سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح

(’اے ولیم‘)

قدرت خداوندی کے ہاتھ ایک آدم کی تیاری میں مصروف تھے۔ ملاء اعلیٰ بھی خصومت میں تھےکہ احیائے دین کے لیے اس دورکے آدم کاتاج کس کے سر پر رکھا جائے۔ فرشتے بھی اس مُحی کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ خدائے علیم وخبیرنے اس عہدہ کے لیے شرط اعظم یہ رکھی کہ اس شخص کودیکھنا جومحمدرسول اللہ ﷺ کی محبت میں محوہو۔ فرشتوں کی تلاش جوشروع ہوئی۔ قریہ قریہ،کوچہ کوچہ،ملک ملک ،افق آفاق میں تلاش ہوئی تو آخر کار ان تمام فرشتوں کی نظرایک گلِ رعنا پرآکرٹھہرسی گئی۔ گویا اسی کوتکتے جارہے ہوں…۔

ماموریت کاآغاز اورتئیس سالہ زندگی کا معیار نبوت

قرآن کریم کی روشنی میں اقوام عالم اور امم سابقہ کی تاریخ کامطالعہ کیاجائے تو یہ معلوم ہوتاہے کہ جب کبھی خداتعالیٰ نے ان کی طرف کوئی مامورومرسل بھیجاتو کچھ مدّت گزرجانے کے بعد ان کی حالت پھرتنزل کی طرف جانے لگتی اور وہ خشیت اور رقت اور نرمی جوان کے دلوں میں مامورکی صحبت سے پیداہوئی ہوتی تھی مرور زمانہ سے پھر ان کے دل سخت ہونے لگتے۔ [ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالۡحِجَارَۃِ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَۃً ؕ وَاِنَّ مِنَ الۡحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنۡہُ الۡاَنۡہٰرُ ؕ وَاِنَّ مِنۡہَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخۡرُجُ مِنۡہُ الۡمَآءُ ؕ وَاِنَّ مِنۡہَا لَمَا یَہۡبِطُ مِنۡ خَشۡیَۃِ اللّٰہِ ؕ وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ۔ (البقرۃ:۷۵)] ایسے سخت کہ جیسے پتھرہوں یااس سے بھی سخت۔ کیونکہ پتھروں میں سے تودیکھاجاتاہے کہ ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے بھی پانی کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں اور باری تعالیٰ کی خشیت ایسی تجلی کرتی ہے کہ پتھربھی ریزہ ریزہ ہوکرگرجاتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کے دلوں سے خشیت باری ایسے پروازکرجاتی ہے کہ جیسے گھونسلے سے پرندہ ، دلوں کی بے نیازی اور سختی کاایک اظہاریہ بھی ہواکرتاہے کہ اب ہمیں کسی نبی کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ اورکبھی یہ بھی کہ حَتّٰۤی اِذَا ہَلَکَ قُلۡتُمۡ لَنۡ یَّبۡعَثَ اللّٰہُ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ رَسُوۡلًا(المومن:۳۵) کہ جب وہ نبی فوت ہوگیا تو تم نے کہناشروع کردیا کہ اب اس کے بعد اللہ کبھی کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔اور کبھی وہ اپنے خودتراشیدہ عقائد ونظریات کواتنی اہمیت دینے لگ جاتے ہیں کہ وہ کسی مامورمصلح کی ضرورت اور انتظارکوہی لغو اور فضول قراردیناشروع کردیتے ہیں اور یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ پہلے مامورومرسل آتے ہوں گے لیکن اب کوئی ایسا مامورآنے سے رہا۔وَاَنَّہُمۡ ظَنُّوۡا کَمَا ظَنَنۡتُمۡ اَنۡ لَّنۡ یَّبۡعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا۔ (الجن:۸)

لیکن آسمان سے آنے والی آواز کچھ اَورکہتی ہے۔ مامورومرسل بھیجنے والا کچھ اَور بتا رہا ہوتاہے۔ وہ توکہتاہے کہ یہ سب کچھ دلوں کی سختی کے سبب سے ہورہاہے۔

اَلَمۡ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخۡشَعَ قُلُوۡبُہُمۡ لِذِکۡرِ اللّٰہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الۡحَقِّ ۙ وَلَا یَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلُ فَطَالَ عَلَیۡہِمُ الۡاَمَدُ فَقَسَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ وَکَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ۔ اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یُحۡیِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ قَدۡ بَیَّنَّا لَکُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ۔ (الحدید:۱۷-۱۸)کیاان لوگوں کے لیے جوایمان لائے وقت نہیں آیا کہ اللہ کے ذکراور اس حق کے رعب سے جواترا ہے ان کے دل پھٹ کرگرجائیں اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ بنیں جوپہلے کتاب دیئے گئے تھے؟ پس ان پرزمانہ طول پکڑگیا توان کے دل سخت ہوگئے اور بہت سے ان میں بدعہدتھے۔

