکرات کے دوران ہی امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا۔ (pbs news, 28.02.2026, nbc news 28.02.2026) جس کے نتیجے میں ایرانی سفارت کار مارے گئے جو کہ اپنی ذات میں امریکہ کا ناقابل معافی جرم ہے۔
خلاصہ یہ کہ اسلامی تعلیم پر اعتراض کرنے والوں کا اپنا طرز عمل ہر قسم کی اخلاقیات سے عاری اور خود غرضی پر مبنی ہے۔ ان کی اکثر لڑائیاں جنگ کے تمام قواعد اور اصولوں کے خلاف اور ناجائز ہیں جبکہ ابتدائی اسلامی جنگیں اس اصول کی روشنی میں بھی درست قرار پاتی ہیں۔
۴۔توازن
یہ ایک عام فہم بات ہے کہ ردّعمل اسی قدر ہونا چاہیے جتنا کہ ضرورت ہے۔ ’دانت کے بدلے دانت‘ تک تو انسان سمجھ سکتا ہے کہ یہ انصاف کا تقاضہ ہے لیکن دانت کے بدلے بتیسی کا طرز عمل کسی انسانی قدر کے مطابق درست نہیں کہلاسکتا۔
قرآن کریم فرماتا ہے: مَنِ اعۡتَدٰی عَلَیۡکُمۡ فَاعۡتَدُوۡا عَلَیۡہِ بِمِثۡلِ مَا اعۡتَدٰی عَلَیۡکُمۡ ۪ وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ۔ (البقرۃ:۱۹۵) اگر کوئی تمہارے ساتھ زیادتی کرے تو اس کو اتنی ہی سزا دو جتنی اس نے تمہارے ساتھ زیادتی کی تھی اور اللہ سے ڈرو، اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔ وَاِنۡ عَاقَبۡتُمۡ فَعَاقِبُوۡا بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبۡتُمۡ بِہٖ ؕ وَلَئِنۡ صَبَرۡتُمۡ لَہُوَ خَیۡرٌ لِّلصّٰبِرِیۡنَ ۔ (النحل: ۱۲۷)اگر تم پکڑ کرو، تو تمہاری پکڑ اس کے موافق ہونی چاہئے جیسا کہ تم پر پکڑ کی گئی تھی۔ اور اگر تم صبر کرو، تو یہ بات صبر کرنے والوں کے لیے زیادہ بہتر ہے۔وَقَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡاؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ۔(البقرۃ :۱۹۱) اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو پہلے ہی تمہارے ساتھ لڑ رہے ہیں مگر زیادتی مت کرنا! اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ فَاِنِ انۡتَہَوۡا فَلَا عُدۡوَانَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ۔(البقرۃ: ۱۹۴) اگر وہ باز آ جائیں تو ظالم لوگوں کے علاوہ کسی پر حملہ مت کرو۔ فَاِنِ انۡتَہَوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ۔(البقرۃ :۱۹۳) اگر وہ باز آ جائیں تو یاد رکھو اللہ بہت معاف کرنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔وَاِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلۡمِ فَاجۡنَحۡ لَہَا وَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ۔(الانفال :۶۲)اگر وہ صلح کی طرف جھک جائیں تو تم بھی جھک جاؤ اور اللہ پر توکل کرو۔ یعنی محض اس لیے جنگ نہ جاری رکھو کہ مخالف نے پہل کی تھی اور اس وقت کمزوری کی وجہ سے صلح چاہتا ہے۔ بعد میں دوبارہ ہم پر حملہ کر دے گا اب موقع ہے اسے ختم کر دیا جائے۔ اللہ پر توکل کرتے ہوئے صلح کر لو اور اپنے دفاع کا انتظام کرو۔ اسی کو انصاف، توازن اور متناسب ردّ عمل کہتے ہیں۔
