جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ء کی مناسبت سے کارکنان اور مہمانوں کو زرّیں نصائح۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۲۴؍جولائی۲۰۲۶ء
٭… الله تعالیٰ کے فضل سے آج جلسہ سالانہ برطانیہ شروع ہو رہا ہے۔ ملک کے کونے کونے اور دنیا کے مختلف ممالک سے مہمان اِس میں شامل ہونے کے لیے آرہے ہیں یا آئے ہیں۔ یہ سب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مہمان ہیں، جو خاص دینی مقصد کے لیے یہاں آ رہے ہیں، پس اِن مہمانوں کی مہمان نوازی بھی خاص اعزاز رکھتی ہے
٭… آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کے لیے یہاں آئے ہیں، تو پھر اِس کا حق ادا کرنے کی بھرپور کوشش کریں اور مہمان کا جو حق ہے، وہ ادا کریں۔ یہ آپ کے ایمان کے لیے ضروری ہے
٭… مہمانوں کو بھی خیال رکھنا چاہیے کہ لنگر کے انتظام کے تحت جو کھانا پکتا ہے، جو بھی ملتا ہے، اِس کو صبر اور شکر سے کھا لینا چاہیے۔ اور جب آپ یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بُلانے پر آئے ہیں اور اِس مقصد کے لیے آئے ہیں کہ ہم نے یہاں روحانی مائدہ حاصل کرنا ہے ، تو روحانی مائدے کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیے، اور اگر کھانے میں کوئی کمی بیشی ہو بھی جائے تو برداشت کر لینا چاہیے اور مطالبہ نہیں کرنا چاہیے۔
٭… اِن دنوں میں ذکرِالٰہی پر زیادہ زور دیں، فارغ وقت میں جہاں بیٹھے ہیں، درود شریف ، دعاؤں اور اِستغفار کی طرف زیادہ توجہ دیں۔ فضول باتیں کرنے کی بجائے ذکرِ الٰہی یا دینی گفتگو کریں
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۲۴؍جولائی۲۰۲۶ء بمطابق۲۴؍وفا ۱۴۰۵ ہجری شمسی بمقام حدیقۃ المہدی، آلٹن، ہمپشائر، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۲۴؍جولائی ۲۰۲۶ء کو حدیقۃ المہدی، آلٹن، ہمپشائر، یوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت شاہین عودہ صاحب (آف کبابیر) کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:
الله تعالیٰ کے فضل سے آج جلسہ سالانہ برطانیہ شروع ہو رہا ہے۔ ملک کے کونے کونے اور دنیا کے مختلف ممالک سے مہمان اِس میں شامل ہونے کے لیے آرہے ہیں یا آئے ہیں۔ یہ سب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مہمان ہیں، جو خاص دینی مقصد کے لیے یہاں آ رہے ہیں، پس اِن مہمانوں کی مہمان نوازی بھی خاص اعزاز رکھتی ہے۔
الله تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے ہر ملک میں جہاں جلسہ سالانہ ہوتے ہیں، وہاں کے بچے، جوان، مرد اور عورتیں اِس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ ہم نے جلسے کے مہمانوں کی خدمت کرنی ہے اور اِس کے لیے سب اپنے آپ کو رضا کار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ قطع نظر اِس کے کہ اب دنیا والوں کی ترجیحات بدل گئی ہیں، مخلصینِ جماعت اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کے لیے پیش کر رہے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو اِس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ الله تعالیٰ نے مہمانوں کی خدمت اور عزت اور تکریم کا حکم دیا ہے۔ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے اپنے عمل اور قول سے اِس بات کی تلقین فرمائی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اِس طرف بار بار توجہ دلائی ہے۔
