نظم
مري رات دن بس يہي اک صدا ہے
مِري رات دن بس يہي اِک صدا ہے کہ اِس عالَمِ کون کا اِک خُدا ہے
اُسي نے ہے پيدا کيا اِس جہاں کو ستاروں کو سُورج کو اور آسماں کو
کوئی شے نظر سے نہیں اُس کے مخفی بڑی سے بڑی ہو کہ چھوٹی سے چھوٹی
دلوں کی چھپی بات بھی جانتا ہے بدوں اور نیکوں کو پہچانتا ہے
وہ دیتا ہے بندوں کو اپنے ہدایت دکھاتا ہے ہاتھوں پہ ان کے کرامت
ہے فریاد مظلوم کی سننے والا صداقت کا کرتا ہے وہ بول بالا
گناہوں کو بخشش سے ہے ڈھانپ دیتا غریبوں کو رحمت سے ہے تھام لیتا
یہی رات دن اب تو میری صدا ہے
یہ میرا خدا ہے یہ میرا خُدا ہے
(کلام محمود صفحہ 168)