اس کے مقابل پر موجودہ دَور کی جنگوں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں کسی بھی طور پر توازن نظر نہیں آتا۔ مغربی اقوام کا جنگ کے متعلق فلسفہ ہی ظلم و جبرپر مبنی ہے۔ مشہور امریکی جرنیل شیرمین نے امریکہ کی خانہ جنگی میں اٹلانٹا شہر کو جلانے اور اس کے باشندوں کو وہاں سے نکالنے کے فیصلے کا جواز دیتے ہوئے سرد مہری سے کہا: War is cruelty and you cannot refine it (Downes, Targeting Civilians in War, 2008, P1)۔ اسی کے موافق امریکہ کی ویتنام کے خلاف جنگ، فرانس کی الجزائر کے خلاف جنگ، جاپان کی کوریا کے خلاف جنگ وغیرہ بے شمار جنگیں ہیں جن میں طاقتور اقوام نے، خواہ وہ مغربی اقوام ہوں یا مشرقی، اپنے مخالف کو ’جڑ سے ختم کرنے ‘ کی کوشش کی۔ حال ہی میں اسرائیل نے غزہ پر جو خوفناک جنگ مسلط کی، وہ اس قدر بھیانک اور انسانی اور اخلاقی اقدار سے اس قدر دور ہے کہ سب دنیا اسرائیل کے مظالم پر چیخ اٹھی ہے۔
۵۔نتائج و مضمرات
اوپر یہ بیان ہو چکا ہے کہ اگر مسلمان اپنے دفاع میں جنگ نہ کرتے تو فنا ہو جاتے! آنحضورؐ نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جنگِ بدر کے موقع پر فرمایا کہ اگر آج یہ گروہ شکست کھا گیا تو پھر صرف یہی نہیں مارے جائیں گے بلکہ دنیا بھر میں خد تعالیٰ کی حقیقی عبادت کرنے والا کوئی باقی نہ رہے گا۔ پس آپؐ کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ ہی نہیں تھا کہ اپنا دفاع فرماتے۔ تاہم اس ضمن میں ہر قسم کی احتیاط برتنے اور ہر طرح کی زیادتی سے احتراز کا ہی نتیجہ تھا کہ ان جنگوں میں حیرت انگیز طور پر بہت کم جانی نقصان ہوا۔ آنحضورؐ کی تمام جنگوں کا مجموعی تخمینہ لگایا جائے تو دس سال کے عرصے میں میدان جنگ میں کُل ۳۰۰ سے ۵۰۰؍افراد مارے گئے۔ مگر اس کے نتیجے میں سارے جزیرہ نما عرب میں امن، آزادی اور مرکزی نظام حکومت قائم ہو گیا جس نے صدیوں پر محیط لوٹ مار، نسلوں تک چلنے والی قبائلی جنگوں اور بے دریغ قتل و غارت کو جڑ سے ختم کر دیا۔
جنگ میں کامیابی کے ضمن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تعداد و طاقت ہمیشہ اس بات کا فیصلہ نہیں کرتے کہ غلبہ کسے ملے گا: کَمۡ مِّنۡ فِئَۃٍ قَلِیۡلَۃٍ غَلَبَتۡ فِئَۃً کَثِیۡرَۃًۢ بِاِذۡنِ اللّٰہِ۔ (البقرۃ :۲۵۰) کتنے ہی ایسے گروہ ہیں جو کم تعداد ہونے کے باوجود اللہ کے حکم سے کثیر تعداد والے گروہ پر غالب آ جاتے رہے ہیں۔ چنانچہ آنحضورؐ کو جنگ کی اجازت دی گئی تو ساتھ ہی یہ وعدہ بھی دیا گیا اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِیۡرُ۔ (الحج: ۴۰) جن لوگوں کو یہ اجازت دی جا رہی ہے، جس کی شرائط اوپر بیان ہو چکی ہیں، ان کی مدد کرنے پر اللہ قادر ہے۔ اوّل تو مسلمان جنگ نہیں کرنا چاہتے تھے۔(دیکھیں اوپر نمبر ۳: جنگ بطور آخری حیلہ ) پھر ان کے پاس تعداد، تجربہ، اسلحہ کی شدید کمی تھی۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق وہ فتح مند ہوئے اور مسلسل کامیاب ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ دونوں عالمی طاقتوں، فارس و روم، سے بیک وقت لڑ کر دونوں پر غالب آ گئے۔
اس کے برعکس موجودہ دَور کی جنگوں میں یہ دونوں باتیں نہیں پائی جاتیں۔ یعنی ایک تو جنگ جس مقصد کے لیے شروع کی جاتی ہے اس میں کامیابی نہیں ہوتی دوسرے بے انتہا جانی و مالی نقصان ہو کر جنگ کے بعد صورتحال پہلے سے بھی ابتر ہو جاتی ہے۔ مثلاً جرمنی نے ۱۹۳۹ء میں پولینڈ کی جرمن اقلیت (قریباً ایک ملین)کو مبینہ طور پر بچانے کے لیے جو جنگ شروع کی اس کے نتیجے میں آٹھ ملین جرمن اور قریباً چھ ملین پولش باشندے مارے گئے! یعنی جرمن اقلیت کا تحفظ تو کیا ہونا تھا الٹا کئی گنا زیادہ جرمن مارے گئے اور جنگ میں دیگر قوموں کے جو لوگ مرے وہ ایک الگ ہوش رُبا داستان ہے۔ جرمنی جنگ بھی ہار گیا اور اس کے ٹکڑے کرکے پولینڈ کو مزید جرمن علاقے دے دیے گئے۔ نہ خدا ہی ملا، نہ وصال صنم!