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله اور یومِ آخرت پر ایمان لانے والے، مہمان کا جائز حقّ ادا کرتے ہیں یا ادا کریں۔ عرض کیا گیا کہ جائز حق کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ ایک دن اور رات کی مہمان نوازی ۔ اور دوسری جگہ یہ بھی روایت ملتی ہے کہ تین دن تک اُس کی مہمان نوازی کرو۔
یہ تو خاص مہمانوں کے لیے ہے، عام طور پر جو لوگوں کے گھروں میں آتے ہیں، بعض دنوں کے لیے آتے ہیں۔ عمومی طور پر جب کوئی مہمان آئے، تو اُس کی مہمان نوازی کرنی چاہیے، یہی مسلمانوں کو حکم ہے۔
آج کل جلسے کے دنوں میں جو مہمان آ رہے ہیں، یہ دُور دراز کا سفر کر کے آرہے ہیں، دوسرے ملکوں سے آ رہے ہیں۔ یہ تو تین دن سے زیادہ بھی ٹھہریں گے۔ جماعتی انتظام کے تحت یہ جتنے دن بھی ٹھہریں، تین سے چار ہفتے تک یا دو سے تین ہفتے تک، جماعت اُن کی مہمان نوازی کرتی ہے۔ اور اِس کے لیے یہ الله تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ جماعت کے پاس اِن کی مہمان نوازی کرنے کے لیے اتنی بڑی تعداد میں کارکن مہیا ہیں، جو paid کارکن نہیں ہیں۔ تین سے چار ہفتوں تک رضاکار اپنے آپ کو اِس مقصد کے لیے پیش کرتے ہیں۔
بلکہ
مہمان نوازی کا یہاں یوکے میں اتنا وسیع نظام ہو گیا ہے کہ سارا سال ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا لنگر چلتا ہے۔
اور اِس لنگر میں خدمت کے لیے بہت سے لوگ جن کے اپنے کاروبار ہیں، بعضوں کے اپنے ریسٹورنٹ ہیں، بعضوں کےکیٹرنگ کے کاروبار ہیں، وہ سب لوگ سارا سال ہی مہمانوں کی خدمت کے لیے کچھ نہ کچھ وقت پیش کرتے ہیں۔اور یہ خصوصیت اب برطانیہ کی جماعت کو اِس لیے بھی حاصل ہے، کیونکہ یہاں خلافت موجود ہے اور خلیفۂ وقت کی موجودگی کی وجہ سے لوگوں کا یہاں آنا جانا بہت زیادہ ہے اور اِس کی وجہ سے مہمان نوازی بھی کرنی پڑتی ہے۔عمومی مہمان نوازی تو یہاں جاری ہی ہے۔ اور الله تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے افراد بڑی خوش اسلوبی سے یہ مہمان نوازی کر رہے ہیں۔ الله تعالیٰ اِن سب کو جزا دے۔
پس یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے ، جو اِن دنوں میں ہمارے ہزاروں والنٹیرز کو مِل رہا ہے، جن میں بچیاں اور عورتیں بھی شامل ہیں۔ لڑکے اور مرد بھی شامل ہیں اور بڑی عمر کے بھی شامل ہیں اور چھوٹی عمر کے بھی شامل ہیں۔ تو اِن سب کو یہ اعزا زمِل رہا ہے۔ اور اُنہیں یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اعزاز جو اُنہیں مِل رہا ہے ، اِس کا حق تبھی ادا ہو گا، جب مہمان نوازی کا حق ادا کریں گے، ہر مہمان سے عزت و احترام سے پیش آئیں گے، خوش اخلاقی سے پیش آئیں گے اور اُن کے جذبات کا خیال رکھنے والے ہوں گے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ مہمان کے جذبات بہت نازک ہوتے ہیں، اِس لیے اُن کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے۔ پس ہمیں اِس بات کو بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم نے مہمانوں کی ہر طرح سے خدمت کرنی ہے۔
اگر ہم نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے، تو پھر الله تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اِس فرض کو ادا کرنے کی حتی المقدور کوشش بھی کرنی چاہیےتاکہ اِس خدمت کے بدلے میں الله تعالیٰ بھی ہم سے راضی ہو۔اور جہاں تک ہو سکے ہم مسیحِ محمدی کے مہمانوں کی خدمت کا حق ادا کر سکیں۔
