خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)
٭…نیپال اور تبت میں شدید سیلاب اور مٹی کے تودوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ نیپال میں حکام کے مطابق سیلاب سے کم از کم ایک ہزار ۳۴۴؍ افراد ہلاک جبکہ دو ہزار ۴۸۰؍سے زائد لاپتا ہیں، جن میں ۳۲۰؍غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب تبت میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں سولہ افراد ہلاک اور ۵۴۶؍لاپتا ہوئے ہیں۔ چینی حکام کے مطابق لاپتا افراد میں ۲۳؍ممالک کے ۲۶۱؍ غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں جبکہ چینی حکام نے لاپتا غیر ملکیوں کے بارے میں متعلقہ ممالک کے سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو آگاہ کر دیا ہے۔
٭…کیلیفورنیا کے ماؤنٹ شاستا پر تین ناتجربہ کار ہائیکرز مبینہ طور پر گوگل کے جیمینائی اے آئی کی غلط راہنمائی کے باعث مشکل میں پھنس گئے۔ انہوں نے سفر کا راستہ، وقت اور ضروری سامان و خوراک کی تیاری کے لیے اے آئی پر انحصار کیا، جس کے نتیجے میں وہ ناکافی خوراک اور پانی لے کر روانہ ہوئے۔ آٹھ گھنٹے کا متوقع سفر سولہ گھنٹے طویل ہوگیا اور وہ رات کے وقت راستہ بھٹک گئے۔ ایک ہائیکر کے گھٹنے پر چوٹ بھی آئی جبکہ فون بند ہوگیا۔ مناسب لباس، پناہ، خوراک اور پانی نہ ہونے کے باوجود انہوں نے رات سردی میں گزاری۔ اگلی صبح یو ایس فاریسٹ سروس کے رینجرز نے انہیں تلاش کرکے بحفاظت نیچے پہنچایا۔
٭…غزہ پٹی میں اسرائیلی بمباری سے شہید ہونے والے ایک سو فلسطینیوں، جن میں ۷۰؍بچے بھی شامل ہیں، کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کرکے تدفین کر دی گئی۔ نمازِ جنازہ غزہ شہر کے مشرقی علاقے زیتون محلے میں ادا کی گئی۔ عرب میڈیا کے مطابق بمباری سے متاثرہ علاقوں میں ملبے سے اب تک ایک سو سے زائد لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔ محکمۂ شہری دفاع کا کہنا ہے کہ غزہ پٹی میں تقریباً ۹؍ہزار فلسطینیوں کی لاشیں اب بھی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں ملبے سے لاشیں نکالنے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
٭…کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں شدید طوفانی ہواؤں، موسلادھار بارش اور ژالہ باری نے چند گھنٹوں میں شہر کے مختلف علاقوں کو زیرِ آب کردیا۔ بعض مقامات پر ۱۵۰؍ملی میٹر تک بارش ریکارڈ ہوئی، جس سے سڑکیں اور رہائشی علاقے متاثر ہوئے، گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں اور ہزاروں صارفین بجلی سے محروم ہوگئے۔ درخت اور بجلی کی تاریں بھی گر گئیں۔ شدید موسم کے باعث روجرز سٹیڈیم کو بھی نمایاں نقصان پہنچا اور اس کے بعض حصے متاثر ہوئے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ٹرانسپورٹ سروسز متاثر ہونے کے بعد شہر میں صفائی اور بحالی کا کام جاری ہے۔
٭…اٹلی کے فورلی ایئرپورٹ پر اچانک آنے والے شدید طوفان اور ۱۲۰؍کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔ تیز ہواؤں کے باعث تین چھوٹے طیارے رن وے سے اٹھ کر دور جا گرے اور تباہ ہوگئے، جبکہ لینڈنگ کی کوشش کرنے والا ایک مسافر طیارہ بھی اپنے راستے سے ہٹ گیا۔ ایئرپورٹ کی مختلف تنصیبات اور سامان کو بھی نقصان پہنچا اور فضائی آپریشن متاثر ہوئے۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حکام نے طوفان کے بعد ایئرپورٹ کو عارضی طور پر بند کرکے صورتحال کا جائزہ لیا اور بحالی کا کام شروع کردیا۔
٭… روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے امریکی نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ماسکو میں تقریباً تین گھنٹے طویل ملاقات کی۔ کریملن میں ملاقات کے موقع پر صدر پیوٹن کے معاون یوری اُوشاکوف اور روس کے براہ راست سرمایہ کاری فنڈ کے سربراہ کیریل دیمتریف بھی موجود تھے۔صدر پیوٹن نے اس موقع پر کہا کہ امریکی صدر یوکرین بحران کو حل کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، وٹکوف اور کشنر کے ساتھ کام کرنا روس کے لیے اطمینان بخش ہے۔صدر پیوٹن نے کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں اور وزارت خارجہ کی جانب سے انہیں کیف پر حملے عارضی طور پر روکنے کی تجویز ملی ہے اور ۵؍ستمبر کی نصف شب کے بعد سے کیف پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔صدر پیوٹن سے ملاقات سے پہلے امریکی وفد نے روسی فنڈ کے سربراہ سے ساڑھے تین گھنٹے لنچ پر بات چیت کی تھی۔امریکی وفد روس کی تجاویز لے کر آج یوکرین جائے گا، اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ صدر ٹرمپ اس بات پر صدر پیوٹن کے شکر گزار ہیں کہ امریکی وفد کے دورے کے دوران انہوں نے یوکرین کے ساتھ تین روزہ جنگ بندی کردی ہے۔
٭… اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کا کہنا ہے کہ دنیا میں غذائی اجناس کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔اگست میں عالمی غذائی اجناس کی قیمتیں نومبر ۲۰۲۲ء کے بعد بلند ترین سطح پر رہیں، فوڈ پرائس انڈیکس اگست میں بڑھ کر ۱۳۳.۳؍پوائنٹس ہوگیا۔فوڈ پرائس انڈیکس جولائی میں ۱۳۰.۸؍پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا تھا، خراب موسم اور ایران جنگ کے باعث غذائی اجناس کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
٭…٭…٭