اورپھر بعثت مامور کی بابت ایک غیرمبدل سنت اور دستوروطریق کاذکرایک بدیہی امراور عام مشاہدہ میں آنے والی کیفیت وطریق کی مثال دے کران دلوں کومتوجہ کیا کہ دیکھو اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یُحۡیِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ قَدۡ بَیَّنَّا لَکُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ کہ تم جان لو کہ زمین جب بنجرہوجاتی ہے۔ اپنی روئیدگی ختم کربیٹھتی ہے اس کی ساری رونقیں اور زندگی ختم ہوکررہ جاتی ہے تو پھرایک دم سے ابرِ باراں ایسابرستاہے کہ اس کی ویرانی کے بعد زمین میں پھرسے ایک زندگی پیداہوجاتی ہے۔ اورپھول وپھل، ثمروشجر اور گل و شگوفے کیسے پھوٹنے اورکھلنے لگ جاتے ہیں۔ تو بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ خداتعالیٰ اس سے اعلیٰ چیزکو،یعنی اس مخلوق کوجس کے لیے یہ زمین بنائی گئی تھی اس سے غافل ہواور مخلوق پرجب ایسی روحانی موت کاوقت آئے کہ جب اس کی عقول وفہم کاپانی خشک ہونے لگے۔ ان کے دل ویران ہونے لگیں، پتھرہونے لگیں ،مردہ ہونے لگیں تو اللہ تعالیٰ ان کی زندگی کے کوئی سامان نہ کرے۔ ایساہرگزنہیں۔ جس طرح زمین کواس کی ویرانی کے بعد بادلوں کے پانی سے ایک زندگی دی جاتی ہے ایساہی ان سخت اورمردہ دلوں کو ایک آسمانی پانی سے زندگی عطاکی جاتی ہے۔ اور اس حیات ابدی کاپیغمبر یہ بشارت لے کرآتاہے کہ اے سسک کردم توڑنے والی روحو! تمہیں خوشخبری ہو کہ تمہارے لیے زندگی کی نویدبشارت لے کرمیں آیاہوں۔ آؤ کہ جومیرے ہاتھ سے جام پیئے گا وہ کبھی نہیں مرے گا۔ اور اے انسانیت کے دشمنو اور بنی نوع انسان کواس کے خالق سے دورہانک کرلے جانے کی سعی کرنے والو اور دین وشریعت میں اپنی من مانی کرتے ہوئے خرابی کرنے والو! خبردارہوجاؤکہ اب تمہارے سارے حربے ناکام ہوں گے اور ہرشیطانی قوت وطاقت ہلاک ہونے والی ہے۔ اور ہرفخروغرور خاک میں ملنے والاہے کہ میں اگر مطیع و فرمانبرداروں کے لیے بشیرہوں تو ابا ء و استکبارکرنے والوں کے لیے نذیرہوں۔

اور اُمّتِ مسلمہ کے لیے تودہری خوشخبری تھی کہ پہلی اُمّتوں میں تو جب کوئی نبی آیاتو آیا لیکن یہاں اُمّت کی بھلائی اور راہنمائی کے لیے اپنے خداسے خوشخبری پاکربانئ اسلام حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ نے نویدمسرّت دی کہ میری امت نہ بھٹکے گی اورنہ گمراہ ہوگی کیونکہ إِنَّ اللّٰهَ يَبْعَثُ لِهٰذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُّجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا۔ (سنن ابوداؤد،کتاب الملاحم،باب مایذکرفی قرن المائۃ، حدیث نمبر۴۲۹۱) اللہ اس امت کے لیے ہرصدی کے سرپرایسے وجودبھیجتارہے گا کہ جواس امت کی اصلاح اور بہبودکاکام کرتے رہیں گے۔

اوراس سے بھی بڑھ کرایک اَور نویدبشارت بھی تھی کہ وہ امت کیسے ہلاک ہوگی کہ جس کے شروع میں مَیں خودہوں اور اس کے آخرپرمیراہی نام پاکرآنے والا ابن مریم ہوگا۔

