کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں گریہ و زاری

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نمازوں میں اس قدر روتے اور قیام کرتے کہ آپؐ کے پاؤں پر ورم ہو جاتا۔ صحابہؓ نے عرض کی کہ خدا تعالیٰ نے آپؐ کے تمام گناہ بخش دیئے ہیں پھر اس قدر مشقّت اور رونے کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا : کیا میں خدا تعالیٰ کا شکرگذار بندہ نہ بنوں۔

(ملفوظات جلد۶ صفحہ ۲۳۱۔ ایڈیشن۲۰۲۲ء)

زمینی لوگوں کے اختیار میں نہیں کہ وہ عظیم الشان کام کر دکھلائیں ابتدائے اسلام میں بھی جو کچھ ہوا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا نتیجہ تھا جو کہ مکہ کی گلیوں میں خدا تعالیٰ کے آگے رورو کر آپ نے مانگیں۔ جس قدر عظیم الشان فتوحات ہوئے کہ تمام دنیا کے رنگ ڈھنگ کو بدل دیا وہ سب آنحضرت کی دعاؤں کا اثر تھا۔ ورنہ صحابہؓ کی قوّت کا تو یہ حال تھا کہ جنگ بدر میں صحابہؓ کے پاس صرف تین تلواریں تھیں اور وہ بھی لکڑی کی بنی ہوئی تھیں ۔

(ملفوظات جلد ۸ صفحہ ۲۹۶، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

مزید پڑھیں: آنحضرت ﷺ خلق عظیم پر قائم تھے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button