ہمارے کارکنان جو مہمان نوزی کرتے ہیں یا ہمارے جلسے کے جو انتظامات ہوتے ہیں، اِن انتظامات سے باہر سے آئے ہوئے غیر اَز جماعت اور غیر مسلم مہمان بھی بہت متاثر ہوتے ہیں۔ وہ یہ دیکھ کر حیران ہوتے ہیں کہ اتنے ہزار لوگوں کا کھانا پک رہا ہے اور والنٹیر کھانا پکا رہے ہیں، پھر اِن کو ایک انتظام کے تحت کھلایا بھی جا رہا ہے اور اُن کی خدمت بھی کی جارہی ہے۔
پھر کارکنوں کا ایک پُورا نظام ہے جو یہاں چلایا جا رہا ہے جس میں ٹریفک کا نظام بھی ہے، کھانا کھلانے کا نظام ہے، صفائی کا نظام ہے، پکانے کا نظام ہے، پانی کی سپلائی کا نظام ہے، غرض کہ بے شمار نظامتیں ہیں، جن میں الله تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے والنٹیرز کام کر رہے ہیں اور نہ صرف کام کر رہے ہیں بلکہ
الله تعالیٰ کے فضل سے بڑے احسن رنگ میں کام کر رہے ہیں۔ غیر لوگ اِسے دیکھ کر بہت متاثر ہوتے ہیں۔ یہ بھی تبلیغ کا ایک ذریعہ ہے۔
پس یہاں ہر آنے والے کارکن کو، جن میں سے کچھ تو پُرانے اور تجربہ کار ہیں، لیکن جو نئے ہیں، اُنہیں بھی یہ یاد رکھنا چاہیے کہ
آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کے لیے یہاں آئے ہیں، تو پھر اِس کا حق ادا کرنے کی بھرپور کوشش کریں اور مہمان کا جو حق ہے، وہ ادا کریں۔ یہ آپ کے ایمان کے لیے ضروری ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مہمانوں کی کس حدّ تک خدمت کیا کرتے تھے یا اُن کا خیال رکھوایا کرتے تھے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ آپؑ مہمانوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔ حافظ حامد علی صاحب رضی الله عنہ لنگر کے مہمانوں کا خیال رکھنے کے لیے مقرر کیے گئے تھے، تو آپؑ اُنہیں توجہ دلاتے تھے کہ اِن مہمانوں کا خاص خیال رکھو۔ اور عام دنوں میں مہمانوں کی حیثیت کے مطابق اُن کی خدمت بھی کرو۔
الله تعالیٰ کے فضل سے عام دنوں میں جو جماعت کے مہمان آتے ہیں، جہاں تک ہو سکے جماعت اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے اُن کی خدمت کرتی ہے، لیکن جلسے کے دنوں میں اِس طرح خیال نہیں رکھا جا سکتا۔ ایک عمومی مہمان نوازی یہاں ہوتی ہے، اِس لیے اِس میں بھی بہت زیادہ احتیاط اور خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مہمان نوازی کی بابت روایات بیان کرتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ حضرت ڈاکٹر حشمت الله صاحب رضی الله عنہ اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جلسے کے موقع پر ایک رات بطورجماعت کے سیکرٹری کے صدر انجمن کے اجلاس میں مَیں نے جانا تھا۔ کہتے ہیں کہ مغرب اور عشاء کی نماز کے بعد مسجد مبارک میں اجلاس ہونا تھا اور وقت تھوڑا تھا، تو مَیں نے کہا کہ کھانا مَیں بعد میں کھا لوں گا، گو کہ اُس وقت مجھے بھوک بھی لگی ہوئی تھی اور صبح آٹھ بجے سے مَیں نے کھانا نہیں کھایا تھا۔ لیکن کہتے ہیں بہرحال چونکہ جماعتی ذمہ داری تھی اِس لیے مَیں نے کہا کہ کھانا اب بعد میں کھا لوں گا۔ جب میٹنگ ختم ہوئی، تو رات دیر سے مَیں لنگر خانے پہنچا، تو اُس وقت گیارہ بج گئے تھے اور مجھے شدید بھوک لگی ہوئی تھی۔ کہتے ہیں کہ جب مَیں اپنی جماعت کے لوگوں میں گیا اور وہاں کھانے کا پتا کیا، تو پتا لگا کہ کھانا تو ختم ہو گیا ہے، وہاں اُس وقت ہمارے ایک دوست گئے اور دستر خوان سے روٹی کا ٹکڑا لے کر آگئے کہ لنگر خانہ تو اب بند ہو گیا ہے، اِس ٹکڑے کو آپ کھا لیں۔ تو کہتے ہیں مَیں نے اُس ٹکڑے کو چبانا شروع کر دیا، ابھی مَیں نے اُس کو ختم نہیں کیا تھا کہ ہمارے کمرے کے دروازے پر ایک زبردست دستک ہوئی اور آواز آئی کہ کوئی مہمان بھوکا ہے، جس نے کھانا نہ کھایا ہو، وہ آجائے اور چل کر لنگر خانے میں کھانا کھا لے۔خاکسار کے ساتھیوں نے مجھے بھی نکال باہر کیا اور لنگر میں پہنچ کر جو کچھ ملا بعد شُکر کھایا۔
کہتے ہیں کہ اگلے روز دن کے دس بجے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مسجد مبارک کے چھوٹے زینے کے دروازے پر مَیں نے کھڑے ہوئے دیکھا اور خدّام کو گلی میں حضورؑ کی طرف رُخ کیے کھڑے دیکھا، حضورؑ اِن سے کچھ خطاب فرما رہے تھے، حضرت مولوی نور الدین صاحب رضی الله عنہ بھی وہاں موجود تھے۔ حضورؑ جوش کے ساتھ ارشاد فرما رہے تھے کہ
مہمان کے کھانے وغیرہ کا انتظام اچھا ہونا چاہیے، کیونکہ رات مجھے الله تعالیٰ نے یہ الہام کیا ہے کہ يَااَيُّهَا النَّبِيُّ اَطْعِمُوْا الْجَائِعَ وَالْمُعْتَرَّ کہ اے نبی! بھوکے اور معتر لوگوں کو کھانا کھلا۔
چنانچہ مجھے معلوم ہوا کہ اِس الہام کی بنا پر مجھے رات کو دستک ہوئی اور کسی نے کھانا کھلایاتھا۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ تو یہ نیک لوگ تھے کہ جن کی بھوک کی تکلیف کو الله تعالیٰ بھی محسوس کرتا تھا اور پھر اپنے نبی کو اطلاع دے دیتا تھا۔وہاں تو ایسے انتظام تھے کہ انتظام ہو گیا، لیکن یہاں ہمارے جلسے کی انتظامیہ کو چاہیے کہ اِس بات کا خیال رکھیں کہ جو مہمان لیٹ آتے ہیں، بعض دفعہ رات کو سفر کر کے دُور دراز سے آئے ہوتے ہیں، یورپ کے سفر سے آئے ہیں، بعض دفعہ فیری لیٹ ہو گئی، بعض دفعہ جہاز لیٹ ہو گیا، بعض دفعہ سفر میں ٹریفک میں پھنس گئے، تو اُن کے لیے کھانے کا انتظام ہونا چاہیے۔ لیکن یہ احتیاط ہو کہ کھانا صحیح حالت میں ہو۔ اس لحاظ سے بھی مہمان کی مہمان نوازی کو یاد رکھنا چاہیے کہ اُن کا خیال بھی رکھنا ہے اور اچھا اور عمدہ کھانا بھی کھلانا ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ میرے مُرید خواہ غریب ہوں یا امیر، میرا اُن کے ساتھ ایک ہی جیسا تعلق ہے، اِس لیے ایک ہی قسم کا کھانا پکاؤگوشت پُلاؤ وغیرہ دو تو سب کو دو اَور دال دو تو پھر سب کو دو۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طریق تھے۔ آپؑ کے اسلوب تھے۔ آپؑ کی نصیحت کرنے کےانداز تھے اور آپؑ کی مہمان نوازی کے طریقے تھے۔
بہرحال اِس بات کا
مہمانوں کو بھی خیال رکھنا چاہیے کہ لنگر کے انتظام کے تحت جو کھانا پکتا ہے، جو بھی ملتا ہے، اِس کو صبر اور شکر سے کھا لینا چاہیے۔ اور جب آپ یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بُلانے پر آئے ہیں اور اِس مقصد کے لیے آئے ہیں کہ ہم نے یہاں روحانی مائدہ حاصل کرنا ہے ، تو روحانی مائدے کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیے، اور اگر کھانے میں کوئی کمی بیشی ہو بھی جائے تو برداشت کر لینا چاہیے اور مطالبہ نہیں کرنا چاہیے۔