آنحضرتﷺ نے اپنی امت پرآنے والے مختلف فتنوں اور آزمائشوں اور امتحانوں اورخطروں کی بھی آگاہی فرمادی تھی۔ مالی، معاشی، معاشرتی، اقتصادی ،سیاسی، مذہبی، جغرافیائی اور بےشمار خطرات جو بادلوں کی طرح امت پر امنڈتے چلے آرہے تھے ان سے اپنی امت کوآگاہ کیا، ایک ایک علامت اور نشانی بتلائی۔ یہ بھی بتایا کہ اسلام محض نام کا رہ جائے گا۔قرآن محض تحریرورسم کی صورت میں رہ جائے گا۔ قرآن پڑھنے والے ہوں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔تفکروتدبّرسے عاری ان کی تلاوتیں ہوں گی۔ مسجدیں نمازیوں سے بھری ہوئی توہوں گی لیکن ان نمازیوں کے دل رشدوہدایت سے خالی ہوں گے۔ اسلام غریب الوطن مسافرکی طرح گمنام وبے کس ہوجائے گا۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ دیکھوگھبرانانہیں۔ اگرایمان ثریا ستارے پر بھی چلا گیا توایک شخص ’’یواطئ اسمہ اسمی‘‘ میرا نام لے کر کھڑامامورمبعوث ہوگا۔لہٰذا جب تم اس کوپاؤ اور اس کو دیکھوتو اس کے ہاتھ پرہاتھ رکھ کربیعت کرتے ہوئے میرا سلام پہنچانا خواہ برف کے پہاڑوں پرگھسٹتے ہوئے جانا پڑے۔

سوعین اپنے وقت پرکہ جب یہ ساری نشانیاں پوری ہوگئیں۔ واعظ اور علماء مسجدوں کےمنبروں پراس مامورومصلح کے انتظارکی گھڑیاں گننے لگے۔ لوگ سارا سارادن اس کے انتظارمیں گزارتے اور رات ہوتی تو اپنی پراتوں اور کنالیوں میں پانی بھرکراس خیال سے سوتے کہ صبح یہ دودھ بن جائے گا جونشانی ہوگی اس بات کی کہ آنے والاآچکاہے۔ اور جب انتظارکی ماتی آنکھیں بندہونے لگتیں تو جانے والے انتظارکی یہ شمع اپنے پیش رووں کے ہاتھوں میں یہ کہتے ہوئے تھماکرجاتے کہ ہم توجاتے ہیں لیکن اب وہ مہ تاب رخ اپناچہرہ دکھانے کوہی ہے لہٰذا ہماری وصیت ہے کہ ہماری طرف سے اس کو وہی سلام ضرورپہنچانا۔

بعض روحانی نگاہ رکھنے والوں نے ہلال عید کے اس انتظارکرنے والوں کویہ بھی بتادیاتھا کہ ’’اور جس وقت دائمی قربانی موقوف کی جائے گی اور وہ مکروہ چیزجو خراب کرتی ہے قائم کی جائے گی ایک ہزاردوسونوے (۱۲۹۰) دن ہوں گے۔ مبارک وہ جوانتظار کرتا ہے اور ایک ہزارتین سوپینتیس (۱۳۳۵) روزتک آتاہے۔ ‘‘ (دانی ایل:باب ۱۲ آیات ۱۱-۱۲۔ کتاب مقدس یعنی پرانا اور نیا عہد نامہ۔ مرزا پور ۱۸۷۰ء)

چنانچہ اس بزرگ عارف کی پیشگوئی کے عین مطابق ۱۲۹۰ہجری کا سال تھا کہ خدا نے اپنے اس مامورومرسل کو مبعوث فرمادیا۔

دوسری طرف قدرت خداوندی کے ہاتھ ایک آدم کی تیاری میں مصروف تھے۔ ملاء اعلیٰ بھی خصومت میں تھےکہ احیائے دین کے لیے اس دورکے آدم کاتاج کس کے سر پر رکھا جائے۔ فرشتے بھی اس مُحی کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ خدائے علیم وخبیرنے اس عہدہ کے لیے شرط اعظم یہ رکھی کہ اس شخص کودیکھنا جومحمدرسول اللہ ﷺ کی محبت میں محوہو۔ فرشتوں کی تلاش جوشروع ہوئی۔ قریہ قریہ ،کوچہ کوچہ،ملک ملک ،افق آفاق میں تلاش ہوئی تو آخر کار ان تمام فرشتوں کی نظرایک گل ِرعنا پرآکرٹھہرسی گئی۔ گویا اسی کوتکتے جارہے ہوں اور یہ کہتے جارہے ہوں:

آفاق را گر دیده‌ام، مهرِ بتان ورزیده‌ام

بسیار خوبان دیده‌ام، اما تو چیزِ دیگری

یعنی مَیں نے دنیا بھر کو دیکھا ہے، بہت سے حسینوں سے محبت کی ہے۔

مَیں نے بہت سے خوبصورت لوگ دیکھے ہیں، مگر تم ان سب سے بالکل مختلف ہو۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: علم کی اہمیت اور اس کے حصول کے ذرائع

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button