آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے اعلیٰ معیار
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے کیا اعلیٰ معیار تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کی نماز تہجد کی کیفیت بیان فرماتے ہوئے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے تھے۔ مگر وہ اتنی پیاری اور لمبی اور حسین نماز ہوا کرتی تھی کہ اس نماز کی لمبائی اور حسن و خوبی کے بارے میں مت پوچھو۔ (صحیح البخاری کتاب التھجد باب قیام النبیﷺ باللیل فی رمضان وغیرہ حدیث1147)۔
الفاظ وہ کیفیت بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ نماز پڑھتے ہوئے ایک صحابی نے آپ کو دیکھا۔ یعنی علیحدگی میں جب آپ نفل پڑھ رہے تھے۔ تو وہ کہتے ہیں کہ اس وقت شدت گریہ و زاری کے باعث آپ کے سینے سے ایسی آوازیں آ رہی تھیں کہ جیسے چکّی کے چلنے کی آواز ہوتی ہے (سنن ابی داؤد کتاب الصلوٰۃ باب البکاء فی الصلوٰۃ حدیث 904)۔ یا ایک روایت میں یہ ہے کہ جس طرح ہنڈیا میں پانی اُبلنے کی آواز ہوتی ہے۔ (سنن النسائی کتاب السھو باب البکاء فی الصلوٰۃ حدیث 1215)
روایتوں میں یہ بھی آتا ہے کہ بعض دفعہ نماز میں کھڑے کھڑے آپ کے پاؤں سوج جاتے تھے اور متورّم ہو کر پھٹ جاتے تھے۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ مَیں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! آپ اتنی تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام قصور معاف فرما دئیے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اَفَلَا اُحِبُّ اَنْ اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا کہ کیا میں یہ نہ چاہوں کہ مَیں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ بنوں۔ (صحیح البخاری کتاب تفسیر القرآن باب لیغفرلک اللّٰہ ما تقدم من ذنبک … حدیث4837)
(خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۲۰۱۷ء مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل مورخہ ۲۲؍ دسمبر ۲۰۱۷ء)
مزید پڑھیں: آنحضرت ﷺ ہر معاملے میں اعلیٰ نمونہ ہیں