امریکہ نے پچاس کی دہائی میں جنوبی ویتنام کی مدد کے لیے جو خوفناک جنگ شروع کی، اس کے نتیجے میں قریباً ساٹھ ہزار امریکی مارے گئے اور نتیجہ امریکہ کی شکست کی صورت میں نکلا! علاوہ ازیں لاکھوں ویتنامی فوجی اور شہری مارے گئے۔(Lewy, America in Vietnam, Oxford, 1978)
۲۰۲۲ء میں روس نے یوکرائن میں روسی اقلیت کے تحفظ کے لیے جنگ شروع کی۔ اس پر چار سال گزر چکے ہیں اور دونوں طرف سے لاکھوں لوگ مارے جا چکے ہیں۔ ابھی یہ جنگ جاری ہے اور خدا جانے کتنی جانیں مزید نگلے گی۔
پس موجودہ دَور کی جنگوں میں جنگی نقصان اور مبینہ فوائد میں کوئی تناسب نہیں۔ سو اس اصول کے مطابق بھی موجودہ دَور کی جنگیں غیر معقول جبکہ ابتدائی اسلامی جنگیں جائز قرار پاتی ہیں۔
۶۔طرز عمل
یہ وہ پیمانہ ہے جو درحقیقت جنگ کی ہولناکی اور بربریت کو آشکار کرتا ہے۔ جنگ کے دوران قومیں اپنے مخالف کو نیست و نابود کرنے کے درپے ہو جاتی ہیں اور فوجی و شہری، معصوم و مجرم کی تمیز کھو کر بلا دریغ ظلم کرتی ہیں۔ اسی کی ایک بھیانک شکل پرانے زمانے میں تین دن تک مفتوحہ شہر فوجیوں کے حوالے کرنے کا رواج تھا۔ یعنی تین دن تک فاتح فوجی جسے چاہیں قتل کریں، جو چاہیں لوٹ لیں، جس کو چاہیں پامال کریں۔ موجودہ دَور کی ’’مہذب‘‘ کہلانے والے قومیں بھی ایسا ہی کرتی ہیں، بس اس کا اعلان نہیں کرتیں۔
جمہوری حکومتیں (یعنی مغربی حکومتیں) غیر فوجی شہریوں پر حملوں میں غیر جمہوری حکومتوں کی نسبت زیادہ ملوث پائی گئی ہیں۔(Downes, Targeting Civilians in War, 2008, P2-3)
غزہ کے خلاف حالیہ جنگ میں اور اس سے پہلے بھی اسرائیل نے بے شمار معصوم اور نہتے بچے، عورتیں، بوڑھے قتل کر دیے ہیں۔ ہر قسم کا شہری نظام تباہ، پانی، کھانا، طبی امداد، ہسپتال اور تعلیمی ادارے مسمار کر دیے ہیں۔ صرف اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے بچوں کو نشانہ بنانے کی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ قریباً ایک سو صفحات پر مشتمل ہے۔ (Human Rights Council, Sixty-second session, 18.06.2026) اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے جنسی تشدد پر پچاس صفحات کی الگ رپورٹ شائع ہو چکی ہے۔ (Human Rights Council, Fifty-eighth session, 13.03.2025)
