ہمارا سب سے پہلا فرض دعوت الی اللہ ہے(قسط دوم۔ آخری)
(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۱۵؍اگست ۱۹۳۰ء)
حضرت مصلح موعودؓ کے بیان فرمودہ اس خطبہ جمعہ میں حضورؓ نے احباب جماعت کو دعوت الی اللہ کرنے کی نصیحت فرمائی ہے۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)
خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کا نام جری اللّٰہ فی حلل الانبیاءرکھا ہے۔ یعنی آپ سارے انبیاء کے بروز اور رسول اللہ ﷺ کے کامل بروز تھے۔ اور رسول اللہ ﷺ جب ساری دنیا کے لئے آئے تھے تو آپ بھی ساری دنیا کے لئے مبعوث کئے گئے ہیں اِس لئے ہمارا فرض ہے کہ عیسائیوں، یہودیوں،بدھوں، ہندوؤں، سکھوں سب کو مسلمان بنائیں
[گذشتہ سے پیوستہ]پچھلے دنوں ایک دوست نے بتایا جب یہ افواہ مشہور ہوئی (ابھی یہ افواہ ہی ہے معلوم نہیں پوری ہوتی ہے یا نہیں) کہ چوہدری ظفراللہ خان صاحب گول میز کانفرنس میں نامزد کئے جائیں گے تو اس کے خلاف امرتسر میں جلسہ کیا گیا اور کہا گیا کہ وہ مسلمانوں کے نمائندہ نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ احمدی ہیں۔ یہ سُن کر ایک شخص میرے پاس دوڑتا ہؤا آیا اور کہنے لگا دیکھو مسلمانوں کا ایک احمدی نمائندہ منتخب ہونے والا ہے۔ وہ شخص جو دوڑتا ہوا آیا تھا وہابی تھا۔ میں نے اُسے کہا تم اپنی فکر کرنا کوئی حنفی مسلمانوں کا نمائندہ ہو کر نہ چلا جائے وہاں رفع یدین اور دوسرے اختلافی مسائل کا فیصلہ ہونا ہے اگر کوئی حنفی چلا گیا تو تم مارے جاؤ گے۔ وہاں تو سیاسی مسائل کا تصفیہ ہو گا وہاں مسلمانوں کے اختلافی مسائل کا کیا دخل کہ کہا جائے کہ احمدی نہ جائے، یا اہلحدیث نہ جائے، یا حنفی نہ جائے۔ دیکھو ایک ہندو جب کسی مسلمان نام والے کو دفتر سے نکالتا ہے تو یہ نہیں پوچھتا کہ تم حیاتِ مسیح کے قائل ہو یا وفاتِ مسیح کے، تمہارے نزدیک اب کوئی نبی آ سکتا ہے یا نہیں وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ اس کا نام اسلامی ہے اور یہ مسلمان کہلانے والوں میں سے ہے۔ جب مسلمانوں کا کوئی سوال ہو گا تو یہ مسلمانوں کی طرف ہو گا اس لئے وہ اس کی مخالفت کرتا ہے۔ اسی لئے مَیں اس کوشش میں لگا ہوا ہوں کہ
سیاسی اور تمدنی اور ملکی مسائل جن میں حیات و وفاتِ مسیح کا تعلق نہیں، نبوت کے جاری رہنے یا بند ہونے کا تعلق نہیں، بلکہ محض مسلمان ہونے کا تعلق ہے ان میں سارے کے سارے مسلمان اکٹھے ہو جائیں۔
ہم کسی سے یہ نہیں کہتے کہ وفاتِ مسیح کے مسئلہ کو مان لو تب متحدہ مقاصد میں متحد ہوں گے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کو تسلیم کر لو پھر ملکی مسائل میں اتحاد ہو گا بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ متحدہ اور مشترکہ امور میں متحد ہوجائیں۔
یہ ان لوگوں کی کمزوری ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے اتحاد کیلئے تبلیغِ احمدیت نہیں کرنی چاہئے اور جب تک وہ یہ کمزوری دکھائیں گے لوگ ان سے یہی امید رکھیں گے کہ وہ ایسا کریں لیکن جب وہ کہہ دیں گے کہ دُنیوی امور و سیاسی حقوق کے لئے ہم سب سے آگے بڑھ کر کام کرنے کے لئے تیار ہیں اور سب سے زیادہ قربانی پر آمادہ ہیں لیکن اگر ہم سے دین کی قربانی چاہی جائے گی تو ہمارا راستہ اور ہے اور تمہارا اور۔ ہٰذَا فِرَاقُ بَیۡنِیۡ وَبَیۡنِکَ۔(الکہف:۷۹)