اِس لیے مہمان بھی اِس بات کا خیال رکھیں کہ اِن تین دنوں میں جو بھی مِل جائے، اُس کو صبر اور شکر سے کھا لیں اور کسی قسم کا ایسا اظہار نہ کریں کہ یہ چیز ہمیں پسند نہیں اور ہم نے نہیں کھانی۔
ساتھ ہی مَیں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ کھانے کو ضائع بھی نہ کریں۔ جتنا ملے، اُتنا ہی لیں ، جتنا آپ کھا بھی سکتے ہوں۔ اور جیسا کہ مَیں نے کہا کہ
اصل چیز روحانی غذا ہے کہ جس کے لیے ہم جلسے میں آئے ہیں اور ہم نے یہاں اپنی روحانی زندگی کو بہتر کرنے کی طرف زیادہ توجہ دینی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کو پیش کیے جانے والے کھانے کے معیار کی بابت احتیاط پر مبنی ایک روایت پیش کرنے کے بعد حضورِ انور نے تلقین فرمائی کہ کھاناپکانےکی ڈیوٹی والے جو کارکنان ہیں ، اُنہیں بھی احتیاط کرنی چاہیے کہ اِن دنوں میں خاص طور پر، آجکل کیونکہ گرمی کاموسم ہےکھانے کا انتظام ایسا ہونا چاہیے کہ کھانا صحیح طرح محفوظ رہے اور دیر تک پڑا نہ رہے اور خاص طور پر دال وغیرہ ، جس میں جلدی سڑان پیدا ہو جاتی ہے، وہ دیر تک رکھ کے مہمانوں کو نہ کھلائیں۔ اِس کا خیال رکھیں اور پہلے کھانے کو اچھی طرح چیک کر لیا کریں۔
اسی طرح باقی شعبہ جات ہیں۔ وہاں بھی ہر شعبے کے کارکن کو کوشش کرنی چاہیے کہ حتّی الوسع مہمان کے آرام کا خیال رکھیں۔ غسل خانوں کی صفائی کا شعبہ ہو،ٹریفک کا شعبہ ہو، پارکنگ کا شعبہ ہو، یا سیکورٹی کا شعبہ ہو، وہاں سیکیورٹی تو ہونی چاہیے، لیکن لوگوں کے ساتھ احتیاط اور عزت اور احترام سے پیش آئیں۔پس! ہمیں اِن باتوں کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے۔
اور یہاں جلسہ گاہ کے اندر بھی خاموش کرانے کا جو انتظام ہے، اِس میں بھی ڈسپلن کوقائم رکھنے کے لیے احتیاط سے کام لیں۔ عورتوں کی طرف بھی خاص طور پر۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ اسی طرح مَیں مہمانوں کو بھی کہنا چاہتا ہوں کہ یہاں جو جمع ہوئے ہیں، ہمیں اِس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ جب ہم سفر کی صعوبتیں برداشت کر کے یہاں جمع ہوئے ہیں تو اِس کا ایک مقصد ہے۔ جو لوگ یہاں آئے ہیں ، اُن کو خیال رکھنا چاہیے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے جلسے کے مقصد کو پُورا کرنے کے لیے یہاں آئے ہیں اور جب جلسے کے اِن تین دنوں میں شامل ہوئے ہیں، تو
اِس بات کو پیشِ نظر رکھیں کہ ہم نے جلسے کے پروگراموں کو باقاعدہ سننا ہے۔
اور یہ تین دن اِدھر اُدھر بیٹھ کر ، گپّیں مار کر یا اِدھر اُدھر پھرتے ہوئے نہیں گزار دینے بلکہ جب بھی جلسے کا پروگرام شروع ہو، ہم نے فوری طور پر جلسے کی مارکی کے اندر آ جانا ہے۔ یا جہاں بھی عورتوں اور مردوں اور بچوں کے لیے بیٹھنے کا انتظام کیا ہواہے، زائد لوگوں کے لیے بھی یا بعض مخصوص جگہوں پر، وہاں ہم نے بیٹھ کر احترام سے جلسہ سننا ہے۔اسی طرح گو کہ جلسے کے پروگرام کے دوران بازار تو بند ہوتے ہیں، لیکن پھر بھی عام وقت میں جب بازار کھلے ہوتے ہیں، وہاں بھی مہمان ڈسپلن کا خیال رکھیں اور احتیاط کریں۔