جاپان کے خلاف امریکہ نے ۹؍مارچ ۱۹۴۵ء کو ٹوکیو کے ایک چند مربع کلومیٹر کے علاقے پر، جو کہ دنیا میں سب سے زیادہ گنجان آباد علاقوں میں سے ایک تھا اور جہاں اکثر عمارتیں لکڑی کی تھیں، آگ لگانے والے بم پھینکے جس سے قریباً ایک لاکھ جاپانی شہری ہلاک ہو گئے۔ آگ کی اتنی شدت تھی کہ اس کی گرمی سے دس امریکی جہاز خراب ہو گئے۔ امریکی ہوا بازوں کو جلتے ہوئے گوشت کی بو سے ہونے والی قے سے بچنے کے لیے آکسیجن ماسک پہننے پڑے۔(Downes, Targeting Civilians in War, 2008, P116)۔اسی طرح امریکہ نے جب ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم پھینکے تو خوب علم تھا کہ ہزاروں معصوم شہری مارے جائیں گے مگر کوئی پرواہ نہیں کی گئی۔ ویتنام پر، جس سے امریکہ کو کوئی خطرہ نہ تھا، کیمیائی بم برسائے، لاکھوں شہری مار دیے۔ برطانیہ نے جنگ کے آخری دنوں میں، جبکہ جرمنی ہتھیار ڈال رہا تھا، ہمبرگ اور بالخصوص ڈریسڈن پر جو بھیانک بمباری کی اور بیسیوں ہزار معصوم شہریوں کا قتل عام کیا وہ آج تک جرمن قوم پرستوں کے دل میں برطانیہ کے خلاف نفرت بھڑکانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جاپان نے مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا پر قبضہ کے دوران جو مظالم کیے وہ بعض لحاظ سے مغربی اقوام کے مظالم سے بھی زیادہ بھیانک ہیں۔ ابھی یہ سب اقوام ’’مہذب‘‘ کہلاتی اور اسلام پر اعتراض کرتی ہیں۔
آنحضورؐ نے جنگ کے دوران طرز عمل کے متعلق جو ہدایات دیں ان کا خلاصہ حضرت ابو بکرؓ نے آنحضورؐ کی وفات کے بعد سب سے پہلے اسلامی لشکر کو یکجائی طور پر یوں بیان فرمایا: دھوکہ مت دینا۔ سیدھے راستے پر رہنا۔ مقتولین کے ساتھ بدسلوکی مت کرنا۔ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قتل مت کرنا۔ درختوں کو نہ کاٹنا۔ پھلدار پودوں کو مت جلانا۔ دشمن کے ریوڑ کو مت مارنا، اپنا کھانے کا سامان خود ساتھ رکھنا۔ راہبوں سے تعارض مت کرنا۔ (طبری، جلد ۳، صفحہ ۲۲۶۔ ۲۲۷)
جب آپؐ نے دشمن پر قابو پا لیا تو اعلان فرمایا کہ جو اپنے مکان کا دروازہ بند کر لے گا امن میں ہے اور آخر پر فرمایا کہ تم سب آزاد ہو۔ کوئی سزا ان کو نہ دی۔ آنحضورؐ کی جنگوں میں ایک بھی ایسا موقع نہیں جب بے قصور شہریوں، عورتوں، بچوں پر تلوار اٹھائی گئی ہو۔ ایک جنگ میں آپؐ نے ایک عورت کو مقتول پایا تو سختی سے عورتوں کے قتل سے منع فرما دیا۔(بخاری، کتاب الجھاد و السیر، باب قتل النساء فی الحرب، نمبر ۳۰۱۵)یہ عام شہری عورت کی بات نہیں ہو رہی بلکہ اس زمانہ میں لشکر کے ساتھ ایسی عورتیں بھی شامل ہوتی تھیں جن کا کام فوجیوں کو جوش اور غیرت دلانا، ان کی مدد کرنا یا زخمیوں کی دیکھ بھال کرنا ہوتا تھا ۔ اس لحاظ سے وہ عام شہری عورتیں نہیں تھیں بلکہ فوج ہی کا ایک حصہ تھیں۔
۷۔ جنگ کا اختتامیہ