اتحاد کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کی تضحیک نہ کی جائے، استہزاء نہ کیا جائے گالی گلوچ نہ کی جائے
لیکن اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ذاتی حملے کئے جائیں اور ہمارا دل دُکھانے کے لئے کئے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ایسے لوگوں کے دل بُغض سے بھرے ہوئے ہیں اور وہ لڑنا چاہتے ہیں۔ ابھی شملہ میں تین آدمی مجھ سے ملنے کے لئے آئے ان کے آنے کی اطلاع پر میں ان سے ملنے کے لئے باہر آ گیا۔ ان میں سے ایک نے پہلی بات جو کی وہ یہ تھی کہ یہ کونسا اسلامی طریق ہے کہ آپ اندر بیٹھے رہیں اور لوگ باہر انتظار کریں۔ اس کے بعد دوسرے نے کوئی اور بات شروع کی تو پہلے نے اس کی بات کاٹ کر کہا یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح لوگ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر کے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ نوکری کرتے کرتے جب اس کے قابل نہیں رہتے تو نبوت کا دعویٰ کر دیتے ہیں۔ میں نے کہا آپ خود اس انسان کی سچائی کے گواہ ہیں جس کی نسبت اس قسم کے الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ آپ کسی اور جماعت کے امام کے پاس جا کر اس طرح نہیں کہہ سکتے لیکن میرے سامنے کہہ رہے ہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ میں نے اس کا جواب نہیں دینا۔ غرض ان صاحب نے اس قسم کی باتیں کیں کہ ان کے ساتھی کو دو دفعہ کہنا پڑا ان کی طبیعت میں جوش بہت ہے آپ بُرا نہ منائیں۔ غرض اس قسم کی حرکات معیوب ہیں ورنہ ان کا حق ہے کہ اپنے عقائد کی تبلیغ کریں اور ہمارا حق ہے کہ ہم اپنے عقائد کی تبلیغ کریں اس سے روکنے کا نہ اُنہیںحق نہ ہم انہیں روکتے ہیں۔ ہاں ذاتیات کو درمیان میں لا کر گالیاں دینا بُرا ہے۔ دیکھو جب کوئی ثابت کر دے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی نہیں آ سکتا تو سمجھنے والے آپ ہی سمجھ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سچے نہیں لیکن اگر کوئی آپ کا نام لے کر کذّاب اور جھوٹا کہے گا تو اِس سے یقیناً ہمارا دل دُکھے گا۔ اس دلآزاری اور تکلیف دہی کے راستہ کو چھوڑ کر اپنے عقائد کی تبلیغ کرنے کے باقی سارے رستے کُھلے ہیں اور کسی کا حق نہیں کہ کسی سے اپنے عقائد کی تبلیغ نہ کرنے کا مطالبہ کرے اور میں سمجھتا ہوں کہ معقول لوگ اس قسم کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ بعض لوگ ہیں اور بعض اصلاح کے محتاج ہوتے ہی ہیں ان کی اصلاح ضروری ہے اور ان کی اصلاح اسی طرح ہو گی کہ ہم اتحاد کی کوشش کے ساتھ تبلیغِ احمدیت بھی کرتے رہیں تا کہ انہیں اسے برداشت کرنے کی عادت ہو۔ کوئی بات برداشت کرنے کی اہلیت مشق سے ہی پیدا ہؤا کرتی ہے اور اس بارے میں مشق اسی طرح ہو سکتی ہے کہ دوسرے لوگ اپنے عقائد کی تبلیغ کریں اور ہم اپنے عقائد کی۔ ایک دوسرے کی مجالس میں شامل ہوںاور ایک دوسرے کی رواداری کی داد دیں اپنی باتیں سننے کا ایک دوسرے کو موقع دیا جائے۔ اگر یہ طریق اختیار کیا جائے تو پھر دیکھو کتنی جلدی متحدہ امور میں اتحاد ہو سکتا ہے۔ پس جن لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ تبلیغِ احمدیت نہیں کرنی چاہئے انہوں نے بالکل غلط سمجھا ہے اور میرے منشاء کے خلاف سمجھا ہے ایسے لوگوں کے فعل کو میں کسی طرح پسند نہیں کر سکتا۔ میں ڈرتا ہوں کہ ایسی جماعتیںخدا کے عذاب میں گرفتار نہ ہو جائیں کیونکہ سچائی کا چُھپانا کوئی معمولی بات نہیں۔ ہمیں خدا کی ذات پر توکّل ہونا چاہئے اگر کوئی دوسروں کی بھلائی اور خیر خواہی کے لئے ان کے آگے گِر جاتا ہے اور پھر بھی وہ اس کو پیٹتے ہیں تو خداتعالیٰ اس کی مدد کرے گا۔ مجھے پہلے ہی شکایت ہے کہ جماعتیں تبلیغ میں سُست ہیں اور میں کئی بار اس طرف توجہ دلاچکا ہوں پھر کس طرح برداشت کیا جا سکتا ہے کہ سیاسی صلح کے لئے تبلیغ نہ کی جائے۔ تمام جماعتوں کو تبلیغ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنا چاہئے اور میں اعلان کرتا ہوں کہ جس علاقہ کے احمدی اِس سال ایک ہزار مرد احمدیت میں داخل کر دیں گے۔ (مرد کے ساتھ چونکہ اس کا خاندان بھی احمدیت میں داخل ہو جاتا ہے اس لئے مردوں کی شرط لگائی گئی ہے ورنہ یہ مطلب نہیں کہ عورتوں کو احمدیت میں داخل کرنا ضروری نہیں۔ مرد اپنے ساتھ اپنا کنبہ بھی لاتا ہے اس لئے یہ شرط رکھی گئی ہے۔) پس جس ضلع کی جماعتیں ایک ہزار مرد احمدیت میں داخل کر دیں گی ہم سمجھیں گے کہ و ہ حقدار ہیں کہ انہیں مستقل مبلغ دے دیا جائے جو اس ضلع میں کام کرے۔ پس جو جماعتیں چاہتی ہیں کہ احمدیوں کی تعلیم و تربیت کے لئے، احمدیت کی تبلیغ کے لئے، نظام جماعت کو درست اور مضبوط کرنے کیلئے انہیں مستقل مبلغ مل جائیں وہ کوشش کریں کہ ایک ہزار مرد جماعت میں داخل کردیں۔ یہ سودا ہمارے لئے بھی مہنگا نہ ہو گا اس سے آگے اور ترقی ہو گی اور چندہ میں بھی زیادتی ہو جائے گی جس سے تبلیغ کے اخراجات پورے ہو سکیں گے۔ میں اس اعلان کو اور وسیع کرکے کہتا ہوں اگر کوئی تحصیل بھی ایک ہزار مرد سلسلہ میں داخل کر دے تو اسے بھی مستقل مبلغ دے دیا جائے گا۔ غرض
تبلیغ کو بہت وسیع کرنا چاہئے اس کے لئے بہت بڑا میدان پڑا ہے۔
ابھی تک ہم نے ہندوؤں میں تبلیغ کرنے کی طرف توجہ نہیں کی اور حضرت مسیح موعود کے کرشن کے الہام کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کی۔
خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کا نام جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء(تذکرہ صفحہ ۷۹۔ایڈیشن چہارم) رکھا ہے۔ یعنی آپ سارے انبیاء کے بروز اور رسول اللہ ﷺ کے کامل بروز تھے۔ اور رسول اللہ ﷺ جب ساری دنیا کے لئے آئے تھے تو آپ بھی ساری دنیا کے لئے مبعوث کئے گئے ہیں اِس لئے ہمارا فرض ہے کہ عیسائیوں، یہودیوں،بدھوں، ہندوؤں، سکھوں سب کو مسلمان بنائیں۔
میں امید کرتا ہوں کہ اِس وضاحت اور تشریح کے بعد آئندہ کوئی صاحب دھوکا نہ کھائیں گے اور مجھ تک اِس قسم کی بات نہ پہنچے گی کہ کوئی مبلغ گیا تو اُسے کہہ دیا گیا سلسلہ کے متعلق لیکچر نہ دیا جائے کیونکہ لو گ ناراض ہو جائیں گے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ایسی آواز پھر میرے کان میں نہ پہنچے گی اور جماعت کے لوگ دُنیوی اتحاد کی خاطر خدا کے اتحاد کو ترک نہ کریں گے۔
خدا تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ جو فرض اُس نے ہمارے ذمہ لگایا ہے اس سے ہم ایک منٹ بھی غافل نہ ہوں بلکہ ہم اس کے متعلق ہر آنے والے دن میں پہلے سے بھی زیادہ عُمدگی اور چُستی سے کام کریں۔
(الفضل ۲۱؍اگست ۱۹۳۰ء)
مزید پڑھیں: ہمارا سب سے پہلا فرض دعوت الی اللہ ہے(قسط اول)




