کلامِ امام علیہ الصلوٰۃ والسلام

حضرت الیسعؑ کثیر المعجزات نبی تھے

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام فرماتے ہیں کہ ’’تمام برکات اور یقین کے حصول کا ذریعہ خدا کا مکالمہ اورمخاطبہ ہے اور انسان کی یہ زندگی جو شکوک اور شبہات سے بھری ہوئی ہے بجز مکالمات الٰہیہ کے سر چشمہ صافیہ کے یقین تک ہرگز نہیں پہنچ سکتی مگر خداتعالیٰ کا وہ مکالمہ یقین تک پہنچاتا ہے جو یقینی اور قطعی ہو جس پر ایک ملہم قسم کھا کر کہہ سکتا ہے کہ وہ اسی رنگ کا مکالمہ ہے جس رنگ کا مکالمہ آدم سے ہوااور پھر شیث سے ہوا اور پھر نوح سے ہوا اور پھر ابراہیم سے اور پھر اسحاق سے اور پھر اسماعیل سے اور پھر یعقوب سے ہوا اور پھر یوسف سے اور پھر چار سو برس کے بعد موسیٰ سے اور پھر یسوع بن نون سے ہوا اور پھر داؤد سے ہوا اور سلیمان سے اور الیسع نبی سے اور دانیال سے اور اسرائیلی سلسلہ کے آخر میں عیسیٰ بن مریم سے ہوا اور سب سے اتم اور اکمل طور پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا۔‘‘ (نزول المَسِیح روحانی خزائن جلد18صفحہ 486)

فرمایا: عیسائی صراط مستقیم سے گر گئے اور ایک نہایت قابل شرم عقیدہ جو انسان کو خدا بنانا ہے ان کے گلے پڑ گیا ۔ہم نہیں سمجھ سکتے کہ مسیح ابن مریم میں دوسروں کی نسبت کیا زیادتی تھی جس سے اس کی خدائی کا خیال آیا ۔ معجزات میں پہلے اکثر نبی اِس سے بڑھ کر تھے جیسا کہ موسیٰ اور الیسع اور ایلیا نبی۔ (کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 60)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button