جنگ کے بعد کا طرز عمل اس لیے اہم ہے کہ اس کی بنیاد پر آئندہ امن کا فیصلہ ہوتا ہے۔ موجودہ دور کی جنگوں میں چند استثنائی صورتوں کے علاوہ ہمیشہ مغلوب فریق کے ساتھ زیادتی اور سختی کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد انتقام لینا، اسے بےدست و پا اور ذلیل کرنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد جب معاہدہ میں جرمنی سے ناجائز مطالبات منوا ئے گئے تو اکثر مؤرخین کے خیال میں درحقیقت دوسری جنگ عظیم کی بنیاد رکھ دی گئی۔ خود اتحادی افواج کے جرنیل، مارشل فوخ، نے کہا: ’’یہ امن نہیں بلکہ بیس سالہ جنگ بندی ہے۔‘‘ (Bell, The Origins of the Second World War in Europe, 2013, P15) جاپان کے کچھ علاقے روس کو دیے گئے، جو آج تک جاپان اور روس کے مابین جھگڑے کا باعث ہیں۔ ایسی ہی صورتحال عراق کے خلاف پہلی جنگ کے بعد ہوئی۔ عراق پر ’نو فلائی زون‘ قائم کیے گئے، باغیوں کے تحفظ کے نام پر ان کے خود مختار علاقے بنا دیے گئے۔ عملاً عراق کے تین ٹکڑے ہو گئے۔ پھر اسلحہ تلف کر کے اسے نہتا کر دیا گیا اور اس پر پابندیاں بھی لگائی گئیں۔
اس کے برعکس اسلامی تعلیم اپنی ذات میں جنگ کے بعد امن کی ضامن ہے۔ اگر جنگ سے اجتناب کیا گیا ہو، اس پر کوئی ظلم نہ کیا جائے اور صلح کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھا جائے تو یہی امور جنگ کے بعد قائم ہونے والے امن کو پائیدار بناتے ہیں۔ اکیس سال کے مظالم کے بعد جب مکہ فتح ہوا تو اہل ِمکہ کو بالعموم کسی قسم کی سزا نہیں دی گئی۔ بلکہ مکہ کے اکابرین کو اہم عہدوں پر فائز کیا گیا، انہیں مالی فائدہ پہنچایا گیا، انہیں بعض امور کی قیادت سونپی گئی یعنی ان پر ہر لحاظ سے اعتماد کا اظہار کیا گیا اور ان کی قبل از اسلام سیادت اور عزت نفس کو مجروح نہیں کیا گیا۔ آنحضورؐ کے حسن سلوک کو دیکھ کر کثرت سے عرب قبائل اسلام میں داخل ہوئے ۔
خلاصہ
اقوام متحد کے کمیشن کے وضع کردہ تمام پانچوں اصولوں کے مطابق ابتدائی اسلامی جنگیں جائز اور ضروری قرار پاتی ہیں جبکہ ان کے مقابلہ میں موجودہ دور کی اکثر جنگیں ان اصولوں کے مطابق غلط اور ناانصافی پر مبنی ہیں۔ جنگوں کے دوران طرز عمل اور جنگ کے بعد عدل و انصاف سے کام لیتے ہوئے پائیدار امن کی کوششوں کو دیکھا جائے تو ابتدائی اسلامی جنگوں اور موجودہ دور کی اکثر جنگوں میں کوئی موازنہ ہی نہیں۔ ابتدائی اسلامی جنگیں نہ صرف دفاعی جنگیں تھیں بلکہ ان میں ہر وقت رحم اور صلح کا پہلو مد نظر رکھا جاتا تھا۔ اور جنگ کے بعد امن کا قیام ہمیشہ مدنظر رہتا تھا نہ کہ آج کل کی جنگوں کی طرح مخالف کی تباہی اور اپنا خود غرضانہ مفاد۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: اسلام میں جنگی جرائم کی ممانعت اور موجودہ دَور کے جنگی جرائم سے موازنہ