ہمیشہ یاد رکھیں کی جس نیک مقصد کے لیے آپ آئے ہیں اُسی کو آپ نے پُورا کرنا ہے، اگر یہ نہیں تو پھر کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ یہاں نمازوں کا باقاعدہ انتظام تو ہے، لیکن جو لوگ لمبا قیام کر رہے ہیں، جماعتی قیام گاہوں میں رہ رہے ہیں، جلسے کے بعد بھی اُنہوں نے نمازوں کی طرف باقاعدہ توجہ دینی چاہیے اور باجماعت نماز پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اِن دنوں میں جو یہاں ٹینٹوں میں رہ رہے ہیں یا مارکیوں میں رہ رہے ہیں، اِن سب کو چاہیے کہ یہاں تین دنوں میں تہجد بھی ہوتی ہے، تہجد کے وقت جب اُٹھایا جائے، تو اُٹھنا چاہیے، اِس طرف خاص توجہ دیں ۔ نمازوں کی باقاعدگی تو ہے ہی، لیکن تہجد کی باقاعدگی کی بھی خاص طور پر کوشش کرنی چاہیے۔ کیونکہ یہی وہ مقصد ہے، جس کے لیے آپ یہاں آئے ہیں۔ جب یہ حاصل ہو گا تو آپ لوگ اپنی اور اپنی نسلوں کی زندگیاں سنوارنے والے بن جائیں گے۔
حضورِ انور نے پارکنگ کی بابت توجہ دلانے کے بعد فرمایا کہ اِس طرح مہمانوں کو بھی اور ڈیوٹی والوں کو بھی ایک اور چیز کا خیال رکھنا چاہیے کہ خاص طور پر آجکل ملک کے جو حالات ہیں اور غیروں میں مسلمانوں کے خلاف بعض دفعہ جو بُغض اور کینہ پایا جاتا ہے، اِس کے لیے ماحول پر نظر رکھیں اور احتیاط کریں۔
بعدازاں حضورِ انور نے موسم کی خشکی کے تناظر میں انفرادی یا اجتماعی قیام گاہوں میں کسی بھی قسم کی آگ نہ جلائےجانے کی بابت تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ ہر جگہ پر بیٹھ کر کسی بھی قسم کی چنگاری سے پرہیز کریں، اور احتیاط کریں کہ اِس کی وجہ سے کوئی حادثہ بھی پیش آ سکتا ہے۔
مزید برآں حضورِ انور نے فرمایا کہ صفائی کا بھی خیال رکھیں، جہاں انتظامیہ کوشش کرتی ہے کہ ٹائلٹس وغیرہ کی صفائی کرے، وہاں خود بھی جب غسل خانوں کو استعمال کریں، تو اُس کی صفائی کر کے آیا کریں۔ مہمانوںکو بھی کوشش کرنی چاہیے کہ حدیث کے مطابق صفائی پر خاص توجہ دیں، کیونکہ صفائی بھی ایمان کا ایک حصّہ ہے اور یہاں تو ہم آئے ہی ایمان بڑھانے کے لیے ہیں۔ اِس لیے صفائی کے پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ہر ایک کو اِن دنوں میں اپنے آپ کو کارکن سمجھ لینا چاہیے۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ اپنے ایمان کے معیاروں کو اُونچا کرنے کی طرف توجہ دیں۔
اِن دنوں میں ذکرِالٰہی پر زیادہ زور دیں، فارغ وقت میں جہاں بیٹھے ہیں، درود شریف ، دعاؤں اور اِستغفار کی طرف زیادہ توجہ دیں۔ فضول باتیں کرنے کی بجائے ذکرِ الٰہی یا دینی گفتگو کریں۔
اِس طرح
اِن دنوں میں بعض نمائشیں بھی لگی ہوئی ہیں، آپ لوگوں کو اُن کو دیکھنے کے لیے بھی جانا چاہیے اور شوق اور غور سے دیکھیں۔ یہ آپ کے لیے فائدہ مند بھی ہو گا۔ علمی لحاظ سے بھی فائدہ مند ہے اور دینی لحاظ سے بھی فائدہ مند ہے۔
پس اگر یہ چیزیں ہوں گی ، تو ان شاء الله تعالیٰ آپ جلسے سے بھرپور فائدہ اُٹھانے والے ہوں گے۔
الله کرے کہ آپ سب لوگ اِس جلسے میں ہر لحاظ سے ، دینی اور روحانی لحاظ سے فائدہ اُٹھانے والے ہوں۔ علمی لحاظ سے فائدہ اُٹھانے والے ہوں۔ اور جلسے کی جو برکات ہیں، وہ ہمیشہ آپ کی زندگی کا حصّہ بنی رہیں اور آئندہ نسلوں کے لیے بھی زندگی کا حصّہ بنی رہیں۔
آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کا جو مقصد ہے، اُسے پُورا کرنے والے بھی ہوں ، ان شاء الله شام کو جلسے کا باقاعدہ افتتاح ہوگا۔ اُس تقریر کو بھی اور باقی جو مقررین ہیں، اُن کی تقریروں کو بھی غور سے سنیں اور اُس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ الله تعالیٰ سب کو اِس کی توفیق عطا فرمائے۔