متفرق شعراء

ہدیۂ نعت بحضور سرور کائنات ﷺ

اے مجسّم کرم! اے رسالت مآبؐ!
تیری رحمت ہے بے پایاں و بے حساب
سب جہانوں پہ تیرے کرم کے سحاب
تجھ سے ہر ذرۂ زندگی فیضیاب

تو ہی خیرالبشر، تو ہی خیرالانام
تو ہی خیرالرسل، تو ہی خیرالامام
ہم ہیں خیرالامم جب ہوں تیرے غلام
تو ہی خیرالوریٰ، تجھ پہ لاکھوں سلام

ایک مدت سے مردہ تھے ارض و سما
بحر و بر میں فسادات کی انتہا
ایسے میں تیرے رُخ کا جو سورج چڑھا
ابرِ ظلمت زمانے سے سب چھٹ گیا

تیرے چہرے میں تھا عکسِ نورِ خدا
اک ترا دل ہی تھا عرشِ ربُّ الوریٰ
تو ہی تھا ’’اصل‘‘ کا آئنہ بالیقیں
لا جرم تو ہی ’’نُوۡرٌ عَلٰی نُوۡرٍ‘‘ تھا

’’الامانت‘‘ کا اتنا گراں بار تھا
سر نگوں ہوگئے سارے ارض وسما
پربتوں كو بھی جرأت تھی نَے حوصلہ
وہ ’’ظَلُوۡمًا جَہُوۡلًا‘‘ ہی آگے بڑھا

تو ہی ’’عبداً شکوراً‘‘، تو ہی سرفراز
واہ تیرا قیام اور جبینِ نیاز!
بہرِ عشّاق وا كر دیا بابِ حُسن
کیسے سکھلائے آدابِ راز و نیاز!

گرچہ ہیں عالی پرواز روح الامیں
پر تری منزل اُن سے پرے ہے کہیں
یوں تو موسیٰ بھی نبیوں میں کم تو نہیں
پر نہیں کوئی ہووے جو تجھ سا قریں

تو حقیقت ہے، باقی تو سب خواب ہے
تجھ سے ہی مقتبس نورِ ’’مہتابؑ‘‘ ہے
آج بھی تیرے دم سے ہیں سب رونقیں
تیرا ہی باغ سرسبز و شاداب ہے

سارے گلشن میں اک تُو مہکتا گلاب
رنگ و خوشبو کی تاثیر بھی لاجواب
باغِ دنیا میں جس صبح تو کھل اُٹھا
باقی سب پھول لگنے لگے اک سراب

حُسن و احسان میں تو عدیم المثال
تو جمال اور جلال، ہر طرح باکمال
تجھ سا کوئی نہیں خوش ادا، خوش خصال
کس طرح ہو ترا ذکرِ حُسن و جمال

میں تو ہوں بے ہنر، عمر بھی مختصر
تیری تعریف پھر مجھ سے کیونکر ہو، پر
میرا خونِ جگر صورتِ چشمِ تر
میرے ایک اک سخن میں ہوا جلوہ گر

یہ بھی تیرا ہی اعجاز ہے سر بہ سر
فکر و فن میرے ورنہ تھے بے بال و پر

(میر انجم پرویز۔ مربی سلسلہ)

مزید پڑھیں: گیمبیا کے لوئر ریور ریجن کی جماعت مانساکونکو میں جلسہ سیرت النبیﷺ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button